ہفتہ, جون 27, 2026

اسرائیل کی لبنان کے جنوبی علاقے میں موجودگی: نتن یاہو کا حزب اللہ کے ناکہ بندی پر مضبوط موقف

Share

نتن یاہو کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقے میں فوجی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور جاری جھڑپوں نے دونوں طرف کی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے حالیہ بیانات نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگیوں اور جاری جھڑپوں کے تناظر میں توجہ حاصل کی ہے، جہاں دونوں طرف کی افواج ہائی الرٹ ہیں۔

نتن یاہو نے لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیل کی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جب تک کہ شیعہ شدت پسند گروپ حزب اللہ کو مکمل طور پر بے ہتھیار نہیں کیا جاتا۔ یہ اعلان اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے حوالے سے جاری سیکورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے، جو کہ طویل عرصے سے اس کے شمالی سرحدوں کے قریب ایک بڑی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران کہا، "سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل لبنان کے جنوبی علاقے میں سیکیورٹی زون میں موجود رہے۔ یہ ایک بڑا کامیابی ہے، اور ہم اسے برقرار رکھیں گے جب تک کہ حزب اللہ نے ہتھیار نہیں ڈالے۔” اس اعلان نے اسرائیل کی حکمت عملی کا انکشاف کیا اور خطے کی پیچیدگیوں کی عکاسی کی۔

یہ صورتحال کس کے گرد گھوم رہی ہے؟ اس مسئلے کے مرکزی کردار اسرائیل ہیں، جس کی قیادت نتن یاہو کر رہے ہیں، اور حزب اللہ، جو کہ ایک شدت پسند گروپ ہے جس کی پشت پناہی ایران کرتا ہے اور لبنان میں وسیع پیمانے پر سرگرم ہے۔ اسرائیلی حکومت نے طویل عرصے سے حزب اللہ کو ایک دشمن سمجھا ہے جو ہمیشہ ہتھیار بند رہتا ہے اور اس کے شمالی علاقہ جات کے لیے خطرہ بنتا ہے۔

یہ صورتحال کہاں ہورہی ہے؟ لبنان کا جنوبی علاقہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے، خاص طور پر اسرائیل-لبنان تنازعہ کے تناظر میں۔ اسرائیل کا سیکیورٹی زون لبنان کے جنوبی علاقے میں 2000 میں اسرائیلی فوجی انخلاء کے بعد قائم کیا گیا، مگر یہ ایک متنازعہ نقطہ رہا ہے۔

یہ بیانات کب سامنے آئے؟ نتن یاہو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقے میں فوجی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور جاری جھڑپوں نے دونوں طرف کی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے۔ ان کے بیانات کا پس منظر ایک وسیع حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسرائیل کی سیکیورٹی کی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟ نتن یاہو کا حزب اللہ کے ناکہ بندی پر اصرار اسرائیل کی اپنی سرحدوں کی حفاظت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم کے تبصرے اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، حالانکہ اس میں لبنان کی خودمختاری کے حوالے سے پیچیدگیاں ہیں۔

اسرائیل اپنی موجودگی کو کیسے برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے؟ اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) کی توقع ہے کہ وہ اس علاقے میں اپنے آپریشنز کو بڑھائے گی، تاکہ حزب اللہ کو ممکنہ جارحیت سے باز رکھا جا سکے۔ اسرائیلی فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ کے پاس اسلحہ موجود ہے، اسرائیل ایک مسلسل فوجی موجودگی کو ضروری سمجھتا ہے تاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔

اس صورتحال کا پس منظر ایک طویل تاریخ ہے جو اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازعات اور ٹھیکے دارانہ امن کوششوں پر مشتمل ہے۔ 2006 کا لبنان جنگ، جس میں IDF اور حزب اللہ کے درمیان ایک مہینہ تک جاری رہا، موجودہ فوجی حکمت عملیوں اور سیاسی مذاکرات کو تشکیل دیتا ہے۔ اس جنگ کے بعد حزب اللہ نے اپنے فوجی صلاحیتوں کو بہت زیادہ مضبوط کر لیا ہے، جس سے یروشلم میں مستقبل کی جنگوں کے خطرات کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

نتن یاہو کے موقف پر علاقائی ردعمل مختلف رہے ہیں۔ لبنانی حکام نے اسرائیلی فوجی کاروائیوں کی مذمت کی ہے اور لبنانی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خلاف اپنے عزم کی تصدیق کی ہے۔ اس دوران، بین الاقوامی مبصرین اور تنظیمیں لبنان میں استحکام کی ضرورت اور اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فوجی حکمت عملی صرف حزب اللہ کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک وسیع جغرافیائی سیاسی سمجھ بوجھ بھی شامل ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ اور ان کے متعلقہ اتحادیوں کے درمیان موجودہ دشواریاں اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ ایران کی حزب اللہ کی حمایت نے اسرائیل کی فوجی حساب کتاب میں ایک پیچیدگی کا اضافہ کیا ہے، کیونکہ تہران اپنے پراکسی گروپوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

بین الاقوامی برادری نے جنوبی لبنان میں ممکنہ شدت کی بڑھتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مختلف حلقوں سے بات چیت اور بے ہتھیار ہونے کی اپیلیں سامنے آئی ہیں، جو طویل عرصے سے جاری کشیدگیوں کے پرامن حل کے لیے حق میں ہیں۔ لیکن، نتن یاہو کے حالیہ بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل حزب اللہ کے ہتھیاروں کی حیثیت میں ٹھوس تبدیلیوں کے بغیر اپنی فوجی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان پیش رفت کے درمیان، لبنان میں مختلف دھڑے اسرائیل کی فوجی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے ردعمل کا وزن کر رہے ہیں۔ لبنان کا داخلی سیاسی منظر نامہ متعدد کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، ہر ایک کے اپنے مفادات ہیں، جو نتن یاہو کے موقف کے خلاف کسی مربوط جواب کو چیلنج بناتے ہیں۔

آنے والے وقتوں میں اس کا کیا مطلب ہے؟ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں برقرار رہنے کے ساتھ، فوجی منظر نامہ مزید بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ دونوں طرف کے لیے جھڑپوں کے امکانات زیادہ رہتے ہیں، جبکہ دونوں جانب کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مبصرین یہ دیکھیں گے کہ حزب اللہ اسرائیلی فوجی موجودگی کا کس طرح جواب دیتی ہے اور کیا یہ صورتحال نئے سفارتی اقدامات یا مزید کشیدگی کی جانب لے جائے گی۔

نتن یاہو کا حزب اللہ کے بے ہتھیار ہونے تک جنوبی لبنان میں برقرار رہنے پر اصرار اسرائیل کی وسیع تر قومی سلامتی کی حکمت عملی کو اجاگر کرتا ہے۔ جیسے جیسے صورتحال ترقی پذیر ہوتی ہے، اس فوجی حکمت عملی کے اثرات اسرائیل-لبنان سرحد سے آگے تک گونج سکتے ہیں، جو کہ علاقائی حرکیات اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آگے کا راستہ غیر یقینی ہے، لیکن اسرائیل کی شمالی محاذ کی حفاظت کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع کی گئی تھی۔

Read more

Local News