بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 162

شیروں کو راجستھان لانے کے لیے مرکزی حکومت کے نام خط تحریر کریں گے: اشوک گہلوت

0
شیروں-کو-راجستھان-لانے-کے-لیے-مرکزی-حکومت-کے-نام-خط-تحریر-کریں-گے:-اشوک-گہلوت

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ راجستھان میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قابل ستائش اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اب ریاست میں شیروں کو لانے کے لیے مرکزی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔

گہلوت نے ہفتہ کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ریاستی وائلڈ لائف بورڈ کی 14ویں میٹنگ میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ریاست میں ٹائیگرز کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہماری کوششوں کی وجہ سے 2022 میں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کی گئی جائزہ رپورٹ میں رنتھمبور اور سریسکا ٹائیگر ریزرو کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔ ریاست میں 29 کنزرویشن ریزرو میں سے 16 موجودہ حکومت کے دور میں بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ، پروجیکٹ ٹائیگر وغیرہ کے ذریعے ملک میں ماحولیاتی تحفظ کی حوصلہ افزائی کی۔ پروجیکٹ ٹائیگر میں جودھ پور کے کیلاش سانکھلا کو پہلا پروجیکٹ ڈائریکٹرمقرر کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اس سمت میں انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ، گنگا ایکشن پلان اور ویسٹ لینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ جیسی اختراعات کیں۔ سابقہ مرکزی حکومت نیشنل گرین ٹریبونل ایکٹ لے کر آئی۔ اسی سلسلے میں ہماری حکومت بھی ریاست کے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار اس کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ التزام کیا گیا ہے۔ ریاست کے ٹائیگر ریزرو میں سے تین موجودہ حکومت کے دور میں بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 10 ہزار ہیکٹر سے زیادہ گھاس کا میدان تیار کیا جا رہا ہے۔ مختلف ٹائیگر ریزرو سے 741 خاندانوں کو دوبارہ آباد کیا گیا ہے جس سے مین-وائلڈ تصادم میں کمی آئی ہے۔ پروجیکٹ گوڈاون کے تحت انکیوبیشن سنٹر میں آرٹفشیل ہیچنگ سے گوڈاون کے انڈوں سے نکلے بچوں کی دوسری نسل کے بچے بھی ہوچکے ہیں۔

گہلوت نے کہا کہ ریاست میں شیروں کو لانے کے لیے مرکزی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ریاستی انیمل ویلفیئر بورڈ کا نام تبدیل کرکے امرتا دیوی کے نام پر رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ امرتا دیوی کی قربانی ہر کسی کو ماحول کے تحفظ کی ترغیب دیتی ہے۔

نوح میں ہندو تنظیموں نے برج منڈل یاترا نکالی تو ہم بھی ’ٹریکٹر مارچ‘ نکالیں گے! کسانوں کا اعلان

0
نوح-میں-ہندو-تنظیموں-نے-برج-منڈل-یاترا-نکالی-تو-ہم-بھی-’ٹریکٹر-مارچ‘-نکالیں-گے!-کسانوں-کا-اعلان

الور: ہریانہ کے نوح میں کشیدگی کے درمیان ہندو تنظیموں کی طرف سے کسی بھی حالت میں دوبارہ یاترا نکالنے کے اعلان کے بعد کسان تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کسانوں نے کہا ہے کہ اگر نوح میں دوبارہ برج منڈل یاترا کا انعقاد کیا گیا تو وہ بھی ٹریکٹر مارچ نکالیں گے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے راجستھان کے الور میں کسان-مزدور بھائی چارہ مہاپنچایت کے دوران یہ اعلان کیا۔

سنیوکت کسان مورچہ کے زیر اہتمام مہاپنچایت میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ہریانہ کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ نوح تشدد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی ان ریاستوں میں ماحول خراب کرنا چاہتی ہے جہاں اس کی حکومت ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ اگر ہریانہ حکومت 28 اگست کو نوح میں برج منڈل یاترا کرنے کی اجازت دیتی ہے تو وہ بھی ٹریکٹر مارچ نکالیں گے، جس کی تاریخ بعد میں طے کی جائے گی۔ ٹکیت نے کہا کہ اس سب سے ملک کی ترقی نہیں ہوتی، ترقی کرنی ہے تو اسکول کالج، اسپتال کھولیں، نوجوانوں کو روزگار دیں۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ملک کو نہیں بچا سکتی، ملک کو صرف تحریک بچا سکتی ہے۔ کسان، مزدور، بے روزگار اور استحصال زدہ سبھی اس تحریک میں حصہ لیں گے، تب ہی حکومتیں جھکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بادشاہ کی پالیسی ہے کہ عوام کو لڑاؤ اور خود حکومت کرو۔

انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کو پڑھائیں، انہیں ملازمت پر لگاؤ۔ فسادات میں نہ بھیجیں۔ ٹکیت نے کہا کہ ہم سب ہندو ہیں۔ ہندو دو طرح کے ہیں، ایک وہ ہندو ہیں جو ناگپور سے چلتے ہیں اور ایک ہندو ہم ہندوستانی ہندو ہیں اور ہندوستانی ہندو کبھی نہیں لڑتے۔

