بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 163

اڈانی-ہنڈن برگ تنازعہ: سیبی کی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکامی انتہائی تشویشناک، کانگریس کا بیان

0
اڈانی-ہنڈن-برگ-تنازعہ:-سیبی-کی-حتمی-نتیجے-پر-پہنچنے-میں-ناکامی-انتہائی-تشویشناک،-کانگریس-کا-بیان

نئی دہلی: کانگریس نے ہفتہ کے روز کہا کہ اسٹاک مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کا اڈانی گروپ کے ذریعہ راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکامی گہری تشویشناک کا باعث ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے سپریم کورٹ میں اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے اور کہا کہ صرف ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) اس بات کی جانچ کر سکتی ہے کہ حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ کاروباری گروپ کی مدد کے لیے کس طرح اصولوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کی۔

رمیش نے اپنے بیان میں کہا ’’سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی اڈانی گروپ کی طرف سے راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکامی، جیسا کہ اس نے سپریم کورٹ میں اپنی 25 اگست 2023 کی اسٹیٹس رپورٹ میں اعتراف کیا ہے، بہت پریشان کن ہے۔‘‘

ٹوئٹر (ایکس) پر بیان شیئر کرتے ہوئے انہوں نے پوسٹ کیا ‘‘اڈانی گروپ کے خلاف راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے معاملے میں حتمی نتیجے پر پہنچنے میں سیبی کی ناکامی گہری تشویشناک ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ سیبی نے اس معاملے سے متعلق جن 24 معاملات کی جانچ کی ہے، ان میں سے دو کو اب بھی عبوری حیثیت حاصل ہے۔

رمیش نے کہا کہ ایک عبوری رپورٹ اس اہم سوال سے متعلق ہے کہ آیا اڈانی نے سیکورٹیز کنٹریکٹس (ریگولیشن) رولز کے رول 19اے کے تحت کم از کم پبلک شیئر ہولڈنگ کی ضرورت کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’سادہ الفاظ میں، کیا اڈانی نے بیرون ملک ٹیکس پناہ گاہوں میں واقع مبہم اداروں کا استعمال اس طرح کی راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے لئے کیا جس کی مخالفت کرنے کا وزیر اعظم نے ہمیشہ دعوی کیا ہے؟ سیبی نے کہا ہے کہ تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ایجنسیوں اور اداروں سے معلومات کا ابھی بھی انتظار ہے۔‘‘

رمیش نے کہا کہ ملک واضح طور پر سیبی کے 2018 میں کمزور کرنے اور 2019 میں غیر ملکی فنڈز کی حتمی فائدہ مند ملکیت سے متعلق رپورٹنگ کی ضروریات کو حذف کرنے کے فیصلے کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے سپریم کورٹ کی ایکسپرٹ کمیٹی سے کم نہیں بتائی کہ سیبی اڈانی کمپنیوں میں بیرون ملک مقیم سرمایہ کاروں کی فائدہ مند ملکیت کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ یہ تھی کہ سکیورٹیز مارکیٹ ریگولیٹر کو غلط کام کا شبہ ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ صرف جے پی سی ہی اس بات کی جانچ کر سکتی ہے کہ مودی حکومت نے کس طرح وزیر اعظم کے پسندیدہ کاروباری گروپ کی مدد کے لیے اصولوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کی۔ اڈانی گروپ اور اب بھی اس گروپ میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پیچھے اصل مالکان کے بارے میں پانچ ٹیکس پناہ گاہوں سے معلومات کا انتظار کر رہا ہے۔

دھنباد: غنڈوں سے خوفزدہ 600 تاجر اسلحہ لائسنس کے لیے اجتماعی طور پر دیں گے درخواست

0
دھنباد:-غنڈوں-سے-خوفزدہ-600-تاجر-اسلحہ-لائسنس-کے-لیے-اجتماعی-طور-پر-دیں-گے-درخواست

