اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 146

لوک سبھا انتخاب سے قبل مہاراشٹر کے پونے میں ہوگی آر ایس ایس کی اہم میٹنگ، بی جے پی لیڈران بھی ہوں گے شامل

0
لوک-سبھا-انتخاب-سے-قبل-مہاراشٹر-کے-پونے-میں-ہوگی-آر-ایس-ایس-کی-اہم-میٹنگ،-بی-جے-پی-لیڈران-بھی-ہوں-گے-شامل

آر ایس ایس کی آل انڈیا کوآرڈنیشن میٹنگ مہاراشٹر کے پونے میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس سہ روزہ میٹنگ کی شروعات 14 ستمبر کو ہوگی اور اختتام 16 ستمبر کو مقرر ہے۔ لوک سبھا انتخاب سے چند ماہ قبل پونے میں ہونے جا رہی آر ایس ایس کی اس میٹنگ کو انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت اور سرکردہ لیڈر دتاترے ہوسبولے کی قیادت میں ہونے جا رہی میٹنگ میں بی جے پی، وی ایچ پی اور اے بی وی پی سمیت آر ایس ایس سے منسلک سبھی 36 تنظیموں کے اہم عہدیدار شامل ہو کر اپنی اپنی تنظیم کی کارگزاری سے متعلق رپورٹ دیں گے۔ ساتھ ہی میٹنگ میں مستقبل کی پالیسی پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

آر ایس ایس کے آل انڈیا تشہیری چیف سنیل آمبیکر نے میٹنگ کو لے کر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ آر ایس ایس کی سالانہ منعقد ہونے والی آل انڈیا کوآرڈنیشن میٹنگ اس سال مہاراشٹر کے پونے میں منقعد ہونے جا رہی ہے۔ سہ روزہ یہ کوآرڈنیشن میٹنگ 14، 15 اور 16 ستمبر 2023 کو ہوگی۔ یہ آل انڈیا سطح کی وسیع کوآرڈنیش میٹنگ سال میں ایک بار منقعد ہوتی ہے۔

آمبیکر نے آگے بتایا کہ اس میٹنگ میں آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھاگوت اور دتاترے ہوسبولے سمیت آر ایس ایس کے سبھی سرکردہ عہدیدار و لیڈران موجود رہیں گی۔ میٹنگ میں آر ایس ایس سے جڑے یا ان کے نظریات کی حمایت کرنے والی 36 تنظیموں کے اہم عہدیدار بھی شریک ہوں گے۔ ان تنظیموں میں راشٹر سیویکا سمیتی، وَنواسی کلیان آشرم، وی ایچ پی، اے بی وی پی، بی جے پی، بھارتیہ کسان سَنگھ، وِدیا بھارتی، بھارتیہ مزدور سَنگھ، سنسکار بھارتی، سیوا بھارتی، سنسکرت بھارتی، اکھل بھارتیہ ساہتیہ پریشد وغیرہ شامل ہیں۔

چندریان-3: پرگیان کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں، 22 ستمبر کو از سر نو فعال ہونے کی امید

0
چندریان-3:-پرگیان-کے-بعد-وکرم-لینڈر-بھی-نیند-کی-آغوش-میں،-22-ستمبر-کو-از-سر-نو-فعال-ہونے-کی-امید

ہندوستان کے چندریان-3 مشن کی کامیابی کا پوری دنیا میں دھوم مچا ہوا ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ پرگیان رووَر کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں چلا گیا ہے۔ اِسرو نے 4 ستمبر کو اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اہم جانکاری دی۔ ساتھ ہی کہا کہ اب 22 ستمبر کے آس پاس از سر نو اس کے فعال ہونے کی امید ہے۔

اِسرو نے ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’چندریان-3 مشن کا لینڈر صبح تقریباً 8 بجے سلیپ موڈ میں سیٹ ہو گیا۔ اس سے پہلے چیسٹے، رمبھا-ایل پی اور آئی ایل ایس اے پے لوڈ نے نئی جگہ پر اِن-سیٹو تجربات کیے۔ انھوں نے جو ڈاٹا جمع کیا وہ زمین پر آتا رہا۔‘‘ پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’پے لوڈ اب بند کر دیے گئے ہیں۔ لینڈر ریسیور چالو رکھے گئے ہیں۔ شمشی توانائی ختم ہو جانے اور بیٹری ختم ہو جانے پر وکرم، پرگیان کے بغل میں سو جائے گا۔ 22 ستمبر 2023 کے آس پاس ان کے پھر سے جاگنے کی امید ہے۔‘‘

