ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 128

’حکومت جتنی کمزور ہوگی اپوزیشن پر چھاپے بڑھیں گے! اعظم خان کے خلاف انکم ٹیکس کی چھاپہ ماری پر اکھلیش کا ردعمل

0
’حکومت-جتنی-کمزور-ہوگی-اپوزیشن-پر-چھاپے-بڑھیں-گے!-اعظم-خان-کے-خلاف-انکم-ٹیکس-کی-چھاپہ-ماری-پر-اکھلیش-کا-ردعمل

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان اور ان کے قریبی رشتہ داروں پر آج محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جس پر پارتی صدر اکھلیش یادو نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ یوپی میں محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی کے حوالہ سے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت جتنی کمزور ہوتی جا رہی ہے اپوزیشن جماعتوں پر چھاپے اتنے ہی بڑھیں گے۔ وہیں، سماجوادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے بھی اعظم خان کے خلاف چھاپہ ماری کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایس پی لیڈر اعظم خان کے کئی احاطوں پر صبح سے ہی آئی ٹی کے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انکم ٹیکس کی ٹیم آج صبح تقریباً 7.30 بجے رام پور میں اعظم خان کے گھر پہنچی اور تلاشی لی۔ اعظم کے علاوہ ان کے قریبی ساتھیوں نصیر خان اور وکیل کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ اس پر سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے سخت ردعمل دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر پوسٹ میں اکھلیش نے کہا ’’حکومت جتنی کمزور ہوگی، اپوزیشن پر اتنے ہی چھاپے بڑھتے جائیں گے۔‘‘

اکھلیش یادو نے پہلے بھی مرکزی حکومت پر اپوزیشن کو دھمکانے کا الزام لگایا تھا۔ تمل ناڈو میں ٹی ڈی پی صدر اور سابق سی ایم این چندرابابو نائیڈو کی گرفتاری پر اکھلیش نے کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کرنا ایک چلن بن گیا ہے اور جو لوگ اقتدار کے ساتھ نہیں آ رہے، انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے!

ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس کی ٹیم اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ٹرسٹ اور اکاؤنٹس کے لین دین کی چھان بین کر رہی ہے۔ اس دوران اعظم خان کی فیملی گھر پر موجود ہے۔ ان کے گھر کو چاروں طرف سے مرکزی سیکورٹی فورسز نے گھیر لیا ہے اور کسی کو آنے اور جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

اتراکھنڈ کے 117 مدارس کے نصاب میں تبدیلی، سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی

0
اتراکھنڈ-کے-117-مدارس-کے-نصاب-میں-تبدیلی،-سنسکرت-بھی-پڑھائی-جائے-گی

دہرادون: اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اتراکھنڈ میں چل رہے وقف بورڈ کے مدارس میں بچوں کو عربی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مدارس کو جدید بنانے کی پہل کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی ای آر ٹی کے نصاب کو نافذ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اب ریاست کے 117 وقف بورڈ مدارس میں سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔

شاداب شمس کے مطابق اس حوالے سے ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ نیز مدارس کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہوئے بچوں کے لیے ڈریس کوڈ بھی نافذ کیا جائے گا۔ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ ’دیوبھومی‘ کی سرزمین ہے اور یہاں رہنے والے مسلم کمیونٹی کے لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسے میں وقف بورڈ کے مدارس کی اپ گریڈیشن سے سبھی خوش ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے شاداب شمس نے کہا کہ ’’دیو بھومی اتراکھنڈ میں وقف بورڈ نے ایماندارانہ کوشش کی ہے۔ جس میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے 117 وقف بورڈ مدارس میں این سی ای آر ٹی کا نصاب لاگو کیا جائے گا۔ اس میں سنسکرت زبان کو بھی شامل کیا جائے گا۔ جب ہمارے بچے ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور عربی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سنسکرت بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’وزیراعلیٰ نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لیے کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ اب مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی ڈاکٹر اور انجینئر بن کر نکلیں گے۔ اب وہ بھی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے راستے پر چلیں گے اور ملک کی شان میں اضافہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ہم مثبت جذبات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘

گیانواپی مسجد تنازعہ: ہائی کورٹ کے جج نے بغیر اختیار کے دو سال تک کی معاملہ کی سماعت! چیف جسٹس نے لیا یہ فیصلہ

0
گیانواپی-مسجد-تنازعہ:-ہائی-کورٹ-کے-جج-نے-بغیر-اختیار-کے-دو-سال-تک-کی-معاملہ-کی-سماعت!-چیف-جسٹس-نے-لیا-یہ-فیصلہ

