جمعرات, اکتوبر 1, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 69

راجستھان میں اسمبلی انتخاب کی تاریخ تبدیل، اب 25 نومبر کو ڈالے جائیں گے ووٹ

0
راجستھان-میں-اسمبلی-انتخاب-کی-تاریخ-تبدیل،-اب-25-نومبر-کو-ڈالے-جائیں-گے-ووٹ

انتخابی کمیشن نے راجستھان میں اسمبلی انتخاب کی تاریخیں بدل دی ہیں۔ ریاست میں اب 23 نومبر کی جگہ 25 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابی کمیشن نے تاریخ میں کی گئی تبدیلی سے متعلق وضاحت بھی کی ہے۔ انتخابی کمیشن نے بتایا کہ راجستھان میں اسمبلی انتخاب کے لیے تاریخوں کے اعلان کے بعد کئی سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں نے انتخاب کی تاریخ بدلنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن (23 نومبر کو) بڑے پیمانے پر شادیاں اور سماجی تقاریب ہیں۔ اس اپیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخابی کمیشن نے ووٹنگ کے لیے نئی تاریخ 25 نومبر مقرر کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے راجستھان میں ووٹنگ کے لیے طے کی گئی نئی تاریخ کے ساتھ ساتھ اس سے جڑی دوسری تاریخوں میں بھی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ نئے انتخابی شیڈول کے طمابق 30 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری ہوگا، 6 نومبر تک پرچہ نامزدگی داخل کیا جا سکے گا، نامزدگی پرچوں کی جانچ 7 نومبر کو ہوگی اور 9 نومبر تک نام واپس لیے جا سکیں گے۔ 25 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور اس کا ریزلٹ 3 دسمبر کو سامنے آئے گا جو کہ پہلے مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ راجستھان کے ساتھ ساتھ گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، میزورم اور تلنگانہ میں بھی اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان انتخابی کمیشن کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں دو مراحل میں انتخاب ہوں گے جبکہ باقی سبھی ریاستوں میں ایک مرحلہ میں ہی ووٹ ڈالے جانے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ سبھی ریاستوں میں نومبر ماہ کی مختلف تاریخوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور ریزلٹ سبھی ریاستوں کا ایک ہی دن 3 دسمبر کو سامنے آئے گا۔

سپریم کورٹ نے عبداللہ اعظم کی سزا پر روک لگانے سے کیا انکار

0
سپریم-کورٹ-نے-عبداللہ-اعظم-کی-سزا-پر-روک-لگانے-سے-کیا-انکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک معاملے میں عبداللہ اعظم خان کی سزا پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ اس سال کے شروع میں اتر پردیش اسمبلی کے رکن کے طور پر نااہل ہو گئے تھے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور پرشانت کمار مشرا کی بنچ نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) لیڈر کی عرضی پر سماعت کی۔

بنچ نے کہا کہ عدالت نابالغ سے متعلق رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں اس مرحلے پر کوئی عبوری حکم دینے کی کوئی وجہ نہیں ملتی۔ پہلے کے حکم کے مطابق، نابالغ سے متعلق رپورٹ کے بعد اہم معاملہ پوسٹ کیا جائے۔‘‘

خان کو اس سال فروری میں ایم ایل اے کے طور پر نااہل قرار دے دیا گیا تھا، اس کے کچھ دن بعد انہیں مراد آباد کی عدالت نے قصوروار ٹھہرایا تھا اور دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اپریل میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا پر روک لگانے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

خان کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل اور سینئر ایڈوکیٹ وویک تنکھا نے قبل ازیں سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا تھا کہ واقعہ کے وقت ان کا موکل نابالغ تھا اور کہا کہ کیس کی سماعت جوینائل جسٹس بورڈ کو کرنی چاہیے تھی۔ سپریم کورٹ نے ستمبر میں مرادآباد ڈسٹرکٹ کورٹ کو 2008 کے ایک مجرمانہ معاملے میں عبداللہ اعظم خان کے نابالغ ہونے کے دعوے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایس پی لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 341 (غلط طریقے سے روک تھام) اور 353 (سرکاری ملازم کو اس کی ڈیوٹی سے روکنے کے لئے حملہ یا مجرمانہ طاقت) کے تحت 2008 میں درج ایک 15 سال پرانے مجرمانہ کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ان کی نااہلی کے بعد سوار اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب بھی ہوا۔ اپنا دل کے شفیق احمد انصاری نے یہ سیٹ جیتی۔ سپریم کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ سوار اسمبلی سیٹ پر انتخاب ان کی درخواست کے نتائج سے مشروط ہوگا۔

نریندر مودی اسٹیڈیم پر حملے کی دھمکی دینے والا گرفتار، اسی اسٹیڈیم میں 14 اکتوبر کو ہوگا ہند-پاک میچ