اس سے قبل اِسرو نے 4 ستمبر کی صبح ہی جانکاری دی تھی کہ وکرم لینڈر کی دوبارہ کامیاب سافٹ لینڈنگ 3 ستمبر کو کرائی گئی اور پہلے جس مقام پر لینڈر ماڈیول نے لینڈ کیا تھا، 3 ستمبر کی لینڈنگ اس سے 30 سے 40 میٹر دور ہوئی ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشن کے لیے اس طرح کا تجربہ کرنا ضروری تھا۔

اِسرو نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں بتایا کہ ’’ہندوستان کا وکرم لینڈر چاند پر پھر سے سافٹ لینڈ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ وکرم لینڈر اپنے سبھی مشن پورے کر چکا ہے اور اب یہ کامیابی کے ساتھ ’ہوپ ایکسپریمنٹ‘ سے گزرا ہے۔‘‘ اِسرو نے مزید لکھا ہے کہ ’’کمانڈ دیے جانے پر وکرم لینڈر کے انجن چالو ہوئے اور یہ 40 سنٹی میٹر تک اوپر اٹھا، پھر 40-30 سنٹی میٹر دور جا کر سافٹ لینڈ ہو گیا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ اس کا مقصد مستقبل میں لینڈر کی واپسی اور آئندہ انسانی مشن کے لیے ٹرائل کرنا ہے۔

مراٹھا ریزرویشن: جالنہ میں پولیس لاٹھی چارج کی کارروائی پر دیوندر فڑنویس کا اظہارِ افسوس، مانگی معافی

0
مراٹھا-ریزرویشن:-جالنہ-میں-پولیس-لاٹھی-چارج-کی-کارروائی-پر-دیوندر-فڑنویس-کا-اظہارِ-افسوس،-مانگی-معافی

مہاراشٹر کے جالنہ میں تشدد کا معاملہ دھیرے دھیرے طول پکڑتا جا رہا ہے۔ تشدد کو لے کر پولیس کی طرف سے ابھی تک 350 سے زیادہ لوگوں پر کیس درج کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے جالنہ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تشار دوشی کو چھٹی پر بھیج دیا ہے اور ان کی جگہ شیلیش بلکواڑے کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ پیر کے روز اس پورے معاملے میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پریس کانفرنس کر پورے واقعہ سے متعلق جانکاری دی۔

فڑنویس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آج وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی ہے جس میں سنبھاجی راجے، اودین راجے اور مراٹھا تنظیموں کے نمائندے بھی شامل رہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے جالنہ میں پولیس کی طرف سے کیے گئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغنے کی کارروائی پر افسوس ظاہر کیا اور اسے بے حد افسوسناک بتایا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’میں مہاراشٹر حکومت کی گزشتہ مدت کار میں ریاست کا وزیر داخلہ تھا، مراٹھا تنظیموں کی طرف سے 2000 سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ میں جالنہ میں جو کچھ بھی ہوا اس کے لیے بطور وزیر داخلہ معافی مانگتا ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ واقعہ کو لے کر اب سیاست شروع ہو گئی ہے اور پورے معاملے پر سیاست کی روٹی سینکی جا رہی ہے۔

دیوندر فڑنویس کا کہنا ہے کہ جالنہ میں تشدد کو لے کر ریاستی حکومت کے خلاف ایک نریٹو سیٹ کیا جا رہا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاستی حکومت نے لاٹھی چارج کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی بھی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ اسے ایس پی سطح کے افسر دے سکتے ہیں۔

مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب سے قبل اوما بھارتی نے بی جے پی کے خلاف کھول دیا محاذ، جن آشیرواد یاترا کے بائیکاٹ کا اعلان

0
مدھیہ-پردیش-اسمبلی-انتخاب-سے-قبل-اوما-بھارتی-نے-بی-جے-پی-کے-خلاف-کھول-دیا-محاذ،-جن-آشیرواد-یاترا-کے-بائیکاٹ-کا-اعلان

مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور مودی حکومت میں وزیر رہ چکیں بی جے پی کی مشہور لیڈر اوما بھارتی نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ریاست میں پارٹی کے ذریعہ شروع کی گئی جن آشیرواد یاترا میں شامل ہونے کے لیے دعوت نامہ نہیں دیے جانے سے ناراض اوما بھارتی نے اسمبلی انتخاب سے جڑی اس اہم یاترا کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اوما بھارتی پارٹی سے اس تحد تک ناراض ہیں کہ انھوں نے جن آشیرواد یاترا کے 25 ستمبر کو ہونے والی اختتامی تقریب میں بھی نہیں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اختتامی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کے شامل ہونے کا امکان بھی ہے۔ اسمبلی انتخاب کی تیاریوں کے مدنظر بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اتوار کو ریاست کے ستنا ضلع سے پارٹی کی ریاست گیر تقریب کے تحت پہلی جن آشیرواد یاترا کا افتتاح کیا تھا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ پیر کو ریاست کے نیمچ سے دوسری جن آشیرواد یاترا کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔

دراصل بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں اپنی حکومت کی مدت کار کے دوران کی حصولیابیوں کو ریاستی عوام تک پہنچانے اور کانگریس کی تنقید کرنے کے لیے ایک پالیسی کے تحت ریاست میں جن آشیرواد یاترا نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 3 سے 6 ستمبر کے درمیان ریاست کے مختلف علاقوں سے اس طرح کی پانچ یاترائیں نکالی جانی ہیں جن کا اختتام 25 ستمبر کو ہونا ہے۔ اس دوران یہ یاترائیں تقریباً 10 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کی دوری طے کرے گی اور ریاست کی تقریباً سبھی اسمبلی کا بھی احاطہ کریں گی۔

پارٹی کے ذریعہ انتخابی پالیسی کے لحاظ سے شروع کی گئی ان اہم یاتراؤں کے لیے دعوت نامہ نہیں ملنے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اوما بھارتی نے پیر کی صبح ایکس پر کہا کہ ’’مجھے جن آشیرواد یاترا کے افتتاح میں دعوت نامہ نہیں ملا، یہ سچائی ہے کہ ایسا میں نے کہا ہے، لیکن دعوت نامہ ملنے یا نہ ملنے سے میں کم زیادہ نہیں ہو جاتی۔ ہاں، اب اگر مجھے دعوت نامہ دیا گیا تو میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ نہ افتتاح میں، نہ 25 ستمبر کی اختتامی تقریب میں۔‘‘

اس کے بعد اپنے اگلے پوسٹ میں اوما بھارتی نے لکھا ہے کہ ’’میرے دل میں شیوراج کے تئیں احترام اور ان کے دل میں میرے تئیں محبت کی ڈور اٹوٹ اور مضبوط ہے۔ شیوراج جب اور جہاں مجھے انتخابی تشہیر کرنے کے لیے کہیں گے، میں ان کی عزت رکھتے ہوئے ان کی بات مان کر انتخابی تشہیر کر سکتی ہوں۔‘‘ بی جے پی لیڈروں کے فائیو اسٹار ہوٹلز میں رکنے پر پھر سے سوال اٹھاتے ہوئے اوما بھارتی نے اگلی پوسٹ میں لکھا ’’شادیوں کی فضول خرچی اور ہمارے لیڈروں کا 5 اسٹار ہوٹل میں رکنا، اس میں شروع سے ہی غلط مانتی ہوں۔ مودی بھی اس طرح کی طرز زندگی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ میں آگے بھی یہ باتیں کہتی رہوں گی۔ ہم گاندھی، دین دیال اور مودی کے دیے گئے سبق کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘‘

حالانکہ اوما بھارتی نے پارٹی کا نقصان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ جن کے خون پسینے سے یہ بی جے پی بنی ہے وہ ان لوگوں میں سے ہیں، اور پارٹی کا کبھی نقصان نہیں کریں گی۔ لیکن پیر کی صبح کیے گئے اپنے ایک پوسٹ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جب بھوپال کے بنسل اسپتال میں میرے چیک اَپ ہوئے تب میں نے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں میں زمین آسمان کا فرق پایا اور سرکاری و پرائیویٹ تعلیم میں بھی یہی فرق ہے اور تبھی سے میں نے کہنا شروع کیا۔ ہم سبھی لیڈروں کو، اراکین اسمبلی، اراکین پارلیمنٹ، وزراء، وزرائے اعلیٰ اور سبھی افسران کو سرکاری اسپتال میں علاج کرانا چاہیے اور سرکاری اسکول میں بچوں کو پرھنے بھیجنا چاہے۔ تبھی یہاں کے انتظامات میں بہتری ہو پائے گی۔‘‘