الور کے بڑودہ میو شیتل میں منعقدہ مہا پنچایت میں راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کے کسانوں اور عام لوگوں نے حصہ لیا۔ مہاپنچایت میں سابق گورنر ڈاکٹر ستیہ پال ملک، گرنام سنگھ چڈھونی، کسان لیڈر راکیش ٹکیت، ڈاکٹر درشن پال اور مولانا ارشد مدنی سمیت کئی اہم شخصیات موجود رہیں۔

داماد کو والدین سے علیحدہ ہونے، ’گھر جمائی‘ بن کر رہنے کے لیے کہنا ظلم کے مترادف: دہلی ہائی کورٹ

0
داماد-کو-والدین-سے-علیحدہ-ہونے،-’گھر-جمائی‘-بن-کر-رہنے-کے-لیے-کہنا-ظلم-کے-مترادف:-دہلی-ہائی-کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ میں کہا ہے کہ کسی شخص پر والدین کو چھوڑنے اور سسرال والوں کے ساتھ ’گھر جمائی‘ بن کر رہنے پر مجبور کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ اس شخص کی طلاق کی درخواست کو ابتدائی طور پر خاندانی عدالت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس سریش کمار کیت اور نینا بنسل کرشنا کی بنچ نے فیملی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیدا اور بیوی کی طرف سے کئے گئے ظلم اور ترک کرنے کی بنیاد پر جوڑے کی طلاق پر مہر ثبت کر دی۔

اپنی درخواست میں اس شخص نے کہا تھا کہ اس کی شادی مئی 2001 میں ہوئی تھی۔ ایک سال کے اندر اس کی بیوی حاملہ ہو گئی اور گجرات میں اپنی سسرال چھوڑ کر دہلی میں اپنے والدین کے گھر لوٹ آئی۔

اس شخص نے کہا کہ اس نے صلح کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں لیکن اس کی بیوی اور اس کے والدین کا اصرار تھا کہ وہ گجرات سے دہلی آ جائے اور ان کے ساتھ ’گھر جمائی‘ کی طرح زندگی گزارے۔ مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنی تھی۔

دوسری جانب خاتون نے جہیز کے لیے ہراساں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ شخص شرابی تھا، جو اسے جسمانی طور پر ہراساں اور تشدد کرتا تھا۔ چنانچہ مارچ 2002 میں اس نے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا۔ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی کے بیٹے کو اس کے خاندان سے الگ کرنے کے لیے کہنا ظلم کے مترادف ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہندوستان میں کسی بیٹے کے لیے شادی کے بعد اپنے خاندان سے الگ ہونا مناسب نہیں ہے، اور یہ کہ اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی دیکھ بھال کرے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بیوی کے گھر والوں کی طرف سے شوہر پر اپنے والدین کو چھوڑ کر ’گھر جمائی‘ بننے پر اصرار کرنا ظلم کے مترادف ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دونوں فریق کچھ مہینوں تک ساتھ رہے تھے جس کے دوران انہیں ازدواجی تعلقات برقرار رکھنے میں ناکامی کا پتہ چلا۔

عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس شخص کو اس کی بیوی کی طرف سے دائر فوجداری مقدمے میں بری کر دیا گیا تھا، جس میں اس نے اس پر ظلم اور اعتماد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ خاتون کے الزامات ثابت نہیں ہوئے اور عدالت نے کہا کہ جھوٹی شکایتیں ظلم کے مترادف ہیں۔

غیر ازدواجی تعلقات کے الزامات کے حوالے سے عدالت نے نوٹ کیا کہ طویل علیحدگی کے سبب مرد اور عورت دونوں کو اپنی شادی سے باہر ساتھی تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ عدالت نے بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عورت بغیر کسی معقول وجہ کے رہ رہی تھی، جس کی وجہ سے طلاق ہو گئی۔

چندریان 3 نے دو اہداف کئے حاصل، تیسرے پر کام جاری: اسرو

0
چندریان-3-نے-دو-اہداف-کئے-حاصل،-تیسرے-پر-کام-جاری:-اسرو

نئی دہلی: چندریان 3 کے لینڈر ماڈیول (ایل ایم) کے چاند کی سطح پر اترتے ہی ہندوستان نے تاریخ رقم کر دی۔ ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر کے قطب جنوبی پر اترنے کے بعد وہاں سے مسلسل تصویریں آ رہی ہیں۔ دریں اثنا، اسرو نے بتایا ہے کہ چندریان 3 نے مشن کے تین اہداف میں سے دو کو حاصل کر لیا ہے، جبکہ تیسرے کے لیے کام جاری ہے۔

اسرو نے ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’چندریان 3 نے مشن کے 3 میں سے دو اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ پہلا ہدف چاند کی سطح پر محفوظ اور سافٹ لینڈنگ تھا۔ دوسرا روور کو چاند کی سطح پر اتارنا اور اب تیسرا ان-سیٹو سائنسی تجربہ جاری ہے۔ تمام پے لوڈ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘

