جمعہ, اکتوبر 2, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 97

آسام-میگھالیہ بین ریاستی سرحد پر تصادم، غلیل اور تیر سے حملہ

0
آسام-میگھالیہ-بین-ریاستی-سرحد-پر-تصادم،-غلیل-اور-تیر-سے-حملہ

آسام اور میگھالیہ کے بین ریاستی سرحد سے ملحق ایک گاؤں میں تصادم کا معاملہ پیش آیا ہے۔ اس دوران دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر خوب حملہ کیا، حالانکہ اس میں کسی کے سنگین زخمی ہونے کی خبر فی الحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس حملے میں غلیل اور تیر کا استعمال کیے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میگھالیہ کے مغربی جینتیا ہلز ضلع اور آسام کے مغربی کاربی انگلونگ ضلع سے ملحق گاؤں لاپنگاپ میں تصادم کا یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ دونوں ریاستوں کی پولیس کو جب تصادم کی خبر ملی تو وہ جائے وقوع پر پہنچی۔ انھوں نے مقامی لوگوں کو کسی طرح سمجھا کر خاموش کرایا جس سے حالات معمول پر آ گئے۔

مغربی جینتیا ہلز ضلع کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ہم آسام کے مغربی کاربی آنگلونگ ضلع کے افسران سے حالات کو لے کر بات کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ صبح کی صبح ماحول کشیدہ تھا، لیکن جب پولیس نے لوگوں کو تصادم والی جگہ پر جانے سے روک دیا تھا حالات قابو میں آ گئے۔

کیجریوال حکومت پھر پہنچی سپریم کورٹ، کہا- ’حکم کی تعمیل نہیں کر رہے سینئر بیوروکریٹس‘

0
کیجریوال-حکومت-پھر-پہنچی-سپریم-کورٹ،-کہا-’حکم-کی-تعمیل-نہیں-کر-رہے-سینئر-بیوروکریٹس‘

نئی دہلی: دہلی کی کیجریوال حکومت نے ایک بار پھر یہ کہتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے کہ سینئر بیوروکریٹس اس کے احکامات کو نہیں سن رہے ہیں، لہذا عدالت اس معاملے کی فوری سماعت کرے۔ دہلی حکومت نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ سینئر نوکرشاہ منتخب حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ کیجریوال حکومت نے راجدھانی میں سینئر افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں سے متعلق معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر کو سپریم پاور دینے والے متنازعہ قانون کے خلاف اپنی عرضی پر فوری سماعت کرنے کی اپیل کی ہے۔

سپریم کورٹ میں دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ’’میں انتظامیہ کے درد کو بیان نہیں کر سکتا۔ سرکاری ملازمین نہ تو احکامات سن رہے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کر رہے ہیں۔‘‘ وہیں، چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے دہلی حکومت کی طرف سے داخل کی گئی عرضی کو فوری طور پر درج کرنے سے انکار کر دیا، جس میں پارلیمنٹ کی طرف سے خدمات کی بے ضابطگی سے متعلق لائے گئے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سی جے آئی چندرچوڑ نے سنگھوی کو بتایا کہ پرانی آئینی بنچ کے معاملات ہیں جن کی ہم فہرست بنا رہے ہیں اور 7 ججوں کی بنچ کے دو کیس اگلے دو ہفتوں میں آنے والے ہیں۔ وہ برسوں سے زیر التواء ہیں۔ انہوں نے چار ہفتوں کے بعد نئے سرے سے اس معاملے کا ذکر کرنے کی اجازت دی اور کہا کہ ’’مجھے فیصلہ کرنے دیں۔ میں یہ بھی دیکھ سکوں گا کہ کون سا بنچ دستیاب ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ اس دوران کیس میں دلائل مکمل کر لیے جائیں۔ اس نے دونوں فریقوں کے لیے نوڈل وکیل بھی مقرر کیا اور ایک مشترکہ تالیف تیار کرنے کی ہدایت کی۔