وَن نیشن، وَن الیکشن کمیٹی کو لے کر وزیر اعظم دفتر سے رات 11 بجے آیا تھا فون! ادھیر رنجن چودھری کا انکشاف

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن-کمیٹی-کو-لے-کر-وزیر-اعظم-دفتر-سے-رات-11-بجے-آیا-تھا-فون!-ادھیر-رنجن-چودھری-کا-انکشاف

’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب معاملے پر سیاسی گھمسان جاری ہے۔ مرکزی حکومت وَن نیشن، وَن الیکشن کے لیے راستہ ہموار کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن پارٹیاں اسے غیر آئینی ٹھہرا رہی ہیں۔ حکومت ہند کے ذریعہ وَن نیشن، وَن الیکشن کے لیے سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جس میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو بھی شامل کیا گیا تھا، حالانکہ انھوں نے خود کو اس کمیٹی سے کنارہ کر لیا ہے۔ اب ادھیر رنجن چودھری نے اس سلسلے میں کچھ اہم باتیں بتائی ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کا کہنا ہے کہ ’’31 اگست کی شب 11 بجے میرے سکریٹری کے پاس پی ایم او (وزیر اعظم دفتر) کے مشرا جی کا فون آیا۔ انھوں نے جانکاری دی کہ حکومت آپ کو ایک کمیٹی میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ میں اس سے حیران ہوا کیونکہ اتنی رات کو اس لیے کیوں فون آیا ہے۔ جب مشرا جی نے وَن نیشن، وَن الیکشن کی بات کی تب میں نے ان سے صاف کہا کہ پہلے سبھی ڈیٹیل بھیج دیجیے۔‘‘

ادھیر رنجن نے بتایا کہ انھوں نے صاف لفطوں میں فون پر کہا کہ جب تک مجھے جانکاری نہیں ہوگی، میں کیا بات کروں گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کیا وزیر قانون، پارلیمانی امور کے وزیر، وزیر داخلہ یا وزیر اعظم مجھ سے بات نہیں کر سکتے، ایک بابو کو مجھ سے بات کرنے کے لیے بھیج دیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کے پاس پیگاسس ہے، ای ڈی ہے اور سی بی آئی ہے۔ میں نے فون پر کیا کہا ہے اس کی جانچ کرا لیجیے، کچھ ہوا تو مجھے اور مشرا جی کو جیل میں ڈال دیجیے۔

ایودھیا کے سَنت نے اودے ندھی اسٹالن کا سر قلم کرنے والے کو 10 کروڑ روپے انعام دینے کا کیا اعلان

0
ایودھیا-کے-سَنت-نے-اودے-ندھی-اسٹالن-کا-سر-قلم-کرنے-والے-کو-10-کروڑ-روپے-انعام-دینے-کا-کیا-اعلان

رام نگری ایودھیا میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے بیٹے اور ڈی ایم کے پارٹی کے لیڈر اودے ندھی اسٹالن کا پُتلا نذرِ آتش کیا گیا۔ سناتن مذہب پر تبصرہ کو لے کر ایودھیا کے تپسوی چھاؤنی کے سَنت جگت گرو پرمہنس آچاریہ نے اودے ندھی کا پُتلا جلایا۔ اس دوران علامتی طور سے ان کا سر بھی قلم کیا گیا۔ اس موقع پر پرمہنس آچاریہ نے کہا کہ جو بھی اودے ندھی کا سر قلم کر کے لائے گا، اسے 10 کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

پرمہنس آچاریہ کا کہنا ہے کہ اودے ندھی کے ذریعہ سناتن مذہب کو مچھر، ڈینگو، ملیریا اور کورونا کی طرف ملک سے ختم کرنے کی بات سے وہ کافی مایوس ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ لاکھوں سال پہلے ایک ہی مذہب تھا، اور وہ تھا سناتن۔ دو ہزار سال سے کچھ مذہب پینٹ مذہب بنے ہیں۔ پہلے ایک ہی مذہب تھا، وہ تھا سناتن مذہب۔ سناتن مذہب کا کوئی آخر نہیں ہے، اسے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا، حالانکہ کوئی اس کو مٹانے کی کوشش کرے گا تو وہ ضرور مٹ جائے گا۔

