جمعرات, جون 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 69

جنوبی کنڑ ضلع کے 5000 افراد اسرائیل میں پھنسے، وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اٹھایا بڑا قدم

0
جنوبی-کنڑ-ضلع-کے-5000-افراد-اسرائیل-میں-پھنسے،-وزیر-اعلیٰ-سدارمیا-نے-اٹھایا-بڑا-قدم

اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جاری جنگ ہر دن کے ساتھ خوفناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس درمیان پتہ چلا ہے کہ کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع سے تقریباً 5000 لوگ جنگ متاثرہ اسرائیل میں پھنسے ہوئے۔ وزارت خارجہ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ان سبھی کو محفوظ وطن واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس درمیان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرناٹک کی سدارمیا حکومت نے اسرائیل میں مدد کی ضرورت والے ریاست کے پھنسے لوگوں کے لیے ہیلپ لائن نمبر کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کرناٹک ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر بھی قائم کیا ہے جو لگاتار اسرائیل میں پھنسے لوگوں کی جانکاری لے رہا ہے اور ان کے اہل خانہ کو تازہ حالات کے بارے میں بتا رہا ہے۔

اسرائیل میں جنوبی کنڑ ضلع کے تقریباً 5000 لوگوں کے پھنسے ہونے کی جانکاری دیتے ہوئے کرناٹک بی جے پی صدر اور رکن پارلیمنٹ نلن کمار کتیل نے بتایا کہ مجھے جنوبی کنڑ ضلع کے تقریباً 5000 لوگوں کے اسرائیل میں ہونے کی جانکاری ہے۔ میں نے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کو خط لکھا ہے۔ ان سبھی کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے گا۔

نلن کمار کتیل نے کہا کہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ کسی کو نقصان نہ ہو اور مرکزی حکومت انھیں ہندوستان واپس لائے گی۔ میں نے مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ اور پارلیمانی امور کے وزیر وی مرلی دھرن سے بھی بات کی ہے۔ میں نے جنوبی کنڑ کے انچارج ڈپٹی کمشنر کو پھنسے ہوئے لوگوں کی پوری تفصیل حاصل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

نل کتیل نے کہا کہ اسرائیل میں پھنسے لوگوں کے گھر والے فکرمند ہیں۔ اسرائیل میں محفوظ ہونے کے باوجود بھی ایک خوف کا ماحول ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے دوران بھی ایسی ہی حالت تھی۔ ہم یہاں ان طلبا کی رہائش گاہوں پر گئے تھے جو یوکرین میں پھنس گئے تھے۔ تب مودی حکومت نے ہندوستانیوں کو بچایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر سفارتخانہ کے رابطے میں ہوں۔

مدھیہ پردیش کی عوام بدعنوانی اور قبائلیوں کی بے عزتی کا بوجھ مزید نہیں اٹھانے والی: راہل گاندھی

0
مدھیہ-پردیش-کی-عوام-بدعنوانی-اور-قبائلیوں-کی-بے-عزتی-کا-بوجھ-مزید-نہیں-اٹھانے-والی:-راہل-گاندھی

مدھیہ پردیش کے شہڈول واقع بیوہاری اسمبلی میں آج کاگنریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ’جن آکروش ریلی‘ سے خطاب کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر جم کر حملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی زمین گزشتہ 18 سالوں سے کسانوں کی خودکشی، بے لگام بدعنوانی اور قبائلیوں کی بے عزتی کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ لیکن اب اور نہیں۔ آنے والے انتخاب میں مدھیہ پردیش کی عوام بی جے پی حکومت کو سخت جواب دے گی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کھوکھلے وعدے نہیں کرتی۔ ہم ’پیسا‘ قانون لائے، جنگلاتی حقوق قانون لے کر آئے، ہم نے قانون بنایا تھا کہ اگر کسی صنعت کو قبائلی کی زمین چاہیے تو اسے گرام سبھا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر زمین مانگی ہوگی۔ لیکن بی جے پی نے اس ’پیسا‘ قانون کو رد کر دیا۔

راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں مہاکال لوک میں گھوٹالے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھگوان سے چوری کی جاتی ہے۔ اسکول یونیفارم میں چوری کی جاتی ہے۔ ویاپم میں نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ راہل گاندھی نے پیشاب واقعہ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران قبائلیوں کے اوپر پیشاب کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے قبائلی اور وَنواسی لفظ کے درمیان کا فرق بھی واضح کیا اور بتایا کہ ہم کانگریسی اپنے خطاب میں آپ کو قبائلی مخاطب کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ سب سے پہلے آئے۔ اس ملک کی پانی-جنگل-زمین پر آپ کا حق ہے، لیکن وَنواسی لفظ کا مطلب ہے کہ آپ کا زمین پر کوئی حق نہیں بنتا۔

