جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 146

بی جے پی چاہے کچھ کر لے اسے ووٹ کی شکل میں عوام کا آشیرواد حاصل نہیں ہوگا: کمل ناتھ

0
بی-جے-پی-چاہے-کچھ-کر-لے-اسے-ووٹ-کی-شکل-میں-عوام-کا-آشیرواد-حاصل-نہیں-ہوگا:-کمل-ناتھ

بھوپال: مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے نکالی جا رہی جن آشیرواد یاترا پر طنز کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے کہا ہے کہ بی جے پی چاہے کچھ بھی کرے، اسے ووٹ کی شکل میں عوام کا آشیرواد حاصل نہیں ہوگا۔

جن آشیرواد یاترا کے بارے میں کمل ناتھ نے کہا، "آج بی جے پی کو ‘جن آشیرواد یاترا’ کرکے عوام کے درمیان جانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے کام عوام تک نہیں پہنچے ہیں۔ اگر بی جے پی ‘معافی’ کے طور پر عوام کے درمیان جاتی ہے۔ پھر امید ہے کہ مدھیہ پردیش کے بڑے دل والے اپنی یاترا کو رسمی طور پر پانی دیں گے، لیکن پھر بھی وہ بی جے پی کو ووٹ کی شکل میں آشیرواد نہیں دیں گے۔

کمل ناتھ نے مزید کہا، "گزشتہ 20 سالوں میں مدھیہ پردیش کو پیچھے دھکیلنے کے بعد، کیا بی جے پی کا احساس جرم بیدار ہوا ہے، جو عوام میں جا رہا ہے، دو دہائیوں میں مدھیہ پردیش کو اتنا طاقتور ہونا چاہیے تھا کہ عوام کو لبھانے کے لیے، جھوٹے اعلان کے بعد اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”

کمل ناتھ نے کہا ہے کہ بی جے پی ایم پی میں دو ریکارڈ بنانے جا رہی ہے – ان میں سے ایک زیادہ سے زیادہ جھوٹے اعلانات کا ہے اور دوسرا زیادہ سے زیادہ ووٹوں سے ہارنے کا۔

भाजपा को आशीर्वाद में नहीं मिलेगा जनता का वोट : कमलनाथ

भोपाल, 3 सितंबर (आईएएनएस)। मध्य प्रदेश में भारतीय जनता पार्टी जन आशीर्वाद यात्रा निकाल रही है। इस पर तंज कसते हुए कांग्रेस के प्रदेश अध्यक्ष कमल नाथ ने कहा है कि भाजपा कुछ भी कर ले, उसे जनता का वोट रूपी आशीर्वाद हासिल नहीं होगा।

जन आशीर्वाद यात्रा को लेकर कमलनाथ ने कहा है, "आज भाजपा को ‘जन आशीर्वाद यात्रा’ करके जनता तक जाने की ज़रूरत इसलिए पड़ रही है क्योंकि उनके काम जनता तक नहीं पहुँचे। अगर भाजपा जनता के बीच ‘क्षमाप्रार्थी’ बनकर जाएगी तो आशा है मध्यप्रदेश की बड़े दिलवाली जनता औपचारिकतावश उनकी यात्रा को पानी तो पिला दे, लेकिन भाजपा को वोट रूपी आशीर्वाद जनता फिर भी नहीं देगी।”

कमलनाथ ने आगे कहा, "मप्र को पिछले 20 सालों में पीछे धकेलने के बाद क्या अब भाजपा का अपराध बोध जागा है जो जनता के बीच जा रही है। दो दशकों में तो मप्र इतना शक्तिशाली हो जाना चाहिए था कि जनता को लुभाने के लिए झूठी घोषणा-पर-घोषणा नहीं करनी पड़ती।”

कमलनाथ ने कहा है कि मप्र में भाजपा दो रिकार्ड बनाने जा रही है — उनमें एक है सबसे ज़्यादा झूठी घोषणाओं का और दूसरा है सबसे ज़्यादा वोटों से हारने का।

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس: کانگریس صدر کھڑگے کی رہائش گاہ پر ’انڈیا’ اتحاد کا اہم اجلاس طلب

0
پارلیمنٹ-کا-خصوصی-اجلاس:-کانگریس-صدر-کھڑگے-کی-رہائش-گاہ-پر-’انڈیا’-اتحاد-کا-اہم-اجلاس-طلب