جگت گرو پرمہنس آچاریہ کا کہنا ہے کہ آج میں 10 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کرتا ہوں، جو ڈی ایم کے لیڈر اودے ندھی کا سر کاٹ کر لائے گا اسے میں 10 کروڑ روپے دوں گا۔ اگر کوئی اس کا سر نہیں لایا تو میں خود اس کا سر قلم کرنے جاؤں گا۔ میں نے تلوار تیار کر لی ہے۔ میں خود روانہ ہونے والا ہوں اور اس کا سر کاٹوں گا۔

پرمہنس آچاریہ کا کہنا ہے کہ اگر اس طریقے سے ادے ندھی کسی دوسرے مذہب کے لیے بولے ہوتے تو ابھی تک ان کے چیتھڑے چیتھڑے اڑ جاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ سناتن مذہب انسانیت پسند ہے، عدم تشدد کی حامی ہے، ہاں ہم انسانیت پسند ہیں، لیکن ہم راکچھسوں کا وَدھ (قتل) بھی کرتے ہیں۔ اودے ندھی راکچھس بن چکا ہے، اس کا وَدھ میرے ہاتھوں سے ہی ہوگا۔

چندریان-3 کا ایک اور تجربہ ہوا کامیاب، وکرم لینڈر کی دوبارہ سافٹ لینڈنگ کی ویڈیو آئی سامنے

0
چندریان-3-کا-ایک-اور-تجربہ-ہوا-کامیاب،-وکرم-لینڈر-کی-دوبارہ-سافٹ-لینڈنگ-کی-ویڈیو-آئی-سامنے

اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے ذریعہ چاند پر لگاتار تجربات کیے جا رہے ہیں اور پیر کے روز اِسرو نے مزید ایک کامیاب تجربہ کی خوشخبری دی۔ 4 ستمبر کو وکرم لینڈر کی دوبارہ کامیاب سافٹ لینڈنگ کرائی گئی اور پہلے جس مقام پر لینڈر ماڈیول نے لینڈ کیا تھا، آج کی لینڈنگ اس سے 30 سے 40 میٹر دور ہوئی ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشن کے لیے اس طرح کا تجربہ کرنا ضروری تھا۔

اِسرو نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے تازہ پوسٹ میں بتایا کہ ’’ہندوستان کا وکرم لینڈر چاند پر پھر سے سافٹ لینڈ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ وکرم لینڈر اپنے سبھی مشن پورے کر چکا ہے اور اب یہ کامیابی کے ساتھ ’ہوپ ایکسپریمنٹ‘ سے گزرا ہے۔‘‘ اِسرو نے مزید لکھا ہے کہ ’’کمانڈ دیے جانے پر وکرم لینڈر کے انجن چالو ہوئے اور یہ 40 سنٹی میٹر تک اوپر اٹھا، پھر 40-30 سنٹی میٹر دور جا کر سافٹ لینڈ ہو گیا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ اس کا مقصد مستقبل میں لینڈر کی واپسی اور آئندہ انسانی مشن کے لیے ٹرائل کرنا ہے۔

اس نئے مشن کے دوران وکرم لینڈر کے سبھی سسٹم بہتر انداز میں کام کر رہے تھے۔ رایم، چیسٹے اور اِلسا پے لوڈ کو بند کیا گیا اور بعد میں واپس انھیں ڈپلائے کر دیا گیا۔ چاند پر پرگیان رووَر کے سلیپ موڈ میں جانے کے بعد اِسرو کا وکرم لینڈر سے جڑا یہ ایک بڑا اَپڈیٹ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اِسرو نے گزشتہ ہفتہ کے روز جانکاری دی تھی کہ اب پرگیان رووَر سلیپ موڈ میں چلا گیا ہے، مجموعی طور پر 12 دن کام کرنے کے بعد اب یہ ایک محفوظ جگہ پر پارک ہو گیا ہے۔ پرگیان رووَر اب 22 ستمبر کا انتظار کر رہا ہے جب چاند پھر سے صبح ہوگی اور تب پرگیان رووَر کے پھر سے فعال ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اپنے آپ میں اِسرو کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ چاند پر مزید 12 سے 14 دنوں تک رووَر پرگیان تحقیقی کام انجام دے سکے گا۔