کانگریس کے سابق صدر نے اپنے خطاب میں ذات پر مبنی مردم شماری کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو 90 افسران چلاتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے فیصلے یہی افسران لیتے ہیں۔ بجٹ کے پیسے کا کیسے استعمال کریں، یہی افسر طے کرتے ہیں۔ ان میں سے 3 افسر صرف او بی سی کے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر حکومت 100 روپے خرچ کرتی ہے، تو قبائلی افسر صرف 10 پیسے کا فیصلہ لیتے ہیں۔ قبائلی طبقہ کو کتنی حصہ داری ملنی چاہیے، او بی سی طبقہ کو کتنی حصہ داری ملنی چاہیے، یہ سب ذات پر مبنی مردم شماری سے ممکن ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی پر سوال کھڑتے ہوئے کہا کہ پہلے پی ایم مودی تقریروں میں وَنواسی لفظ کا استعمال کرتے تھے۔ میں نے ان کو منع کیا تو اب وہ پھر سے قبائلی بولنے لگتے ہیں، لیکن ان کے دل میں اب بھی وَنواسی لفظ ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ’پیسا‘ قانون لے کر آئے، لیکن بی جے پی نے اس کو رد کر دیا۔ بی جے پی حکومت نے ڈرا دھمکا کر آپ سے زمین چھین لی۔ آپ نے مخالفت کی تو سرکاری طاقت کا استعمال کر آپ کو ہٹایا گیا۔ میں گارنٹی سے آپ کو کہتا ہوں کہ جو آپ کا حق ہے، اسے ہم آپ کو دے کر رہیں گے۔

عتیق احمد کے دونوں بیٹے 221 دن بعد چلڈرن ہوم سے چھوٹے، والد کی قبر پر پہنچ کر زار و قطار روئے

0
عتیق-احمد-کے-دونوں-بیٹے-221-دن-بعد-چلڈرن-ہوم-سے-چھوٹے،-والد-کی-قبر-پر-پہنچ-کر-زار-و-قطار-روئے

پریاگ راج کے راجروپ پور واقع چلڈرن ہون میں 221 دن سے بند عتیق احمد کے دونوں بیٹے (اہزام اور آبان) پیر کے روز چھوڑ دیے گئے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے دونوں کو ان کی بوا پروین قریشی کے حوالے کیا ہے۔ فی الحال دونوں کو ہٹوا واقع رشتہ دار کے گھر میں رکھا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں پیر 9 اکتوبر کو ہی چلڈرن ہوم سے باہر آ گئے تھے اور رات تقریباً 9 بجے دونوں کساری-مساری قبرستان پہنچ کر والد (عتیق) اور چچا (اشرف) کی قبر سے لپٹ کر زار و قطار روئے۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں نے انھیں عتیق اور اشرف کے قتل کی ویڈیو بھی دکھائی۔

واضح رہے کہ 24 فروری کو امیش پال قتل واقعہ کے بعد 2 مارچ کو عتیق کے پانچ میں سے دو نابالغ بیٹوں کو چلڈرن ہوم میں داخل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ انھیں پولیس کہاں لے گئی ہے، اس سلسلے میں کچھ بھی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ اس کے لیے عتیق کی بیوی شائستہ پروین نے ضلع عدالت سے دونوں بچوں کا پتہ لگانے اور ان کی سیکورٹی یقینی کرنے کی گزارش کی تھی۔ جواب میں دھومن گنج پولیس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ دونوں چکیا میں لاوارث ہال میں گھومتے ملے تھے جنھیں چلڈرن ہوم میں رکھا گیا ہے۔

خوشخبری! آئی ایم ایف نے 2024 میں ہندوستان کی شرح ترقی کا اندازہ 6.1 سے بڑھا کر 6.3 فیصد کیا

0
خوشخبری!-آئی-ایم-ایف-نے-2024-میں-ہندوستان-کی-شرح-ترقی-کا-اندازہ-61-سے-بڑھا-کر-6.3-فیصد-کیا

آئی ایم ایف یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے 10 اکتوبر کو اپریل-جون  سہ ماہی میں امید سے زیادہ خرچ کا حوالہ دیتے ہوئے مالی سال 2024 کے لیے ہندوستان کی شرح ترقی کا اندازہ 6.1 فیصد سے بڑھا کر 6.3 فیصد کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے کی گئی یہ تبدیلی ہندوستان کے اعداد و شمار میں کی گئی تبدیلیوں میں سب سے نیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی کے اندازوں کے مطابق مالی سال 2024 کے لیے ہندوستان کی شرح ترقی 6.5 فیصد کے آس پاس رہ سکتی ہے۔ مالی سال 2025 کے لیے ترقی کے اندازہ کو 6.3 فیصد پر غیر متبدل رکھا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق آنے والے وقت میں ہندوستان سب سے تیزی سے بڑھتی اہم معیشت بنا رہے گا۔

