جمعہ, جون 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 81

گیانواپی مسجد سے متعلق عرضیوں پر آج الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوگی سماعت

0
گیانواپی-مسجد-سے-متعلق-عرضیوں-پر-آج-الہ-آباد-ہائی-کورٹ-میں-ہوگی-سماعت

وارانسی کی گیانواپی مسجد کمپلیکس سے متعلق درخواستوں پر آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ الہ آباد ہائی کورٹ گیانواپی تنازعہ سے متعلق پانچ عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کر رہی ہے۔ اس معاملہ مں دوپہر بعد سماعت ہونے کی توقع ہے۔

ان میں سے تین عرضیاں 1991 میں وارانسی کی عدالت میں دائر کیس کی برقراری سے متعلق ہیں۔ دو درخواستیں اے ایس آئی کے سروے آرڈر کے خلاف ہیں۔ 1991 کے معاملے میں متنازعہ جگہ کو ہندوؤں کے حوالے کرنے اور وہاں عبادت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ وارانسی کی عدالت میں 1991 میں دائر کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کو بنیادی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وارانسی کی عدالت اس کیس کی سماعت کر سکتی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس پریتنکر دیواکر کی سنگل بنچ اس کیس کی سماعت کرے گی۔ عدالت میں گزشتہ سماعت میں مسلم فریق کا اعتراض مسترد کر دیا گیا تھا۔ مسلم فریق نے تین بار فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد دوبارہ سماعت منعقد کرنے کے فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔

مسلم فریق کی جانب سے کہا گیا کہ گزشتہ کئی سالوں میں اس معاملے کی سماعت تقریباً 75 کام کے دنوں میں ہوئی ہے۔ ایسے میں اس معاملے کی دوبارہ سماعت نہیں ہو سکتی۔ مسلم فریق نے شکایت کی ایک کاپی دینے کا مطالبہ کیا تھا جس کی بنیاد پر جسٹس پرکاش پاڈیا کی بنچ سے خود چیف جسٹس پریتنکر دیواکر کو کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔

عدالت پہلے ہی مسلم فریق کی اس دلیل کو مسترد کر چکی ہے اور اس کیس کی سماعت کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ان پانچ درخواستوں کی سماعت کے بعد جسٹس پرکاش پاڈیا نے 25 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ انہوں نے اس کیس میں فیصلہ سنانے کے لیے 28 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔

تاہم فیصلہ سنائے جانے سے چند دن قبل جسٹس پرکاش پاڈیا کا الہ آباد ہائی کورٹ سے تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ اب اس کیس کی سماعت چیف جسٹس پرتینکر دیواکر کی بنچ کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے 28 اگست کے حکم میں کہا تھا کہ جسٹس پرکاش پاڈیا کی بنچ دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود کیس کی سماعت کر رہی ہے۔

سکم کی دریائے تیستا میں بادل پھٹنے سے 23 فوجی اہلکار لاپتہ

0
سکم-کی-دریائے-تیستا-میں-بادل-پھٹنے-سے-23-فوجی-اہلکار-لاپتہ

شمالی سکم میں بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے بعد کم از کم 23 فوجی افسران کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ شمالی سکم میں لوناک جھیل پر اچانک بادل پھٹنے سے وادی لاچن میں تیستا ندی میں سیلاب آ گیا۔

نیوز پورٹل ’نیوز 18‘ پر شائع ہوئی خبر کے مطابق وادی کے ساتھ کچھ فوجی ادارے  بھی متاثر ہوئے ہیں اور تفصیلات کی تصدیق کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صبح  تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔

سکم کے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے بھی سنگتم میں سیلاب کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق چنگتھانگ ڈیم سے اچانک پانی چھوڑنے سے پانی کی سطح 15 سے 20 فٹ بلند ہو گئی ہے۔جس کی وجہ سے سنگتم کے قریب باردانگ میں کھڑی فوج کی گاڑیاں متاثر ہو ئی  ہیں۔ جبکہ 23 جوان لاپتہ ہیں، فوج کی 41 گاڑیاں بھی کیچڑ کے نیچے دب گئی ہیں۔ سرچ آپریشنز جاری ہیں۔