دھنباد: غنڈوں اور مجرموں کی طرف سے دھمکی آمیز کالوں، فائرنگ، بم دھماکوں کے واقعات سے پریشان دھنباد کے 600 تاجروں نے اجتماعی طور پر اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ جب پولیس سکیورٹی نہیں دے سکتی تو پھر انہیں اپنے دفاع کے لیے اسلحہ لائسنس دیا جائے۔ پیشہ ور تنظیموں کی کال پر لوگ اسلحہ لائسنس کے لیے فارم بھر رہے ہیں۔ یہ فارم ضلعی انتظامیہ کے پاس اجتماعی طور پر جمع کرائے جائیں گے۔

گزشتہ دو مہینوں کے اندر ضلع پولیس نے دھنباد میں پرنس خان اور امن سنگھ سمیت بھتہ خور گینگ کے ڈیڑھ درجن کارندوں کو گرفتار کیا ہے لیکن اس کے بعد بھی دھمکی آمیز کالوں اور فائرنگ کا سلسلہ نہیں رکا۔ اب گینگسٹر دھمکی آمیز کال کرنے کے لیے انٹرنیٹ ایپس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ غیر ملکی نمبروں سے کال کر کے تاجروں سے بھتہ مانگ رہے ہیں۔

دھنباد پولیس تکنیکی طور پر اتنی اہل نہیں ہے کہ اس سے نمٹ سکے۔ پولیس نے اس معاملے میں ریاستی حکومت، پولیس ہیڈکوارٹر اور سائبر سیل سے خط و کتابت کرکے مدد طلب کی ہے۔

پولیس کو یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ کچھ مجرم جیل میں رہتے ہوئے یہاں کے تاجروں کو غیر ملکی نمبروں سے فون کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سائبر سیل سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر، پولیس نے اس اطلاع کی تصدیق کی ہے کہ دھنباد جیل میں 11 موبائل نمبر فعال ہیں۔ جن میں سے 4 موبائل بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

جیل کے باہر ان نمبروں سے فون کالز، میسجز اور واٹس ایپ کالز کی جا رہی ہیں۔ دھنباد پولیس نے اسے روکنے کے لیے جھارکھنڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کو خط لکھا ہے۔

دھنباد شہر میں یہ چرچا ہے کہ پرنس خان کے بھتہ خوری کے کاروبار کو اس کا بھائی گوپی خان آگے بڑھا رہا ہے۔ گوپی خان اس وقت دھنباد جیل میں بند ہیں۔ پولیس کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، گوپی خان وصی پور کے گینگسٹر پرنس خان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے بعد تاجروں کو اپنی دہشت برقرار رکھنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

گوپی خان جیل میں ہے اور اندر سے کال کر رہا ہے۔ وہ ایسی کالوں کے لیے انٹرنیٹ ایپ استعمال کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے وہ تاجروں کو بلیک میل کر کے پیسے مانگتا ہے۔

پولیس کے پاس ان نمبروں کو ٹریس کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس وجہ سے پولیس نے ہیڈ کوارٹر کو خط لکھ کر مدد طلب کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ شریر مجرم جعلی ناموں سے موبائل سم خرید رہے ہیں۔ اس کے بعد جرائم پیشہ افراد انٹرنیٹ سے کالنگ ایپ خرید کر سم سے کال کر رہے ہیں۔

ایپ سے کال کرتے وقت غیر ملکی فون نمبرز کا کوڈ +1(519) ہوتا ہے۔ دھنباد میں بہت سے تاجروں کو اس کوڈ سے کال موصول ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ پر یہ کوڈ شمالی امریکہ کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ پولیس کو الجھا رہا ہے۔ جھارکھنڈ پولیس ہیڈکوارٹر سے موصولہ اطلاع کے مطابق، کچھ تکنیکی افسران جلد ہی دھنباد پہنچنے والے ہیں، جو پولیس اور سائبر سیل کی مدد کریں گے۔

سونیا گاندھی دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچیں، نگین جھیل میں ناؤ پر سواری کی ویڈیو آئی سامنے

0
سونیا-گاندھی-دو-روزہ-دورے-پر-سری-نگر-پہنچیں،-نگین-جھیل-میں-ناؤ-پر-سواری-کی-ویڈیو-آئی-سامنے