دراصل، لینڈر اور روور چاند کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اندرونی مشاہدات اور تجربات کریں گے۔ چندریان 3 چاند پر 14 دن تک کام کرے گا۔ چاند کا ایک دن زمین کے 14 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی یہاں 14 دن کا دن ہوتا ہے اور 14 دن کی رات ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پرگیان صرف ایک قمری دن تک فعال رہے گا۔ اس دوران روور پرگیان پانی، معدنی معلومات کی تلاش کرے گا اور وہاں زلزلے، گرمی اور مٹی کا مطالعہ کرے گا۔

ہندوستان بہت جلد گگن یان کا آزمائشی مشن شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ لانچنگ ڈیڑھ ماہ میں ہونے کا امکان ہے۔ اس لانچنگ میں بغیر پائلٹ گاڑی کو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ تمام سسٹمز کو چیک کیا جائے گا۔ ٹیم کے ریکوری سسٹم اور تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مشن میں ہندوستانی بحریہ اور کوسٹ گارڈ بھی شامل ہیں۔

اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں ویوم مترا روبوٹ کو گگن یان کے ذریعے بھیجا جائے گا۔ اسرو نے 24 جنوری 2020 کو ویوم مترا خاتون ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کرایا تھا۔ اس روبوٹ کو بنانے کا مقصد اسے ملک کے پہلے انسان بردار مشن گگن یان کے عملے کے ماڈیول میں بھیج کر خلا میں انسانی جسم کی حرکات کو سمجھنا ہے۔ یہ فی الحال بنگلور میں ہے۔ اسے دنیا کے بہترین خلائی ایکسپلورر ہیومنائیڈ روبوٹ کا خطاب مل چکا ہے۔

ہندو تنظیم نوح میں شوبھا یاترا نکالنے پربضد، انتظامیہ نے منظوری نہیں دی، کل اسکول کالج بند

0
ہندو-تنظیم-نوح-میں-شوبھا-یاترا-نکالنے-پربضد،-انتظامیہ-نے-منظوری-نہیں-دی،-کل-اسکول-کالج-بند

ہریانہ کے نوح میں تشدد کے بعد برجمنڈل شوبھایاترا نکالنے کی بات  دوبارہ ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہندو تنظیم کل یعنی  28 اگست کو یہ جلوس نکالے گی لیکن انتظامیہ کی طرف سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔ جلوس کو روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک ‘ پر شائع خبر کے مطابق نوح کے ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے کہا کہ پولیس  نے برجمنڈل جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس یاترا پر بضد ہیں۔ لیکن ہم نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

برجمنڈل شوبھایاترا سرو ہندو سماج کے بینر تلے منعقد کی جائے گی۔ اس دوران کئی سماجی اور مذہبی رہنما شریک ہوں گے۔ 52 پال کے صدر ارون زیلدار نے کہا کہ برجمنڈل مذہبی یاترا ایک تاریخی یاترا ہے، جو 31 جولائی کو ہونے والے تشدد کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ لیکن اب 28 اگست کو یہ یاترا میوات کے سرو ہندو سماج کی طرف سے دوبارہ نکالی جائے گی۔ وشو ہندو پریشد نے اس یاترا کو منظم شکل دی تھی۔ وہ اب بھی ایک ذیلی تنظیم کے طور پر ہمارے ساتھ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جی 20 جیسے اہم پروگراموں اور میوات میں فسادیوں پر پولیس کارروائی کے پیش نظر ہم انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں اور جلوس میں شریک لوگوں کی تعداد پر غور کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر وشو ہندو پریشد کے مرکزی جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر کمار جین نے کہا کہ اس بار میوات کے ہندو سماج نے عزم کے ساتھ یاترا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے وشو ہندو پریشد میوات سے باہر ہندو سماج کو مدعو نہ کرکے پوری ریاست کے لیے کا اعلان کر رہی ہے۔ اس دن ریاست کے ہر بلاک میں شیو مندر میں جل ابھیشیک کا پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اس پروگرام میں وہاں کی ہندو سوسائٹی حصہ لیں گی۔

بتا دیں کہ نوح انتظامیہ نے 25 سے 29 اگست تک انٹرنیٹ سروس اور بلک ایس ایم ایس پر پابندی لگا دی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تشدد اور ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ اس دوران صرف کالنگ سروس کام کرے گی۔

پولیس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی۔ نوح کے ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے بتایا کہ نوح میں اسکول، کالج اور بینک پیر کو یعنی آج  بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

برج منڈل یاترا گزشتہ ماہ کی آخری تاریخ یعنی 31 جولائی کو ہریانہ کے میوات نوہ میں نکالی گئی تھی۔ اس یاترا  کے دوران تشدد بھڑک اٹھا ۔ کچھ ہی دیر میں یہ دونوں برادریوں کے درمیان تشدد میں بدل گیا۔ سینکڑوں کاروں کو آگ لگا دی گئی۔ سائبر پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ نوح کے بعد سوہنا میں بھی پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے بعد تشدد کی آگ نوح سے فرید آباد اورگروگرام تک پھیل گئی۔

نوح کے تشدد میں دو ہوم گارڈز سمیت چھ افراد مارے گئے تھے۔ اس کے بعد نوح، فرید آباد، پلول سمیت کئی مقامات پر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نوح میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی جانب سے نو منتخب ڈائریکٹر سی سی آر یو ایم ڈاکٹر این ظہیر احمد کو استقبالیہ