فوج امدادی کارروائیوں میں آپریشنل چیلنجوں سے بھی لڑ رہی ہے کیونکہ علاقے میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کم ہے۔ جو افسران کمانڈ لیول پر ہیں انہیں زمین پر موجود لوگوں سے رابطہ قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ لاپتہ افراد کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

منی پور تشدد: کوکیوں کی گرفتاری کے خلاف بند، 2 اضلاع میں معمولات زندگی مفلوج

0
منی-پور-تشدد:-کوکیوں-کی-گرفتاری-کے-خلاف-بند،-2-اضلاع-میں-معمولات-زندگی-مفلوج

امپھال: منی پور کے قبائلی اکثریتی چوراچاند پور اور کانگ پوکپی اضلاع میں منگل کو دوسرے دن بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج رہے۔ انڈیجینس ٹرائبل لیڈرز فورم (آئی ٹی ایل ایف) اور قبائلی اتحاد کی کمیٹی (سی او ٹی یو) کی خواتین ونگ کی طرف سے سی بی آئی کے ہاتھوں کوکی زو قبائلیوں کی گرفتار کے خلاف غیر معینہ بند کی کال دی گئی تھی۔

تاہم، دو نوجوان طالب علموں کے قتل کے سلسلے میں سی بی آئی کے ذریعہ کوکی زو سے چار لوگوں کی گرفتاری کے خلاف آئی ٹی ایل ایف کی طرف سے چورا چاند پور ضلع میں پیر کی صبح سے بلایا گیا دو روزہ بند منگل کی شام کو ختم ہو گیا۔

آئی ٹی ایل ایف اور سی او ٹی یو کی خواتین ونگ امپھال سے دو نوعمر طالب علموں کے مبینہ اغوا اور قتل کے معاملے میں بین الاقوامی سازش کے الزام میں چار افراد کی من مانی گرفتاری اور دو نابالغوں اور ایک دوسرے شخص کو حراست میں لینے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

آئی ٹی ایل ایف کے خواتین ونگ کی ممبران نے اس بات کو یقینی بنایا کہ چورا چند پور کی تمام سڑکیں سنسان رہیں کیونکہ تمام دکانوں اور دیگر اداروں کے شٹر نیچے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ بازاروں میں کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی اور سرکاری دفاتر میں کوئی موجودگی نہیں دیکھی گئی، جب کہ بینک اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

ربیکا، ایک آئی ٹی ایل ایف خواتین کے ونگ کی کارکن جو اس شٹ ڈاؤن کے نفاذ کی قیادت کر رہی تھی، نے اس بند کو جائز قرار دیا اور کمیونٹیز کے درمیان امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا ’’دو کوکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور ایک ماں اور بیٹے کو ایمبولینس میں زندہ جلانے سمیت کوکی زو کے لوگوں کی عصمت دری اور قتل کے بہت سے واقعات کو نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن سی بی آئی نے کوکی زو برادری کے دو نابالغوں سمیت چھ لوگوں کو گرفتار کیا۔‘‘

دونوں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے مرکزی ایجنسیوں سے اپیل کی کہ حراست میں لیے گئے لوگوں کو بغیر کسی شرط کے رہا کیا جائے۔

انہوں نے سی بی آئی پر مزید زور دیا کہ وہ سیاسی دباؤ میں جلد بازی سے کام نہ لے، بلکہ پیشہ ورانہ طریقے سے کام کرے اور برادریوں یا مذہب کی پرواہ کیے بغیر نسلی تنازعہ کے دوران ہونے والے تمام جرائم کے ذمہ داروں کو گرفتار کرے۔ انہوں نے کہا کہ مشتعل افراد کوکی زو کے لوگوں کے خلاف جرائم کے تمام معاملات میں انصاف کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔

شراب پالیسی معاملہ: عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی رہائش گاہ پر ای ڈی کا چھاپہ

