جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 147

ایک ملک، ایک انتخاب: کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کمیٹی میں شامل ہونے سے کیا انکار، امت شاہ کو لکھا خط

0
ایک-ملک،-ایک-انتخاب:-کانگریس-لیڈر-ادھیر-رنجن-چودھری-نے-کمیٹی-میں-شامل-ہونے-سے-کیا-انکار،-امت-شاہ-کو-لکھا-خط

مرکز کی مودی حکومت ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ اس تعلق سے آج ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا جس میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیے جانے سے متعلق جانکاری دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری بھی شامل ہیں، لیکن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد انھوں نے اس کمیٹی سے کنارہ ہونے کی بات کہی ہے۔

لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل کمیٹی کا حصہ بننے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں کانگریس لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے، جس کی شرطیں اس کے نتائج کی گارنٹی کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘

خط میں ادھیر رنجن چودھری نے امت شاہ کو لکھا ہے کہ ’’وزیر داخلہ جی، مجھے ابھی میڈیا کے ذریعہ سے پتہ چلا ہے اور ایک سرکاری نوٹیفکیشن سامنے آیا ہے کہ مجھے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے ایک ساتھ انتخاب کرانے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کے رکن کی شکل میں مقرر کیا گیا ہے۔ مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے سے انکار کرنے میں کوئی جھجک نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ پوری طرح سے دھوکہ ہے۔‘‘ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’مجھے لگتا ہے راجیہ سبھا میں موجودہ لیڈر آف اپوزیشن پارٹی کو اس سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ پارلیمانی جمہوریت کے نظام کی قصداً کی گئی بے عزتی ہے۔ ان حالات میں میرے پاس آپ کی دعوت کو نامنظور کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘

راہل گاندھی اور لالو پرساد نے مل کر بنایا کھانا، پھر لذیز مٹن کھاتے ہوئے ہوئی سیاسی گفتگو، دیکھیے ویڈیو

0
راہل-گاندھی-اور-لالو-پرساد-نے-مل-کر-بنایا-کھانا،-پھر-لذیز-مٹن-کھاتے-ہوئے-ہوئی-سیاسی-گفتگو،-دیکھیے-ویڈیو

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کی ایک دلچسپ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں یہ دونوں مل کر مٹن (بکرے کا گوشت) بناتے ہیں جس میں ان کا تعاون لالو کی بیٹی میسا بھارتی کرتی ہیں۔ راہل اور لالو اس دلچسپ ملاقات کے دوران لذیز مٹن کا مزہ لیتے ہوئے کچھ سیاسی گفتگو بھی کرتے ہیں۔ لالو اس دوران نہ صرف راہل گاندھی کو مٹن کھلاتے ہیں، بلکہ سیاسی مسالہ کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیڈر کو جدوجہد کرنی چاہیے، انصاف کے خلاف لڑنا چاہیے۔

یہ ویڈیو راہل گاندھی نے 2 ستمبر کو اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کی ہے۔ اس میں دکھائی دے رہا ہے کہ دونوں لیڈران مٹن بنا رہے ہیں۔ راجیہ سبھا رکن اور لالو پرساد کی بیٹی میسا بھارتی کے دہلی واقع رہائش پر راہل گاندھی کے لیے لالو پرساد نے یہ مٹن بنایا جس میں راہل بھی تعاون کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں لالو پرساد یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دے رہے ہیں کہ یہ مٹن بہار سے منگوایا گیا ہے۔

راہل گاندھی اس ویڈیو میں لالو پرساد سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے پہلی بار کھانا بنانا کب سیکھا؟ اس پر لالو یادو نے جواب دیا ’’چھ سال کی عمر میں کھانا بنانا سیکھا۔ میرے بھائی لوگ پٹنہ میں کام کرتے تھے، ان کے ساتھ آیا، وہیں پر ہم نے سیکھا۔‘‘ لالو پرساد یہ بھی کہتے ہیں کہ بہار کے پکوانوں کے علاوہ وہ تھائی پکوان بھی پسند کرتے ہیں۔