0
آل-انڈیا-یونانی-طبی-کانگریس-کی-جانب-سے-نو-منتخب-ڈائریکٹر-سی-سی-آر-یو-ایم-ڈاکٹر-این-ظہیر-احمد-کو-استقبالیہ

نئی دہلی: آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے زیر اہتمام نئی دہلی کے رفیع مارگ پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس کی صدارت پروفیسر مشتاق احمد نے کی۔پروگرام کا آغاز ڈاکٹر نعیم رضا کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر خبیب احمد نے بخوبی انجام دئے، جبکہ پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر طبی کانگریس کے سر پر ست ڈاکٹر سید فاروق،پروفیسر مشتاق احمد، ڈاکٹر عارف زید ی، پروفیسر ادریس احمد پر نسپل یونانی طبی کالج قرول باغ نے شرکت کی۔پروگرام کے روح رواں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں تھے۔ پروگرام میں ڈاکٹر این ظہیر احمد، ڈائریکٹر آف جنرل سی سی آریو ایم منسٹری آف آیوش گورنمنٹ آف انڈیا کو شاندار استقبالیہ دیا گیا۔جس کو ڈاکٹر ظہیر نے خوشی خوشی قبول کیا۔

اس موقع پرڈاکٹر ادریس نے کہا کہ آج ہمارے لئے بے حد مسرت کی بات ہے کہ ہمارے حلقہ میں سے ایک دوست بڑے عہدے پر فائز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ظہیر احمد کا وصف یہ ہے کہ انہوں نے چنئی میں رہتے ہوئے طب کی دنیا میں جو ریسرچ کی ہے وہ قابل ستائش بھی ہے اور قابل فخر بھی۔ ان کی اسی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے انہیں ڈائریکٹر جنرل بنایا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ان کی صلاحیتو ں سے یونانی کو مزید فروغ ملے گا۔

ڈاکٹر این ظہیر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں طب کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا ہے تو اس کی نصابی کتابوں کوہمیں انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنا ہوگا۔ چونکہ جب کوئی فرد بیرون سے طب سیکھنے آتا ہے اس کو اس طریقہ علاج کی کتابیں انگریزی میں نہیں ملتی جس کے سبب یونانی کا دائرہ آج تک محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اُردو زبان کا مخالف نہیں ہوں اُردو ہماری بنیاد ہے لیکن بدلتے ہوئے دور کے ساتھ ہمیں انگریزی زبان کا استعمال یونانی ادویات میں کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر این ظہیر نے سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت پر کہا کہ ہمیں منسٹری آف آیوش کے پورٹل پر اپنا اندراج ضرور کرانا چاہئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ یونانی کے ڈاکٹر کتنے لوگوں کا اعلاج کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس پیتھی سے کتنا فائدہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یونانی سے جڑی تنظیموںکے ذمہ داران سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ یونانی کا سائنٹیفکلی فروغ کیا جاسکے۔

ڈاکٹر عارف زیدی نے یونانی کے فروغ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طب یونانی کا فروغ تبھی ممکن ہے جب ہم زمانے کے ساتھ اس پیتھی میں بدلاﺅ کریں گے۔ ہمیں آج اس بات پر غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے یونانی ادویات کا استعمال کون کون لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ تاہم اس کادائرہ بڑھانے کیلئے تکنیک کا استعمال بے حد ضروری ہے تاکہ مریض پوری طرح سے مطمئن ہو سکے۔ ڈاکٹر زیدی نے ڈاکٹر این ظہیر احمد کی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر اچھے ریسرچر بھی ہیں اور کلینیشن بھی اور یونانی کے خدمتگار بھی ان کی دیکھ ریکھ میں یونانی کو مزید بلندی ملے گی۔

ڈاکٹر سید فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے میں چندریان 3 کامیابی پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ہمارے سائنس دانوں کی کڑی محنت رنگ لائی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان میں لوگ سائنس کی طرف لوگ دیکھ رہے ہیں اور ہر شعبہ میں ریسرچ کا کام آگے بڑھ رہا ہے اور نئی نئی تحقیقات سے پر دے اٹھ رہے ہیں۔ ادویات کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یوں تو ہمارے یہاں پیشتر ادویات موجود ہیں لیکن ان ادویات پر ریسرچ کا کام نہیں ہو پارہا ہے۔ نیز ہمیں ادویات پر ریسرچ کے ساتھ ساتھ ان کا ڈاکومینٹیشن کرانا ضروری ہے۔

پروفسر مشتاق احمد نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی کاوشوں سے یونانی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے اور آگے بھی ہم اسی طرح یونی کے فروغ کیلئے کام کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ ڈاکٹر این ظہیر احمد نے بڑی ذمہ داری سنبھالی ہے ہمیں اُمید ہے پانچ سال کی مدت کار میں طب یونانی کا خوب فروغ ہوگا۔پروگرام کے اخیر میں ڈاکٹر لائق علی نے اظہار تشکر کیا۔اہم شرکاءمیں حکیم آفتاب، عمران قنوجی، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر فہیم ملک، ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی، کے نام قابل ذکر ہیں۔