0
شراب-پالیسی-معاملہ:-عام-آدمی-پارٹی-کے-رکن-پارلیمنٹ-سنجے-سنگھ-کی-رہائش-گاہ-پر-ای-ڈی-کا-چھاپہ

نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کو عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ رپورٹ کے مطابق ای ڈی نے یہ چھاپہ دہلی کی متنازع شراب پالیسی میں گھپلے کے سلسلے میں مارا ہے۔ اس سے قبل سنجے سنگھ کے قریبی مقامات پر بھی چھاپے مارے گئے تھے۔ سنجے سنگھ کا نام شراب پالیسی معاملہ کی چارج شیٹ میں بھی درج ہے۔ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو بھی شراب پالیسی معاملہ معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنجے سنگھ خواتین کو بااختیار بنانے پر ایک پروگرام میں حصہ لینے کے لیے کل رات تائیوان جانے والے تھے لیکن حکومت نے انہیں سیاسی کلیئرنس جاری نہیں کیا، اس لیے وہ پرواز نہیں کر سکے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی چارج شیٹ میں الزام لگایا تھا کہ شراب پالیسی کے مبینہ گھوٹالہ کے ملزم تاجر دنیش اروڑہ نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران سنجے سنگھ بھی موجود تھے۔

دنیش اروڑہ کے ای ڈی کے سامنے دئے گئے بیان کے مطابق، اس کی سنجے سنگھ سے پہلی ملاقات ایک پروگرام میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ منیش سسودیا کے رابطے میں آیا۔ چارج شیٹ کے مطابق سنجے سنگھ کے کہنے پر دنیش اروڑہ نے کئی ریسٹورنٹ مالکان سے دہلی میں آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی فنڈ جمع کرنے کے لیے بات کی۔ انہوں نے سسوڈیا کو 32 لاکھ روپے کا چیک بھی سونپا۔ ای ڈی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سنجے سنگھ نے دنیش اروڑہ کے ایک معاملے کو حل کیا جو محکمہ ایکسائز کے پاس زیر التوا تھا۔

اس سے پہلے بھی عام آدمی پارٹی کے کئی لیڈر تفتیشی ایجنسیوں کے ریڈار پر آ چکے ہیں۔ ای ڈی نے گزشتہ سال مئی میں منی لانڈرنگ کیس میں ستیندر جین کو گرفتار کیا تھا، جو عام آدمی پارٹی حکومت میں وزیر تھے۔ تاہم فی الحال وہ بیماری کی وجہ سے سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت پر ہیں۔

اس کے علاوہ ای ڈی نے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو اس سال فروری میں دہلی شراب پالیسی میں مبینہ گھوٹالہ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں شراب پارلیسی میں منی لانڈرنگ کی جانچ کر رہی ای ڈی نے بھی گرفتار کر لیا۔ سسودیا فی الحال جیل میں قید ہیں۔ تاہم عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال اپنے لیڈروں کو سخت ایماندار قرار دیتے رہے ہیں۔

ڈیڑھ ماہ میں ریلیز ہوگا بہار کا معاشی سروے ڈاٹا، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا اعلان

