اتوار, جون 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 127

کشمیر میں ذہنی امراض اور منشیات کی لت، خونریز تنازعے کے نظر نہ آنے والے زخم

0
کشمیر-میں-ذہنی-امراض-اور-منشیات-کی-لت،-خونریز-تنازعے-کے-نظر-نہ-آنے-والے-زخم

کشمیر کی رہائشی آیت حمید شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے ذہن میں خودکشی کر لینے جیسے خیالات بھی آتے رہتے ہیں۔ آیت کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کے پیش نظر ڈاکٹروں نے انہیں نفسیاتی امراض کے کسی ہسپتال میں علاج کا مشورہ دیا۔

سری نگر میں قائم نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں آیت کا ذہنی معائنہ بھی ہوتا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین انہیں ذہنی دباؤ سے نجات دلوانے کے لیے مختلف ادویات بھی تجویز کرتے رہے ہیں۔ آیت حمید کہتی ہیں کہ اب انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ خود کشی سے متعلق خیالات کا ذہن میں آنا اور ذہنی دباؤ کا شکار ہونے جیسی نفسیاتی بیماریوں سے نجات کے لیے کسی نہ کسی ماہر نفسیات سے علاج کرانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ سری نگر کے اس ہسپتال کے میڈیکل کے ایک طالب علم کے مطابق ایک ماہ تک علاج کے دوران آیت حمید کا نفسیاتی طور پر دوبارہ صحت مند ہونا صرف 40 فیصد تک ہی ممکن ہو سکا۔

سری نگر میں قائم نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں آیت کا ذہنی معائنہ بھی ہوتا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین انہیں ذہنی دباؤ سے نجات دلوانے کے لیے مختلف ادویات بھی تجویز کرتے رہے ہیں۔ آیت حمید کہتی ہیں کہ اب انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ خود کشی سے متعلق خیالات کا ذہن میں آنا اور ذہنی دباؤ کا شکار ہونے جیسی نفسیاتی بیماریوں سے نجات کے لیے کسی نہ کسی ماہر نفسیات سے علاج کرانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ سری نگر کے اس ہسپتال کے میڈیکل کے ایک طالب علم کے مطابق ایک ماہ تک علاج کے دوران آیت حمید کا نفسیاتی طور پر دوبارہ صحت مند ہونا صرف 40 فیصد تک ہی ممکن ہو سکا۔

ماہرین کے مطابق کشمیر میں عام شہری گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے کئی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ وہاں جاری مسلح عسکریت پسندی، بھارتی دستوں کی کارروائیاں اور عوام کو ان کا حق خود ارادیت نہ دیا جانا بھی کشمیر کے متنازعہ اور منقسم خطے کے اس حصے کے باشندوں میں نفسیاتی امراض اور مسلسل ذہنی دباؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔

ریاست جموں کشمیر گزشتہ تین چوتھائی صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان اور بھارت دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین مسلسل وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں اور حالات ہیں کہ اب تک کشیدہ ہی چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جموں اور کشمیر کے نہ صرف اپنے اپنے زیر قبضہ حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں بلکہ ساتھ ہی اپنے اپنے طور پر پوری کی پوری ریاست جموں کشمیر ہر اپنی اپنی ملکیت کے دعوے بھی کرتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی موجودہ اور بہت خونریز ثابت ہونے والی لہر 1989ء میں شروع ہوئی تھی اور تب سے لے کر اب تک وہاں ہزاروں کی تعداد میں عام شہری، کشمیری عسکریت پسند اور بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے میں اتنی زیادہ ہلاکتوں نے ہزارہا خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔

کشمیر میں سالہا سال سے جاری عسکریت پسندی نے اس وادی کے سات ملین کے قریب باشندوں میں سے تقریباﹰ ہر کسی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کیا ہے۔ یوں تو اس تنازعے نے کشمیریوں کی کئی نسلو‌ں کو متاثر کیا، لیکن دو نسلیں خاص طور پر متاثر ہوئیں۔ ایک وہ نسل جو 1989ء میں شروع ہونے والی عسکریت پسندی کے وقت جوان تھی اور دوسری وہ جس کا بچپن بعد کے برسوں میں مسلح حملے، قتل و غارت اور بدامنی دیکھتے ہوئے گزرا۔

امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں بشریاتی علوم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر صائبہ ورما کے مطابق کشمیر میں حالات کئی دہائیوں سے ابتر ہیں اور ان کا بہت زیادہ اثر وہاں کے باشندوں کی نفسیات پر بھی پڑ رہا ہے۔ صائبہ ورما کہتی ہیں کہ یہ احساس ہونا کہ کوئی انسان محفوظ ہے، لازمی طور پر اس کی نفسیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران کشمیر میں پرتشدد اور ہلاکت خیز واقعات میں قدرے کمی ہوئی ہے۔ چار برس قبل نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے کو بھارتی آئین کے تحت حاصل خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی تھی۔ وادی میں بدامنی میں حالیہ کمی کے باوجود کشمیری عوام کے نفسیاتی مسائل ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔

آج کل تو روزانہ بنیادوں پر سینکڑوں کشمیری باشندے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو کر یا پھر منشیات کی لت میں پڑ جانے کے باعث علاج کے لیے کشمیر بالخصوص سری نگر میں مختلف ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

سن 2015 میں جموں یونیورسٹی، سری نگر میں ذہنی امراض کے ایک ادارے اور طبی شعبے کی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کی جانب سے مشترکہ طور پر کرائے گئے ایک تحقیقی مطالعے کے نتائج کے مطابق تب وہاں تقریباﹰ 1.8 ملین افراد کسی نہ کسی طرح کی ذہنی بیماری کا شکار تھے۔ تب یہ تعداد کشمیر میں بالغ شہریوں کی مجموعی آبادی کا 45 فیصد بنتی تھی۔

سری نگر میں نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں آج بھی مریضوں کا خاصا رش دیکھنے میں آتا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ 2000ء میں سری نگر میں قائم دماغی صحت اور نفسیاتی امراض کی علاج گاہوں کی تعداد میں نہ صرف کافی اضافہ کیا گیا تھا بلکہ وہاں طبی ماہرین اور عملے کی مجموعی تعداد بھی بڑھا دی گئی تھی۔

کشمیر میں آج کے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے صائبہ ورما کہتی ہیں کہ کشمیر کی خراب سیاسی صورت حال، اقتصادی بدحالی، کشمیریوں کی ثقافت کا دبایا جانا اور ان کی مذہبی آزادی کا محدود کر دیا جانا یہ سب کچھ مل کر کشمیریوں کی دماغی صحت اور عمومی نفسیات پر آج بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

دہلی: اروندر سنگھ لولی کا استقبال کرنے کو کانگریس کارکنان بیتاب

0
دہلی:-اروندر-سنگھ-لولی-کا-استقبال-کرنے-کو-کانگریس-کارکنان-بیتاب

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نو منتخب صدر اروندر سنگھ لولی 14 ستمبر کو پارٹی دفتر میں اپنا چارج سنبھالیں گے۔ اسی کے پیش نظر دہلی کانگریس لیڈران و کارکنان استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران بھی ان کا استقبال کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں۔

آج ضلع دفتر چوہان بانگر میں صدر چودھری زبیر احمد کی قیادت میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع کے 2022 کے بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں سمیت کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان نے شرکت کی۔ تاہم اروندر سنگھ لولی کا استقبال کرنے کے لیے جاری تیاریوں کو لے کر سبھی نے اپنی اپنی رائے پیش کیں۔