’کے سی آر اور بی جے پی دوست ہیں، دونوں کے درمیان خفیہ معاہدہ‘، تلنگانہ میں کھڑگے نے اختیار کیا جارحانہ رخ

0
’کے-سی-آر-اور-بی-جے-پی-دوست-ہیں،-دونوں-کے-درمیان-خفیہ-معاہدہ‘،-تلنگانہ-میں-کھڑگے-نے-اختیار-کیا-جارحانہ-رخ

تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب قریب ہے، اور اس تعلق سے سبھی پارٹیوں کی تیاریاں زوروں پر چل رہی ہیں۔ کانگریس نے بھی ریاست میں انتخابی تشہیر شروع کر دی ہے اور آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے انتہائی جارحانہ انداز میں ریاست کی کے سی آر حکومت اور مرکز کی مودی حکومت پر حملہ آور نظر آئے۔ انھوں نے ہفتہ کے روز ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) اور بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور دونوں کے درمیان خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے تلنگانہ کی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے آپ لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔ تلنگانہ عوام کی وجہ سے اور کانگریس لیڈران کی وجہ سے بنا، لیکن اس کا کریڈٹ ایک آدمی لے رہا ہے۔ کیا تب کے سی آر کے پاس اتنی طاقت تھی؟ ہم نے انھیں طاقت دی۔ سونیا گاندھی نے انھیں طاقت دی۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کے سی آر اور وہ (بی جے پی) دوست بن گئے ہیں۔ یہ اندرونی دوستی ہے، اس بارے میں وہ کھل کر نہیں بول سکتے۔

کانگریس صدر نے اس موقع پر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ جو بھی وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ کانگریس عوام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے، لیکن بی جے پی کہتی ہے کہ ہم نے گزشتہ 53 سال میں کچھ نہیں کیا۔ وہ ہم سے رپورٹ کارڈ دکھانے کو کہتے ہیں۔ کھڑگے کہتے ہیں کہ ’’آج کل امت شاہ جی پوچھ رہے ہیں کہ کانگریس نے 53 سال میں کیا کچھ کیا؟ کانگریس نے آزادی کے بعد 562 ریاستوں کو ملک میں ملایا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ملک کو متحد کیا۔ ملک کو آئین بابا صاحب امبیڈکر اور کانگریس نے دیا۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، ایمس، اِسرو اور ڈی آر ڈی او یہ سب پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس کی دین ہے۔‘‘

اس درمیان کھڑگے نے وعدہ کیا کہ جو زمین درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے چھین لی گئی ہے، اسے پھر سے واپس دیں گے۔ کرناٹک میں قانون بنا کر زمینوں کو واپس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں سب ایک ہو کر بی جے پی کی حکومت کو نکالنے کے لیے تیار ہیں، لیکن کے سی آر نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ یہاں پر سیکولر کہتے ہیں اور اندر میں بی جے پی سے سانٹھ گانٹھ کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد کے سی آر کو ہٹانا ہے۔ کھڑگے نے ساتھ ہی بتایا کہ 30 اگست کو کرناٹک کے میسور میں راہل گاندھی کے ساتھ گرہ لکشمی یوجنا شروع کریں گے۔ اس منصوبہ کے تحت کانگریس کی ریاستی حکومت غریب کنبہ کی خواتین کو ہر مہینے دو ہزار روپے دے گی۔

بی جے پی لیڈر کے متنازعہ بیان پر ہنگامہ، قومی اقلیتی کمیشن نے مدھیہ پردیش حکومت سے مانگا جواب

0
بی-جے-پی-لیڈر-کے-متنازعہ-بیان-پر-ہنگامہ،-قومی-اقلیتی-کمیشن-نے-مدھیہ-پردیش-حکومت-سے-مانگا-جواب

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخاب قریب آتے ہی بی جے پی لیڈروں کے بول بگڑنے لگ گئے ہیں۔ کوئی دعویٰ کر رہا ہے کہ ای وی ایم میں کوئی بھی بٹن دباؤ لیکن جیت تو بی جے پی کی ہی ہوگی، اور کوئی بی جے پی کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کو ووٹ نہیں دینے کی بات کہہ رہا ہے۔ ان بیانات پر تنازعہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ تازہ معاملہ بھوپال کے سابق میئر اور ریاستی بی جے پی کے نائب صدر آلوک شرما کا ہے جنھوں نے کچھ دن قبل مسلم ووٹرس سے کہا تھا کہ آپ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو پھر کسی کو ووٹ نہ دیں۔

آلوک شرما کے اس بیان پر قومی اقلیتی کمیشن نے مدھیہ پردیش حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ کمیشن نے ریاستی حکومت سے مبینہ متنازعہ بیان کی جانچ کرانے کی سفارش کی ہے اور اگلے تین ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ دراصل گزشتہ ہفتے آلوک شرما کو جورا اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کارکنان کے ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے اقلیتی طبقہ کے لوگوں سے یہ کہتے سنا گیا تھا کہ ’’اگر آپ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو پھر کسی کو بھی ووٹ نہ کریں۔‘‘