0
ڈیڑھ-ماہ-میں-ریلیز-ہوگا-بہار-کا-معاشی-سروے-ڈاٹا،-وزیر-اعلیٰ-نتیش-کمار-کا-اعلان

بہار حکومت کے ذریعہ ریاست میں کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا سامنے آنے کے بعد سیاسی ہلچل بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ ہلچل صرف بہار میں نہیں بڑھی ہے، بلکہ قومی سطح پر بیان بازیوں کا دور چل پڑا ہے۔ ایک طرف جہاں کانگریس نے بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا سامنے لائے جانے کا خیر مقدم کیا ہے، وہیں وزیر اعظم مودی سمیت بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈران نے نتیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس درمیان آج نتیش کمار نے ریاست کی 9 اہم پارٹیوں کی میٹنگ بلائی تھی جو ہنگامہ خیز رہی۔ اس میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیوں کی ناراضگی صاف دیکھنے کو ملی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹنگ میں حزب مخالف لیڈر وجئے سنگھ نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سامنے ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز کیے جانے پر کئی طرح کے سوال رکھ دیے۔ سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آخر اس رپورٹ کو جاری کرنے میں اتنی ہڑبڑی کیوں دکھائی گئی۔ انھوں نے پوچھا کہ ابھی نصف ہی رپورٹ سامنے آئی ہے، تو پھر یہ جلد بازی کیوں کی گئی؟ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس پر کہا کہ جلد ہی مکمل رپورٹ بھی سامنے آ جائے گی۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ابھی تو نصف رپورٹ ہی سامنے آئی ہے، ڈیڑھ ماہ بعد پوری رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں معاشی سروے کا ڈاٹا بھی ہوگا۔‘‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ریاستی صدر اخترالایمان نے بھی ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کو تقسیم کرنے کا کام اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو پسماندہ اور انتہائی پسماندہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دوسری طرف بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر) کے بانی جیتن رام مانجھی نے بھوئیاں ذات کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اس کی تمام ذیلی ذاتوں کو ایک کر کے تب اعداد و شمار جاری کیا جانا چاہیے۔ بی جے پی لیڈر ہری ساہنی نے بھی ملاح ذات کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ملاح کی کئی ذیلی ذاتیں ہیں اور ان کے اعداد و شمار الگ الگ جاری کیے گئے ہیں جس سے ملاحوں کی آبادی بہت کم نظر آ رہی ہے۔ حالانکہ میٹنگ میں موجود کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر شکیل احمد اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے اس ذات پر مبنی مردم شماری اور اس کی رپورٹ کو تاریخی قرار دیا۔

واضح رہے کہ بہار کی نتیش حکومت نے ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا 2 اکتوبر کو جاری کیا۔ حکومت کی طرف سے جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں تقریباً 36 فیصد آبادی انتہائی پسماندہ طبقہ، 27 فیصد آبادی پسماندہ طبقہ، 19.5 فیصد آبادی ایس سی، 15.5 فیصد آبادی اعلیٰ ذات اور 1.5 فیصد آبادی ایس ٹی کی بتائی گئی ہے۔ جاری رپورٹ کے مطابق اس وقت بہار کی مجموعی آبادی 13 کروڑ سے زیادہ ہے۔

نیوز کلک فنڈنگ کیس: پربیر پرکایستھ اور امت چکرورتی گرفتار، 46 لوگوں سے ہوئی پوچھ تاچھ

0
نیوز-کلک-فنڈنگ-کیس:-پربیر-پرکایستھ-اور-امت-چکرورتی-گرفتار،-46-لوگوں-سے-ہوئی-پوچھ-تاچھ

نیوز کلک فنڈنگ کیس میں آج صبح سے ہی دہلی پولیس کا اسپیشل سیل پوری طرح سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ڈیجیٹل نیوز ویب سائٹ نیوز کلک فنڈنگ کیس معاملے میں دہلی پولیس نے نیوز کلک کے بانی پربیر پرکایستھ اور امت چکرورتی کو گرفتار کر لیا ہے۔ افسران کے حوالے سے ’اے بی پی لائیو‘ نے بتایا کہ پولیس کی اسپیشل سیل نے غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں چھاپہ ماری کے بعد نیوز پورٹل کے دفتر کو سیل کر دیا ہے۔