اس موقع پر چودھری زبیر احمد نے کہا کہ جب سے اروندر سنگھ لولی جی کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس لیڈران و کارکنان میں ایک نیا جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابر پور ضلع کانگریس پارٹی کا سب سے مضبوط ضلع ہے اور ہمیں اپنی یہ مضبوطی قائم رکھنی ہے۔ 14 ستمبر کو لولی جی اپنا چارج سنبھالیں گے جس کے لیے آپ کو دعوت نامے دیے جا رہے ہیں۔ یہ دعوت نامے آپ اپنے اپنے وارڈ کے کانگریس لیڈران اور ذمہ دار حضرات تک پہنچائیں تاکہ وہ پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے چودھری زبیر احمد نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔ ان کے آنے سے وہ لوگ بھی سرگرم ہو گئے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی تیاریاں عروج پر ہیں اور دہلی کانگریس کے لیڈران و کارکنان ان کا گرم جوشی سے استقبال کرنے کو بیتاب ہیں۔

اس موقع پر ڈیلی گیٹ سید ناصر جاوید نے کہا کہ بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی پارٹی کے ہر کام کو اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ضلع سے لوگ دن بہ دن کانگریس پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں۔ میٹنگ میں سنجے گوڑ، راجکمار شرما، موہن پہلوان، ونود شرما، چودھری نتھو سنگھ، للت چوہان، ریاض الدین راجو، نیتی گرگ، برھم ڈھیکیا، مکیش پانچال، چودھری دیو آنند، اشتیاق شیخ، شاداب حسن، شہزاد خان، چودھری ہنس رام، انل شرما، حاجی غفران، بھارت بھوشن، عاقل رانا، مہندر ٹھاکر، کشواہا جی، کماری رینو، خالد خان، آشیش شرما، حاجی اسلام نوید پپو کے نام قابل ذکر ہیں۔

ناگالینڈ اسمبلی میں ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے خلاف قرارداد پاس

0
ناگالینڈ-اسمبلی-میں-’یونیفارم-سول-کوڈ‘-کے-خلاف-قرارداد-پاس

ناگالینڈ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نیفیو ریو سمیت سبھی اسمبلی اراکین کے ذریعہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کی سخت مخالفت کیے جانے کے ایک دن بعد آج منگل کو ایوان نے اس مجوزہ قانون کے خلاف اتفاق رائے سے ایک قرارداد پاس کیا۔ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ یو سی سی کے خلاف قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ایوان نے اتفاق رائے سے اسے پاس کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اراکین اسمبلی نے مجوزہ قانون کے دائرے سے ناگالینڈ کو چھوٹ دینے کی سفارش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 21 فروری 2020 کو 22ویں لاء کمیشن کی تقرری کی تھی، جس کی مدت کار 31 اگست 2024 تک بڑھا دی گئی ہے۔ لاء کمیشن نے 14 جون کو ایک پبلک نوٹس جاری کر یو سی سی پر سبھی اسٹیک ہولڈرس سے ان کا نظریہ مانگا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ناگالینڈ حکومت نے کابینہ کے فیصلے کے ذریعہ سے 4 جولائی کو لاء کمیشن کو اس سلسلے میں اپنے نظریات پیش کیے تھے، جس میں ناگالینڈ کی غیر معمولی تاریخ اور آرٹیکل 371 (اے) کے تحت دی گئی آئینی گارنٹی کی بنیاد پر یو سی سی کے تئیں اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 371 (اے) ناگاؤں کے مذہبی اور سماجی رسوم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یکم ستمبر کو ریاستی حکومت کے ذریعہ یو سی سی پر مختلف اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ منعقد مشاورتی میٹنگ میں مختلف قبائلی سماجوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے یو سی سی کے نظریات پر اپنی سخت ناراضگی اور اعتراض ظاہر کیا تھا۔ نیفیو ریو نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ماننا ہے کہ یو سی سی رسوم پر مبنی قوانین اور سماجی و مذہبی رسوم کے لیے خطرہ پیدا کرے گا۔