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے جانے کے بعد حزب اختلاف متحرک نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں حکم عملی تیار کرنے کے مقصد سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کی صدارت میں ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل جماعتوں کے فلور لیڈران کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے 18 ستمبر سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے، جبکہ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس 5 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈران کے لئے کھڑگے کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے ایک چونکا دینے والا فیصلہ لیتے ہوئے 31 اگست (جمعرات) کو پارلیمنٹ کی خصوصی طلبی کی اطلاع دی۔ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک بلایا گیا ہے جس میں 5 نشستیں ہوں گی۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے بعد پورے ملک میں بحث شروع ہو گئی اور حزب اخلاف اور حزب اقتدار نے ایک دوسرے پر حملے کئے۔ تاہم اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس میں کس معاملے پر بات ہوگی۔

دریں اثنا، مرکزی حکومت نے ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سابق صدر رام ناتھ کووند کو اس کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری، سابق کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا نام کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا، جس پر اپوزیشن کے کئی لیڈروں نے ناراضگی ظاہر کی۔ اس کے بعد کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اس کمیٹی کا حصہ بننے سے بھی انکار کر دیا۔

ایک ملک، ایک انتخاب کا خیال مرکز اور اس کی تمام ریاستوں پر حملہ ہے: راہل گاندھی

0
ایک-ملک،-ایک-انتخاب-کا-خیال-مرکز-اور-اس-کی-تمام-ریاستوں-پر-حملہ-ہے:-راہل-گاندھی

نئی دہلی: مودی حکومت کی جانب سے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کو نافذ کرنے کے لئے قانونی پہلؤں پر غور کرنے اور عوامی رائے طلب کرنے کے لئے سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کانگریس اس معاملہ پر مرکزی حکومت پر حملہ آور ہے۔ پہلے ایم پی ادھیر رنجن چودھری نے کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کیا، پھر جئے رام رمیش نے اسے رسم پسندی قرار دیا اور اب راہل گاندھی نے کہا کہ یہ یونین آف انڈیا پر حملہ ہے۔

کمیٹی تشکیل دینے کے ایک دن بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک ملک، ایک انتخابت کے خیال کو یکسر مسترد کر دیا۔ راہل گاندھی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’’انڈیا یعنی بھارت ریاستوں کا مرکز ہے۔ ایک ملک، ایک انتخاب کا تصور مرکز اور اس کی تمام ریاستوں پر حملہ ہے۔‘‘

سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک ملک، ایک الیکشن کے امکان کو تلاش کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کو بھی شامل کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے شمولیت سے انکار کر دیا۔

ادھیر رنجن چودھری کے مطابق یہ کمیٹی آئینی طور پر درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ عملی اور منطقی نقطہ نظر سے بھی مناسب نہیں ہے۔ یہ کمیٹی بھی عام انتخابات کے قریب آنے پر بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو اس کمیٹی میں نہ رکھنا جمہوری نظام کی توہین ہے۔ اس صورت حال میں میرے پاس کمیٹی کا رکن بننے کی دعوت کو ٹھکرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

ہندوستان میں بدعنوانی، ذات پات، فرقہ پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی: پی ایم مودی

0
ہندوستان-میں-بدعنوانی،-ذات-پات،-فرقہ-پرستی-کے-لیے-کوئی-جگہ-نہیں-ہوگی:-پی-ایم-مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ہندوستان 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک ہوگا۔ انہوں نے کہا، ہماری قومی زندگی میں کرپشن، ذات پات اور فرقہ پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ دنیا کا جی ڈی پی مرکوز نظریہ اب انسانوں پر مرکوز نظریہ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ہندوستان اس عمل میں تیزی لانے کا کام کر رہا ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وشواس’، یہ عالمی فلاح و بہبود کے لیے بھی ایک رہنما اصول ہو سکتا ہے۔

ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں پانچ مقام چھلانگ لگانے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مستقبل قریب میں ہندوستان دنیا کی تین اعلیٰ معیشتوں میں شامل ہوگا۔ آج ہندوستانیوں کے پاس ترقی کی بنیاد رکھنے کا ایک بڑا موقع ہے جسے اگلے ایک ہزار سال تک یاد رکھا جائے گا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک ہندوستان کو ایک ارب بھوکے پیٹ والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اب یہ ایک ارب قابل ذہنوں اور دو ارب ہنر مند ہاتھ والا ملک ہے۔

