WHO نے ایبولا صورتحال کو عالمی صحت کی ہنگامی حالت قرار دیا، حکومت ہند نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا
ایبولا وائرس کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر حکومت ہند نے اپنے شہریوں کو ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ مرکزی حکومت نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے اس صورتحال کو عالمی تشویش کی عوامی صحت کی ہنگامی حالت قرار دیا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق ان ممالک میں موجود بھارتی شہریوں کو مقامی صحت ایجنسیوں کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے اور خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ فی الحال ہندوستان میں بونڈی بوگیو وائرس سے متعلق ایبولا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔
افریقی CDC نے صورتحال کو براعظمی صحت ایمرجنسی قرار دیا
یہ ایڈوائزری اُس وقت سامنے آئی جب Africa Centres for Disease Control and Prevention نے بونڈی بوگیو وائرس ایبولا کی موجودہ لہر کو “براعظمی سلامتی کے لئے عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال” قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق ایبولا ایک خطرناک وائرل ہیمرجک بخار ہے جو مختلف ایبولا اسٹرینز کے ذریعے پھیلتا ہے۔ بونڈی بوگیو اسٹرین کو خاص طور پر تشویشناک تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ تیزی سے پھیلنے اور بلند شرح اموات کا سبب بن سکتا ہے۔
ایبولا وائرس کی علامات کیا ہیں؟
Ebola virus disease سے متاثرہ مریضوں میں عموماً درج ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں:
- تیز بخار
- جسم اور پٹھوں میں شدید درد
- کمزوری
- قے اور متلی
- اسہال
- بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا
ماہرین کے مطابق یہ بیماری متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں یا قریبی رابطے سے پھیلتی ہے، اسی لئے متاثرہ علاقوں میں نگرانی اور احتیاط انتہائی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
WHO کی نئی سفارشات اور نگرانی کا نظام
World Health Organization کی ایمرجنسی کمیٹی نے 22 مئی کو عارضی سفارشات جاری کرتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ داخلی و خارجی سرحدی مقامات پر نگرانی کا نظام مزید مضبوط کریں۔
کمیٹی نے خاص طور پر ایسے مسافروں کی شناخت اور نگرانی کی سفارش کی ہے جن میں نامعلوم بخار یا مشتبہ علامات پائی جائیں، خصوصاً اُن افراد میں جو وبا سے متاثرہ علاقوں سے سفر کر رہے ہوں۔
علاج اور ویکسین کی موجودہ صورتحال
فی الحال بونڈی بوگیو اسٹرین کے خلاف کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل مؤثر علاج دستیاب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی صحت تنظیمیں اور مقامی حکومتیں احتیاطی تدابیر، نگرانی اور عوامی آگاہی پر زیادہ زور دے رہی ہیں۔
صحت ماہرین کے مطابق افریقی ممالک میں کمزور طبی ڈھانچہ اس وبا کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر فضائی سفر کے باعث وائرس کے سرحد پار پھیلنے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔
حکومت ہند نے شہریوں کو کیا مشورہ دیا؟
وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند کے مطابق شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ:
- غیر ضروری افریقی سفر سے گریز کریں
- سفر سے پہلے اپنی صحت کی جانچ کریں
- مقامی طبی ایڈوائزری پر عمل کریں
- علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں
- متاثرہ افراد سے قریبی رابطے سے بچیں
عالمی سطح پر بڑھتی تشویش
ماہرین کے مطابق ایبولا کی حالیہ لہر صرف افریقی ممالک تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ عالمی صحت کے لئے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک اور عالمی ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نگرانی، معلومات کی فراہمی اور احتیاطی اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔
عوامی آگاہی، بروقت طبی جانچ اور مستند معلومات تک رسائی کو اس وبا کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید معلومات اور عالمی ہدایات کے لئے عالمی ادارۂ صحت کی ویب سائٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