آئی ایم ایف نے ورلڈ اکونومک آؤٹ لک میں منگل کے روز کہا کہ ہندوستان کی شرح ترقی مضبوط بنی رہے گی۔ 2023 اور 2024 میں اس کے 6.3 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ ایسا اپریل سے جون سہ ماہی میں امید سے بہتر خرچ کے اعداد و شمار کے سبب ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے حالیہ اندازوں میں مغربی ایشیا میں چل رہی کشیدگی کو شامل نہیں کیا ہے۔

ہندوستانی معیشت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اپریل-جون سہ ماہی میں 7.8 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ آئی ایم ایف کی طرف سے ہندوستان کی شرح ترقی کے اندازوں میں کیا گیا تازہ اضافہ اپریل میں اس کی طرف سے لگائے گئے اندازوں سے 0.4 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2024 کے لیے عالمی بینک نے ہندوستان کی شرح ترقی 6.3 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔

حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ پر اڈانی پورٹ کاروبار پر سوال

0
حماس-کے-حملے-کے-بعد-اسرائیل-کی-حیفہ-بندرگاہ-پر-اڈانی-پورٹ-کاروبار-پر-سوال

گوتم اڈانی کی زیرقیادت اڈانی پورٹس اینڈ ایس ای زیڈ لمیٹڈ، جس نے اس سال کے شروع میں اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ حاصل کی تھی، نے پیر کو کہا کہ حماس کے حالیہ حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تنازعات کے درمیان ان کا کاروبار محفوظ ہے۔

انگریزی روزنامہ ’دی ہندوستان ٹائمس‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق ہندوستانی نجی بندرگاہ آپریٹر نے ایک بیان میں  کہا، "ہم زمین پر کارروائی کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں جو جنوبی اسرائیل میں مرکوز ہے، جب کہ حیفہ بندرگاہ شمال میں واقع ہے۔”

اڈانی پورٹس اینڈ اکنامک زون کے حصص پیر کو 4.7 فیصد تک گر گئے، کیونکہ سرمایہ کاروں نے اسرائیل کے تنازعہ کے ممکنہ اضافے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔کمپنی نے مزید کہا کہ وہ اپنے ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنا رہی ہے، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ "ہم کاروباری تسلسل کے منصوبے کے ساتھ پوری طرح چوکس اور تیار ہیں جو ہمیں کسی بھی صورت حال کا مؤثر جواب دینے کے قابل بنائے گا۔”

کمپنی کے بیان کے مطابق، اڈانی پورٹس کے مجموعی کارگو حجم میں حیفہ بندرگاہ کا حصہ نسبتاً معمولی ہے، جو کہ صرف 3 فیصد ہے۔حیفہ بندرگاہ، جو بحیرہ روم پر ایک اہم تجارتی اور سیاحتی مرکز ہے، اسرائیل کے سمندری سامان کا تقریباً 99 فیصد ہینڈل کرتی ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے حملے نے جغرافیائی سیاسی خطرات کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے اور اس طرح اسرائیل سے متعلقہ اسٹاک دباؤ میں ہیں۔ اس واقعے نے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کو جنم دیا ہے ۔ مشرق وسطیٰ کے پورے خطے میں تنازعات کے پھیلنے کے بڑھتے ہوئے امکانات کو کافی خطرہ لاحق ہے۔

کانگریس کا ہدف بی جے پی کی آمرا نہ حکومت کا خاتمہ ہے: ناناپٹولے

0
کانگریس-کا-ہدف-بی-جے-پی-کی-آمرا-نہ-حکومت-کا-خاتمہ-ہے:-ناناپٹولے

بھارتیہ جنتا پارٹی آج ملک کو اسی طرح لوٹ رہی ہے جس طرح انگریزوں نے لوٹا تھا۔ بی جے پی حکومت نے ریلوے بیچ دی، ہوائی اڈے بیچ دیے، بجلی کی تقسیم کا نظام بیچ دیا اور کئی عوامی ادارے بھی بیچ دیے۔ مودی حکومت ترقی کے نام پر صرف ملک کے اثاثے بیچ رہی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ کانگریس کا واحد مقصد آمربی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے جو ملک میں جمہوری نظام، آئین اور عدالتی نظام کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