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی ہفتہ کے روز سری نگر پہنچیں۔ یہاں انھوں نے سب سے پہلے نگین جھیل میں ناؤ کی سواری کی جس کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ ویڈیو میں وہ اپنے سیکورٹی گارڈ کے ساتھ نگین جھیل میں کشتی کی سواری کرتی ہوئی انتہائی پرسکون دکھائی دے رہی ہیں۔ وہ سری نگر کے دو روزہ دورے پر پہنچی ہیں جہاں وہ جلد ہی اپنے بیٹے اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ملاقات کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی گزشتہ کچھ دنوں سے لداخ کے دورے پر تھے اور 25 اگست کو سری نگر پہنچے ہیں۔ انھوں نے لداخ کے دور دراز علاقوں کا اسپورٹس بائک سے دورہ کیا جس کی تصویریں اور ویڈیوز پہلے ہی سرخیاں بٹور چکی ہیں۔ اب سونیا گاندھی کی کشتی میں سواری کی ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی کی بہن اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی اپنے شوہر رابرٹ وڈرا کے ساتھ سری نگر جلد ہی پہنچنے والی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی نگین جھیل میں ایک ہاؤس بوٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ دو دن بعد گاندھی فیملی گلمرگ پہنچے گی۔ حالانکہ اس سلسلے میں کوئی آفیشیل جانکاری ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

کچھ ارکان اسمبلی کا چلے جانا پارٹی ٹوٹ نہیں، میں ہوں این سی پی کا صدر: شرد پوار

0
کچھ-ارکان-اسمبلی-کا-چلے-جانا-پارٹی-ٹوٹ-نہیں،-میں-ہوں-این-سی-پی-کا-صدر:-شرد-پوار

کولہاپور: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے ہفتہ کو ایک بار پھر اپنی پارٹی میں پھوٹ کی تردید کی۔ انہوں نے کہا، یہ درست ہے کہ کچھ ایم ایل اے چلے گئے ہیں لیکن صرف ایم ایل اے کے جانے کا مطلب پوری سیاسی پارٹی کا ٹوٹنا نہیں ہے۔ پوار نے مزید کہا }}میں این سی پی کا قومی صدر ہوں اور جینت پاٹل مہاراشٹر میں پارٹی کے ریاستی صدر ہیں۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پارٹی سے بغاوت کرنے والے لیڈروں کے تئیں نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ باغیوں کا نام لے کر انہیں اہمیت کیوں دی جائے؟

اس سے قبل شرد پوار کی بیٹی اور پارٹی کی کارگزار صدر سپریہ سولے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ این سی پی میں کوئی پھوٹ نہیں ہے اور اجیت پوار پارٹی کے لیڈر رہیں گے۔ اس سوال پر شرد پوار نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ شرد نے کہا تھا- ہاں، اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے لیکن چند گھنٹوں کے بعد پوار نے یو ٹرن لیا اور کہا – انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔

خیال رہے کہ اجیت پوار اور این سی پی کے آٹھ دیگر ممبران اسمبلی نے 2 جولائی کو پارٹی کے خلاف بغاوت کی اور مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا-بی جے پی حکومت میں شامل ہو گئے۔ اس الٹ پھیر سے سیاسی ماحول بھی گرم ہوگیا۔ اجیت نے پوری پارٹی پر اپنا دعویٰ کیا اور الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔

شرد پوار نے اعتراف کیا ہے کہ جب 2022 میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی قیادت والی حکومت گر گئی تو این سی پی کے کچھ ایم ایل اے نے انہیں شندے کی قیادت والی حکومت میں شامل ہونے کے لیے لکھا۔ حالانکہ ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ پوار نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں فاشسٹ طاقتوں کی مخالفت کرتا رہوں گا۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا اجلاس ہوگا۔ اس دوران 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا اور مشترکہ مہم پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’میں مہاراشٹر میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں۔ بی جے پی کے ساتھ جانے والوں سے لوگ مایوس ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ عوام انتخابات میں صحیح مینڈیٹ دیں گے اور بی جے پی کو اس کا صحیح مقام دکھائیں گے۔‘‘

جب شرد سے این سی پی لیڈر حسن مشرف کے اجیت پوار کے دھڑے میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’’مشرف کو ای ڈی کے چھاپوں کا سامنا ہے لیکن اب کارروائی روک دی گئی ہے۔ پتہ نہیں انہوں نے اس کے لیے کس سے بات شروع کی؟ مشرف حکمران جماعت کی تعریف کر کے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘

تمل ناڈو: سیاحتی ٹرین میں سلنڈر دھماکہ سے لگی آگ، 10 مسافروں کی موت، 20 زخمیوں کو اسپتال میں کیا گیا داخل

0
تمل-ناڈو:-سیاحتی-ٹرین-میں-سلنڈر-دھماکہ-سے-لگی-آگ،-10-مسافروں-کی-موت،-20-زخمیوں-کو-اسپتال-میں-کیا-گیا-داخل

تمل ناڈو کے مدورئی ریلوے اسٹیشن پر آج صبح ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم 10 مسافروں کی موت ہو گئی۔ دراصل مدورئی ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین کے ڈبہ میں ہفتہ کی علی الصبح آگ لگ گئی جس میں نہ صرف 10 لوگوں کی موت ہو گئی، بلکہ 20 دیگر مسافر زخمی بھی ہوئے جنھیں فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس درمیان مہلوکین کے کنبوں کو 10-10 لاکھ روپے معاوضہ کی رقم دینے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ریلوے نے ناجائز طریقے سے لے جائے گئے گیس سلنڈر کو حادثہ کی وجہ بتایا ہے۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جس ڈبے میں آگ لگی وہ ایک پرائیویٹ پارٹی کوچ تھا، یعنی کسی شخص کے ذریعہ بک کرایا گیا پورا ڈبہ تھا۔ اس میں سوار مسافر اتر پردیش کے لکھنؤ سے مدورئی پہنچے تھے۔ اچانک اس ڈبے میں سلنڈر دھماکہ ہوا اور پھر ایک افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ریلوے اہلکاروں کے علاوہ پولیس، فائر بریگیڈ اور بچاؤ اہلکاروں نے ڈبے سےلاشوں کو باہر نکالا۔

ابتدائی جانکاری میں بتایا جا رہا ہے کہ ٹرین رامیشورم جا رہی تھی۔ اس کا نام پونالور مدورئی ایکسپریس ہے۔ آگ لگنے کی خبر صبح تقریباً 5.15 بجے ملی۔ اس وقت ٹرین مدورئی یارڈ جنکشن پر رکی ہوئی تھی۔ صبح 7.15 بجے آگ کی لپٹوں پر قابو پا لیا گیا۔ دیگر ڈبوں کو اس آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایک پرائیویٹ پارٹی کوچ تھا جسے 25 اگست کو ناگرکووِل جنکشن پر ٹرین نمبر 16730 (پانولور-مدورئی ایکسپریس) میں جوڑا گیا تھا۔ ڈبے کو الگ کر مدورئی ریلوے اسٹیشن پر کھڑا کیا گیا تھا۔ اس ڈبے میں مسافر ناجائز طریقے سے گیس سلنڈر لے کر آئے تھے، اسی وجہ سے آگ لگی۔ آگ لگنے کی خبر ملنے پر کئی مسافر کوچ سے باہر نکل گئے۔ کچھ مسافر پلیٹ فارم پر ہی اتر گئے تھے۔

متاثرہ ڈبے میں سوار مسافروں نے 17 اگست کو لکھنؤ سے سفر شروع کیا تھا اور ان کا 27 اگست کو چنئی جانے کا پروگرام تھا۔ چنئی سے ان کا لکھنؤ لوٹنے کا منصوبہ تھا۔ جائے حادثہ پر بکھرے ہوئے سامان میں ایک سلنڈر اور آلو کی ایک بوری ملی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈبہ میں کھانا پکایا جا رہا تھا۔ مدورئی کی ضلع کلکٹر ایم ایس سنگیتا نے کہا کہ آج صبح 5.30 بجے مدورئی ریلوے اسٹیشن پر کوچ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ کوچ میں تیرتھ یاتری تھے اور وہ اتر پردیش کے باشندے تھے۔ آج صبح جب انھوں نے کافی بنانے کے لیے گیس اسٹو جلانے کی کوشش کی تو سلنڈر میں دھماکہ ہو گیا۔ 55 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے اور اب تک 10 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ اصولوں کے مطابق کوئی بھی شخص آئی آر سی ٹی سی کے پورٹل کا استعمال کر کے پرائیویٹ پارٹی کوچ بک کر سکتا ہے، لیکن اسے ڈبے میں گیس سلنڈر یا کوئی شعلہ فشاں شئے لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ کوچ کا استعمال صرف سفر کے مقصد کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