مرکزی حکومت ہماچل سیلاب کو قومی آفت قرار دے: پرینکا گاندھی

0
مرکزی-حکومت-ہماچل-سیلاب-کو-قومی-آفت-قرار-دے:-پرینکا-گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے آج ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کے ساتھ منڈی میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور دیوری گاؤں میں راحت و بازآبادکاری کی کوششوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انھوں نے منڈی میں کہا کہ ’’ہماچل میں جب آفت آئی تب ہماچل کے ہر باشندے کے دل میں ایک جذبہ پیدا ہوا کہ ہم اس آفت کا سامنا ایک ساتھ مل کر کریں گے۔ ہماری حکومت دن رات کام کر رہی ہے۔ جتنا نقصان آپ کا ہوا ہے، آپ کو اس کی پوری مدد ملے گی۔‘‘

پرینکا نے متاثرین سے کہا کہ ’’جن کے گھروں کا نقصان ہوا ہے، اس کے لیے حکومت معاوضہ دے گی۔ یہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگر مرکزی حکومت اسے ایک قومی آفت قرار دیتی ہے تو اس سے بہت راحت مل سکتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہاں بہت دردناک حالت ہے اور بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ خود آفت کے وقت سے مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ کچھ چیزیں صرف مرکزی حکومت ہی کر سکتی ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ کرے گی۔ مجھے نہیں لگتا کوئی اس طرح کی آفت کا سیاسی ایشو بنانا چاہتا ہے۔ جب اتنا بڑا بحران آیا ہے تو پورے ملک کو متحد ہو کر مدد کرنی چاہیے۔‘‘

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے اس موقع پر کہا کہ ’’میں نے پی ایم مودی کو کہا تھا کہ اسے قومی آفت قرار دیجیے۔ 12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔‘‘ پھر انھوں نے کہا کہ ’’میں پرینکا گاندھی کا شکریہ کرنا چاہوں گا کہ انھوں نے آج ہماچل پردیش آ کر ہر جگہ دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور محسوس کیا کہ اسے قومی آفت قرار دیا جانا چاہیے۔ ہم سب کا یہی مطالبہ ہے۔‘‘

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے دنیا کی سب سے اونچی ہوائی پٹی کا کیا افتتاح

0
وزیر-دفاع-راجناتھ-سنگھ-نے-دنیا-کی-سب-سے-اونچی-ہوائی-پٹی-کا-کیا-افتتاح

مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج نیوما میں بن رہی دنیا کی سب سے اونچی ہوائی پٹی کا افتتاح کیا۔ فضائیہ کا یہ ایئر فیلڈ چین سے محض 50-40 کلومیٹر دور تعمیر ہو رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے 12 ستمبر کو 2941 کروڑ روپے کی لاگت سے بی آر او کے ذریعہ تعمیر ہونے والے 90 بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹس کا افتتاح کیا۔ ان پروجیکٹس کی تعمیر شمالی/شمال مشرقی علاقہ کے دس سرحد سے ملحق ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام خطوں میں کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مشرقی لداخ میں نیوما ایئرفیلڈ کو وسیع سفارتی ہوائی ملکیتوں کے لیے 218 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔ اس ہوائی پٹی کی تعمیر سے لداخ میں ہوائی بنیاد ڈھانچہ کو کافی فروغ ملے گا اور ہماری شمالی سرحدوں پر ہندوستانی فضائیہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ گزشتہ تین سالوں میں سڑک اور پل تعمیر میں بی آر او کے اضافہ سے کئی اہم اور سفارتی اسٹریٹجک پروجیکٹس پورے ہوئے ہیں جس سے ہمارے مخالفین کے مقابلے ہماری دفاعی تیاری مضبوط ہوئی ہے۔

بی آر او مشرقی لداخ کے اسٹریٹجک نیوما بیلٹ میں اس ایئر فیلڈ کی تعمیر کرے گی۔ یہ دنیا کی سب سے اونچی ہوائی پٹی ہوگی۔ یہ اسٹریٹجک طور پر کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے بننے سے ایل اے سی کے قریب تک فائٹر آپریشنز ہو سکیں گے۔ ابھی تک نیوما ایڈوانسڈ لینڈنگ گراؤنڈ کا استعمال 2020 سے چین کے ساتھ چل رہی رخنہ اندازی کے دوران جوانوں اور دیگر سامان کو پہچانے کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں سے چینوک ہیوی-لفٹ ہیلی کاپٹر اور سی-130 جے طیارہ بھی پرواز بھرتے اور اترتے رہے ہیں۔ اب یہاں ایسے ایئر فیلڈ کی تعمیر کی جا رہی ہے جہاں جنگی طیارے بھی اتر سکیں گے۔