الہ آباد: گیانواپی مسجد تنازعہ میں ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے۔ ہوئی کورٹ کی سنگل بنچ کے جج اس معاملہ کی دو سال تک سماعت کرتے رہے جبکہ انہیں اس پر سماعت کا اختیار نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے اب اس معاملہ کو اپنی عدالت میں واپس لے لیا ہے اور سنگل جج کو فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں ان وجوہات کی وضاحت کی گئی ہے جن کی وجہ سے کاشی وشوناتھ-گیانواپی اراضی تنازعہ 2021 سے اس کیس کی سماعت کرنے والے سنگل جج سے واپس لے لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پریتنکر دیواکر نے کیس کو اپنی عدالت میں واپس لے جانے کے فیصلے کو یہ کہتے ہوئے درست قرار دیا کہ سنگل جج دو سال سے زیادہ عرصے سے ان مقدمات کی سماعت کر رہے تھے، حالانکہ ان کے پاس روسٹر کے مطابق کیس سننے کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مذکورہ کیس کو انتظامی بنیادوں پر سنگل جج سے چیف جسٹس کی عدالت میں عدالتی وقار، عدالتی نظم و ضبط اور مقدمات کی فہرست میں شفافیت کے مفاد میں لے جایا گیا۔ چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ سنگل جج جسٹس پرکاش پاڈیا دو سال سے زیادہ عرصے سے ان مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ تاہم، روسٹر کے مطابق اس معاملے کی سماعت کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے 28 اگست کو دیے گئے اپنے حکم نامے میں یہ بھی بتایا کہ 27 جولائی کو فریقین میں سے ایک کی جانب سے تنازع کی شکایت کی گئی تھی جس کے بعد یہ ان کے نوٹس میں آیا تھا۔ شکایتی خط میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جسٹس پرکاش پاڈیا نے فیصلہ سنانے کے لیے 28 اگست کی تاریخ مقرر کرنے سے پہلے کم از کم 75 مواقع پر اس معاملے کی سماعت کی تھی، اس لیے چیف جسٹس کو اس معاملے پر نئے سرے سے غور کرنا پڑا۔ سماعت کے لیے جسٹس پرکاش پاڈیا کی بنچ سے واپس لے لیا گیا۔

موجودہ مقدمہ وارانسی کی انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی اور 4 دیگر کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ انجمن انتظاریہ مسجد کمیٹی گیانواپی مسجد کا انتظام کرتی ہے۔ یہ مقدمہ ہندو جماعتوں نے دائر کیا ہے جس میں اس مقدمے کی برقراری کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ہندو فریق نے گیانواپی کمپلیکس پر دعویٰ کیا ہے، جہاں اس وقت گیانواپی مسجد موجود ہے۔

چیف جسٹس نے 28 اگست کے حکم نامے میں یہ بھی کہا تھا کہ اس کیس کی 12 ستمبر 2023 سے نئی سماعت ہوگی۔ تاہم ہائی کورٹ میں وکلاء کی ہڑتال کے باعث اس کی سماعت نہ ہوسکی اور آئندہ سماعت کی تاریخ 18 ستمبر مقرر کی گئی۔

صدر جمہوریہ آیوشمان بھو مہم کا کریں گی آغاز آج

0
صدر-جمہوریہ-’آیوشمان-بھو‘-مہم-کا-آغاز-آج-کریں-گی

مرکزی صحت و خاندانی فلاح وبہبود کے وزیر منسکھ مانڈویا نے کل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا  کہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے گورنروں، وزرائے اعلیٰ، وزرائے مملکت اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ان کے عہدیداروں کو اس پروگرام میں آن لائن شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ضلع ہیڈ کوارٹر، بلاک ہیڈ کوارٹر اور گاؤں کے صحت و بہبود کے مراکز سے عوامی نمائندوں، استفادہ کنندگان اور شرکاء کی بڑی تعداد بھی اس میں شرکت کرے گی۔

مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی فلاح وبہبود ڈاکٹر بھارتی پروین پوار اور پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل، نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔

مسٹر مانڈویا نے کہا کہ ’آیوشمان بھو‘ مہم ایک جامع ملک گیر صحت کی دیکھ بھال کی پہل ہے جس کا مقصد ملک کے ہر گاؤں اور قصبے میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنا ہے۔ یہ مہم جو 17 ستمبر سے 2 اکتوبر تک ‘سیوا پکھواڑا’ کے دوران چلائی جائے گی۔ اس کا بنیادی مقصد جغرافیائی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ہر گاؤں اور قصبے تک جامع صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو بڑھانا ہے۔