شمالی مہاراشٹر کے احمد نگر، جلگاؤں، دھولیہ، نندوربار اضلاع کا جائزہ اجلاس ناسک میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اودے پور کیمپ میں کیے گیے فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے ضلع، بلاک اور منڈل سطح پر پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کانگریس پارٹی اسمبلی وپارلیمنٹ کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرسکے۔

 پٹولے نے کہا کہ اب مقامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ماحول بدل گیا ہے۔ ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی قیادت پر لوگوں کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عام لوگوں کا ماننا ہے کہ صرف کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد ہی ملک کو بچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سورج کی روشنی کی طرح واضح ہے کہ راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ، مدھیہ پردیش سمیت پانچوں اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد زبردست اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئے گی۔

ایم ایل اے کنال پاٹل کی کاٹن مل کے خلاف کی گئی کارروائی پر نانا پٹولے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ جس طرح انگریزوں کے دور میں حکومت کے خلاف بولنے والوں پر مقدمہ چلایا جاتا تھا، اب اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت اپوزیشن میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کا دوہرا کردار یہ ہے کہ اس نے ان لیڈروں کو اقتدار میں لایا جن پر وزیر اعظم نے 70 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔اس جائزہ میٹنگ میں ریاستی صدر نانا پٹولے، قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات اور دیگر لیڈران موجود تھے۔

منی پور میں لوٹے گئے 5669 ہتھیاروں میں سے 1344 برآمد، باقی کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری

0
منی-پور-میں-لوٹے-گئے-5669-ہتھیاروں-میں-سے-1344-برآمد،-باقی-کی-بازیابی-کے-لیے-آپریشن-جاری

امپھال: منی پور میں 3 مئی کو ذات پات کے فسادات پھوٹنے کے بعد مختلف تنظیموں، ہجوموں اور افراد نے مجموعی طور پر 5669 مختلف قسم کے جدید ترین ہتھیار اور لاکھوں کی تعداد میں گولہ بارود لوٹ لیا گیا تھا۔ اب تک 1344 ہتھیار اور ہزاروں راؤنڈ گولہ بارود برآمد کیا جا چکا ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیر کو یہ اطلاع دی۔

منی پور حکومت کے چیف سیکورٹی ایڈوائزر کلدیپ سنگھ نے کہا کہ لوٹے گئے باقی ماندہ اسلحہ اور گولہ بارود کی بازیابی کے لیے مختلف ریاستی اور مرکزی سیکورٹی فورسز نے ریاست بھر میں ایک بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے سرحدی اور حساس علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی اور اس دوران امپھال ایسٹ، چورا چند پور اور تھوبل اضلاع سے 11 ہتھیار، 20 راؤنڈ گولہ بارود، دو کلو گرام گن پاؤڈر، ایک 51 ایم ایم مارٹر، ایک پستول برآمد کیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک بڑا دھماکہ خیز ہینڈ گرنیڈ، 10 دیسی ساختہ مارٹر اور دو ریڈیو سیٹ برآمد ہوئے۔

سی آر پی ایف کے سابق ڈائریکٹر جنرل سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ تلاشی آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک لوٹی گئی تمام بندوقیں برآمد نہیں ہو جاتیں۔

منی پور حکومت نے 22 ستمبر کو ہتھیار لوٹنے والے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ 15 دنوں کے اندر اپنے ہتھیار جمع کرائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی اور حفاظتی کارروائی کی جائے گی۔ 22 ستمبر کو ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا تھا کہ ریاستی حکومت ان 15 دنوں کے اندر ایسے غیر قانونی ہتھیار جمع کرنے والے افراد پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

سنگھ نے کہا، ’’15 دنوں کے اختتام پر، مرکزی اور ریاستی سیکورٹی فورسز دونوں ریاست بھر میں اس طرح کے ہتھیاروں کو برآمد کرنے کے لئے ایک مضبوط اور وسیع تلاشی آپریشن شروع کریں گے اور کسی بھی غیر قانونی ہتھیار سے منسلک تمام افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘

مہاراشٹر میں ضمنی انتخابات کیوں نہیں؟ آدتیہ ٹھاکرے کا الیکشن کمیشن سے سوال

0
مہاراشٹر-میں-ضمنی-انتخابات-کیوں-نہیں؟-آدتیہ-ٹھاکرے-کا-الیکشن-کمیشن-سے-سوال

ناگپور: سابق وزیر اور شیو سینا کے نوجوان لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے پیر کو الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ وہ مہاراشٹر میں لوک سبھا کی دو نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کیوں نہیں کروا رہا ہے؟ خیال رہے کہ کمیشن نے پیر کو پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا ہے، تاہم مہاراشٹر کی سیٹوں کے لیے ضمنی انتخابات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ادھو ٹھاکرے کی کابینہ میں وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ الیکشن کمیشن پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے ان دو لوک سبھا ضمنی انتخابات کو یکجا کر سکتا تھا۔ یاد رہے مہاراشٹر کی دو لوک سبھا سیٹیں چندر پور اور پونے ارکان پارلیمنٹ کے انتقال کے بعد خالی ہیں۔