ایڈیٹرس گلڈ کے صحافیوں کے خلاف منی پور حکومت نے درج کروائی ایف آئی آر، جانیں کیا ہے پورا معاملہ؟

0
ایڈیٹرس-گلڈ-کے-صحافیوں-کے-خلاف-منی-پور-حکومت-نے-درج-کروائی-ایف-آئی-آر،-جانیں-کیا-ہے-پورا-معاملہ؟

گزشتہ کئی مہینوں سے تشدد کی آگ میں جل رہے منی پور میں تشدد اور کشیدگی کے حالات پر رپورٹنگ کو لے کر منی پور حکومت نے ’ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا‘ کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ یہ ایف آئی آر تین صحافی پر ہوئی ہے۔ یہ تینوں ہی صحافی حالیہ نسلی تشدد کی میڈیا رپورٹس کو دیکھنے کے لیے منی پور گئے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ای جی آئی کی ٹیم کے ذریعہ پیش کی گئی رپورٹ ’جھوٹی، من گڑھت اور اسپانسرڈ‘ ہے۔

منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے کہا ہے کہ منی پور حکومت نے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کے اراکین کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ دراصل ان کے مطابق یہ منی پور ریاست میں اور زیادہ تصادم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امپھال واقع سماجی کارکن این شرت سنگھ نے 7 سے 10 اگست تک منی پور پہنچے تین صحافیوں سیما گوہا، سنجے کپور اور بھارت بھوشن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر میں ای جی آئی چیف کا بھی ملزم کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ای جی آئی (ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا) کی منی پور سے متعلق رپورٹ میں چراچندپور ضلع میں ایک جلتی ہوئی عمارت کی تصویر کے لیے ’کوکی ہاؤس‘ کی شکل میں کیپشن دیا گیا ہے۔ جبکہ عمارت محکمہ جنگلات کا ایک دفتر تھا جس میں 3 مئی کو ایک بھیڑ نے آگ لگا دی تھی۔

واضح رہے کہ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے ہفتہ کے روز جاری منی پور رپورٹ میں کہا کہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ نسلی تشدد کے دوران ریاست کی قیادت تفریق آمیز ہو گئی۔ رپورٹ میں اپنے نتائج مختصر میں ریاست کی قیادت پر کئی تبصرے کے درمیان کہا گیا ہے، اسے نسلی تشدد میں جانبداری سے بچنا چاہیے تھا، لیکن یہ ایک جمہوری حکومت کی شکل میں اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی، اسے پوری ریاست کی نمائندگی کرنی چاہیے تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریاست کی حکومت جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی شکل میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھا پائی ہے۔

حالانکہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ای جی آئی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی منی پور میں رپورٹ کو غلط مانا اور کہا کہ اس میں اصلاح کیا جا رہا ہے اور ایک ترمیم شدہ منی پور رپورٹ جلد ہی اَپلوڈ کی جائے گی۔ ای جی آئی نے لکھا ’’ہمیں پکچر ایڈٹنگ میں ہوئی خامی کے لیے افسوس ہے۔‘‘

یوگی کے وزیر ستیش شرما کا شیولنگ کے قریب ہاتھ دھونے کا ویڈیو وائرل

0
یوگی-کے-وزیر-ستیش-شرما-کا-شیولنگ-کے-قریب-ہاتھ-دھونے-کا-ویڈیو-وائرل

یوپی حکومت کے وزیر مملکت ستیش شرما کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ تنازع میں آ گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں وزیر شیولنگ کے پاس ہاتھ دھوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ضلع انچارج وزیر جتن پرساد بھی قریب ہی موجود ہیں۔ اس ویڈیو کو لے کر لوگوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے بھی اس پر سوال اٹھائے ہیں۔

قومی آواز اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کرتا لیکن یہ ویڈیو کچھ دن پہلے کا بتایا جاتا ہے جب وزیر ستیش شرما اور جتن پرساد رام نگر تحصیل کے ہیتما پور گاؤں میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا اور پشتوں اور امدادی کاموں کا بھی معائنہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔ اس کے بعد وہ یہاں کے افسانوی لودھیشور مہادیو مندر پہنچے جہاں انہوں نے پوجا کی۔ جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