آلوک شرما کی تقریر کے اس حصے پر مشتمل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس سے انتخابی ریاست میں سیاسی تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ ویڈیو میں آلوک شرما کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’میں جاورا کے اپنے مسلم بھائیوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ شرما کو ووٹ نہیں دینا چاہتے ہیں تو مت دیجیے، لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ ایسی حالت میں آپ بالکل بھی ووٹ کرنے نہ جائیں۔ آپ اس بات کو دل سے قبول کریں کہ آپ جس گھر میں رہ رہے ہیں، وہ آپ کو وزیر اعظم رہائش منصوبہ کے تحت دیا گیا ہے۔ یاد رکھیں کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے مدھیہ پردیش میں ایک حج ہاؤس بھی بنوایا۔‘‘

مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے ترجمان اور نائب صدر عباس حفیظ نے شرما کے تبصرہ پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو دھمکانے کی کوشش بتایا تھا۔ حافظ نے اس کے بعد اقلیتی کمیشن کو خط لکھ کر دعویٰ کیا تھا کہ آلوک شرما کے تبصرہ سے واضح ہے کہ بی جے پی اقلیتی طبقہ کے لوگوں کے درمیان خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے اقلیتی کمیشن کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ کمیشن نے اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’قومی اقلیتی کمیشن کو عباس حفیظ سے ایک شکایت ملی ہے۔ گزارش ہے کہ اس معاملے کی جانچ کریں اور آئندہ 21 دنوں میں رپورٹ جمع کریں۔‘‘

بی جے پی نے بھوپال شمال اسمبلی سیٹ سے آلوک شرما کو امیدوار مقرر کیا ہے جہاں 55 فیصد آبادی اقلیتی طبقہ کی ہے۔ 2018 میں اس سیٹ سے کانگریس کے عارف عقیل انتخاب جیتے تھے۔ وزیر اعلیٰ چوہان کے قریبی مانے جانے والے آلوک شرما 2008 میں اسی سیٹ سے انتخاب لڑے تھے۔ حالانکہ وہ اس انتخاب میں بھی عقیل سے کثیر ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے۔

مشن سورج: چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، بس 7 دنوں کا انتظار

0
مشن-سورج:-چندریان-3-کے-بعد-اِسرو-’آدتیہ-ایل-1‘-کے-ذریعہ-نئی-تاریخ-رقم-کرنے-کے-لیے-تیار،-بس-7-دنوں-کا-انتظار

چاند پر فتح حاصل کرنے کے بعد اب اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) سورج کو مٹھی میں کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ہے۔ ابھی چندریان-3 کی کامیابی کا جشن ختم بھی نہیں ہوا ہے، لیکن ’آدتیہ ایل 1‘ کی لانچنگ کے لیے 2 ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے۔ یعنی چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس مشن کی لانچنگ میں اب محض 7 دن باقی رہ گئے ہیں۔ 2 ستمبر کو جب اِسرو اپنا پہلا مشن سورج لانچ کرے گا تو پوری دنیا کی نگاہیں آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر پر مرکوز ہوں گی، کیونکہ یہیں سے ’آدتیہ ایل 1‘ کو لانچ کیا جائے گا۔ آئیے یہاں ہم کچھ پوائنٹس میں اس مشن کی اہمیت و افادیت اور ’آدتیہ ایل 1‘ کی کارگزاریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایل 1 سے کیا مراد ہے؟

  • ایل 1 کا مطلب ہے لیگرینج پوائنٹ 1۔

  • دراصل 1772 میں فرانس کے ریاضی داں جوسف لوئس لیگرینج نے اس پوائنٹ کی دریافت کی تھی، اس لیے اسے لیگرینج پوائنٹ کہتے ہیں۔

  • لیگرینج پوائنٹ ایسے پوائنٹ کو کہتے ہیں جو خلاء میں دو سیاروں کے درمیان ہوتے ہیں، مثلاً سورج اور زمین کے درمیان کا ایک خاص مقام۔

  • اس پوائنٹ پر سورج اور زمین کا کشش ثقل برابر ہوتا ہے، اس لیے یہاں موجود خلائی طیارہ مستحکم رہتا ہے اور بہت کم ایندھن خرچ کر کے چیزوں کا مطالعہ کرتا ہے۔

  • اس پوائنٹ پر سورج گہن کا اثر نہیں پڑتا۔

  • لیگرینج پوائنٹ 1 زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اسی لیگرینج پوائنٹ 1 سے ہندوستان کا مشن سورج یعنی آدتیہ ایل 1 سورج کے بارے میں تحقیق کرے گا۔

5 سال تک سورج کا مطالعہ کرے آدتیہ ایل 1:

  • یہ پہلا ہندوستانی مشن ہوگا جو سورج کا مطالعہ کرے گا۔

  • اس مشن کے دوران شمسی طوفانوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

  • سورج سے جو لپٹیں نکلتی ہیں، ان کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے گی۔

