منگل, جون 9, 2026

کاکروچ جنتا پارٹی: تحریک، تماشہ یا اپوزیشن کو کمزور کرنے کا نیا تجربہ؟

Share

ایک بنیادی سوال: احتجاج یا سیاسی منصوبہ؟

ہندوستانی سیاست میں ہر نئی آواز کو فوراً مسترد کر دینا بھی نادانی ہے اور ہر نئی آواز کو انقلاب سمجھ لینا بھی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ابھرنے والی یہ تازہ تحریک اسی مشکل سوال کے بیچ کھڑی ہے۔ ایک طرف نوجوانوں کا غصہ ہے، پیپر لیک کا مسئلہ ہے، بے روزگاری ہے، تعلیمی نظام کی بے اعتباری ہے، اور دوسری طرف ہندوستانی سیاست کا وہ تلخ تجربہ ہے جہاں ہر جذباتی تحریک آخرکار کسی نہ کسی سیاسی دکان، اقتداری سودے یا اپوزیشن کو کمزور کرنے والے منصوبے میں بدل جاتی ہے۔

اس لیے اس تحریک کو دیکھتے وقت نہ اندھی حمایت کی ضرورت ہے، نہ اندھی مخالفت کی۔ ضرورت ہے سیاسی ہوش مندی کی۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک عوامی تحریک ہے؟

سب سے پہلے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا کاکروچ جنتا پارٹی محض ایک احتجاجی تحریک ہے؟ اگر یہ صرف پیپر لیک، امتحانی بدعنوانی، بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل کے سوال پر کھڑی ہوئی ایک عوامی تحریک ہے، تو اس کی نیت پر فوراً شک کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ہندوستان میں آج نوجوان واقعی بے چین ہے۔ طالب علم مہنگی کوچنگ، غیر یقینی امتحانات، مشکوک نتائج، پیپر لیک، سرکاری نوکریوں کی کمی اور ادارہ جاتی بے حسی کے درمیان پسا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی تحریک اس غصے کو زبان دیتی ہے تو اسے صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا نام عجیب ہے، اس کا انداز سوشل میڈیا والا ہے، یا اس کے چہرے روایتی سیاسی تربیت سے نہیں آئے۔

اگر سیاسی ارادے ہیں تو سوالات بھی ہوں گے

لیکن اگر اس تحریک کے ارادے سیاسی ہیں، اگر یہ خود کو ایک نئے سیاسی متبادل کے طور پر قائم کرنا چاہتی ہے، اگر یہ اپوزیشن کے ووٹ، نوجوانوں کی ناراضی اور سیکولر جذبات کو اپنے نام پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو پھر معاملہ بہت مختلف ہو جاتا ہے۔ پھر یہ سوال جائز ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کی ایک نئی سازش تو نہیں؟ کہیں یہ وہی پرانا کھیل تو نہیں جس میں عوامی غصے کو اصل سیاسی لڑائی سے الگ کرکے ایک نئے، ناتجربہ کار، جذباتی اور غیر منظم پلیٹ فارم کے سپرد کر دیا جاتا ہے؟

اروند کیجریوال اور پرشانت کشور کے تجربات کا سبق

ہندوستان پہلے بھی ایسے تجربات دیکھ چکا ہے۔ اروند کیجریوال کی تحریک بھی بدعنوانی کے خلاف اخلاقی انقلاب کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس وقت ملک کے بڑے بڑے دانشور، کارکن، وکیل، سابق افسران اور یونیورسٹیوں سے جڑے لوگ اس کے ساتھ کھڑے تھے۔ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، پروفیسر آنند کمار، پروفیسر کمل چنائے جیسے نام اس تجربے سے وابستہ رہے۔ لیکن بعد میں کیا ہوا؟ تحریک پارٹی بنی، پارٹی اقتدار میں آئی، اقتدار نے اخلاقیات کو نگل لیا، اور وہی لوگ کنارے لگا دیے گئے جنہوں نے اسے فکری اعتبار دیا تھا۔ جو تجربہ سیاست بدلنے کے نام پر شروع ہوا تھا، وہ خود روایتی سیاست کی ایک اور شکل بن گیا۔