لیہہ-لداخ میں آیا زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر 4 رہی شدت

0
لیہہ-لداخ-میں-آیا-زلزلہ،-ریکٹر-اسکیل-پر-4-رہی-شدت

لیہہ-لداخ میں آج زلزلہ کا جھٹکا محسوس کیا گیا جس سے لوگوں میں دہشت پھیل گئی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلہ کی شدت 4 محسوس کی گئی ہے۔ ابھی تک اس زلزلہ سے کسی طرح کے نقصان کی جانکاری نہیں ہے۔ قومی زلزلہ سائنس سنٹر کے مطابق لیہہ میں 4.56 بجے زلزلہ آیا جس کی گہرائی 15 کلومیٹر درج کی گئی ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی بھی جان و مال کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

اس سے قبل پیر کی شب کو منی پور اور آج (منگل) علی الصبح انڈمان سمندر کے قریب زلزلہ کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ہندوستان میں زلزلہ کے واقعات میں لگاتار اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیر کی شب رات 11.01 بجے منی پور کے اخرل میں 5.1 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔

اس زلزلہ کا مرکز زمین کے 20 کلومیٹر اندر تھا۔ حالانکہ منگل کی صبح 3.39 بجے انڈمان سمندر میں جو زلزلہ محسوس کیا گیا، اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 ماپی گئی۔ اس زلزلہ کا مرکز سطح کے 93 کلومیٹر اندر تھا۔ اب تک ان سبھی زلزلوں میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے۔

خوشخبری! اگست میں خوردہ مہنگائی گھٹ کر 6.83 فیصد پر پہنچی

0
خوشخبری!-اگست-میں-خوردہ-مہنگائی-گھٹ-کر-6.83-فیصد-پر-پہنچی

ملک میں بڑھتی مہنگائی کے درمیان ایک بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ اگست ماہ میں خوردہ مہنگائی گھٹی ہے جو عوام کے لیے راحت دینے والی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق سبزیوں و دیگر خوردنی اشیا کی قیمت گھٹنے کی وجہ سے خوردہ مہنگائی کی شرح اگست ماہ میں گھٹ کر 6.83 فیصد پر آ گئی ہے۔ حالانکہ اب بھی یہ آر بی آئی کے دائرے کے باہر ہے۔ آر بی آئی نے 24-2023 کے لیے خوردہ مہنگائی کے 5.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔

قومی شماریات دفتر (این ایس او) کی طرف سے منگل کو جاری آفیشیل اعداد و شمار کے مطابق صارفین پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی جولائی میں 7.44 فیصد تھی، جبکہ اگست 2022 میں یہ 7 فیصد تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں خوردنی اشیا کی مہنگائی گھٹ کر 9.94 فیصد رہی، جو کہ جولائی میں 11.51 فیصد تھی۔

اس درمیان ملک کا انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) جولائی ماہ میں 5.7 فیصد بڑھا ہے۔ این ایس او کی طرف سے منگل کے روز جاری اعداد و شمار کے مطابق آئی آئی پی کی بنیاد کی پیمائش کرنے والے انڈسٹریل پروڈکشن میں گزشتہ سال اسی ماہ میں 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا پروڈکشن جولائی 2023 میں 4.6 فیصد بڑھا ہے۔ دوسری طرف مائننگ پروڈکشن میں 10.7 فیصد اور بجلی پروڈکشن میں 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

تمل ناڈو: دلت خاتون کا بنایا ناشتہ کھانے سے طلبا نے کیا منع!