  • سورج کی طرف سے جو بھی ذرات یا شعاعیں زمین پر آتی ہیں، ان پر تحقیق کی جائے گی۔

  • سورج کے باہری احاطہ کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔

  • شمسی طوفان کے زمین پر ہو رہے اثرات کو ڈیکوڈ کیا جائے گا۔

آدتیہ ایل 1 کس طرح کام کرے گا؟

  • آدتیہ ایل 1 میں 7 پے لوڈ یعنی خاص مشینیں لگی ہوں گی۔

  • یہ مشینیں سورج کی شعاعوں کی جانچ الگ الگ طرح سے کریں گی۔

  • شمسی طوفانوں سے متعلق شماریات کی جائیں گی۔

  • آدتیہ ایل 1 میں ایچ ڈی (ہائی ڈیفنشن) کیمرے لگے ہوں گے۔

  • سورج کی ہائی ریزولوشن تصویریں دیگر ڈاٹا کے ساتھ ہمیں بھیجی جائیں گی۔ اس ڈاٹا پر اِسرو کے سائنسداں بعد میں تحقیق کریں گے۔

آدتیہ ایل 1 اور اس کا بجٹ:

  • پہلی مرتبہ 2016 میں مشن سورج کے لیے 3 کروڑ روپے کا تجرباتی بجٹ دیا گیا۔

  • آدتیہ ایل 1 کے لیے 2019 میں 378 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا جس میں لانچنگ کا خرچ شامل نہیں تھا۔

  • بعد میں لانچنگ کے لیے 75 کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔

  • مجموعی طور پر آدتیہ ایل 1 مشن پر اب تک مجموعی طور پر 456 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یعنی کئی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں سے بھی آدتیہ ایل 1 کا بجٹ کم ہے۔

کھباپور گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ: بات صرف پٹائی کی نہیں بلکہ مذہبی تفریق کی ہے، اسی لیے برداشت نہیں ہو رہا!

0
کھباپور-گاؤں-سے-گراؤنڈ-رپورٹ:-بات-صرف-پٹائی-کی-نہیں-بلکہ-مذہبی-تفریق-کی-ہے،-اسی-لیے-برداشت-نہیں-ہو-رہا!

3000 کی آبادی والے کبھاپور گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 800 ہے۔ گرام پردھان پال سماج سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن گاؤں کو ’تیاگیوں‘ کے کھباپور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گاؤں میں بچوں کی پٹائی کے بعد مشہور ہوئی ٹیچر ترپتا تیاگی کے علاوہ بچے کے والد بھی تیاگی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نام ارشاد تیاگی ہے۔ دونوں سماج کی گاؤں میں برابر کی آبادی ہے۔ ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہیں۔ مذہب الگ الگ ضرور ہے، لیکن ذات ایک ہی ہونے کے سبب آپسی بھائی چارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشاد کے گھر کھڑے یوسف تیاگی کہتے ہیں کہ ترپتا تیاگی ہماری برادری کی بہن ہے، وہ بچوں کی علامتی پٹائی کر سکتی تھیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دوسرے بچوں سے پٹوانا ہی نہیں چاہیے تھا، اور پھر ’محمڈن‘ لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا، اس نے دل کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔

یوسف تیاگی کا کہنا ہے کہ گاؤں کا معاملہ دیکھتے ہوئے کل مقامی لوگوں نے متاثرہ کے والد ارشاد کو سمجھا کر سمجھوتہ بھی کرا دیا تھا، لیکن کچھ باتوں کو سننے کے بعد ہم کارروائی چاہتے ہیں۔ یہ بات اب ایک اسکول اور ایک ٹیچر کی نہیں رہ گئی ہے، بلکہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ اگر یہاں سے ہم خاموش بیٹھ جاتے ہیں تو ہمارے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ الگ بات ہے کہ پولیس نے اس معاملے میں این سی آر درج کی ہے۔ اس میں پولیس گرفتاری نہیں کرتی ہے۔ ارشاد تیاگی کہتے ہیں کہ پہلے تو ایک بار سمجھوتہ ہی کرا دیا تھا، یہ تو اس کے بعد پولیس نے خود ہی مقدمہ درج کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے سبب یہ کیا گیا ہے۔ اب انتظامیہ جو بھی کارروائی کرے گی، یہ ان پر منحصر کرتا ہے۔ میں تو بس یہی کہہ رہا ہوں کہ اس سب کے درمیان میرے بچے کے ذہن پر جو اثر پڑ رہا ہے، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اس لیے پڑھا رہے ہیں کیونکہ وہ قابل آدمی بنے اور سماج و ملک کا نام روشن کرے۔ لیکن جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے وہ حوصلہ کمزور کرنے والا ہے۔ میں اپنے بچوں کی ہمت ٹوٹنے نہیں دوں گا۔ میں کوشش کروں گا کہ وہ یہ سب بھول جائے۔

ارشاد تیاگی کسان ہیں اور آج صبح ہی ان سے آر ایل ڈی چیف جینت چودھری، کاگنریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی فون پر بات کی ہے۔ ارشاد بتاتے ہیں کہ تمام لوگ بات کر رہے ہیں اور ملنے بھی آ رہے ہیں۔ لیکن میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے یہیں رہنا ہے اور بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے۔ میں ان سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سبھی نے مجھے یہ احساس کرایا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ ایک رکن اسمبلی چندن چوہان نے میرے فون پر جینت چودھری سے بات کرائی جس میں انھوں نے میرے بچوں کو دوسرے اسکول میں داخلہ کرانے کی بھی بات کہی۔ میرا بچہ ابھی صرف 7 سال کا ہے، اس کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ٹیچر ترپتا تیاگی کو سخت سزا ملے بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ کسی بھی دوسرے بچوں کے ساتھ اس طرح کا کوئی تفریق نہ ہو۔