کشمیر اور اروناچل پردیش میں جی-20 اجلاسوں کے انعقاد پر پاکستان اور چین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کے ہر حصے میں اجلاس منعقد کرنا ‘فطری’ ہے۔ پی ایم مودی نے کہا ’’دنیا نے جی-20 میں ہمارے الفاظ اور وژن کو صرف خیالات کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کے روڈ میپ کے طور پر دیکھا ہے۔‘‘

بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ’’سائبر جرائم سے لڑنے میں عالمی تعاون نہ صرف مطلوبہ بلکہ ناگزیر ہے۔ سائبر سیکٹر نے غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی جہت متعارف کرائی ہے۔ سائبر خطرات بہت زیادہ ہیں۔ سائبر دہشت گردی، آن لائن بنیاد پرستی، منی لانڈرنگ اس خطرے کی صرف ایک جھلک ہے۔ دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کو انجام دینے کے لیے ‘ڈارک نیٹ’، ‘میٹاورس’ اور ‘کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز’ کا استعمال کر رہے ہیں۔ مجرمانہ مقاصد کے لیے آئی سی ٹی کے استعمال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔

اوڈیشہ میں آسمانی بجلی گرنے سے 10 افراد کی موت، اگلے 4 دنوں تک شدید بارش کا انتباہ

0
اوڈیشہ-میں-آسمانی-بجلی-گرنے-سے-10-افراد-کی-موت،-اگلے-4-دنوں-تک-شدید-بارش-کا-انتباہ

نئی دہلی: اڈیشہ کے چھ اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں کم از کم 10 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ان اضلاع میں ہفتہ کو شدید بارش ہوئی۔ اسپیشل ریلیف کمشنر کے دفتر نے بتایا کہ آسمانی بجلی گرنے سے کھوردا ضلع میں چار، بولانگیر میں دو اور انگول، بودھ، جگت سنگھ پور اور ڈھینکنال میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ دفتر نے بتایا کہ کھوردا میں آسمانی بجلی گرنے سے تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ اوڈیشہ کے ساحلی علاقے بشمول بھونیشور اور کٹک شہروں میں بجلی گرنے کے ساتھ زبردست بارش ہوئی۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اگلے چار دنوں میں ریاست کے کئی حصوں میں اسی طرح کے حالات رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سائکلونک سرکولیشن نے مانسون کو متحرک کر دیا ہے جس کی وجہ سے پوری ریاست میں شدید بارش ہوئی ہے۔ بھونیشور اور کٹک میں ہفتہ کو 90 منٹ کے وقفے کے دوران بالترتیب 126 ملی میٹر اور 95.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اوڈیشہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (او ایس ڈی ایم اے) نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس سے قبل کہا تھا کہ ریاست میں دوپہر میں 36597 یونٹ سی سی (بادل سے بادل) بجلی اور 25753 یونٹ سی جی (بادل سے زمین) بجلی ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے طوفان کے دوران لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

یہاں کے علاقائی موسمیاتی مرکز کے ڈائریکٹر ایچ آر بسواس نے کہا کہ شمال مشرقی خلیج بنگال میں بھی ایک سائیکلونک سرکولیشن بن گیا ہے، جبکہ 3 ستمبر کے آس پاس شمالی خلیج بنگال میں ایک اور سائیکلونک سرکولیشن بننے کا امکان ہے۔ اس کے زیر اثر اگلے 48 گھنٹوں کے دوران کم دباؤ کا علاقہ بننے کا امکان ہے۔

او ایس ڈی ایم اے نے کہا کہ طوفان اور ممکنہ کم دباؤ کے علاقے کی وجہ سے جنوب مغربی مانسون، جو اڈیشہ پر کمزور رہا، اب اگلے تین سے چار دنوں کے دوران بھاری بارش کرے گا۔

سونیا گاندھی کی طبیعت ناساز، سینے میں انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل، حالت مستحکم

0
سونیا-گاندھی-کی-طبیعت-ناساز،-سینے-میں-انفیکشن-کے-باعث-اسپتال-میں-داخل،-حالت-مستحکم

نئی دہلی: کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو سینے میں انفیکشن کی شکایت کے بعد دہلی کے سر گنگارام اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم ان کی صحت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت ابھی تک مستحکم ہے۔ سونیا گاندھی کو ہفتے کی شام داخل کرایا گیا تھا۔