وہیں، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنجے جین نے کہا کہ تعین کے لیے سوالات نئے سرے سے تیار کرنے ہوں گے۔ اس پر سی جے آئی چندر چوڑ نے کہا، ’’ڈاکٹر سنگھوی اور آپ (جین) ایک ساتھ بیٹھ کر ہمیں متفقہ مسائل بتا سکتے ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ کی ایک آئینی بنچ نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری آف دہلی (ترمیمی) ایکٹ 2023 کے خلاف دہلی حکومت کی درخواست پر سماعت کرے گی، جو قومی راجدھانی میں سینئر بیوروکریٹس کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے بارے میں پہلے مرکز کے ذریعہ جاری کردہ آرڈیننس کی جگہ لے گا۔

آرڈیننس، جو اب قانون کی شکل لے چکا، سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے دہلی میں پولیس، پبلک آرڈر اور زمین کے علاوہ خدمات کا کنٹرول منتخب حکومت کو سونپنے کے بعد لایا گیا تھا۔

دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے آرڈیننس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ آرٹیکل 239اے اے میں دہلی کے قومی راجدھانی علاقہ کے لیے درج وفاقی، جمہوری حکمرانی کی اسکیم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ واضح طور پر صوابدیدی ہے۔

مدھیہ پردیش: بی جے پی کے اس فیصلے کا خمیازہ بھگتیں گے عوام، کمل ناتھ نے اٹھایا سوال

0
مدھیہ-پردیش:-بی-جے-پی-کے-اس-فیصلے-کا-خمیازہ-بھگتیں-گے-عوام،-کمل-ناتھ-نے-اٹھایا-سوال

بھوپال: مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی نے مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ تک کو میدان میں اتار دیا ہے۔ بی جے پی کے اس فیصلے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے الزام لگایا کہ ایک طرف وزارت کا کام کاج متاثر ہوگا تو دوسری طرف پارلیمانی حلقہ کے لوگوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

کمل ناتھ نے ایکس پر لکھا، ’’بی جے پی جتنے زیادہ آرائشی امیدوار لا رہی ہے، اتنا ہی زیادہ عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، وجہ صاف ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ ہ جو وزیر الیکشن لڑیں گے، ان کی وزارتیں، جو پہلے ہی غیر فعال ہیں، اب مزید غیر فعال ہو جائے گی تو عوام کے زیر التواء کام کیسے ہوں گے؟ یہی وجہ ہے کہ عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’حکمران ایم پیز جو الیکشن لڑیں گے وہ اپنے پارلیمانی حلقے کو نظر انداز کریں گے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ناراضگی بڑھ رہی ہے، یہ نام نہاد بڑے لوگ پارٹی دباؤ کے تحت ہچکچاتے ہوئے الیکشن لڑیں گے اور اگر وہ ہار گئے تو وہ عوام کے خلاف ہو جائیں گے۔ جس کی وجہ سے عوام ان کی نظر اندازی اور ان کے جبر کا شکار ہو جائے گی۔‘‘

کمل ناتھ نے مزید کہا، ’’اگر بی جے پی کے ایک یا دو ایم پیز جبر، جگت، جگاڑ سے الیکشن جیت جاتے ہیں، تو بعد میں وہ ایم ایل اے کے عہدے سے استعفیٰ دے کر آئندہ لوک سبھا الیکشن لڑیں گے، جس کی وجہ سے ضمنی الیکشن پر اخراجات ہوں گے، جس کا بوجھ عوام اٹھائے گی۔ عوام کے ٹیکس کی ہی بربادی ہوگی۔‘‘

کمل ناتھ نے کہا کہ بڑھتے ہوئے عوامی غصے کو دیکھ کر بی جے پی کے زیادہ تر لیڈران، عہدیداران، کارکنان، ارکان اور حامی زیر زمین چلے گئے ہیں اور عوامی خدمت کے لیے وقف کچھ اچھے لیڈر دوسرے آپشنز کی تلاش میں ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی تنظیم کے سب سے بڑے انحطاط کا دور ہے۔‘‘

سلیمہ خان، جنہوں نے 92 سال کی عمر میں پڑھنا لکھنا شروع کیا، بلند شہر کے پورے گاؤں کو دے رہیں تحریک

0
سلیمہ-خان،-جنہوں-نے-92-سال-کی-عمر-میں-پڑھنا-لکھنا-شروع-کیا،-بلند-شہر-کے-پورے-گاؤں-کو-دے-رہیں-تحریک