0
تمل-ناڈو:-دلت-خاتون-کا-بنایا-ناشتہ-کھانے-سے-طلبا-نے-کیا-منع!

تمل ناڈو میں ایک حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں اسکولی طلبا نے دلت خاتون کے ہاتھوں بنا ناشتہ کھانے سے منع کر دیا۔ اسکولی طلبا نے ایسا اپنے والدین کے کہنے پر کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تمل ناڈو کے سرکاری اسکول میں طلبا کو غذائیت سے بھرپور ناشتہ دستیاب کرانے کی سرکاری پہل تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ یہاں ایک دلت خاتون کے ذریعہ پکایا گیا ناشتہ کھانے سے طلبا نے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ طلبا کے والدین دلت باورچی کے ہاتھوں کھانا تیار کیے جانے پر اعتراض ظاہر کر رہے ہیں۔

ناشتہ بنانے والی دلت خاتون کا کہنا ہے کہ طلبا کھانے کو تیار ہیں، لیکن والدین انھیں کھانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ اب انھیں گاؤں سے نکالے جانے کا خوف ہے۔ اس معاملے میں افسران نے پولیس کے ساتھ مل کر طلبا کے اہل خانہ سے پوچھ تاچھ کی ہے اور اب ضلع کلکٹر نے نوٹس لیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ریاست میں یہ دوسرا ایسا معاملہ سامنے آیا ہے۔

دراسل تمل ناڈو میں پرائمری اسکول کے طلبا کو ان کی پڑھائی میں مدد کے لیے غذائیت سے بھرپور ناشتہ فراہم کرنے کے لیے اگست میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ’وزیر اعلیٰ بریک فاسٹ اسکیم‘ شروع کی تھی۔ یہ منصوبہ ریاست کے پرائمری سرکاری اسکولوں میں 15.75 لاکھ طلبا کو مفت ناشتہ فراہم کرتا ہے۔ اسی منصوبہ کے تحت این جی او کی رکن دلت خاتون منیاسیلوی کو وزیر اعلیٰ بریک فاسٹ اسکیم کے تحت ناشتہ تیار کرنے کے لیے اسیلام پٹی کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں رسوئیا کی شک میں مقرر کیا گیا تھا۔

اسکول میں بچوں کے لیے کھانا پکانے والی دلت خاتون کا کہنا ہے کہ ’’میں ایک خاتون این جی او گروپ کی رکن رہی ہوں۔ لیکن وہ اب مجھ سے پرہیز کر رہے ہیں۔ میں نے ایک طالب علم کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اگر اس نے میرے ہاتھ کا کا بنا کھانا کھایا تو اسے گاؤں سے باہر نکال دیا جائے گا۔ طلبا کھانے کے لیے تیار ہیں، لیکن والدین انھیں اجازت نہیں دے رہے ہیں۔‘‘ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ پہلے افسران کو اس معاملے کی اطلاع نہیں دی کیونکہ طلبا پر دباؤ نہٰں ڈالنا چاہتی تھی۔ جب افسران نے پوچھ تاچھ کی تو اس نے اپنی حالت ظاہر کر دی۔ افسران نے منیاسیلوی سے اسکول میں خوردنی اشیا کے علاوہ اسٹاک کے بارے میں بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ دلت خاتون نے افسران کو بتایا کہ 11 میں سے 9 طلبا نے اس کے ذریعہ تیار ناشتہ کھانے سے انکار کر دیا کیونکہ والدین نے مبینہ طور پر ان کی ذات کے سبب انھیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔

سرکارا مندر میں اب نہیں لگے گی آر ایس ایس کی شاخہ، ہائی کورٹ نے لگائی پابندی

0
سرکارا-مندر-میں-اب-نہیں-لگے-گی-آر-ایس-ایس-کی-شاخہ،-ہائی-کورٹ-نے-لگائی-پابندی

کیرالہ میں ترووننت پورم کے سرکارا دیوی مندر احاطہ میں آر ایس ایس کے ذریعہ شاخہ (پریکٹس سیشن) لگائے جانے پر کیرالہ ہائی کورٹ نے پابندی عائد کر دی ہے۔ ہائی کورٹ نے سرکاری دیوی مندر میں آر ایس ایس کے ٹریننگ کیمپ کو چیلنج پیش کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔ عدالت نے کہا کہ سرکارا مندر کا انتظام و انصرام تراونکور دیوسووم بورڈ (ٹی ڈی بی) کے ہاتھوں میں ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا کہ مندر کے احاطہ میں کسی اجتماعی پریکٹس یا اسلحہ تربیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ مندر احاطہ میں اسلحہ ٹریننگ پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے، اور اب شاخہ لگائے جانے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مندر احاطہ کا استعمال اجتماعی ڈرِل یا اسلحہ ٹریننگ کے لیے نہیں کیا جا سکتا ہے، وہاں صرف پوجا-تہوار منانے کی ہی اجازت ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ ٹی ڈی بی نے پہلے ہی کہا تھا کہ مندر احاطہ میں پوجا اور تہوار کے علاوہ کسی دیگر انعقاد کی اجازت نہیں ملے گی۔ حال ہی میں جسٹس انل کے. نریندرن اور جسٹس پی جی اجیت کمار کی بنچ نے اس معاملے پر ایک حکم سنایا تھا۔ اس دوران بھی بنچ نے مندر احاطہ میں کسی اجتماعی پریکٹس یا اسلحہ تربیت کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے شاخہ پر روک لگانے کی بات کہی تھی۔

جنید ناصر قتل کے کلیدی ملزم اور نوح میں آگ لگانے والے مونو مانیسر کو ہریانہ پولیس نے کیا گرفتار

0
جنید-ناصر-قتل-کے-کلیدی-ملزم-اور-نوح-میں-آگ-لگانے-والے-مونو-مانیسر-کو-ہریانہ-پولیس-نے-کیا-گرفتار

ہریانہ کے نوح میں حال ہی میں ہوئے تشدد کے ملزم مونو مانیسر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ بتایا گیا کہ مانیسر کو پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا جو بولیرو اور کریٹا میں آئے تھے۔ مانیسر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بازار سے نکل رہا تھا۔ مانیسر کو ہریانہ پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ راجستھان پولس بھی ہریانہ پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے۔

مونو مانیسر کو سی آئی اے کے عملے یعنی ہریانہ پولیس کی کرائم انویسٹی گیٹو ایجنسی نے حراست میں لیا ہے۔ مونو مانیسر کے خلاف ہریانہ میں بھی مقدمہ درج ہے۔ فروری 2023 کے ایک معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 16 فروری کو ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں راجستھان کے دو لوگوں کی جلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ لاشیں راجستھان کے گوپال گڑھ گھاٹمیکا گاؤں کے رہنے والے جنید اور ناصر کی ہیں۔ پولیس کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہریانہ کے کچھ گئو رکشکوں نے مل کر جنید اور ناصر کو اغوا کیا تھا۔

بعد میں ان کی لاشیں بھیوانی کے لوہارو میں ایک بولیرو سے جلی ہوئی حالت میں برآمد کی گئیں۔ اس معاملے میں گئو رکشکوں کے نام سامنے آئے تھے۔ جن میں ایک نام مونو مانیسر کا بھی نام تھا۔ تاہم مونو مانیسر نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا اور اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

اس معاملے کے حوالے سے مقتول کے لواحقین کی جانب سے مونو سمیت 5 افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ راجستھان پولیس کی جانب سے 8 ملزمان کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ جس میں مونو مانیسر کا نام نہیں تھا لیکن کافی تفتیش کے بعد پولیس نے 6 جون کو عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں مونو مانیسر کا نام شامل کیا۔ اس کے بعد مونو مانیسر کو راجستھان پولیس کے کاغذات میں مفرور قرار دیا گیا۔ تب سے پولیس مونو مانیسر کی تلاش میں مصروف تھی۔