راہل گاندھی ویڈیو میں ایک جگہ کہتے ہیں کہ وہ لالو پرساد کی سیاسی سمجھداری کا بہت احترام کرتے ہیں۔ وہ لالو پرساد سے پوچھتے ہیں کہ ’سیاسی مسالہ‘ کیا ہوتا ہے۔ اس پر لالو یادو نے جواب دیا ’’سیاسی مسالہ ہوتا ہے کہ جدوجہد کیجیے۔ کہیں ناانصافی نظر آئے تو اس کے خلاف لڑیے۔‘‘ ویڈیو میں لالو پرساد بی جے پی پر حملہ بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی سیاسی بھوک مٹتی ہی نہیں اس لیے بی جے پی کے لوگ نفرت پھیلاتے ہیں۔ راہل گاندھی ان سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا مشورہ ہے؟ اس کے جواب میں لالو کہتے ہیں ’’میری رائے ہے کہ آپ کے والد، دادا-دادی نے ملک کو نئی راہ دکھائی تھی، اسے بھولنا نہیں ہے۔‘‘

بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران نے اروندر سنگھ لولی کا والہانہ استقبال کیا

0
بابر-پور-ضلع-کانگریس-کمیٹی-کے-عہدیداران-نے-اروندر-سنگھ-لولی-کا-والہانہ-استقبال-کیا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے مقرر صدر اروندر سنگھ لولی سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کا آج بھی تانتا لگا رہا۔ اسی کڑی میں بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر احمد کی قیادت میں ضلع عہدیداران کے ساتھ اروندر سنگھ لولی کو صدر بننے پر صمیم قلب سے مبارکباد پیش کی اور والہانہ استقبال کیا۔

اروندر سنگھ لولی سے ملاقات کرنے والوں میں سماجی تنظیمیں، آر ڈبلیو اے کانگریس سے وابستہ لوگوں کے علاوہ کانگریس کارکنوں اور عام لوگوں نے لولی کو یقین دلایا کہ ہم کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں اور دہلی کی کانگریس حکومت نے اپنے 15 سال کے دور اقتدار میں دہلی کو دلہن کی مانند سجایا تھا اور اس دوران خوب ترقیاتی کام ہوئے۔ تاہم آج بھی دہلی کے عوام سابق وزیر اعلی آنجہانی شیلا دیکشت کے ذریعہ کرائے گئے مثالی کاموں کو یاد کرتے ہیں۔

اس موقع پر اروندر سنگھ لولی نے بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے تمام عہدیداران کی مبارکباد قبول کی اور کہا کہ ریاستی کانگریس صدر کے طور پر مجھے دی گئی اہم ذمہ داری کو جی جان سے نبھانے کی کوشش کروں گا اور پارٹی کو ہر سطح پر مضبوط کرنے کے لیے کام کروں گا۔

چودھری زبیر احمد نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی دہلی کانگریس کے سینئر لیڈر ہیں اور مختلف وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز طالب علمی کے زمانے سے کیا تھا اور وہ سیاست کے داﺅ پیچ اور عوام کے مزاج کو بخوبی جانتے ہیں۔ کانگریس اعلی کمان نے اروندر سنگھ لولی کو دہلی کانگریس کا صدر بنا کر دانش مندانہ فیصلہ لیا ہے۔ اس فیصلے سے کانگریس پارٹی کو مزید مضبوطی ملے گی۔ ڈیلی گیٹ سید ناصر جاوید نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی کو صدر بنائے جانے سے دہلی کانگریس کو مزید تقویت ملی ہے اور کانگریس پارٹی سے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سرگرم ہو گیا ہے جس کے نتائج آنے والے لوک سبھا الیکشن 2024 میں دیکھنے کو ملیں گے۔

’پی ایم مودی نہیں دیں گے اڈانی معاملے کی جانچ کا حکم‘، راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ سے مرکزی حکومت پر کیا حملہ

0
’پی-ایم-مودی-نہیں-دیں-گے-اڈانی-معاملے-کی-جانچ-کا-حکم‘،-راہل-گاندھی-نے-چھتیس-گڑھ-سے-مرکزی-حکومت-پر-کیا-حملہ