اس معاملے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ’’اسپیشل سیل میں درج یو اے پی اے معاملے میں کی گئی چھاپہ ماری، ضبطی اور حراست کے بعد اب دو ملزمین پربیر پرکایستھ اور امت چکرورتی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر مشتبہ 37 مردوں اور 9 خواتین سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ اس دوران ڈیجیٹل مواد اور دستاویزوں وغیرہ کو جانچ کے لیے ضبط/جمع کیا گیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے یو اے پی اے کے تحت درج ایک معاملے میں منگل کی صبح نیوز کلک اور اس سے جڑے صحافیوں کے گھر پر چھاپہ ماری شروع کی تھی۔ جن صحافیوں کے گھر پولیس پہنچی ان میں ابھیسار شرما، ارملیش، اونندو چکرورتی اور پرنجے گوہا ٹھاکرتا سمیت مزید کچھ اہم نام ہیں۔ کچھ لوگوں کو حراست میں لے کر بھی پوچھ تاچھ کی گئی جنھیں بعد میں رِہا کر دیا گیا۔

اس پورے معاملے میں مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر کا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے بھونیشور میں کہا کہ ملک کی جانچ ایجنسیاں آزاد ہیں اور وہ قانون کے مطابق کام کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر کسی نے کچھ غلط کیا ہے تو جانچ ایجنسی اس سلسلے میں کام کرتی ہے۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر آپ نے ناجائز طریقے سے پیسہ حاصل کیا ہے یا کچھ قابل اعتراض کیا ہے تو جانچ ایجنسی اس کی جانچ نہیں کر سکتی۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ نیوز کلک کے خلاف یہ کارروائی اس الزام کے بعد کی گئی ہے کہ اس نے چین کی حمایت میں تشہیر کرنے کے لیے فنڈ حاصل کیا۔ یہ ویب سائٹ ہندوستان میں چین حامی تشہیر کے لیے امریکی کروڑپتی نیول رائے سنگھم سے مبینہ طور پر پیسہ حاصل کرنے کو لے کر حال ہی میں سرخیوں میں آئی تھی۔

متھرا شاہی عیدگاہ کیس: سپریم کورٹ مسجد کمیٹی کی عرضی پر سماعت کے لیے تیار، 30 اکتوبر کی تاریخ مقرر

0
متھرا-شاہی-عیدگاہ-کیس:-سپریم-کورٹ-مسجد-کمیٹی-کی-عرضی-پر-سماعت-کے-لیے-تیار،-30-اکتوبر-کی-تاریخ-مقرر

اتر پردیش میں متھرا کے شری کرشن جنم بھومی تنازعہ معاملے میں مختلف راحتوں کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں کو اپنے پاس منتقل کرنے کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف شاہی عیدگاہ مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ذریعہ داخل عرضی پر سپریم کورٹ سماعت کے لیے راضی ہو گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کی تاریخ 30 اکتوبر مقرر کی ہے۔

جسٹس سنجے کشن کول اور سدھانشو دھولیا کی بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ مسجد کمیٹی کی طرف سے پیش وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دونوں طبقات سالوں سے خیر سگالی کے ساتھ رہ رہے ہیں، لیکن اب جا کر یہ مقدمہ داخل کیا گیا ہے۔ وکیل نے بنچ کو بتایا کہ الٰہ آباد اور متھرا کے درمیان کی دوری 600 کلومیٹر ہے، لیکن متھرا سے دہلی کی دوری تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔

مسجد اتر پردیش کے متھرا میں واقع ہے۔ شاہی عیدگاہ مسجد انتظامیہ کمیٹی کی اپیل اس بنیاد پر آئی ہے کہ اس کے پاس الٰہ آباد کا سفر کرنے کے لیے فنڈ نہیں ہے۔ وہ پسند کرے گی کہ عرضیوں کی سماعت کسی نزدیکی جگہ پر کی جائے۔ اس سے پہلے مئی میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے معاملے سے متعلق متھرا کی عدالت کے سامنے زیر التوا سبھی مقدمات کو اپنے پاس منتقل کر لیا تھا۔

عرضیوں پر بحث کا جواب دیتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول نے کہا کہ یہ الٰہ آباد اور لکھنؤ ہائی کورٹس کا مسئلہ ہے۔ لکھنؤ کے نزدیکی مقامات اب بھی الٰہ آباد کے حلقہ اختیار میں آتے ہیں۔ افسوسناک ریزلٹ، لیکن کوئی بھی وہاں سخت فیصلہ نہیں لینا چاہتا۔