کھباپور، منصور پور تھانہ حلقہ کا ایک گاؤں ہے۔ اس میں آپ کو شاہ پور روڈ پر تقریباً 5 کلومیٹر چلنا پڑتا ہے۔ گاؤں میں بیشتر کسان ہیں۔ جس اسکول ’نیہا پبلک اسکول‘ کی ٹیچر کے ذریعہ پٹائی کی بحث ہو رہی ہے، گاؤں میں اس نام کا اسکول نہیں ہے۔ دبی زبان میں ایک نوجوان بتاتا ہے کہ پاس کے ایک گاؤں گھاسی پورہ میں اس نام کا اسکول ہے، وہ یہاں سے دو کلومیٹر دور ہے۔ یہاں جو بچے پڑھ رہے ہیں وہ وہیں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں۔ مظفر نگر کے بی ایس اے معاملے کے طویل پکڑنے کے بعد اسی گاؤں میں جانچ کرنے پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس پوائنٹ کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور اس کی بھی جانچ کریں گے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی گاؤں میں کسی طرح کا کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہے۔ گاؤں کے چندرپال کہتے ہیں کہ میڈم نے غلط طریقہ اختیار کیا، انھیں بچوں کی پٹائی دوسرے بچوں سے نہیں کرانی چاہیے۔ تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے جو الفاظ کہے وہ بھی غلط تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی نیت ٹھیک ہو، لیکن جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ بہت زیادہ غلط تھا۔

بچوں کی پٹائی کا معاملہ اب سیاسی طول پکڑ رہا ہے۔ معاملہ کا رخ پلٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بھیم آرمی اور سماجوادی پارٹی کے بھی کچھ کارکنان گاؤں میں بچوں کے گھر پہنچے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے مقامی لیڈر ساجد حسن نے تھانہ میں درج ہوئی رپورٹ پر اعتراض ظاہر کیا، وہ بھی گاو۷ں پہنچے تھے۔ ساجد نے کہا کہ اتنے سنگین جرائم والے معاملے میں پولیس نے محض این سی آر درج کی ہے۔ کم از کم ایف آئی آر تو لکھنی چاہیے تھی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کارروائی کی نمائش کی جا رہی ہو۔ اگر اس طرح کے واقعہ میں متاثرہ اور ملزم کو مذہب الگ ہوتے تو اب تک این ایس اے اور بلڈوزر دونوں کا استعمال ہو جاتا۔ ویڈیو میں صاف نفرت دکھائی دے رہی ہے، لیکن رپورٹ میں اس کی دفعات نہیں لکھی گئی ہے۔ مقدمہ بے حد کمزور دفعات میں درج ہوا ہے۔

دوسری طرف ملزم ٹیچر ترپتا تیاگی کی گرفتاری کے مطالبہ کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاملے نے اب سیاسی شکل اختیار کر لی ہے۔ مظفر نگر بی جے پی کے ضلع صدر رہ چکے دیوورَت تیاگی ملزم ٹیچر کے حق میں کھڑے ہو چکے ہیں۔ دیوورَت تیاگی نے بتایا کہ ٹیچر کی نیت خراب نہیں تھی۔ وہ بچوں کو پہاڑا یاد کروا رہی تھیں۔ معذور ہونے کے سبب اس نے بچوں کو ہی پیٹنے کے لیے کہہ دیا۔ انھوں نے کسی مذہب پر کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا، ٹیچر کی ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ ویڈیو بنانے والے اور وائرل کرنے والوں نے سازشاً ایسا کیا ہے۔ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ملزم ٹیچر بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔ ترپتا تیاگی کا کہنا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن ان کی نیت صاف تھی اور وہ بچوں کے بھلے کے لیے ہی سوچ رہی تھی۔

مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ اروند ملپا بنگاری نے اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پولیس انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ اطفال فلاح تینوں کو ان کے کردار میں غیر جانبدارانہ کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی یقینی طور پر کی جائے گی۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس گاؤں کھباپور کی دوری کھتولی سے محض 10 کلومیٹر ہے۔ اس علاقے میں چندریان-3 کی لینڈنگ کے بعد سے جشن کا ماحول ہے۔ اِسرو کی ٹیم میں شامل رہے اریب احمد یہی کے رہنے والے ہیں۔ کھتولی کے اریب احمد کی دھوم گاؤں گاؤں تک پھیلی ہے۔ اس گاؤں میں بھی اریب احمد کی ویڈیو دیکھی گئی تھی۔ گاؤں کا ایک نوجوان ثاقب تیاگی تازہ پٹائی معاملہ کو لے کر کہتا ہے کہ ایسے کیسے بنیں گے مستقبل کے اریب! ان کا حوصلہ تو بچپن میں ہی ٹوٹ جائے گا۔ ثاقب کہتے ہیں کہ انھیں بہت برا لگ رہا ہے۔ اسکولوں میں تفریق کے کئی واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ ایک معاملہ سامنے آ گیا، لیکن معاملے تو اور بھی ہیں۔