وزیر ستیش شرما کا جو ویڈیو وائرل ہو رہا ہے وہ 27 اگست کا بتایا جا رہا ہے، اس ویڈیو میں وزیر شیولنگ کے پاس ہاتھ دھوتے نظر آ رہے ہیں۔ وزیر جتن پرساد بھی ان کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ستیش شرما اپنے ہاتھ سے پجاری کو اشارہ کرتے ہیں، جس کے بعد مندر کا پجاری انہیں پانی سے بھرا ہوا برتن دیتا ہے اور پھر وزیر شیولنگ کے پاس ہاتھ دھونے لگتے ہیں۔

یوپی کے وزیر کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کانگریس نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔ یوپی کانگریس پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا، ‘اتر پردیش حکومت کے وزیر ستیش شرما شیوالیا میں شیو لنگ کے پاس ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ایک اور وزیر جتن پرساد قریب ہی کھڑے ہیں اور قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر، دیوی دیوتاؤں کے نام پر سیاست کرنے والے اور تخت پر بیٹھنے والے ان لوگوں کو شیولنگ کے پاس ہاتھ دھونے کی عقل بھی نہیں ہے۔ ان لوگوں کے لیے ہمارا عقیدہ ، ہمارے دیوی دیویاں صرف سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ اس سے آگے انہیں نہ خدا پر یقین ہے اور نہ ہی عوام کے ایمان پر۔

چھتیس گڑھ میں وزیراعلی بگھیل کا بڑا اعلان، 38 ہزار سرکاری ملازمین کو تحفہ

0
چھتیس-گڑھ-میں-وزیراعلی بگھیل-کا-بڑا-اعلان،-38-ہزار-سرکاری-ملازمین-کو-تحفہ

چھتیس گڑھ حکومت نے وظیفہ یعنی اسٹائپنڈ  کی فراہمی کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے تحت براہ راست بھرتی کے عمل کے ذریعے تعینات سرکاری ملازمین کو تقرری کے چوتھے سال سے پوری تنخواہ ملتی تھی۔ ایک افسر نے اتوار کو یہ جانکاری دی۔

محکمہ تعلقات عامہ کے اہلکار نے بتایا کہ اس قدم سے تقریباً 38000 سرکاری افسران اور ملازمین مستفید ہوں گے۔چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کا یہ قدم اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ہفتہ کو راجیو یووا متان کانفرنس کے دوران وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے وظیفہ کی فراہمی کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ایک فیصلے کو ریاستی کابینہ نے بعد میں شام کو منظوری دے دی۔

سال 2020 میں نافذ کردہ وظیفہ کے اصول کے تحت، براہ راست بھرتی کے عمل کے ذریعے تعینات ہونے والے سرکاری افسران اور ملازمین کو پروبیشن مدت کے پہلے، دوسرے اور تیسرے سال میں بالترتیب 70 فیصد، 80 فیصد اور بنیادی پے سکیل کا 90 فیصد وظیفہ ملے گا۔

افسر نے کہا کہ قواعد کے مطابق تقرری کے چوتھے سال سے پوری تنخواہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پروبیشن کا دورانیہ دو سال کا تھا لیکن ملازمین کو تقرری کے پہلے مہینے سے پوری تنخواہ ملتی تھی۔

اہلکار نے مطلع کیا کہ ریاستی حکومت نے جولائی 2020 میں بھرتی کے قوانین میں وبا کووڈ  کی مدت کے دوران ترمیم کی تاکہ وبائی مرض پر قابو پانے کی کوششوں میں مزید مالی وسائل مختص کیے جا سکیں اور موثر مالیاتی انتظام اور انتظامی نقطہ نظر کے ذریعے مستقبل کی تقرریوں میں تنخواہ کی لاگت کو کم کیا جا سکے۔

اس کے بعد حکومت نے ملازمین کا پروبیشن پیریڈ دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا اور انہیں چوتھے سال سے پوری تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا۔براہ راست بھرتی کے عمل کے ذریعے تعینات ہونے والے افسران اور ملازمین کو پہلے سال بنیادی پے سکیل کا 70 فیصد وظیفہ ملتا تھا جو دوسرے سال بڑھ کر 80 فیصد اور تیسرے سال 90 فیصد ہو گیا۔