مشن چندریان 3 میں جامعہ کے تین سابق طلبا شامل، وی سی نجمہ اختر نے دی مبارکباد

0
مشن-چندریان-3-میں-جامعہ-کے-تین-سابق-طلبا-شامل،-وی-سی-نجمہ-اختر-نے-دی-مبارکباد

نئی دہلی: مشن چندریان 3 کی کامیابی کے بعد پورے ملک میں خوشی کا ماحول ہے۔ چاند کے قطب جنوبی پر کامیاب لینڈنگ کے بعد پوری دنیا نے ہندوستانی سائنسدانوں کا لوہا مانا ہے۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا اسرو کے اس انتہائی اہم مشن میں شامل رہے ہیں۔ جبکہ، ملک کے باوقار ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 3 سابق طلبا بھی مشن چندریان 3 کا حصہ تھے۔ یونیورسٹی نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور سابق طلبا کو ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین طلبا محمد کاشف، اریب احمد اور امت کمار بھاردواج بھی مشن چندریان 3 میں شامل تھے۔ ان تینوں طلبا نے جامعہ کے مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے 2019 میں بی ٹیک مکمل کیا تھا۔ ان طلبا نے اسرو 2019 کے سینٹرلائزڈ ریکروٹمنٹ بورڈ کے سائنٹسٹ/انجینئر کے عہدے کے لیے کوالیفائی کیا، جس کا نتیجہ ستمبر 2021 میں جاری کیا گیا تھا۔ ان تینوں میں سے محمد کاشف نے پہلے ہی امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے یونیورسٹی کا اعزاز بڑھا دیا ہے۔

مشن چندریان-3 میں شامل جامعہ کے سابق طالب علم اریب احمد نے میڈیا سے کہا کہ یہ کامیابی ہم سب کے لیے بہت خاص ہے اور تمام ہم وطنوں کو پرجوش دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ مختلف جگہوں سے پیغامات آ رہے ہیں، لوگ فون کر کے مبارکباد دے رہے ہیں۔ یہ لمحہ پوری زندگی کا ایک بہت ہی خاص لمحہ ہے۔ ہماری ٹیم کے باقی ارکان نے بھی اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیا اور ہم ہمیشہ اسرو کے تمام مشنوں کے لیے وقف رہیں گے۔

مشن چندریان 3 میں شامل سائنسدان امت کمار بھاردواج نے کہا ’’میں اپنی پوری ٹیم اور ملک کی کامیابی سے بہت پرجوش ہوں۔ یہ زندگی کا ایک بہت ہی ناقابل فراموش لمحہ ہے۔ کالج اور اسکول کے دوست بھی فون کر کے مبارکباد دے رہے ہیں۔ اس مشن کی کامیابی کے حوالے سے لوگوں کے چہروں پر جو خوشی ہے وہ بھی بہت اطمینان بخش ہے۔ مستقبل میں بھی ملک کے ایسے ہر مشن کے لیے پوری طرح تیار ہوں گے۔‘‘

امت سے جب اس مشن کے دوران خاندان سے ان کے رابطے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ خاندان کا بہت تعاون ملا لیکن اس مشن کے دوران ان کی فیملی سے بہت کم بات چیت ہوئی۔ امت نے ہندوستان کے سابق صدر اور عظیم سائنسدان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو اپنا آئیڈیل بتایا اور کہا کہ ان کی پوری زندگی نہ صرف سائنس کے لوگوں کے لیے بلکہ ایک عام آدمی کے لیے بھی ایک تحریک ہے۔

مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے ملک کی اس عظیم کامیابی پر پرجوش انداز میں کہا کہ اس موقع پر سب سے پہلے میں محترم وزیر اعظم نریندر مودی کو مشن کی کامیابی کے لیے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ یہ قومی جشن کا موقع ہے اور ہمیں یہ جان کر خاص طور پر خوشی ہوئی کہ ہمارے طلبا بھی اس تاریخی مشن کا حصہ تھے۔ میں اسے اس کی کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وائس چانسلر نے یہ بھی کہا کہ پوری یونیورسٹی کو ان پر فخر ہے اور تینوں طلبہ یونیورسٹی کے موجودہ طلبہ کے لیے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ موجودہ طلبا کو ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے محنت کرنے کی تحریک ملے گی۔

مدھیہ پردیش: شیوراج چوہان نے 3 وزرا کو کابینہ میں شامل کیا

0
مدھیہ-پردیش:-شیوراج-چوہان-نے-3-وزرا-کو-کابینہ-میں-شامل-کیا

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل آج وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے تین وزراء کو شامل کرتے ہوئے کابینہ کی توسیع کی، جس میں گوری شنکر بسن اور راجندر شکلا کابینی وزیر اور راہل سنگھ لودھی بطور وزیر مملکت بنائے گئے ہیں۔

گورنر منگو بھائی پٹیل نے راج بھون میں منعقدہ ایک مختصر اور باوقار تقریب میں تینوں نو تعینات وزراء کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ چوہان کے علاوہ کئی عوامی نمائندے، چیف سکریٹری اقبال سنگھ بینس اور سینئر افسران موجود تھے۔

اسمبلی انتخابات سے عین قبل علاقائی، ذات پات اور سیاسی توازن کے مقصد سے نئے وزراء کو حلف دلایا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے علاوہ اب کابینہ میں وزراء کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ اس میں 25 کابینی وزیر اور آٹھ وزرائے مملکت شامل ہیں۔ 230 رکنی ریاستی اسمبلی میں مقررہ معیار کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ 35 وزراء ہو سکتے ہیں۔ اس طرح اب بھی ایک جگہ خالی ہے۔

وندھیا سے تعلق رکھنے والے راجندر شکلا ریوا اسمبلی سیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس سے پہلے وزیر رہ چکے ہیں۔ مہا کوشل زون سے آنے والے تقریباً 70 سالہ گوری شنکر بسین، بالاگھاٹ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ راہل لودھی، جو سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کے قریبی رشتہ دار ہیں، بندیل کھنڈ کی کھڑگاپور اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے ہیں اور سال 2018 میں پہلی بار ایم ایل اے بنے ہیں۔

انہیں ریاستی وزیر بنا کر دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) برادری کو راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ریاست میں آنے والے نومبر-دسمبر مہینے میں اسمبلی انتخابات کی تجویز ہے۔ تاہم ابھی تک انتخابی پروگرام طے نہیں ہوا ہے۔

دہلی پولیس کے لیے نئی سوشل میڈیا گائیڈ لائنز جاری، ریل پر دی گئی سخت ہدایت

0
دہلی-پولیس-کے-لیے-نئی-سوشل-میڈیا-گائیڈ-لائنز-جاری،-ریل-پر-دی-گئی-سخت-ہدایت

نئی دہلی: دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ نے جمعہ کو پولیس اہلکاروں کے لیے سوشل میڈیا گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔ انہوں نے ایک ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ یونیفارم کے وقار کو برقرار رکھیں اور ریل یا ویڈیو کے لیے کسی سامان یا لوازمات کا استعمال نہ کریں۔

نئی گائیڈ لائنز کے مطابق پولیس اہلکاروں کو کسی زیر التوا مقدمے یا مشتبہ یا گرفتار شخص سے متعلق کوئی بھی خفیہ معلومات پر تبصرہ، پوسٹ یا شیئر نہیں کرنا چاہیے۔

کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار تحریری اجازت کے بغیر محکمہ جاتی تربیت، سرگرمیوں یا فرائض سے متعلق کوئی بیان، تصویر یا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کریں۔ اس کے علاوہ ایسے کسی بھی تبصرے کو پوسٹ کرنے سے گریز کریں جو متاثرین، مشتبہ افراد یا کسی گروپ کے لیے توہین آمیز ہو۔

گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نابالغ یا جنسی ہراسانی کی شکایت کرنے والے کی شناخت ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔ پولیس اہلکاروں کے لیے کسی محفوظ شخص یا اعلیٰ حفاظتی علاقے/ احاطے کی تصاویر یا ویڈیوز کو ریکارڈ اور منتقل کرنا غیر قانونی ہے۔

پولیس کمشنر نے کہا کہ ڈسپلنڈ فورس کا رکن ہونے کے ناطے پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی پوسٹ نہیں کرنی چاہیے جو ملکی مفاد یا داخلی سلامتی کے خلاف ہو۔

ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے پوسٹ کیا جانے والا مواد غیر قانونی، فحش، تضحیک آمیز، دھمکی آمیز یا دانشورانہ املاک کے حقوق کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس اہلکاروں اور افسران کو ایسی کوئی بھی پوسٹ نہیں کرنی چاہیے جس سے طرز عمل کی خلاف ورزی ہو۔

اس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی گروہ یا فورم میں ان کی شرکت غیر قانونی ہے اگر وہ کسی بھی مذہب، ذات، نسل یا ذیلی ذات کو فروغ دیتی ہو۔ پولیس اہلکاروں پر کسی سیاسی موضوع کے خلاف یا کسی بھی سوشل میڈیا مہم کا حصہ بننے پر بھی پابندی ہے۔

ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں آپریشنل کوریج کے لیے پولیس اہلکاروں کے موبائل فون اور کیمرے استعمال کیے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر حساس مواد اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی بھی تصویر یا ویڈیو صرف سرکاری استعمال کے لیے ہونی چاہیے۔

دہلی میں اختیارات پر تنازع جاری! ’وزرا کی بات نہیں سن رہے چیف سکریٹری‘ آتشی نے ایل جی سے کی شکایت

0
دہلی-میں-اختیارات-پر-تنازع-جاری!-’وزرا-کی-بات-نہیں-سن-رہے-چیف-سکریٹری‘-آتشی-نے-ایل-جی-سے-کی-شکایت

نئی دہلی: دہلی حکومت میں وزیر برائے سروسز اینڈ ویجیلنس آتشی نے جمعہ کو لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے دہلی کے چیف سکریٹری نریش کمار پر منتخب حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

خط میں آتشی نے لکھا ’’چیف سکریٹری نے اپنے نوٹ میں جی این سی ٹی ڈی ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 45 جے (5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی این سی ٹی ڈی ایکٹ سے سیکشن 3 اے کو حذف کرنے کے باوجود ‘سروسز اینڈ ویجیلنس’ سے متعلق تمام معاملات پر موثر انتظامی اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہوں گے نہ کہ منتخب حکومت کے پاس! دہلی حکومت اس قانونی تشریح کو درست نہیں مانتی۔‘‘

آتشی نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ جی این سی ٹی ڈی (ترمیمی) ایکٹ، 2023 سروسز اس سلسلے میں صرف لیفٹیننٹ گورنر کو مخصوص اختیارات دیتا ہے، جو صرف نیشنل کیپیٹل سول سروسز اتھارٹی کی سفارشات پر ایل جی استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ نے بھی دہلی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ این سی ٹی ڈی کو خدمات پر قانون سازی اور انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔

دہلی کی سروسز منسٹر آتشی نے ایل جی ونے سکسینہ سے خط میں اس معاملے پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہوئے ان کی رائے بھی مانگی ہے۔ آتشی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ نظم و نسق، زمین اور پولیس کو چھوڑ کر دہلی کی وزارتی کونسل آرٹیکل 239اے اے کی شق (3) اور (4) کے تحت ریاستی فہرست یا کنکرنٹ لسٹ میں شامل تمام معاملات کے سلسلے میں ہندوستان کے آئین کے مطابق ، ایگزیکٹو پاور کا استعمال کرتی ہے اور ایل جی ان کے علاوہ تمام معاملات میں وزارتی کونسل کو مشورہ دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دہلی میں خدمات پر کنٹرول اور حقوق کو لے کر مرکز اور اروند کیجریوال حکومت کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا۔ مئی میں سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سروسز’ پر صرف منتخب حکومت کو قانون سازی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے۔ تاہم، اس کے بعد مرکزی حکومت نے ایک آرڈیننس متعارف کراتے ہوئے ایل جی کو خدمات کا کنٹرول دے دیا۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آرڈیننس کی جگہ لینے والے دہلی سروسز بل کو بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری مل گئی۔ صدر کے دستخط سے نیا قانون بھی نافذ ہو گیا ہے۔