جسٹس کول نے کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ مسجد تنازعہ کے سلسلے میں ضروری جانکاری اور دستاویز بھیجنے کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو ایک ریمائنڈر بھیجا۔ جسٹس کول نے کہا کہ ’’دفتری رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھیجے گئے 21 جولائی 2023 کے ہمارے حکم کے مطابق، کوئی موافق جانکاری حاصل نہیں ہوئی ہے… آخری حکم کے ساتھ ایک ریمائنڈر بھیجا جانا چاہیے…۔‘‘

واضح رہے کہ عرضیاں کرشن جنم بھومی اور متھرا شاہی عیدگاہ سے متعلق ہیں۔ یہ تنازعہ مغل بادشاہ اورنگ زیب کے زمانے سے جڑا ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ مسجد کی تعمیر مغل حکمراں کے حکم پر بھگوان کرشن کی پیدائش والی جگہ پر بنے مندر کو منہدم کرنے کے بعد کی گئی تھی۔

آسام حکومت نے ’سودیشی مسلمانوں‘ کی معاشی و سماجی حالت کی تشخیص کا کیا فیصلہ

0
آسام-حکومت-نے-’سودیشی-مسلمانوں‘-کی-معاشی-و-سماجی-حالت-کی-تشخیص-کا-کیا-فیصلہ

آسام حکومت نے ریاست میں موجود ’سودیشی مسلمانوں‘ سے متعلق آج ایک انتہائی اہم فیصلہ لیا ہے۔ حکومت نے 3 اکتوبر کو کہا کہ وہ ریاست کے پانچ سودیشی مسلم طبقات کی معاشی و سماجی حالت کی تشخیص کرائے گی تاکہ ان کے فلاح کے لیے سرکاری منصوبے تیار کیے جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے سکریٹریٹ میں سینئر افسران کے ساتھ اس معاملے پر آج میٹنگ بھی کی۔

آسام کے وزیر اعلیٰ دفتر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کیا ہے جس میں آج ہوئی میٹنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’جنتا بھون میں ایک میٹنگ میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ آسام کے سودیشی مسلم طبقات (گوریا، موریا، دیشی، سید اور جولہا) کی معاشی و سماجی حالت کو لے کر سروے کریں۔‘‘

وزیر اعلیٰ دفتر کا کہنا ہے کہ معاشی و سماجی حالت کی تشخیص کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد اس کی بنیاد پر ریاستی حکومت سودیشی اقلیتوں کے سماجی و معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے سرکاری منصوبے بنائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ اتوار کو ہی آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے مسلمانوں کے تعلق سے ایسا بیان دیا تھا جو تنازعہ کا شکار ہو گیا تھا۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی کو ’چار کے میاں لوگوں‘ کا اگلے دس سالوں تک ووٹ نہیں چاہیے۔ چار کے میاں لوگوں سے وزیر اعلیٰ کا مطلب بنگالی بولنے والے مسلم طبقہ سے تھا۔

دہلی پولیس نے نیوز کلک کا دفتر کیا سیل، ’انڈیا‘ اتحاد کا بی جے پی حکومت پر شدید حملہ

0
دہلی-پولیس-نے-نیوز-کلک-کا-دفتر-کیا-سیل،-’انڈیا‘-اتحاد-کا-بی-جے-پی-حکومت-پر-شدید-حملہ

آج صبح سے ہی دہلی پولیس کے ذریعہ نیوز کلک کیس میں کئی ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی گئی۔ کچھ مقامات پر چھاپہ ماری کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ دہلی پولیس اسپیشل سیل کے افسران نے دہلی میں نیوز کلک کے دفتر کو سیل کر دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں افسران کے ذریعہ دفتر پر تالا لگاتے اور اس سیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس درمیان نیوز کلک کے دفتر اور اس سے جڑے صحافیوں و رائٹرس کی رہائش پر ہوئی چھاپہ ماری کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ پریس کلب آف انڈیا اور ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا جیسے اداروں نے بھی حکومت کے ذریعہ کی گئی اس کارروائی کو اظہارِ رائے کی آزادی اور میڈیا پر حملہ قرار دیا ہے۔ لوک سبھا انتخاب کے پیش نظر ایک پلیٹ فارم پر آئی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی نیوز کلک کے خلاف ہو رہی کارروائی پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیاں بی جے پی حکومت کے ذریعہ میڈیا پر تازہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہیں۔ ہم پوری طرح میڈیا کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئینی طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