اسی طرح پرشانت کشور کا سیاسی ماڈل بھی ملک کے سامنے ہے۔ وہ ایک انتخابی حکمت کار کے طور پر آئے، پھر مشورہ کار بنے، پھر سیاسی اصلاح کے دعوے کے ساتھ میدان میں اترے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کو مزید انتخابی انجینئرنگ چاہیے یا حقیقی نظریاتی سیاست؟ کیا ملک کو ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو عوام کو منظم کریں، یا ایسے تجربات کی جو عوامی بے چینی کو ڈیٹا، برانڈنگ، سروے اور نعرے بازی میں تبدیل کر دیں؟

کاکروچ جنتا پارٹی کو اسی پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔

جے این یو، لیفٹ اور سونم وانگچک کی موجودگی کیا بتاتی ہے؟

یہ بات بھی اہم ہے کہ اس احتجاج میں جے این یو کے طلبہ نظر آئے، لیفٹ سے وابستہ چہرے نظر آئے، ایس ایف آئی کی دہلی سکریٹری عائشے گھوش کے شامل ہونے کی خبریں آئیں، آئیسا اور ایس ایف آئی جیسے طلبہ گروپوں کی موجودگی کا ذکر ہوا، اور سونم وانگچک جیسے معروف سماجی کارکن بھی اس کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے۔ اس سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ تحریک مکمل طور پر خلا میں پیدا نہیں ہوئی۔ اس نے موجودہ سیاسی اور سماجی بے چینی کو چھوا ہے۔ دوسری یہ کہ پرانے سیاسی اور طلبہ حلقے بھی اس نئی توانائی کو نظر انداز نہیں کر پا رہے۔

کیا لیفٹ صرف اپنی موجودگی درج کرا رہی ہے؟

لیکن ان کی موجودگی کو فوراً کاکروچ جنتا پارٹی کی تائید سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ ممکن ہے لیفٹ اپنی ساکھ بچانے کے لیے وہاں موجود ہو۔ ممکن ہے وہ اپنی کمزور ہوتی ہوئی عوامی موجودگی کو کسی نئے احتجاجی ماحول میں درج کرانا چاہتا ہو۔ ممکن ہے وہ حالات کا جائزہ لے رہا ہو، عوامی مزاج کو پڑھ رہا ہو، اور یہ دیکھنا چاہتا ہو کہ نوجوانوں کی ناراضی کس سمت جا رہی ہے۔

جے این یو کے طلبہ کے بارے میں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ جے این یو میں اب وہ بات نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی، لیکن وہاں کے کئی طلبہ اب بھی حساس سیاسی سوالات پر آواز اٹھاتے ہیں۔ کئی طلبہ نے صاف کہا کہ انہیں کاکروچ پارٹی سے کوئی مطلب نہیں، وہ صرف پیپر لیک کے خلاف احتجاج میں آئے ہیں۔ یہ جملہ بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ پارٹی سے بڑا ہے، اور تحریک کا اخلاقی مرکز ابھی بھی تعلیم، امتحان اور انصاف کا سوال ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اور سیاسی متبادل میں فرق

یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں فرق کرنا ہوگا۔ پیپر لیک کے خلاف احتجاج جائز ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔ تعلیم کے تجارتی اور بدعنوان نظام کے خلاف سڑک پر آنا بالکل درست ہے۔ لیکن اس احتجاج کو ایک نئی سیاسی پارٹی یا قومی متبادل کے طور پر بیچنا ایک خطرناک جلدبازی ہوگی۔