مرکزی وزیر صحت نے ‘آیوشمان بھو’ کی جاری تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے صحت اور سینئر افسران کے ساتھ آن لائن بات چیت کی۔

بھارت رابطہ کمیٹی کی پہلی تشکیل کا اجلاس شرد پوار کے گھر میں آج منعقد

0
شرد-پوار-کے-گھر’-انڈیا‘-رابطہ-کمیٹی-کا-پہلا-اجلاس-آج

‘انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس’ (I.N.D.I.A.) کی رابطہ کمیٹی (کوآرڈینیشن کمیٹی) کی پہلی میٹنگ آج بدھ 13 ستمبر کو ہوگی۔ مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ کے ایجنڈے میں لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے مہم چلانے کی حکمت عملی پر ایک جامع بات چیت ہوگی۔

رابطہ کمیٹی میں اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کے 14 رہنما شامل ہیں۔ کمیٹی کی میٹنگ شام کو این سی پی سربراہ شرد پوار کی رہائش گاہ پر ہوگی۔  ذرائع نے بتایا کہ کئی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے سیٹوں کی تقسیم کا فارمولہ جلد تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی کے امیدواروں کے خلاف اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار کھڑا کیا جائے۔

میٹنگ سے پہلے، رابطہ کمیٹی کے رکن اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر راگھو چڈھا نے کہا کہ لوگوں تک پہنچنے، مشترکہ ریلیوں کی منصوبہ بندی کرنے اور گھر گھر مہم چلانے جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جو ہر ریاست کے لیے مختلف ہوں گے۔راگھو چڈھا نے یہ بھی کہا کہ اس اتحاد کو کامیاب بنانے کے لیے اس میں شامل ہر سیاسی پارٹی کو تین چیزوں کی قربانی دینی ہو گی – عزائم، اختلاف اور رائے کا اختلاف۔

‘انڈیا’ اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے اراکین میں کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال، ڈی ایم کے لیڈر ٹی آر بالو، جے ایم ایم لیڈر ہیمنت سورین، شیو سینا(یو بی ٹی) لیڈر سنجے راوت، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو،عآپ رہنما راگھو چڈھا، سماج وادی پارٹی لیڈر جاوید علی خان، جے ڈی یو  لیڈر لالن سنگھ، سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ، نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ، پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی، ٹی ایم سی لیڈر ابھیشیک بنرجی اور سی پی آئی ایم  کے ایک رکن شامل ہیں ۔

ٹی ایم سی لیڈر ابھیشیک بنرجی کو بدھ (13 ستمبر) کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے، اس لیے وہ میٹنگ میں شرکت نہیں کر پائیں گے، وہیں جے ڈی یو کے للن سنگھ خراب صحت کی وجہ سے میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔جے ڈی یو لیڈر اور بہار کے وزیر سنجے کمار جھا میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ سی پی آئی-ایم نے ابھی تک اپنے کسی لیڈر کو اس کمیٹی کا رکن نامزد نہیں کیا ہے اور وہ میٹنگ میں موجود نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق 16-17 ستمبر کو ہونے والی  سی پی آئی ایم پولٹ بیورو کی میٹنگ میں پارٹی اتحاد میں اپنے ممبر کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

اجلاس میں آنے والے دنوں میں ہونے والی مہم اور ریلیوں کو حتمی شکل دینے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ رہنما رابطہ کمیٹی کے مختلف ذیلی گروپوں جیسے کہ مہم کمیٹی، ورکنگ گروپ آن  لائن میڈیا، ریسرچ اور سوشل میڈیا گروپ کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر نظر رکھیں گے۔

اعظم خان کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی، چھ مقامات پر چھاپہ ماری

0
اعظم-خان-کے-خلاف-محکمہ-انکم-ٹیکس-کی-کارروائی،-چھ-مقامات-پر-چھاپہ-ماری

لکھنؤ: انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کو اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور سابق کابینہ وزیر اعظم خان کے ٹھکانوں چھاپہ مارا۔ رپورٹ کے مطابق یہ چھاپہ ماری الجوہر ٹرسٹ کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے رام پور، لکھنؤ، سیتاپور، میرٹھ، سہارنپور اور غازی آباد میں چھاپے مارے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایس پی لیڈر اعظم خان چھاپے کے وقت اپنی رام پور میں واقع رہائش گاہ پر موجود تھے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ٹرسٹ اکاؤنٹس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ تاہم افسران کی جانب سے ابھی تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اعظم خان لگاتار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اعظم خان نے رام پور میں مولانا علی جوہر کے نام پر یونیورسٹی قائم کی تھی، جسے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ چلاتا ہے۔