گنگا رام اسپتال نے سونیا گاندھی کی صحت کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اسپتال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سونیا گاندھی کو یہ مسئلہ کافی عرصے سے ہے اور انہیں معمول کے چیک اپ کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ گنگا رام اسپتال نے سونیا گاندھی کی

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سونیا گاندھی کو صحت کی خرابی کی وجہ سے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہو۔ اس سال کے شروع میں بھی 3 مارچ کو سونیا گاندھی کو بخار کی وجہ سے سری گنگا رام اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس دوران چیسٹ میڈیسن کے ڈاکٹر اروپ باسو اور ان کی ٹیم نے سونیا گاندھی کا علاج کیا تھا۔ اس دوران ان کے کئی ٹیسٹ بھی کئے گئے تھے۔

اس دوران اسپتال سے جاری بلیٹن میں بتایا گیا تھا کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کو بخار کی وجہ سے سر گنگارام اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

وہیں، اس سال جنوری کے شروع میں بھی سونیا گاندھی کو وائرل انفیکشن کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا۔ اس وقت راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کو درمیان میں چھوڑ کر اپنی والدہ کی عیادت کی تھی۔ اس دوران انہیں تقریباً ایک ہفتہ تک اسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

انہیں بھی ریزرویشن ملنا چاہئے جنہیں آج تک نہیں ملا، 50 فیصد کی حد میں اضافہ کرے حکومت: اسدالدین اویسی

0
انہیں-بھی-ریزرویشن-ملنا-چاہئے-جنہیں-آج-تک-نہیں-ملا،-50-فیصد-کی-حد-میں-اضافہ-کرے-حکومت:-اسدالدین-اویسی

نئی دہلی: او بی سی کو ذیلی زمروں میں تقسیم کرنے کے لیے روہنی کمیشن کی رپورٹ میں 2600 او بی سی ذاتوں کی فہرست دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ او بی سی کوٹہ کیسے مختص کیا جانا چاہیے۔ اس معاملہ پر اسد الدین اویسی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریزرویشن کی ان ذاتوں تک توسیع کی جانی چاہئے جنہیں اس کا کبھی فائدہ نہیں ملا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’’ہندوستان کی 50 سے زیادہ آبادی محض 27 فیصد (ریزرویشن) کے لئے مقابلہ کرنے پر مجبور ہے۔ نریندر مودی حکومت کو 50 فیصد (ریزرویشن) کی حد میں اضافہ کرنا چاہئے اور ریزرویشن کی ان لوگوں تک توسیع کی جانی چاہئے جو کبھی اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ چند غالب ذاتوں نے تمام فوائد حاصل کر لیے ہیں۔‘‘

اویسی نے مزید کہا ’’ذیلی درجہ بندی برابری کی بنیاد پر کی جانی چاہئے تاکہ ایک چھوٹے بُنکر خاندان کے بچے کو کسی سابق زمیندار کے بیٹے سے مقابلہ کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ جو ذاتیں ریاست کی پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل ہیں، انہیں براہ راست مرکزی او بی سی فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے۔‘‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے کہا ہے کہ اس کا مقصد ذیلی زمرہ بندی کے ذریعے سب کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ ذیلی کیٹیگری کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم اسے تین سے چار زمروں میں تقسیم کرنے کا امکان ہے۔ تین ممکنہ ذیلی زمروں میں ان لوگوں کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا امکان ہے جنہیں کوئی فائدہ نہیں ملا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو کچھ فوائد ملے ہیں ان کے لیے بھی 10 فیصد ریزرویشن کا امکان ہے۔ جن لوگوں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے انہیں 7 فیصد ریزرویشن دیئے جانے کا امکان ہے۔

راجستھان میں 50 فاسٹ ٹریک کورٹ کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے: وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت

0
راجستھان-میں-50-فاسٹ-ٹریک-کورٹ-کھولنے-پر-غور-کیا-جا-رہا-ہے:-وزیر-اعلیٰ-اشوک-گہلوت

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ ریاست میں متاثرین کو جلد انصاف فراہم کرنے کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ کھولنے کے بارے میں مرکزی حکومت کو تجویز بھیجنے کے ساتھ ہی ریاستی سطح پر بھی ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد فاسٹ ٹریک عدالتیں کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔

گہلوت ہفتہ کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر امن و امان کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں پچاس فاسٹ ٹریک کورٹس کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مجرمانہ واقعات کے بعد لاش رکھ کرمظاہرے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تحقیقاتی کام میں قانونی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور آنجہانی کے تئیں بھی بے حسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ شرپسندوں کا ریکارڈ تھانوں میں درج کرنے کا عمل شروع ہونے سے ایسے واقعات میں کمی آئی ہے نیز خواتین اور والدین میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ سنگین جرائم میں کیس آفیسرز اسکیم کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فوری انصاف کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے دھریاواد اور کچامن اور دیگر واقعات میں پولیس کی جانب سے کی گئی فوری کارروائی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی ستائش کی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے ساتھ ہی مجرموں پر لگام لگانے کے لئے عادی مجرموں، گھناؤنے جرائم میں ملوث مجرموں، منشیات کے اسمگلروں وغیرہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ گہلوت نے ہر تھانے کے علاقے میں عادی مجرموں کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

رات کے موثر گشت کو یقینی بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضرورت کے مطابق اس کام کے لیے اضافی ہوم گارڈز کو تعینات کیا جانا چاہیے۔ نئے بنائے گئے اضلاع سمیت دیگر اضلاع میں پولیس افرادی قوت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہوم گارڈز کو تعینات کرنے کی ہدایات دیں۔ سرحدی اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ نے ان علاقوں میں اضافی ضابطے کے لئے ہوم گارڈز کو تعینات کرنے اورکوئیک رسپانس ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سرحدی علاقوں میں اضافی 112 گاڑیاں تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ گہلوت نے کہا کہ اگر وقت پر لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا تو شواہد اور ثبوت کمزور ہونے کا خدشہ ہے اور مجرموں کو اس کا فائدہ بھی مل سکتا ہے۔ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے قانون پاس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر متاثرہ فریق کے ذریعہ لاش رکھ کر احتجاج کرنے کی وجہ سے ایف آئی آر تاخیر سے درج کرائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زیر حراست ملزمان کو بھی اس کا فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ یہ مظاہرے تفتیش اور عدالتی عمل میں بہت سی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کے حصول میں بھی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے سماج دشمن عناصر کے بہکاوے میں آکر لاش کے ساتھ احتجاج کرنے کے رجحان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے عام لوگوں سے اس سلسلے میں قانون پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

دہلی میں جی-20 سربراہی اجلاس کی فل ڈریس ریہرسل آج بھی جاری، دیکھیں ٹریفک ایڈوائزری

0
دہلی-میں-جی-20-سربراہی-اجلاس-کی-فل-ڈریس-ریہرسل-آج-بھی-جاری،-دیکھیں-ٹریفک-ایڈوائزری

نئی دہلی: راجدھانی دہلی میں جی-20 سربراہی اجلاس کی جاری تیاریوں کے درمیان آج پھر پولیس کی جانب سے فل ڈریس ریہرسل کی جا رہی ہے۔ اس لیے آج یعنی 3 ستمبر کو کئی راستوں پر ٹریفک متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم لوگوں کو پریشانی سے بچانے کے لیے دہلی پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے لوگوں سے میٹرو سروس استعمال کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

اتوار کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق پولیس اس دن تین ریہرسل کرے گی، جو صبح 8 سے 9 بجے تک، صبح 9.30 سے ​​10.30 بجے تک اور دوپہر 12.30 سے ​​شام 4 بجے تک کی جائے گی۔

سردار پٹیل مارگ – پنچ شیل مارگ، سردار پٹیل مارگ – کوٹیلہ مارگ، گول میتھی اسکوائر، مان سنگھ روڈ اسکوائر، سی-ہیکساگون، متھرا روڈ، ذاکر حسین مارگ – سبرامنیم بھارتی مارگ، بھیروں مارگ – رنگ روڈ، جن پتھ – کرتویہ پتھ، بارہ کھمبا ریڈ روڈ لائٹ، ٹالسٹائی مارگ اور وویکانند مارگ اور ستیہ مارگ شانتی پتھ کے چکر پر گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔

مہاتما گاندھی مارگ، آئی پی فلائی اوور، راج گھاٹ چوک، شانتی ون چوک، سلیم گڑھ بائی پاس، بھیروں روڈ، رنگ روڈ، متھرا روڈ، شیرشاہ روڈ، سی-ہیکساگون، گول میتھی، تین مورتی، یشونت پلیس، بریگیڈیئر ہوشیار سنگھ مارگ اور ٹالسٹائے مارگ۔ مان سنگھ چوراہے پر ٹریفک کی نقل و حرکت پر اصول نافذ ہوں گے۔