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز اڈانی گروپ کے اسٹاک ہیر پھیر سے متعلق الزامات کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ چھتیس گڑھ کی قیادت والی کانگریس حکومت کے ذریعہ منعقد ایک تقریب میں ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی اڈانی پر جانچ کا حکم نہیں دے سکتے، کیونکہ اگر ایسا ہوا اور سچائی سامنے آ گئی تو نقصان اڈانی کا نہیں بلکہ کسی اور کا ہوگا۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ملکی معیشت کی ریڑھ توڑ دی ہے۔ وہ چنندہ بزنس مین کے گروپ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی نے چھوٹے کاروباریوں کو برباد کر دیا ہے اور یہ وزیر اعظم مودی کے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ غریبوں کے لیے کام کرتی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ چاہے وہ چھتیس گڑھ، راجستھان، کرناٹک، ہماچل پردیش کی حکومتیں ہوں یا تلنگانہ اور مدھیہ پردیش کی آنے والی حکومتیں ہوں، وہ اڈانی کی حکومت ہونے کی جگہ غریبوں کی حکومت ہوں گی۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس کارکنان کو خطاب کرنے سے پہلے راہل گاندھی آج نوا رائے پور میں چھتیس گڑھ حکومت کے ذریعہ منعقد ’راجیو یوا متان سمیلن‘ میں شامل ہوئے تھے۔ بہرحال، چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخاب اس سال کے آخر میں پڑوسی ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ کے ساتھ ہونے والے ہیں۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں نہ وقفہ سوالات ہوگا، نہ وقفہ صفر ہوگا اور نہ ہی پرائیویٹ بل پر ہوگی کوئی بحث!

0
پارلیمنٹ-کے-خصوصی-اجلاس-میں-نہ-وقفہ-سوالات-ہوگا،-نہ-وقفہ-صفر-ہوگا-اور-نہ-ہی-پرائیویٹ-بل-پر-ہوگی-کوئی-بحث!

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس آئندہ 18 ستمبر سے شروع ہونے والا ہے جو کہ 22 ستمبر تک چلے گا۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ طلب کیے گئے اس خصوصی اجلاس کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں نے حیرانی کے ساتھ ساتھ ناراضگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اس خصوصی اجلاس میں نہ تو وقفہ سوالات ہوگا، نہ وقفہ صفر ہوگا اور نہ ہی پرائیویٹ بل پر کوئی بحث ہوگی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خصوصی اجلاس میں وقفہ سوالات اور وقفہ صفر نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی پانچ دنوں تک چلنے والے اس خصوصی اجلاس کے دوران کوئی بھی رکن پرائیویٹ بل نہیں پیش کر سکے گا۔

اس سے قبل مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی جانکاری دی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ 18 ستمبر سے 22 ستمبر کے درمیان پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ حالانکہ اس اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے، اس سلسلے میں ابھی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔ مرکزی وزیر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بس اتنا لکھا کہ ’’پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 17ویں لوک سبھا کا 13واں اجلاس اور راجیہ سبھا کا 261واں اجلاس 18 سے 22 ستمبر کے درمیان بلایا جا رہا ہے۔ اس میں 5 اجلاس ہوں گے۔ امرت کال میں مثبت بحث کی امید ہے۔‘‘

خصوصی اجلاس کے پیچھے حکومت کا کیا ایجنڈا ہے، اس پر تجسس برقرار ہے۔ حالانکہ اس درمیان ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کا شور شروع ہو چکا ہے۔ اس کے لیے کمیٹی کا اعلان ہو چکا ہے اور نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا ہے۔ تجسس اس بات کو لے کر بھی برقرار ہے کہ خصوصی اجلاس نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا یا پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں۔ دراصل مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے خصوصی اجلاس طلب کیے جانے سے متعلق جو سوشل میڈیا پوسٹ کیا ہے اس میں نئے ور پرانے دونوں ہی پارلیمنٹ ہاؤس کی تصویر موجود ہے۔

وَن نیشن، وَن الیکشن: 8 رکنی کمیٹی کا اعلان، رام ناتھ کووند کے علاوہ امت شاہ، ادھیر رنجن چودھری اور آزاد کا نام شامل

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن:-8-رکنی-کمیٹی-کا-اعلان،-رام-ناتھ-کووند-کے-علاوہ-امت-شاہ،-ادھیر-رنجن-چودھری-اور-آزاد-کا-نام-شامل