انڈیا اتحاد نے اپنے بیان میں مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’گزشتہ 9 سالوں میں بی جے پی حکومت نے برطانوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی)، نیوز لانڈری، دینک بھاسکر، بھارت سماچار، کشمیر والا، دی وائر وغیرہ کو دبانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کو تعینات کر کے قصداً میڈیا کو پریشان کیا ہے اور تازہ معاملہ نیوز کلک کے صحافیوں پر کارروائی ہے۔‘‘ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت کی کارروائی ہمیشہ صرف ان میڈیا اداروں اور صحافیوں کے خلاف ہوتے ہیں جو اقتدار سے سچ بولتے ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی حکومت ایسے صحافیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی جو ملک میں نفرت اور زہر انگیزی کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس وقت بی جے پی مفلوج نظر آنے لگتی ہے۔ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد میں عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرے اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا پر حملے بند کرے۔‘‘

نوبل پرائز 2023: طبیعیات کے شعبہ میں آگسٹنی، فیرینس اور ہویلیر کو ملا نوبل انعام

0
نوبل-پرائز-2023:-طبیعیات-کے-شعبہ-میں-آگسٹنی،-فیرینس-اور-ہویلیر-کو-ملا-نوبل-انعام

طب کے بعد طبیعیات شعبہ کے لیے بھی نول پرائز 2023 کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ طبیعیات (فزکس) کے لیے 2023 کا نوبل انعام مشترکہ طور پر پیرے آگسٹنی، فیرینس کراؤسز اور اینی ایل ہویلیر کو دیا گیا ہے۔ الیکٹرانس پر مطالعہ کے لیے یہ اعزاز تینوں سائنسدانوں کو ملا ہے۔ ایوارڈ ان تجرباتی طریقوں کے لیے دیا گیا ہے جس میں کسی شئے میں الیکٹران کی رفتار کے مطالعہ کے لیے روشنی کے ایٹوسیکنڈ پلس پیدا کیے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ اینی ایل ہویلیر طبیعیات کے اس شعبہ میں نوبل انعام جیتنے والی پانچویں خاتون بن گئی ہیں۔ اب تک طبیعیات کے شعبہ میں مجموعی طور پر 119 لوگوں کو اس خطاب سے نوازا گیا ہے۔ گزشتہ سال طبیعیات کا نوبل انعام مشترکہ طور پر الین اسپیکٹ، جان ایف کلاؤسر اور اینٹن جلنگر کو دیا گیا تھا۔ الین اسپیکٹ فرانس کے سائنسداں ہیں، جبکہ جان ایف کلاؤسر امریکہ اور اینٹن جلنگر آسٹریا کے سائنسداں ہیں۔ ان سائنسدانوں کے تجربات نے کوانٹم انفارمیشن کی بنیاد پر نئی تکنیک کا راستہ صاف کیا تھا۔

بہرحال، نوبل پرائز 2023 کے اعلانات کا سلسلہ 2 اکتوبر سے شروع ہوا ہے اور پہلے دن فیزیولوجی یا طب کے شعبہ میں کیٹالن کاریکو اور ڈرو ویسمین کو نوبل انعام دینے کا اعلان ہوا۔ انھیں نیوکلیوسائیڈ بیس ترامیم سے متعلق ان کی دریافتوں کے لیے یہ اعزاز دیا گیا۔ اس دریافت کی وجہ سے کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 کے خلاف اثردار ایم آر این اے ٹیکوں کے ڈیولپمنٹ میں مدد ملی۔