سوشل میڈیا کی مقبولیت اور سیاسی اہلیت کا فرق

کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن تحریک چلا سکتے ہیں، اور انہیں چلانی بھی چاہیے۔ وہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو جوڑ سکتے ہیں، نظام پر طنز کر سکتے ہیں، حکمران جماعت کو پریشان کر سکتے ہیں، اور ایسے سوال اٹھا سکتے ہیں جنہیں مین اسٹریم میڈیا دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تحریک چلانا اور ملک چلانا دو الگ چیزیں ہیں۔ نعرہ دینا اور پالیسی بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ میم بنانا اور سماجی انصاف کا ڈھانچہ بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ لاکھوں فالوورز ہونا اور سیاسی بصیرت رکھنا دو الگ چیزیں ہیں۔

یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت اکثر سیاسی اہلیت کا دھوکا دیتی ہے۔ انسٹاگرام پر ایک تحریک چند دنوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، لیکن پارلیمانی سیاست صرف وائرل ویڈیو سے نہیں چلتی۔

کیا موجودہ قیادت سیاسی متبادل بننے کی اہل ہے؟

اس کے لیے نظریہ، تنظیم، تاریخی سمجھ، سماجی تنوع کی پہچان، ریاستی ڈھانچے کا علم، آئینی فہم، اقلیتوں کے مسائل کی حساسیت، معاشی پالیسی، خارجہ پالیسی، وفاقی توازن، کسان، مزدور، عورت، دلت، آدیواسی، مسلمان، پسماندہ طبقات اور علاقائی سوالات کی گہری سمجھ چاہیے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے موجودہ چہرے اس سطح کی سیاسی پختگی، تجربہ اور نظریاتی وسعت رکھتے ہیں، اس کا کوئی واضح ثبوت ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

اس لیے ان کے حق احتجاج کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ان کی کسی سیاسی پیش قدمی کو شک کی نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔

مین اسٹریم میڈیا غائب کیوں تھا؟

مین اسٹریم میڈیا کا رویہ بھی اس پورے معاملے میں قابل غور ہے۔ احتجاج کے وقت وہ بڑا میڈیا نظر نہیں آیا جو دن رات ملک کو قوم پرستی، مذہبی جذبات، انتخابی ڈراموں اور حکومتی بیانیوں میں الجھائے رکھتا ہے۔ وہاں زیادہ تر یوٹیوبرز، آزاد صحافی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم نظر آئے۔

یہ بذات خود ایک دلچسپ علامت ہے۔ جو تحریک سوشل میڈیا سے پیدا ہوئی، اس کی کوریج بھی سوشل میڈیا نے کی۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نام نہاد مین اسٹریم میڈیا کا متبادل اب واقعی بن رہا ہے۔

یوٹیوب میڈیا: متبادل یا نیا ایجنڈا؟

لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ یوٹیوب میڈیا مین اسٹریم میڈیا کا متبادل ضرور ہو سکتا ہے، مگر ہر متبادل معتبر نہیں ہوتا۔ جس طرح ٹی وی اسٹوڈیو میں ایجنڈا ہوتا ہے، اسی طرح موبائل کیمرے کے پیچھے بھی کبھی کبھی ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کے پاس لائٹ، اسٹوڈیو اور سرمایہ ہے، دوسرے کے پاس گلی، مائک اور الگورتھم۔

اس تحریک کا مثبت اور منفی پہلو

اس تحریک کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے نوجوانوں کو دوبارہ سڑک پر آنے کی یاد دلائی۔ کئی سالوں سے ہندوستانی نوجوان کو یا تو مذہبی نعروں میں مصروف رکھا گیا، یا کوچنگ سینٹروں میں بند رکھا گیا، یا موبائل اسکرین کے اندر غصہ نکالنے کا عادی بنا دیا گیا۔ اگر کوئی تحریک اسے امتحانی انصاف، روزگار اور تعلیم کے سوال پر سڑک تک لاتی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔

لیکن اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہی توانائی اگر غلط سیاسی سمت میں چلی گئی تو اصل اپوزیشن کمزور ہوگی، ووٹ تقسیم ہوگا، عوامی ناراضی بکھر جائے گی، اور آخرکار فائدہ اسی طاقت کو ملے گا جس کے خلاف یہ غصہ پیدا ہوا ہے۔

