منگل, ستمبر 22, 2026

تسلیمہ نسرین کے مدارس، مساجد، مذہبی تعلیم اور یونیفارم سول کوڈ سے متعلق بے لگام بیانات

Share

تسلیمہ نسرین نے کولکتہ میں ایک تقریب کے دوران مدارس، سیکولر تعلیم کی اصلاح، اور پورے بھارت میں یونیفارم سول کوڈ کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے یہ بیانات اتوار کو صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران سامنے آئے، جس میں انہوں نے مدارس اور مذہبی اداروں کے بارے میں سخت تنقید کی۔

مدارس کے بارے میں تسلیمہ نسرین کے متنازعہ الزامات

تسلیمہ نسرین نے اپنے بیانات میں کہا کہ کچھ مدارس "جہادیوں کی پیداوار کے کارخانے” کے طور پر کام کر رہے ہیں اور بعض اداروں میں جنسی زیادتی کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کو موجودہ شکل میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ الزامات بغیر کسی ثبوت کے سامنے آئے ہیں، اور انہیں عام مدارس کے خلاف شواہد کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

نسرین نے مزید کہا کہ بہت سے مدارس کو مناسب حکومت کی نگرانی کے بغیر چلایا جا رہا ہے اور کچھ بچوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف نفرت سکھائی جاتی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ الیکشن کے مفادات کے سبب سخت کارروائی سے گریز کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انتہا پسندی کو بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

مدارس کے سیکولر تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے کی تجویز

تسلیمہ نسرین نے وسیع پیمانے پر تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام مدارس کو حکومت کے زیر نگرانی لایا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ بہت سے طلبہ مذہبی اداروں سے گریجویشن کرنے کے بعد ضروری تعلیمی یا پیشہ ورانہ مہارتوں کے بغیر باہر نکلتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے مدارس کو سیکولر اسکولوں میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی، جو وسیع تر نصاب سکھائیں اور طلبہ کو مختلف کیریئرز کے لیے تیار کریں۔

ایسی کسی بھی پالیسی پر آئینی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، جیسے تعلیمی حقوق، مذہبی آزادی، اور ریاست کی تعلیمی معیار کو کنٹرول کرنے کا اختیار۔ اس کے علاوہ، اس بات کی بھی ضرورت ہوگی کہ طلبہ، والدین، تعلیمی اداروں اور متاثرہ کمیونٹیز سے مشاورت کی جائے۔

مساجد اور مذہبی اداروں پر تنقید

تسلیمہ نسرین نے مساجد اور دیگر مذہبی عمارتوں کی تعداد پر بھی سوال اٹھایا اور یہ تجویز دی کہ حکومت کو مذہبی اداروں کو منظم کرنا چاہیے تاکہ انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کے بیانات قانونی حکومت کی نگرانی اور مذہبی سرگرمی کے درمیان تفریق پر بحث کا باعث بن سکتے ہیں۔

عورتوں کے حقوق اور مذہب پر تنقید

اپنی مذہبی تنقید کے بارے میں بات کرتے ہوئے، نسرین نے کہا کہ مذہبی عقائد یا رسومات کے خلاف تنقید ضروری ہے جب وہ عورتوں کے برابر حقوق کی نفی کریں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی اصلاح کے لیے ان روایات کا چیلنج کرنا ضروری ہے جو امتیاز کو جاری رکھتے ہیں۔ تسلیمہ نسرین نے مختلف مذاہب پر تنقید کی ہے، حالانکہ ان کی تحریریں خاص طور پر اسلام کے بارے میں شدید تنازعہ کا شکار رہی ہیں۔

طلباء تحریکوں کے حوالے سے خبردار

کولکتہ میں ہونے والے اپنے حالیہ دورے کے دوران، نسرین نے نئی دہلی میں طلبہ کی حالیہ مظاہروں پر تبصرہ کیا اور کہا کہ یہ مناظر انہیں بنگلہ دیش میں 2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی بغاوت کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں انتہا پسند گروہوں نے اس تحریک پر اثر انداز ہونا شروع کیا۔

یونیفارم سول کوڈ کی حمایت

تسلیمہ نسرین نے پورے بھارت میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے "ایک قوم، ایک قانون” کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو مذہب کی پرواہ کیے بغیر یکساں سول قوانین کے تحت چلایا جانا چاہیے۔ اس طرح کے کوڈ سے شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔

تسلیمہ نسرین کے بیانات میں تشدد

نسرین کے بیانات نے کئی حساس اور متنازعہ معاملات پر بحث کو دوبارہ جنم دیا ہے، جن میں آزادیٔ اظہار، مذہبی تعلیم کی نگرانی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، خواتین کے مساوی حقوق اور مذہبی معاملات میں ریاستی مداخلت کی حدود شامل ہیں۔ تاہم، مذہب پر تنقید کا حق اپنی جگہ، مخصوص اداروں کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی صحت ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

تسلیمہ نسرین کی تنقید اور ان کے مطالبات، بالخصوص مدارس اور یونیفارم سول کوڈ کے حوالے سے، مستقبل میں بحث و مباحثے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں

مقامی خبریں