شہر بلند سے تعلق رکھنے والی 92 سالہ سلیمہ خان نامی خاتون نے بالآخر تعلیم حاصل کرنے کا اپنی عمر بھر کا خواب پورا کر دیا۔ انہوں نے برسوں تک طالب علموں کو اپنے گھر کے قریب گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہوتے دیکھا اور خود بھی اس میں داخل ہونے کی خواہش کرنے لگیں۔ انہوں نے آٹھ مہینے پہلے ہمت کر کے کلاس روم میں بیٹھنے کی درخواست کی اور ہیڈ مسٹریس نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سلیمہ نے وہ امتحان دے دیا ہے، جس کا نتیجہ انہیں ’خواندہ‘ قرار دے گا۔ امتحان کے بعد انہوں کہا ’’میں نے کبھی اسکول میں قدم نہیں رکھا تھا، تاہم ہر روز، میں بلند شہر کے گاؤں چاولی میں اپنے گھر کے سامنے گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے طالب علموں کی خوشی اور شور و غل سنن کر میرے دل میںن ہمیشہ ان کے ساتھ پڑھنے کی خواہش زور مارتی تھی۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ ’’پڑھنے میں کیا حرج ہے؟‘‘ وہ ضعیف خاتون جو اب بچوں کو ہجوم بناتے اور ہنگامہ کرتے دیکھنے کی عادی ہو چکی ہیں، ان کے ساتھ بیٹھتی ہیں اور ان کی باتوں پر بغیر دانتوں کے مسکراتی ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے ان کے پڑپوتوں کی عمر کے ہیں۔

سلیمہ نے چھ ماہ کی تعلیم مکمل کر لی ہے اور وہ لکھنا پڑھنا سیکھ گئی ہیں۔ ان کی ایک سے لے کر 100 تک کی گنتی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ انہیں اسکول جانے اور وہاں سے واپس آنے میں گھر کے کسی فرد کی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اہم یہ ہے کہ میں اب اپنے نام کے دستخط کر سکتی ہوں۔ پہلے میرے پوتے چلاکی سے مجھ سے زیادہ پیسے لے لیتے تھے کیونکہ میں نوٹ نہیں گن سکتا تھی۔ اب وہ دن گزر چکے ہیں۔‘‘

مرکزی حکومت کی طرف سے ’ساکشر بھارت ابھیان‘ کے تحت 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے غیر خواندہ افراد کے لیے ایک امتحان لیا جاتا ہے، جسے خوانگی کا امتحان کہا جاتا ہے۔ اتوار کو جب وہ یہ امتحان دے رہی تھیں، تو امتحانی ہال میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ کیونکہ میرا امتحان اچھا گیا ہے۔‘‘

پرائمری اسکول کی ہیڈ مسٹریس ڈاکٹر پرتیبھا شرما نے کہا، ’’سلیمہ تقریباً آٹھ ماہ قبل ہمارے پاس آئیں اور درخواست کی کہ انہیںن کلاس روم میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔ ایسے بزرگ کو تعلیم دینا ایک مشکل کام ہے، اس لیے ہم شروع میں قدرے تذبذب کا شکار تھے۔ تاہم، زندگی کے موسم خزاں میں مطالعہ کرنے کے ان کے شوق نے ہمیں اپنا ذہن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔‘‘

شرما نے مزید کہا کہ ’’گاؤں میں ایک ناقابل یقین تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔ سلیمہ کے جوش کو دیکھ کر ان کی دو بہوؤں سمیت گاؤں کی 25 خواتین کلاس میں شامل ہونے کے لیے آگے آئی ہیں۔ اب، ہم نے ان کے لیے الگ سیشن شروع کیے ہیں۔‘‘

سلیمہ کی پوتی فردوس نے، جو ہر روز اس کے ساتھ اسکول جاتی ہیں، نے کہا، ’’ان کی عمر میں اس طرح کی لگن واقعی متاثر کن ہے۔ وہ کمزور ہیں اور چہل قدمی کے دوران انہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ ہر روز صبح اٹھ کر اسکول کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہم امید سے بھر جاتے ہیں۔‘‘