مرکز کی مودی حکومت نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کے لیے ملک کے سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں مجموعی طور پر 8 لوگ شامل کیے گئے ہیں۔

مرکزی حکومت کی 2 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری، سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد، 15ویں مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری سبھاش کشیپ، سینئر وکیل ہریش سالوے اور سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری کو رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال خصوصی مدعو رکن کے طو رپر کمیٹی کی میٹنگ میں شامل ہوں گے اور محکمہ قانونی امور کے سکریٹری نتن چندر سکریٹری ہوں گے۔ مرکزی حکومت کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کا ہیڈکوارٹر نئی دہلی میں ہوگا۔ کمیٹی فوراً کام شروع کرے گی اور جلد ہی سفارشات کرے گی۔

’ڈگری-سرٹیفکیٹ پر آدھار نمبر پرنٹ نہ کریں‘، یو جی سی کی یونیورسٹیز کو یو آئی ڈی اے آئی اصول پر عمل کرنے کی ہدایت

0
’ڈگری-سرٹیفکیٹ-پر-آدھار-نمبر-پرنٹ-نہ-کریں‘،-یو-جی-سی-کی-یونیورسٹیز-کو-یو-آئی-ڈی-اے-آئی-اصول-پر-عمل-کرنے-کی-ہدایت

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی طرف سے ایک اہم فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے طلبا و طالبات کا ذاتی ڈاٹابیس برسرعام نہیں ہوگا۔ دراصل یو جی سی نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کو ڈگری اور پروویزنل سرٹیفکیٹ پر طلبا کا آڈھار نمبر نہ شائع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس فیصلے کو لے کر یو جی سی کے سکریٹری پروفیسر منیش جوشی نے یونیورسٹیوں کو خط لکھا ہے۔ اس معاملے پر یو جی سی کی طرف سے آفیشیل ویب سائٹ پر ایک نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

یو جی سی نے ریگولیشنز 2016 کے ریگولیشن 6 کے ذیلی ریگولیشن (3) کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ریگولیشن میں التزام ہے کہ آدھار کارڈ نمبر رکھنے والا کوئی بھی ادارہ اسے برسرعام نہیں کرے گا۔ یو جی سی نے بتایا کہ آدھار نمبر رکھنے والی کوئی بھی یونٹ کسی بھی ڈاٹابیس یا ریکارڈ کو ظاہر نہیں کرے گی، جب تک کہ نمبر کو مناسب طریقہ سے پوشیدہ یا بلیک آؤٹ نہیں کیا گیا ہو۔

ہائی ایجوکیشن ریگولیٹری کی یہ ہدایت ان خبروں کے درمیان سامنے آئی ہے کہ ریاستی حکومتیں یونیورسٹیوں کے ذریعہ جاری آخری سرٹیفکیٹس اور ڈگریوں پر مکمل آدھار نمبر شائع کرنے پر غور کر رہی ہیں، تاکہ بعد میں داخلہ کے وقت اُس دستاویز کی تصدیق میں استعمال کیا جا سکے۔ یکم ستمبر کو سبھی یونیورسٹیوں کو لکھے خط میں یو جی سی کے سکریٹری منوج جوشی نے کہا کہ ’’آدھار نمبر رکھنے والا کوئی بھی ادارہ اس سے متعلق کسی بھی ڈاٹابیس یا ریکارڈ کو برسرعام نہیں کرے گا، جب تک کہ آدھار نمبر کو مناسب ذریعہ سے پوشیدہ یا بلیک آؤٹ نہیں کیا گیا ہو۔‘‘ جوشی نے مزید کہا کہ ’’اصولوں کے تحت، جیسا کہ وہ ابھی ہیں، آخری سرٹیفکیٹس اور ڈگری پر آدھار نمبر کی اشاعت کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس لیے ہائی ایجوکیشن اداروں سے گزارش ہے کہ وہ یو آئی ڈی اے آئی کے اصولوں اور ضابطوں پر سختی سے عمل کریں۔

ونئے شریواستو قتل معاملہ: مرکزی وزیر کوشل کشور کے بیٹے وکاس کشور پر آرمس ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج

0
ونئے-شریواستو-قتل-معاملہ:-مرکزی-وزیر-کوشل-کشور-کے-بیٹے-وکاس-کشور-پر-آرمس-ایکٹ-کے-تحت-ایف-آئی-آر-درج

ونئے شریواستو قتل معاملے میں مرکزی وزیر کوشل کشور کے بیٹے وکاس کشور پر آرمس ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ وکاس کشور کی لائسنسی پستول سے اس کے دوستوں نے ونئے شریواستو کا قتل کیا تھا۔ اسی لیے وکاس پر لائسنسی اسلحہ کو رکھنے میں لاپروائی اور غلط استعمال کرنے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

دراصل مرکزی وزیر کوشل کشور کے گھر کے اندر ہی بی جے پی کارکن کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ جس پستول سے ونئے کو گولی ماری گئی، اس کا لائسنس وکاس کشور کے نام پر ہے۔ پولیس کی جانچ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ وکاس جائے حادثہ پر موجود نہیں تھے، لیکن پستول بستر پر تکیے کے نیچے رکھی تھی۔ جب ونئے کا ملزمین سے جھگڑا ہوا تو آسانی سے پستول انکت کو مل گئی۔ اس سے واضح ہے کہ وکاس نے لائسنسی پستول محفوظ جگہ پر نہیں رکھی تھی۔ ماہرین قانون کے مطابق اسلحہ رکھنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ لائسنسی اسلحہ محفوظ مقام پر رکھیں تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ یہ آرمس ایکٹ-30 کے تحت آتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وکاس کشور بی جے پی درج فہرست ذات سیل میں علاقائی نائب صدر ہے۔ ونئے شریواستو کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ وکاس کے ساتھ گزشتہ آٹھ سال سے رہ رہا تھا۔ جوائنٹ پولیس کمشنر آکاش کلہری کے مطابق نشہ بازی کے بعد جوا کھیلنے کو لے کر ہوئے تنازعہ میں ونئے کو گولی ماری گئی تھی۔ ملزمین نے اس واردات کی بات قبول کر لی ہے۔ برآمد پستول جانچ کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ فنگر پرنٹ کے نمونے بھی لے لیے گئے ہیں۔

آپریشن لوٹس کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہے؟ کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے کا سوال

0
آپریشن-لوٹس-کے-لیے-فنڈز-کا-ذریعہ-کیا-ہے؟-کرناٹک-کے-وزیر-پریانک-کھڑگے-کا-سوال

بنگلورو: بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل سنتوش کے اس دعویٰ پر کہ کانگریس کے 40 سے 45 ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں اور وہ ایک دن میں آپریشن لوٹس چلا سکتے ہیں، ریاستی وزیر پریانک کھڑگے نے ہفتہ کو کو سوال کیا کہ بی جے پی کے پاس اس طرح کی کارروائی انجام دینے کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہے؟

کانگریس لیڈر نے کہا کہ کھلے عام جھوٹ پھیلانے سے پہلے سنتوش کو اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی سے رابطہ قائم کرنے اور ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کرناٹک کانگریس نے جمعہ کو سنتوش کے دعوے کو ‘صدی کا مذاق’ قرار دیا تھا۔ پریانک کھڑگے نے کہا ’’میں انہیں ایک ماہ کا وقت دوں گا۔ انہیں 45 میں سے کم از کم چار ارکان اسمبلی کو نکالنے دیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رضاکاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں لیکن، وہ بی جے پی کے دفتر جاتے ہیں اور بی جے پی لیڈروں کی تبلیغ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’آپ کے اپنے ایم ایل اے کہہ رہے ہیں کہ لنگایت برادری کے لیڈروں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ریاستی بی جے پی میں سنتوش دھڑے کی وجہ سے لنگایتوں کو الگ کر دیا گیا تھا لیکن حکمت عملی ناکام رہی۔ پہلے سنتوش کو ان الزامات کا جواب دینے دیں، بعد میں وہ کانگریس پارٹی کے بارے میں بات کریں۔‘‘

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں بی جے پی کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ میں بات کرتے ہوئے سنتوش نے کہا تھا کہ وہ ایک دن میں ’آپریشن لوٹس (اپوزیشن ارکان اسمبلی کو توڑنا اور حکومت سازی کرنا‘ انجام دے سکتے ہیں کیونکہ کانگریس لیڈر ان کے رابطے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا ’’ہم ابھی ایسا نہیں چاہتے۔ ہم حکومت سازی کی کوئی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔‘‘