کانگریس کے سریش عرف بالو دھنورکر (چندرپور) کا 30 مئی کو انتقال ہو گیا تھا، جب کہ بی جے پی کے بزرگ سیاست دان گریش باپٹ (پونے) کا طویل علالت کے بعد اس سال 29 مارچ کو انتقال ہوا۔

لوک سبھا انتخابات: ہریانہ کی تمام 90 اسمبلی سیٹوں پر ریلیاں نکالے گی کانگریس

0
لوک-سبھا-انتخابات:-ہریانہ-کی-تمام-90-اسمبلی-سیٹوں-پر-ریلیاں-نکالے-گی-کانگریس

چنڈی گڑھ: اگلے سال مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل ہریانہ میں منعقد ہونے والی کانگریس کی ریلیوں کے سلسلے میں تشکیل دی گئی 11 رکنی کمیٹی کی میٹنگ سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بھوپیندر سنگھ ہڈا اور ریاستی صدر چودھری اُدے بھان کی قیادت میں منعقد ہوئی۔

چنڈی گڑھ میں پارٹی دفتر میں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کانگریس اب انتخابی موڈ میں آئے گی۔ ریاست کے تمام 90 اسمبلی حلقوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی، جس کا آغاز یوم ہریانہ یعنی یکم نومبر سے ہوگا۔ پہلا جلسہ رادور میں ہوگا اور اگلی ریلی 5 نومبر کو اسرانہ میں ہوگی۔

چھوٹے پیمانے کے اس پروگرام کو ‘جن آکروش ریلی’ کا نام دیا گیا ہے اور پوری ریاست میں شروع کی جانے والی مہم کو ‘کانگریس لاو، ملک بچاؤ’ کا نام دیا گیا ہے۔

کمیٹی کے تمام ممبران بشمول سابق وزیر اشوک اروڑہ، کارگزار صدر جتیندر بھاردواج، سابق وزیر آفتاب احمد، گیتا بھوکل، راؤ دان سنگھ، آنند سنگھ دانگی، جے ویر والمیکی، کے وی سنگھ، پروفیسر وریندر سنگھ، سابق آئی اے ایس چندر پرکاش اور بجرنگ داس گرگ سمیت 11 ممبران میٹنگ میں موجود تھے۔

عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے احاطوں پر ای ڈی کی چھاپہ ماری

0
عام-آدمی-پارٹی-کے-رکن-اسمبلی-امانت-اللہ-خان-کے-احاطوں-پر-ای-ڈی-کی-چھاپہ-ماری

نئی دہلی: ای ڈی نے منگل کے روز عام آدمی پارٹی کے دہلی کے اوکھلا سے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے گھر پر چھاپہ ماری کی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں منگل کو دہلی میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی۔ امانت اللہ دہلی اسمبلی میں اوکھلا حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے اور کچھ دوسرے لوگوں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ای ڈی پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت احاطوں کی تلاشی لی۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نے دہلی وقف بورڈ میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق ایک مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں ان کے خلاف سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی ایف آئی آر اور دہلی کے انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی ایف آئی آر کا نوٹس لیا ہے۔ رکن اسمبلی امانت اللہ خان دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین ہیں۔

سی بی آئی اور دہلی حکومت کے اے سی بی دونوں نے دہلی وقف بورڈ کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے سلسلہ میں الگ الگ کیس درج کیے ہیں۔ امانت اللہ خان کو گزشتہ سال اے سی بی نے گرفتار بھی کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ تلاشی کے دوران کچھ ڈائریاں برآمد کی گئی ہیں۔ یہ ڈائریاں امانت اللہ خان کے قریبی ساتھی لڈن لدن خان سے برآمد ہوئی تھیں۔ ڈائریوں میں مبینہ طور پر حوالہ کے ذریعے لاکھوں کی لین دین کا ذکر تھا۔ ان میں زیادہ تر ٹرانزیکشنز غیر قانونی منی لانڈرنگ کی تھیں، کچھ ٹرانزیکشن بیرون ملک سے بھی ہوئی تھیں۔ اے سی بی نے اپنی تحقیقات ای ڈی کے ساتھ شیئر کی تھیں۔