سیکولر جماعتوں کے لیے سب سے بڑا سبق

یہاں سیکولر جماعتوں کے لیے بھی سبق ہے۔ اگر وہ عوام، طلبہ اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل پر زمین پر موجود نہیں ہوں گی، تو کوئی بھی سوشل میڈیا تحریک آکر ان کی جگہ لے لے گی۔ سیاست خلا کو پسند نہیں کرتی۔ جہاں منظم اپوزیشن نہیں ہوتی، وہاں نعرے باز متبادل پیدا ہو جاتے ہیں۔ جہاں نظریاتی قیادت غائب ہوتی ہے، وہاں میم پیج قیادت کرنے لگتے ہیں۔ جہاں پارٹیاں نوجوانوں کی زبان نہیں سمجھتیں، وہاں نوجوان کاکروچ، مچھر، مکھی یا کسی بھی طنزیہ علامت کے پیچھے چل پڑتا ہے۔

احتیاط کیوں ضروری ہے؟

سیکولروں کو اس تحریک سے خوش بھی ہونا چاہیے اور محتاط بھی۔ خوش اس لیے کہ نوجوانوں میں ابھی سوال پوچھنے کی طاقت باقی ہے۔ محتاط اس لیے کہ ہر سوال پوچھنے والا سیاسی ساتھی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وہ نادان ہوتا ہے، کبھی بے سمت، کبھی استعمال ہونے کے لیے تیار، اور کبھی خود ہی ایک نئے فریب کا آغاز۔

حقیقت کا فیصلہ وقت کرے گا

اس لیے اس تحریک کی حقیقت کا فیصلہ ابھی نہیں کیا جا سکتا۔ وقت بتائے گا کہ یہ تعلیم اور روزگار کے سوال پر کھڑی ہوئی ایک ایماندار نوجوان تحریک ہے یا سیاسی متبادل کے نام پر اپوزیشن کے ووٹ بینک کو کاٹنے کا نیا تجربہ۔ وقت بتائے گا کہ یہ احتجاج ہے یا منصوبہ۔ وقت بتائے گا کہ یہ مزاحمت ہے یا برانڈنگ۔ وقت بتائے گا کہ یہ نوجوانوں کی آواز ہے یا کسی اور کی لکھی ہوئی اسکرپٹ۔

فی الحال درست موقف یہی ہے کہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کی حمایت کی جائے، نوجوانوں کے سوالات کو سنجیدگی سے لیا جائے، سونم وانگچک جیسے لوگوں کی اخلاقی موجودگی کو تسلیم کیا جائے، جے این یو اور لیفٹ طلبہ کی شرکت کو ایک سیاسی اشارہ سمجھا جائے، لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کو سیاسی متبادل ماننے کی جلدبازی نہ کی جائے۔

تحریک کو تحریک رہنے دیں۔ اسے پارٹی بنانے کی جلدی نہ کریں۔ احتجاج کو احتجاج رہنے دیں۔ اسے ووٹ کا کاروبار نہ بنائیں۔ نوجوانوں کے غصے کو جمہوری طاقت بنائیں، سیاسی تجربہ گاہ کا خام مال نہیں۔

ہندوستان پہلے ہی اروند کیجریوال جیسے اخلاقی انقلاب اور پرشانت کشور جیسے انتخابی منصوبوں کے دھوکے دیکھ چکا ہے۔ ملک اور ملت دونوں اس طرح کے تجربات کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔ اب مزید سیاسی معصومیت کی گنجائش نہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی اگر انصاف کے سوال پر کھڑی ہے تو اسے سراہا جائے۔ اگر وہ سیاسی متبادل بننے کے خواب دیکھ رہی ہے تو اسے سختی سے پرکھا جائے۔ اور اگر وہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنتی ہے تو اسے وقت رہتے بے نقاب کیا جائے۔

جمہوریت میں ہر آواز کی جگہ ہے، مگر ہر آواز قیادت کی اہل نہیں ہوتی۔

 

Read more

Local News