سلیمہ کہتی ہیں ’’مجھے اپنا پہلا دن یاد ہے جب ہیڈ مسٹریس نے مجھے ایک کتاب دی تھی۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں نہیں جانتی تھی کہ قلم کیسے پکڑا جائے۔ اگرچہ میں گھبرا رہی تھی مگر میری خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ میری شادی 14 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور اس وقت ہمارے گاؤں میں کوئی اسکول نہیں تھا۔ پھر میں ماں بن گئی اور زندگی نے اپنا راستہ اختیار کیا لیکن دیر آید درست آید۔‘‘

منی پور کے لوگ 147 دنوں سے تکلیف میں ہیں، لیکن پی ایم مودی کے پاس ریاست کا دورہ کرنے کا وقت نہیں: کھڑگے

0
منی-پور-کے-لوگ-147-دنوں-سے-تکلیف-میں-ہیں،-لیکن-پی-ایم-مودی-کے-پاس-ریاست-کا-دورہ-کرنے-کا-وقت-نہیں:-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منی پور کو لے کر ایک بار پھر پی ایم مودی اور بی جے پی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوبصورت ریاست منی پور بی جے پی کی وجہ سے میدان جنگ بن گئی ہے۔ کھڑگے نے لکھا، ’’منی پور کے لوگ 147 دنوں سے تکلیف میں ہیں لیکن پی ایم مودی کے پاس ریاست کا دورہ کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس تشدد میں طالب علموں کو نشانہ بنائے جانے والی خوفناک تصویروں نے ایک بار پھر پورے ملک کو چونکا دیا ہے۔ اب یہ واضح ہے کہ اس تنازعہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کو ہتھیار بنایا گیا تھا۔ خوبصورت ریاست منی پور بی جے پی کی وجہ سے میدان جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے، پی ایم مودی کو چاہیے کہ وہ منی پور کے نااہل وزیر اعلیٰ کو بی جے پی کے عہدے سے برطرف کر دیں۔ کسی بھی مزید ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے یہ ان کا پہلا قدم ہوگا۔

اس سے پہلے ملیکارجن کھرگے نے منی پور کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے پی ایم مودی پر اس حقیقت پر تنقید کی تھی کہ وہ غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں لیکن منی پور نہیں جا رہے ہیں۔

آلودگی سے دہلی کو بچانے کے لئے سردیوں کا ایکشن پلان  29 ستمبر کو جاری ہوگا

0
آلودگی-سے-دہلی-کو-بچانے-کے-لئے-سردیوں-کا-ایکشن-پلان- 29-ستمبر-کو-جاری-ہوگا

دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال 29 ستمبر کو سرمائی ایکشن پلان جاری  کریں گے۔وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا، "ہم متعلقہ محکموں کی طرف سے دی گئی رپورٹوں کی بنیاد پر دہلی میں موسم سرما کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے موسم سرما کا ایکشن پلان تیار کر رہے ہیں۔”

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق 14ستمبر کو دہلی سکریٹریٹ میں سرمائی ورک پلان کے حوالے سے تمام 28 محکموں کی مشترکہ میٹنگ ہوئی اور افسران کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ تمام تعمیراتی اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ دھول کی آلودگی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کریں۔

محکمہ ماحولیات، ڈی پی سی سی، ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، دہلی کنٹونمنٹ بورڈ، سی پی ڈبلیو ڈی، ڈی ڈی اے، دہلی پولیس، ڈی ٹی سی، ریونیو ڈپارٹمنٹ، ڈی ایس آئی آئی ڈی سی، محکمہ تعلیم، ڈی ایم آر سی، پی ڈبلیو ڈی، ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ، این ایچ اے آئی، دہلی جل بورڈ، ڈی یو ایس آئی بی اور این ڈی ایم سی کے افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔

تمام محکموں کو سرمائی  ایکشن پلان کے تحت تفصیلی ایکشن پلان 25 ستمبر تک محکمہ ماحولیات کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ گوپال رائے نے کہا، ’’اس میٹنگ میں تمام محکموں کو سرمائی کام کی منصوبہ بندی میں شامل کرنے کا ایک منفرد ہدف دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال 29 ستمبر کو دہلی کے عوام کے سامنے یہ سرمائی ایکشن پلان پیش کریں گے۔ تمام سرکاری محکمے ونٹر ایکشن پلان پر عملدرآمد میں مل کر کام کریں گے تاکہ آنے والے موسم سرما میں آلودگی میں اضافے کو روکا جا سکے۔