جموں و کشمیر: بانڈی پورہ میں ملی ٹنٹ ماڈیول کا پردہ فاش، ہائی برڈ ملی ٹینٹ گرفتار

0
جموں-و-کشمیر:-بانڈی-پورہ-میں-ملی-ٹنٹ-ماڈیول-کا-پردہ-فاش،-ہائی-برڈ-ملی-ٹینٹ-گرفتار

سری نگر: پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک ہائی برڈ جنگجو کو گرفتار کرکے پاکستان نشین ملی ٹنٹوں کی طرف سے ملی ٹنسی کو بحال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔

ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے 26 آسام رائفلز اور سی آر پی ایف کی تیسری بٹالین کی مدد سے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں دہشت گردی کے ایک ماڈیول کا پردہ فاش کیا اور ضلع میں دہشت گردی کو زندہ کرنے کے لئے پاکستان نشین دہشت گرد ہینڈلرز کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔

انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ’25 اگست کو ایک ہائبرڈ دہشت گرد کی نقل و حرکت کے بارے میں جموں وکشمیر پولیس کے ذریعے تیار کردہ مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر پولیس اسٹیشن پیٹھ کوٹ کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے درد گنڈ میں مشترکہ طور پر ایک ناکہ لگا دیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا: ‘ناکہ پر سیکورٹی فورسز کو دیکھتے ہی ایک مشتبہ شخص نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اس کو دھر لیا گیا تلاشی کے دوران اس کی تحویل سے ایک پستول، ایک پستول میگزین، 8 گولیاں اور کچھ قابل اعتراض مود بر آمد کیا گیا’۔

بیان میں گرفتار شدہ کی شناخت شفاعت زبیر ریشی ساکن نسہ بل سمبل کے بطور کی گئی۔ پولیس بیان میں کہا گیا کہ پوچھ تاچھ کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ منیرہ بیگم زوجہ مہلوک جنگجو اور ائیریا کمانڈر یوسف چوپان نامی خاتون سے اسلحہ و گولہ بارود حاصل کرنے کے لئے پزال پورہ جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا: ‘ملزم پاکستان نشین ٹیرر ہینڈلر مشتاق احمد میر کے ساتھ رابطے میں تھا جو سال 1999 میں پاکستان چلا گیا تھا اور وہیں سے ضلع میں دہشت گردی کو بحال کرنے کے لئے کام کر رہا ہے’۔

پولیس بیان میں کہا گیا: ‘وہ سال 2000 میں کوٹھی باغ میں ہوئے آئی ای ڈی دھماکے میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد کی موت واقع ہوئی تھی اور پہلے کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا اور بعد میں البدر نامی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوا تھا’۔

بیان میں کہا گیا: ‘شفاعت زبیر ریشی سال 2009 میں سمبل میں ایک فوجی گاڑی کو نذر آتش کرنے میں بھی ملوث تھا اور اس کیس میں ضمانت پر رہا ہے’۔

موصوف پولیس ترجمان نے کہا: ‘مزید بر آں منیرہ بیگم کے انکشاف پر اسلحہ و گولہ بارود کی ایک کھیپ جس میں ایک اے کے 47 رائفل، 3 میگزین، 90 گولیاں، 1 پین پستول کو ایک جنگل علاقے سے بر آمد کیا گیا جو شفاعت ریشی کو سپرد کرنا تھا’۔ انہوں نے کہا: ‘تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ منیرہ بھی دو بار پاکستان گئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا: ‘شفاعت ریشی نے دوران پوچھ تاچھ یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کو دہشت گردی کی بحالی کے لئے 47 لاکھ روپیے حاصل کرنے تھے بعد میں اس رقم پاکستان نشین ہینڈلر مشتاق احمد میر کے ہدایات پر کسی کو دینی تھی’۔ پولیس نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