پیر, اگست 24, 2026

ابھیجیت دیپکے نے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم شروع کردی، نجی اسکولوں کی فیس محدود کرنے کا مطالبہ

Share

کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھیجیت دیپکے نے ہنگولی ضلع سے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے اور نجی اسکولوں کی فیس محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کنوینر ابھیجیت دیپکے نے مہاراشٹر کے ہنگولی ضلع سے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نجی اسکولوں کی فیس محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دیپکے نے 15 اگست 2026 کو یومِ آزادی کے موقع پر اپنے آبائی علاقے میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے دوران ضلع پریشد کے زیرِ انتظام ایک اسکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے اسکول میں دستیاب بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا اور عمارت کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی خود کو نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک قرار دیتی ہے۔ یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تحت باضابطہ طور پر رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے۔

اسکول کے بیت الخلا میں پانی نہ ہونے کا دعویٰ

دیپکے کے مطابق، معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ اسکول کے بیت الخلا میں پانی کی فراہمی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے اسے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی مبینہ کمی کی مثال قرار دیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیپکے نے سوال کیا کہ اگر آزادی کے تقریباً 80 سال بعد بھی اسکولوں میں پانی جیسی بنیادی سہولت دستیاب نہیں تو ملک حقیقی ترقی کیسے کرسکتا ہے۔

انہوں نے اسکول کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں اور طلبہ کے لیے بینچوں کی مبینہ کمی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق، مناسب اور محفوظ تعلیمی ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس معاملے میں حکومت کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

متعلقہ اسکول انتظامیہ یا مہاراشٹر حکومت کا ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مہاراشٹر کے دوسرے اسکولوں کا بھی دورہ ہوگا

دیپکے نے کہا کہ وہ مہم کے تحت مہاراشٹر کے دوسرے علاقوں میں بھی سرکاری اسکولوں کا دورہ کریں گے۔ ان دوروں کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوگا کہ طلبہ کے لیے پانی، بیت الخلا، فرنیچر، بجلی، محفوظ عمارت اور دیگر ضروری سہولیات دستیاب ہیں یا نہیں۔

سی جے پی اسکولوں کے معائنے کے لیے ایک چیک لسٹ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے مختلف اسکولوں میں سہولیات کی موجودگی اور ان کی حالت درج کی جائے گی۔

تاہم، تنظیم نے فی الحال یہ واضح نہیں کیا کہ جمع ہونے والی معلومات کی آزادانہ تصدیق کیسے کی جائے گی یا انہیں متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے کون سا باضابطہ طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

سرکاری اسکول بند کرنے کا الزام

دیپکے نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ سرکاری اسکولوں کو بند کرکے بالواسطہ طور پر نجی تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 برسوں میں ملک میں 94,000 سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں۔ اس عدد کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ کے وقت نہیں ہوسکی، اس لیے اسے دیپکے کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

دیپکے کا کہنا تھا کہ آبادی اور تعلیم کی ضرورت کے پیش نظر ملک کو کم اسکولوں کے بجائے مزید معیاری سرکاری اسکول درکار ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر سرکاری اسکولوں میں مناسب سہولیات اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے اور وہاں کے طلبہ بہتر کارکردگی دکھائیں تو والدین مہنگے نجی اسکولوں کا انتخاب کیوں کریں گے۔

نجی اسکولوں کی فیس محدود کرنے کا مطالبہ

’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے تحت نجی اسکولوں کی فیس پر حد مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

دیپکے نے کہا کہ متعدد خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے سالانہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اتنی زیادہ فیس کی وجہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔

نجی اسکولوں کی فیس میں اضافے اور تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر ملک کے مختلف حصوں میں والدین پہلے بھی تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔ تاہم، فیس سے متعلق قوانین اور ان کا نفاذ ریاست کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور حکومت پر تنقید

دیپکے نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

انہوں نے سرکاری صحت کے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عوامی اسپتالوں میں بھی بنیادی سہولیات کی کمی نظر آتی ہے اور بعض مقامات پر مریضوں کو فرش پر لیٹے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

دیپکے کے مطابق، تعلیم اور صحت کی سرکاری سہولیات کی خراب حالت ایک دوسرے سے منسلک انتظامی مسئلہ ہے جس کے لیے عوامی فنڈز کے استعمال میں زیادہ شفافیت ضروری ہے۔

نوجوانوں سے جواب طلب کرنے کی اپیل

دیپکے نے دیہی علاقوں کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مقامی اسکولوں اور دیگر سرکاری اداروں کی حالت کے بارے میں سوال اٹھائیں اور حکام سے دریافت کریں کہ مختص فنڈز کہاں اور کیسے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں سے سامنے آنے والے نوجوان مستقبل میں ملک کی سیاست اور حکمرانی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

سی جے پی نے اس سے پہلے بھی امتحانی بے ضابطگیوں، تعلیمی اصلاحات اور نوجوانوں کے مسائل پر احتجاج کیا ہے۔ تحریک کے پس منظر اور اس کی سرگرمیوں پر میڈیا رپورٹ میں مزید معلومات موجود ہیں۔

مہم کا اگلا مرحلہ

’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسکولوں سے جمع ہونے والی معلومات کتنی مستند اور منظم ہوتی ہیں اور متعلقہ سرکاری محکمے ان شکایات پر کیا کارروائی کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مہاراشٹر حکومت دیپکے کے الزامات اور مطالبات پر کوئی باضابطہ جواب دیتی ہے یا نہیں۔

سرکاری اسکولوں میں پانی، قابلِ استعمال بیت الخلا، فرنیچر اور محفوظ عمارت جیسی بنیادی سہولیات کی دستیابی مہم کے دوران اہم موضوع رہے گی۔

اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں

مقامی خبریں