وزیر گوپال رائے نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے دہلی میں تعمیراتی کاروبار سے متعلق تمام ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ آج میں ان سے دھول کی آلودگی سے متعلق اصولوں پر عمل کرنے کی اپیل کر رہا ہوں۔قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تمام اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔آلودگی کو کم کرنے کے لیے 13 ہاٹ اسپاٹس کے لیے الگ ایکشن پلان بنایا جائے گا۔ اس بار آلودگی کو کم کرنے کے لیے ہاٹ اسپاٹ پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی۔

منترالیہ میں جانے کے لئےکلر کوڈڈ پاس، ڈرون، پوشیدہ اسٹیل کی رسیاں: مہاراشٹر کی نئی سیکیورٹی

0
منترالیہ-میں-جانے-کے-لئےکلر-کوڈڈ-پاس،-ڈرون،-پوشیدہ-اسٹیل-کی-رسیاں:-مہاراشٹر-کی-نئی-سیکیورٹی

منترالیہ میں نصب  حفاظتی جال پر کودنے والے لوگوں کے احتجاج اور خودکشی کی کوششوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان، ریاستی حکومت نے روزانہ آنے والوں کی تعداد کو کم کرنے، کلر کوڈڈ پاس جاری کرکے ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع خبر کے مطابق ریاست کے محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی ہدایات کے مطابق، لوگوں  کو داخلہ پاس میں مذکورہ کے علاوہ محکموں یا منزلوں میں گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اعداد و شمار کے مطابق، منترالیہ میں آنے والے لوگوں  کی اوسط تعداد 3,500 ہے، اور کابینہ کی میٹنگ کے دن  یہ بڑھ کر 5,000 ہو جاتی ہے۔

اگست 2023 میں، ودربھ کے 20 سے زیادہ کسانوں نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے کچھ نے جال پر چھلانگ لگاتے ہوئے، ایک آبپاشی پراجیکٹ کے لیے حاصل کی گئی اپنی زمین کے معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے 2018 میں منترالیہ میں خودکشی کی متعدد کوششوں کے بعد حفاظتی جال لگایا تھا۔

مظاہرین کو چھلانگ لگانے سے روکنے کی کوشش میں، حکومت راہداریوں اور کھڑکیوں میں کھلی جگہوں پر پوشیدہ اسٹیل کی رسیاں نصب کرے گی۔ زائرین کو 10,000 روپے سے زیادہ نقد کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ سے خط و کتابت اب مرکزی نظام میں جمع کرانی ہوگی اور متعلقہ محکمے کے اندر اس کی اجازت نہیں ہوگی۔

ہر وزیر کے دفتر کو زائرین کے لیے انٹری پاس جاری کرنے کے لیے منترالیہ کی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے ایک افسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) کو نامزد کرنا ہوگا۔ایڈمنسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ میں کوئی انٹری پاس جاری نہیں کیا جائے گا جب تک کہ محکمہ کے سیکرٹری کی منظوری نہ ہو۔ اب کوئی زبانی یا ٹیلی فونک ہدایات قبول نہیں کی جائے گی۔

مین گیٹ سے گاڑیوں کا داخلہ اب صرف وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ، وزراء اور ان کے قافلوں کے لیے محدود کردیا گیا ہے۔ سیکرٹریوں کی گاڑیوں کو سیکرٹری گیٹ سے جانے کی اجازت ہو گی جبکہ پاس والی دیگر گاڑیاں صرف گارڈن گیٹ سے ہی داخل ہو سکیں گی۔ حکومت نے منترالیہ میں شام 5.30 بجے تک داخلہ بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور سیکورٹی ٹیموں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ شام 6.15 بجے تک عمارت کو خالی کرنا شروع کر دیں۔

منی پور میں میتی نوجوانوں کے قتل پر احتجاجی مظاہرے ، سی بی آئی کی ٹیم امپھال روانہ