پولیس نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ دہلی کی کئی سڑکوں اور جنکشنوں پر مسافروں کو معمول سے زیادہ ٹریفک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ سفری منصوبہ بندی پہلے سے کریں۔ ایکس پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اتوار کو دوپہر ایک بجے کے قریب دہلی میرٹھ ایکسپریس وے سے دہلی میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

دہلی ٹریفک پولیس نے ریئل ٹائم ٹریفک اپ ڈیٹس کے لیے اپنا جی-20 ورچوئل ہیلپ ڈیسک قائم کی ہے۔ اس کا کام جی-20 سربراہی اجلاس کے لیے اور ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن، آئی ایس بی ٹی وغیرہ کے لیے راستے تجویز کرنا ہوگا۔ پولیس نے کہا کہ اتوار کو مسافر رنگ روڈ، آشرم چوک، سرائے کالے خان، دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے، نوئیڈا لنک روڈ، پستہ روڈ، یودھیشٹھر سیتو، آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ اور مجنوں کا ٹیلا سے شمال-جنوب کوریڈور لے سکتے ہیں۔ پولیس ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مسافروں کو نئی دہلی اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشنوں یا ہوائی اڈے پر جانے کے لیے اپنی ذاتی گاڑیاں، آٹو رکشہ اور ٹیکسی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل ہفتہ کو بھی ایڈوائزری جاری کی گئی تھی۔

مظفرنگر: گنے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر کسان مشتعل، راکیش ٹکیت کا مل کو تالا لگانے کا انتباہ

0
مظفرنگر:-گنے-کے-واجبات-کی-عدم-ادائیگی-پر-کسان-مشتعل،-راکیش-ٹکیت-کا-مل-کو-تالا-لگانے-کا-انتباہ

مظفر نگر: بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے ہفتہ کو گنے کے واجبات کی ادائیگی کے مطالبے کے حوالے سے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 20 دنوں کے اندر کسانوں کو گنے کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی تو کسان اپنا گنا ملوں کو نہ دے کر اسے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر میں پھینکنا شروع کر دیں گے اور مل کی تالابندی کر کے فیکٹری کے گیٹ کو ویلڈ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال کئی روز تک جاری رہے گی۔ ملوں کو 20 دن کا وقت دیا گیا ہے، ادائیگی نہ ہوئی تو کاشتکار بجاج شوگر فیکٹری کو گنا نہیں دیں گے۔ کسان ضلع (مظفرنگر) میں ٹریکٹر مارچ نکال کر اپنے غصے کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسان گنے کے ساتھ مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر جائے گا۔

مظفر نگر کی تحصیل بڈھانہ میں واقع بجاج شوگر مل میں کسانوں کو گنے کی 220 کروڑ روپے کے واجبات بقایا ہیں، کسان جس کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 90 دنوں سے مل کے گیٹ پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ہفتہ کو احتجاج کے دوران مل اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے پنچایت کے مقام پر کسانوں سے بات چیت کی جس میں کسانوں نے مل کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 20 دن کا وقت دیا۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان نے کہا کہ ایک سال سے ادائیگی روک دی گئی ہے۔ اگر بروقت ادائیگی نہ کی گئی تو کسان شوگر فیکٹری کو تالا لگا دیں گے۔ ابھی تک، بجاج شوگر مل پر 220 کروڑ روپے کی گنے کے واجبات بقایا ہیں۔ شوگر مل حکام نے صرف 20 کروڑ دینے کی بات کی ہے۔ جس کی وجہ سے کسانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، کسانوں نے یہاں کی شوگر فیکٹری کو گنے کی سپلائی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ حکومت نے بے حسی کی حدیں پار کر دی ہیں۔ شوگر ملیں کسانوں کے واجبات ادا نہیں کر رہیں۔ ریاستی حکومت بھی خاموش بیٹھی ہے۔ گنے کے واجبات کی عدم ادائیگی سے علاقہ کا کسان پریشان ہے۔ اس کے پاس بچوں کی شادی، تعلیم اور دیگر مسائل حل کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ بڈھانہ کی شوگر مل پر 220 کروڑ سے زیادہ کے واجبات بقایا ہیں۔ کسان کئی ماہ سے احتجاج بھی کر رہے ہیں لیکن اب تک مل انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