اعظم خان محمد علی جوہر ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ اس کی سکریٹری ہیں۔ اعظم خان نے جوہر یونیورسٹی بنانے کے لیے کافی اراضی حاصل کی تھی جس کو لے کر شروع سے ہی تنازعہ چل رہا ہے۔ اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کی پوری زمین اب حکومت نے اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ 173 ایکڑ اراضی سے بے دخلی کی کارروائی کی گئی ہے۔

راجستھان کے بھرت پور میں اندوہناک سڑک حادثہ، 11 افراد ہلاک، متعدد زخمی

0
راجستھان-کے-بھرت-پور-میں-اندوہناک-سڑک-حادثہ،-11-افراد-ہلاک،-متعدد-زخمی

بھرت پور: راجستھان کے بھرت پور میں قومی شاہراہ پر اندوہناک سڑک حادثہ پیش آیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھرت پور میں قومی شاہراہ پر ٹرک اور بس میں تصادم ہوا۔ اس سڑک حادثے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ جبکہ حادثے میں 12 افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔

بس راجستھان کے پشکر سے اتر پردیش کے ورنداون جا رہی تھی۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس ایک پل پر خراب ہو گئی تھی حادثے میں بچ جانے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ بس ڈرائیور اور کچھ مسافر بس کے پیچھے کھڑے تھے کہ اچانک تیز رفتار ٹرک نے گاڑی کو ٹکر مار دی۔ بس کے باہر کھڑے لوگ ہلاک یا شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور حادثے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

کشمیر میں ذہنی امراض اور منشیات کی لت، خونریز تنازعے کے نظر نہ آنے والے زخم

0
کشمیر-میں-ذہنی-امراض-اور-منشیات-کی-لت،-خونریز-تنازعے-کے-نظر-نہ-آنے-والے-زخم

کشمیر کی رہائشی آیت حمید شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے ذہن میں خودکشی کر لینے جیسے خیالات بھی آتے رہتے ہیں۔ آیت کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کے پیش نظر ڈاکٹروں نے انہیں نفسیاتی امراض کے کسی ہسپتال میں علاج کا مشورہ دیا۔

سری نگر میں قائم نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں آیت کا ذہنی معائنہ بھی ہوتا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین انہیں ذہنی دباؤ سے نجات دلوانے کے لیے مختلف ادویات بھی تجویز کرتے رہے ہیں۔ آیت حمید کہتی ہیں کہ اب انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ خود کشی سے متعلق خیالات کا ذہن میں آنا اور ذہنی دباؤ کا شکار ہونے جیسی نفسیاتی بیماریوں سے نجات کے لیے کسی نہ کسی ماہر نفسیات سے علاج کرانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ سری نگر کے اس ہسپتال کے میڈیکل کے ایک طالب علم کے مطابق ایک ماہ تک علاج کے دوران آیت حمید کا نفسیاتی طور پر دوبارہ صحت مند ہونا صرف 40 فیصد تک ہی ممکن ہو سکا۔

سری نگر میں قائم نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں آیت کا ذہنی معائنہ بھی ہوتا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین انہیں ذہنی دباؤ سے نجات دلوانے کے لیے مختلف ادویات بھی تجویز کرتے رہے ہیں۔ آیت حمید کہتی ہیں کہ اب انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ خود کشی سے متعلق خیالات کا ذہن میں آنا اور ذہنی دباؤ کا شکار ہونے جیسی نفسیاتی بیماریوں سے نجات کے لیے کسی نہ کسی ماہر نفسیات سے علاج کرانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ سری نگر کے اس ہسپتال کے میڈیکل کے ایک طالب علم کے مطابق ایک ماہ تک علاج کے دوران آیت حمید کا نفسیاتی طور پر دوبارہ صحت مند ہونا صرف 40 فیصد تک ہی ممکن ہو سکا۔

ماہرین کے مطابق کشمیر میں عام شہری گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے کئی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ وہاں جاری مسلح عسکریت پسندی، بھارتی دستوں کی کارروائیاں اور عوام کو ان کا حق خود ارادیت نہ دیا جانا بھی کشمیر کے متنازعہ اور منقسم خطے کے اس حصے کے باشندوں میں نفسیاتی امراض اور مسلسل ذہنی دباؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔

ریاست جموں کشمیر گزشتہ تین چوتھائی صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان اور بھارت دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین مسلسل وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں اور حالات ہیں کہ اب تک کشیدہ ہی چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جموں اور کشمیر کے نہ صرف اپنے اپنے زیر قبضہ حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں بلکہ ساتھ ہی اپنے اپنے طور پر پوری کی پوری ریاست جموں کشمیر ہر اپنی اپنی ملکیت کے دعوے بھی کرتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی موجودہ اور بہت خونریز ثابت ہونے والی لہر 1989ء میں شروع ہوئی تھی اور تب سے لے کر اب تک وہاں ہزاروں کی تعداد میں عام شہری، کشمیری عسکریت پسند اور بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے میں اتنی زیادہ ہلاکتوں نے ہزارہا خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔

کشمیر میں سالہا سال سے جاری عسکریت پسندی نے اس وادی کے سات ملین کے قریب باشندوں میں سے تقریباﹰ ہر کسی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کیا ہے۔ یوں تو اس تنازعے نے کشمیریوں کی کئی نسلو‌ں کو متاثر کیا، لیکن دو نسلیں خاص طور پر متاثر ہوئیں۔ ایک وہ نسل جو 1989ء میں شروع ہونے والی عسکریت پسندی کے وقت جوان تھی اور دوسری وہ جس کا بچپن بعد کے برسوں میں مسلح حملے، قتل و غارت اور بدامنی دیکھتے ہوئے گزرا۔

امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں بشریاتی علوم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر صائبہ ورما کے مطابق کشمیر میں حالات کئی دہائیوں سے ابتر ہیں اور ان کا بہت زیادہ اثر وہاں کے باشندوں کی نفسیات پر بھی پڑ رہا ہے۔ صائبہ ورما کہتی ہیں کہ یہ احساس ہونا کہ کوئی انسان محفوظ ہے، لازمی طور پر اس کی نفسیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران کشمیر میں پرتشدد اور ہلاکت خیز واقعات میں قدرے کمی ہوئی ہے۔ چار برس قبل نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے کو بھارتی آئین کے تحت حاصل خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی تھی۔ وادی میں بدامنی میں حالیہ کمی کے باوجود کشمیری عوام کے نفسیاتی مسائل ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔

آج کل تو روزانہ بنیادوں پر سینکڑوں کشمیری باشندے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو کر یا پھر منشیات کی لت میں پڑ جانے کے باعث علاج کے لیے کشمیر بالخصوص سری نگر میں مختلف ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

سن 2015 میں جموں یونیورسٹی، سری نگر میں ذہنی امراض کے ایک ادارے اور طبی شعبے کی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کی جانب سے مشترکہ طور پر کرائے گئے ایک تحقیقی مطالعے کے نتائج کے مطابق تب وہاں تقریباﹰ 1.8 ملین افراد کسی نہ کسی طرح کی ذہنی بیماری کا شکار تھے۔ تب یہ تعداد کشمیر میں بالغ شہریوں کی مجموعی آبادی کا 45 فیصد بنتی تھی۔

سری نگر میں نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں آج بھی مریضوں کا خاصا رش دیکھنے میں آتا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ 2000ء میں سری نگر میں قائم دماغی صحت اور نفسیاتی امراض کی علاج گاہوں کی تعداد میں نہ صرف کافی اضافہ کیا گیا تھا بلکہ وہاں طبی ماہرین اور عملے کی مجموعی تعداد بھی بڑھا دی گئی تھی۔

کشمیر میں آج کے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے صائبہ ورما کہتی ہیں کہ کشمیر کی خراب سیاسی صورت حال، اقتصادی بدحالی، کشمیریوں کی ثقافت کا دبایا جانا اور ان کی مذہبی آزادی کا محدود کر دیا جانا یہ سب کچھ مل کر کشمیریوں کی دماغی صحت اور عمومی نفسیات پر آج بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

دہلی: اروندر سنگھ لولی کا استقبال کرنے کو کانگریس کارکنان بیتاب

0
دہلی:-اروندر-سنگھ-لولی-کا-استقبال-کرنے-کو-کانگریس-کارکنان-بیتاب

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نو منتخب صدر اروندر سنگھ لولی 14 ستمبر کو پارٹی دفتر میں اپنا چارج سنبھالیں گے۔ اسی کے پیش نظر دہلی کانگریس لیڈران و کارکنان استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران بھی ان کا استقبال کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں۔