سنتوش نے مزید کہا کہ بی جے پی کا کوئی لیڈر کانگریس میں شامل نہیں ہو رہا ہے۔ فرض کریں اگر 10 لیڈر ہماری پارٹی چھوڑ دیں تو ہم ہمیشہ ایسے لیڈر لا سکتے ہیں جو ان کے برابر صلاحیت والے ہوں۔ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ پارٹی 2013 میں ختم ہو جائے گی لیکن اندرونی لڑائی کے باوجود ہم نے 40 سیٹیں جیت لیں۔ سال 2023 میں ہم نے 60 سیٹیں جیتیں، ہم اپوزیشن پارٹی کے طور پر زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔

اگر آپ کے پاس اب بھی موجود ہے 2000 روپے کا نوٹ، تو جلد کرا لیں ایکسچینج، ہاتھ میں ہے بہت کم وقت

0
اگر-آپ-کے-پاس-اب-بھی-موجود-ہے-2000-روپے-کا-نوٹ،-تو-جلد-کرا-لیں-ایکسچینج،-ہاتھ-میں-ہے-بہت-کم-وقت

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے 2000 روپے کے نوٹ کو سرکولیشن سے ہٹانے کا اعلان کچھ ماہ پہلے کیا تھا۔ ساتھ ہی بینک نے 2000 روپے کے نوٹ کو بینک میں جمع کرنے یا ایکسچینج کرنے کے لیے 30 ستمبر 2023 کا وقت دیا تھا جو کہ جلد ہی ختم ہونے والا ہے۔ 30 ستمبر سے پہلے تک 2000 کے نوٹوں کا استعمال جائز ضرور ہے، لیکن اس کے بعد یہ نوٹ سرکولیشن سے پوری طرح ہٹ جائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی نے لوگوں کو نوٹ ایکسچینج کرنے یا پھر جمع کرنے کے لیے کافی وقت دیا تھا۔ لوگوں کو نوٹ ایکسچینج یا پھر جمع کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو، اس کے لیے بینک نے گائیڈلائنس بھی جاری کیے تھے۔ آئیے جانتے ہیں کہ 2000 روپے کے نوٹ کو ایکسچینج کرنے کا پروسیس یعنی طریقہ کار کیا ہے۔

  • اگر آپ کے پاس 2000 روپے کے نوٹ ہیں تو آپ کو اپنے آس پاس کے کسی بھی بینک کے برانچ جانا ہوگا۔

  • اس کے بعد آپ وہیں 2000 روپے کے نوٹ ایکسچینج کرنے کے لیے ایک فارم بھریں۔

  • اب آپ فارم کے ساتھ 2000 روپے کے نوٹ کو جمع کر دیں۔

  • کچھ بینکوں میں اس کا پروسیس الگ ہو سکتا ہے۔

بہرحال، سنٹرل بینک نے 2000 روپے کے نوٹ ایکسچینج کرنے کی حد بھی طے کر رکھی ہے۔ بینک کے مطابق ایک شخص ایک دن میں صرف 20000 روپے ہی ایکسچینج کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ 2000 روپے کے نوٹ جمع کرتے ہیں تو اس کی کوئی حد نہیں ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ستمبر ماہ میں تقریباً 16 دن تک بینک بند رہیں گے۔ ایسے میں آپ کو بینک جانے سے پہلے ایک بار بینک ہالی ڈے لسٹ کو ضرور چیک کرنا چاہیے۔ سنٹرل بینک کے ذریعہ جاری بینک ہالی ڈے لسٹ میں ملک کی مختلف ریاستوں میں اتوار، دوسرے ہفتہ اور چوتھے ہفتہ سمیت 16 دن تک بینک بند رہیں گے۔ اس کے علاوہ ملک کی راجدھانی دہلی میں جی-20 تقریب کی وجہ سے بینک کچھ دن بند رہیں گے۔ دراصل 8 ستمبر سے لے کر 10 ستمبر تک پوری دہلی کے اسکول، کالج، مال اور دیگر دکانیں بند رہنے والی ہیں۔