0
منی-پور-میں-میتی-نوجوانوں-کے-قتل-پر-احتجاجی-مظاہرے-،-سی-بی-آئی-کی-ٹیم-امپھال-روانہ

ذرائع نے بتایا کہ ایجنسی کے خصوصی ڈائریکٹر اجے بھٹناگر کی قیادت میں سی بی آئی حکام کی ایک ٹیم بدھ یعنی آج ایک خصوصی پرواز سے امپھال پہنچے گی تاکہ شمال مشرقی ریاست میں 6 جولائی کو لاپتہ ہونے والے دو طالب علموں کے "اغوا اور قتل” کی تحقیقات کی جا سکے۔

انگریزی روزنامہ ’دی ہندوستان ٹائمس‘ میں شائع خبر کے مطابق یہ فیصلہ منی پور حکومت کی طرف سے کیس کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر لیا گیا۔یہ ٹیم ایسے افسران پر مشتمل ہوگی جو خصوصی جرائم، کرائم سین کا خاکہ تیار کرنا ، تفتیش اور تکنیکی نگرانی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس میں سی بی آئی کی ایلیٹ سینٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری کے ماہرین بھی ہوں گے۔

واضح رہے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں دو طالب علموں – فیجام ہیمجیت (20) اور ہیجام لنتھونگمبی (17) – کی لاشوں  کو دکھایا گیا۔پولیس نے پہلے کہا تھا کہ دونوں کے ٹھکانے معلوم نہیں تھے اور ان کے موبائل فون بند پائے گئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ ان کے موبائل ہینڈ سیٹس کی آخری لوکیشن لامدان میں ٹریس کی گئی تھی، جو چوراچند پور ضلع میں سرمائی پھولوں کے سیاحتی مقام کے قریب ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں، منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے لکھا کہ  "لاپتہ طلباء کی المناک موت کے حوالے سے کل سامنے آنے والی تکلیف دہ خبروں کی روشنی میں، میں ریاست کے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ریاست اور مرکزی حکومت دونوں ہی ان کے ساتھ ہیں۔ مجرموں کو پکڑنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید  کہا کہ ریاست میں سی بی آئی افسران کی موجودگی "اس معاملے کو تیزی سے حل کرنے کے لیے ہمارے حکام کے عزم کو ظاہر کرتی ہے”۔سنگھ نے کہا، "میں قصورواروں کو تلاش کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ  سے مسلسل رابطے میں ہوں۔”

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ متوفی طلباء کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کو چوکس رکھا گیا ہے اور اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔حکومت نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ "فیجام ہیمجیت اور ہیجام لنتھونگمبی کے اغوا اور قتل میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

بی جے پی انتخابات میں دھاندلی کر کے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتی ہے: اکھلیش یادو

0
بی-جے-پی-انتخابات-میں-دھاندلی-کر-کے-اقتدار-پر-قبضہ-برقرار-رکھنا-چاہتی-ہے:-اکھلیش-یادو

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی انتخابات میں دھاندلی کرکے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہ ’’بی جے پی نے آئینی اداروں کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کا ایجنڈا صرف طاقت کا غلط استعمال ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے سماج وادی پارٹی کے حامیوں کے ووٹ کم کرنے کی سازش کی۔‘‘

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو منگل کو پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر پر آئے کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کسان مخالف ہے۔ تین کالے زرعی قوانین کے خلاف تحریک میں 800 کسان شہید ہوئے۔ بی جے پی حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ بی جے پی حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری کو کم کرنے اور غربت ختم کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ کسانوں کی گندم لوٹ لی گئی۔ کسانوں کو گندم کی لاگت کے برابر بھی قیمت نہیں ملی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی پشت پناہی میں دو کمپنیوں نے ریفائنڈ آئل مارکٹ کے 60 فیصد پر قبضہ کر لیا ہے۔ مارکٹ کو کنٹرول کرنے کی سوچی سمجھی سازشیں جاری ہیں۔ صرف چند کمپنیاں کسانوں سے دھان اور گندم خرید رہی ہیں۔ کسان کو نہ تو اپنی فصل کے لیے ایم ایس پی ملا اور نہ ہی سیلاب اور خشک سالی سے متاثرہ فصل کا معاوضہ ہی مل سکا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے دور حکومت میں افرا تفری پھیلی ہوئی ہے۔ امن و امان تباہ ہو چکا ہے۔ تعلیم اور صحت کی خدمات تباہ حال ہیں۔ اس حکومت سے انصاف کی کوئی امید نہیں۔ لوگ بجلی اور پانی کے لیے پریشان ہیں۔ انہوں نے بجلی کا ایک یونٹ بھی پیدا نہیں کیا۔‘‘