آج ضلع دفتر چوہان بانگر میں صدر چودھری زبیر احمد کی قیادت میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع کے 2022 کے بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں سمیت کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان نے شرکت کی۔ تاہم اروندر سنگھ لولی کا استقبال کرنے کے لیے جاری تیاریوں کو لے کر سبھی نے اپنی اپنی رائے پیش کیں۔

اس موقع پر چودھری زبیر احمد نے کہا کہ جب سے اروندر سنگھ لولی جی کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس لیڈران و کارکنان میں ایک نیا جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابر پور ضلع کانگریس پارٹی کا سب سے مضبوط ضلع ہے اور ہمیں اپنی یہ مضبوطی قائم رکھنی ہے۔ 14 ستمبر کو لولی جی اپنا چارج سنبھالیں گے جس کے لیے آپ کو دعوت نامے دیے جا رہے ہیں۔ یہ دعوت نامے آپ اپنے اپنے وارڈ کے کانگریس لیڈران اور ذمہ دار حضرات تک پہنچائیں تاکہ وہ پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے چودھری زبیر احمد نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔ ان کے آنے سے وہ لوگ بھی سرگرم ہو گئے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی تیاریاں عروج پر ہیں اور دہلی کانگریس کے لیڈران و کارکنان ان کا گرم جوشی سے استقبال کرنے کو بیتاب ہیں۔

اس موقع پر ڈیلی گیٹ سید ناصر جاوید نے کہا کہ بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی پارٹی کے ہر کام کو اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ضلع سے لوگ دن بہ دن کانگریس پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں۔ میٹنگ میں سنجے گوڑ، راجکمار شرما، موہن پہلوان، ونود شرما، چودھری نتھو سنگھ، للت چوہان، ریاض الدین راجو، نیتی گرگ، برھم ڈھیکیا، مکیش پانچال، چودھری دیو آنند، اشتیاق شیخ، شاداب حسن، شہزاد خان، چودھری ہنس رام، انل شرما، حاجی غفران، بھارت بھوشن، عاقل رانا، مہندر ٹھاکر، کشواہا جی، کماری رینو، خالد خان، آشیش شرما، حاجی اسلام نوید پپو کے نام قابل ذکر ہیں۔

ناگالینڈ اسمبلی میں ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے خلاف قرارداد پاس

0
ناگالینڈ-اسمبلی-میں-’یونیفارم-سول-کوڈ‘-کے-خلاف-قرارداد-پاس

ناگالینڈ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نیفیو ریو سمیت سبھی اسمبلی اراکین کے ذریعہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کی سخت مخالفت کیے جانے کے ایک دن بعد آج منگل کو ایوان نے اس مجوزہ قانون کے خلاف اتفاق رائے سے ایک قرارداد پاس کیا۔ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ یو سی سی کے خلاف قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ایوان نے اتفاق رائے سے اسے پاس کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اراکین اسمبلی نے مجوزہ قانون کے دائرے سے ناگالینڈ کو چھوٹ دینے کی سفارش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 21 فروری 2020 کو 22ویں لاء کمیشن کی تقرری کی تھی، جس کی مدت کار 31 اگست 2024 تک بڑھا دی گئی ہے۔ لاء کمیشن نے 14 جون کو ایک پبلک نوٹس جاری کر یو سی سی پر سبھی اسٹیک ہولڈرس سے ان کا نظریہ مانگا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ناگالینڈ حکومت نے کابینہ کے فیصلے کے ذریعہ سے 4 جولائی کو لاء کمیشن کو اس سلسلے میں اپنے نظریات پیش کیے تھے، جس میں ناگالینڈ کی غیر معمولی تاریخ اور آرٹیکل 371 (اے) کے تحت دی گئی آئینی گارنٹی کی بنیاد پر یو سی سی کے تئیں اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 371 (اے) ناگاؤں کے مذہبی اور سماجی رسوم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یکم ستمبر کو ریاستی حکومت کے ذریعہ یو سی سی پر مختلف اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ منعقد مشاورتی میٹنگ میں مختلف قبائلی سماجوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے یو سی سی کے نظریات پر اپنی سخت ناراضگی اور اعتراض ظاہر کیا تھا۔ نیفیو ریو نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ماننا ہے کہ یو سی سی رسوم پر مبنی قوانین اور سماجی و مذہبی رسوم کے لیے خطرہ پیدا کرے گا۔