افغانستان کی کرنسی کی شاندار کارکردگی، ڈالر سے لے کر یورو اور پاؤنڈ سب پیچھے رہ گئے

0
افغانستان-کی-کرنسی-کی-شاندار-کارکردگی،-ڈالر-سے-لے-کر-یورو-اور-پاؤنڈ-سب-پیچھے-رہ-گئے

کابل: اگر آپ سے دنیا کی مضبوط ترین کرنسی کے بارے میں پوچھا جائے تو سب سے پہلے ڈالر کا نام آتا ہے۔ آپ پونڈ، یورو یا دینار کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں۔ جس نام کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے اس نے ستمبر کی سہ ماہی میں امریکی ڈالر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اور صرف ڈالر ہی کیوں نہیں، یورو سے لے کر پاؤنڈ تک اور روپے سے لے کر یوآن تک، دنیا کی تمام کرنسیاں ستمبر کی سہ ماہی میں اس سے پیچھے رہ گئی ہیں۔

اور ایسا اس افغانستان کی کرنسی نے کیا ہے، جو اس وقت طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ستمبر سہ ماہی کے دوران افغان افغانی پوری دنیا میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی بن کر ابھری ہے۔ 26 ستمبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ڈالر کے مقابلے افغانی کی قدر 78.25 ہے۔ یعنی ایک ڈالر اور 78.25 افغانی کی قیمت برابر ہے۔

ہندوستانی کرنسی روپے کی بات کریں تو پیر کو بازار بند ہونے کے بعد یہ ڈالر کے مقابلے 83.27 پر تھا۔ یعنی ایک امریکی ڈالر اور 83.27 ہندوستانی روپے کی قیمت برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس وقت افغانی کی قدر روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ شرح تبادلہ کے مطابق، ایک افغان افغانی اور 1.06 ہندوستانی روپے کی قدر برابر ہے۔

ستمبر کی سہ ماہی میں افغانی کی قدر میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ دنیا کی کسی بھی کرنسی سے زیادہ ہے۔ بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق کولمبیا کی کرنسی پیسو ستمبر کی سہ ماہی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ستمبر کی سہ ماہی میں پیسو کی قدر میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو پچھلے ایک سال میں سب سے مضبوط کرنسی پیسو رہی ہے۔ سری لنکا کی کرنسی دوسرے نمبر پر ہے اور اس معاملے میں افغانی تیسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کےک مطابق افغانستان کی کرنسی کا مضبوط ہونا بے وجہ نہیں ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ- افغانستان میں اس وقت طالبان کی حکومت ہے اور طالبان کے نظام نے افغان کرنسی کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ دوسری وجہ- امریکہ کے ملک سے جانے کے بعد افغانستان کی سماجی و اقتصادی صورت حال ابتر ہو گئی تھی، لہذا افغانستان کو عالمی برادری سے بڑے پیمانے پر مدد مل رہی ہے، جس سے بالآخر افغان کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت افغانستان کی معیشت کو چلانے میں غیر ملکی امداد سب سے بڑا عنصر ثابت ہو رہی ہے۔ طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے، اقوام متحدہ نے افغانستان کو 5.8 بلین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ اس میں سے 4 بلین ڈالر صرف 2022 میں فراہم کیے گئے۔ دوسری جانب افغانستان کو قدرتی وسائل سے زرمبادلہ اکٹھا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ افغانستان کے پاس بیٹریوں میں استعمال ہونے والے لیتھیم سمیت بہت سے قدرتی وسائل کے بہت بڑے ذخائر ہیں۔