0
نریندر-مودی-اسٹیڈیم-پر-حملے-کی-دھمکی-دینے-والا-گرفتار،-اسی-اسٹیڈیم-میں-14-اکتوبر-کو-ہوگا-ہند-پاک-میچ

احمد آباد کرائم سیل نے شہر کے نریندر مودی اسٹیڈیم پر حملے کی دھمکی دینے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ دراصل پولیس کو حال ہی میں ایک دہشت بھرا ای میل موصول ہوا تھا جس میں احمد آباد کے نریندر مودی استیڈیم کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ احمد آباد کا نریندر مودی اسٹیڈیم وہی اسٹیڈیم ہے جہاں کرکٹ عالمی کپ 2023 کے بیشتر میچوں کا انعقاد کیا جانا ہے۔ آئندہ 14 اکتوبر کو بھی یہاں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان انتہائی اہم میچ کھیلا جائے گا۔ عالمی کپ 2023 کا افتتاحی میچ اسی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا اور فائنل مقابلہ بھی اسی میدان پر ہونا طے پایا ہے۔

گرفتار شخص کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اسے گجرات کے راجکوٹ سے گرفتار کیا گیا ہے اور پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ایک ای میل بھیج کر دعویٰ کیا تھا کہ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں دھماکہ ہوگا۔

ملزم بنیادی طور پر مدھیہ پردیش کا باشندہ ہے۔ فی الحال راجکوٹ کے باہری علاقے میں مقیم تھا۔ پولسی افسر نے بتایا کہ اس شخص نے اپنے فون سے ای میل بھیجا تھا، حالانکہ اس ای میل میں اس کا نام نہیں تھا۔ اس سے قبل پولیس نے جانکاری دی تھی کہ 14 اکتوبر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیلے جانے والے عالمی کپ مقابلے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اضافی سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

مودی حکومت سچ چھپانے کے لیے مافیا کی طرح کام کرتی ہے: جے رام رمیش

0
مودی-حکومت-سچ-چھپانے-کے-لیے-مافیا-کی-طرح-کام-کرتی-ہے:-جے-رام-رمیش

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی جنرل انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے بدعنوانی کے معاملے پر وزیر اعظم مودی پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت سچ کو چھپانے اور ڈرانے کے لیے مافیا کی طرح کام کرتی ہے۔ اگر کوئی اس کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرتا ہے تو اسے یا تو ڈرایا جاتا ہے یا ہٹا دیا جاتا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ آیوشمان بھارت اور دوارکا ایکسپریس وے گھوٹالوں کی رپورٹنگ کرنے والے سی اے جی کے تین افسروں کا تبادلہ مودی حکومت کی بدعنوانی کو چھپانے کے لیے کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے ایکس پر لکھا، ’’مودی حکومت سچ کو چھپانے اور ڈرانے کے لیے مافیا کی طرح کام کرتی ہے۔ اگر کوئی اس کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرتا ہے تو اسے یا تو ڈرایا جاتا ہے یا ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس کا تازہ ترین شکار کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے تین اہلکار ہیں، جنہوں نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیش کی گئی ایک رپورٹ میں سرکاری اسکیموں میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا پردہ فاش کیا۔‘‘

جے رام رمیش نے مزید لکھا، ’’سی اے جی کی رپورٹ نے بنیادی ڈھانچے اور سماجی اسکیموں میں گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا تھا۔ رپورٹ میں دوارکا ایکسپریس وے کی لاگت میں 1400 فیصد اضافے اور ٹینڈرنگ میں دھاندلی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں ہائی وے پروجیکٹوں سے 3600 کروڑ روپے کے غلط استعمال، بولی لگانے کے غلط عمل اور بھارت مالا اسکیم کی لاگت میں 60 فیصد اضافے کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’صرف اتنا ہی نہیں آیوشمان بھارت اسکیم کے آڈٹ میں ہلاک شدگان مریضوں کے لاکھوں دعوے اور کم از کم 7.5 لاکھ مستفیدین ایک ہی موبائل نمبر سے جڑے ہوئے پائے گئے۔ اب، آیوشمان بھارت اور دوارکا ایکسپریس وے گھوٹالوں کی رپورٹنگ کرنے والے سی اے جی کے تین عہدیداروں کا تبادلہ مودی حکومت کی بدعنوانی کو چھپانے کے لیے کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ کیا اس سب کے بعد سی اے جی کو ایک خود مختار ادارہ سمجھا جانا چاہئے؟ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ ان تبادلوں کے احکامات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے، افسران کو سی اے جی کے پاس واپس جانا چاہیے اور دوارکا ایکسپریس وے، بھارت مالا اور آیوشمان بھارت سے متعلق ان میگا گھوٹالوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘

کیجریوال کی امانت اللہ خان سے ملاقات، کہا- ’ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں وزیر اعظم مودی‘

0
کیجریوال-کی-امانت-اللہ-خان-سے-ملاقات،-کہا-’ہمیں-ختم-کرنا-چاہتے-ہیں-وزیر-اعظم-مودی‘

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بدھ کو دہلی کے اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا۔ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ’’تمام فائلوں کی جانچ ہوئی تھی، ایک پیسے کا بھی گھوٹالہ نہیں نکلا۔ دو سار سے ہمارے سینئر لیڈروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ منیش سسودا کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔ وزیر اعظم مودی عآپ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘

کیجریوال نے مزید کہا، ’’ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف فرضی مقدمے چل رہے ہیں۔ مودی کے کاموں اور الفاظ میں تکبر ہے۔ مودی نے ملک کا ماحول خراب کر دیا ہے۔ ہر کوئی ان سے خوفزدہ ہے۔ وزیر اعظم عآپ کو کچلنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ 2015 میں جیسے ہی ہماری حکومت بنی، شنگلو کمیٹی بنائی گئی، 400 فائلوں کی جانچ کی گئی لیکن کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ اب تک جتنے بھی فیصلے آئے ہیں، ان میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ اب تک جو بھی فیصلے سنائے گئے ہیں وہ تمام ہمارے حق میں رہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے کہا، "پچھلے دو سالوں میں انہوں نے ہمارے وزراء اور بڑے لیڈروں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں منیش سسودیا کے معاملے میں ہوئی سماعت میں، جج بار بار کہہ رہے تھے کہ کوئی ثبوت نہیں ہے، کو ثبوت تو پیش کریں۔ میں مودی جی کو چیلنج کرتا ہوں، اگر آپ کو ایک پیسے کی بھی کوئی چیز ملی ہے تو بتائیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ کو کچھ مل جاتا تو آپ مجھے چھوڑ دیتے؟‘‘

دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دو دن پہلے ان لوگوں کے خلاف تمام مقدمات بند کر دیے گئے جنہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے 70000 کروڑ روپے کا گھپلہ کیا ہے، کیونکہ وہ ان میں شامل ہو گئے تھے۔ موربی پل پر کوئی چھاپہ نہیں مارا۔ کرناٹک میں کوئی چھاپہ نہیں پڑا، سی اے جی رپورٹ میں گھوٹالے سامنے آئے لیکن کوئی چھاپہ نہیں پڑا۔ اگر کسی ملک کے بادشاہ میں اتنی انا ہو تو ملک ترقی کیسے کرے گا؟ آج ملک کا ماحول بہت خراب ہو چکا ہے اور لوگ ہندوستان چھوڑ کر دوسرے ممالک کی شہریت لے رہے ہیں۔ صنعتکار، تاجر، عام لوگ اور میڈیا سب خوفزدہ ہیں۔

دہلی: ٹیکسی لوٹنے کے بعد ڈرائیور کو 200 میٹر تک گھسیٹا گیا

0
دہلی:-ٹیکسی-لوٹنے-کے-بعد-ڈرائیور-کو-200-میٹر-تک-گھسیٹا-گیا

نئی دہلی: دہلی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سڑک کے بیچوں بیچ 200 میٹر تک گھسیٹنے کی المناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم کس طرح تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا ہے اور اس دوران کار کا ڈرائیور اس پر لٹک رہا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو پیچھے سے آنے والی کار میں بیٹھے کسی نے اپنے فون پر ریکارڈ کر لی۔

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان متاثرہ ڈرائیور کی ٹیکسی لوٹ کر فرار ہو رہے تھے۔ اس دوران جب اس نے اس پر احتجاج کیا اور ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اسے گھسیٹ کر بھاگنے لگے۔ اس واقعے میں متاثرہ ٹیکسی ڈرائیور کی موت ہو گئی ہے۔ پولیس نے اس واقعہ کے حوالے سے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہے۔ یہ واقعہ جنوبی دہلی کے مہیپال پور علاقے کی بتائی جا رہی ہے۔

پولیس نے متوفی کی شناخت 43 سالہ بیجندر کے طور پر کی ہے۔ بیجندر فرید آباد کا رہنے والا ہے۔ فی الحال پولس نے اس واقعہ کے حوالے سے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

اس واقعہ سے متعلق ایک اور ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے ٹیکسی ڈرائیور کو زخمی حالت میں اس کی ٹیکسی لوٹنے کے بعد سڑک پر چھوڑ دیا۔ جائے وقوعہ سے بہت سی کاریں تیز رفتاری سے جاتی ہوئی نظر آئیں لیکن کوئی بھی زخمی کو دیکھنے کے لیے نہیں رکا اور نہ ہی اس کی مدد کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کو بعد میں اطلاع ملی کہ ایک شخص زخمی حالت میں سڑک پر پڑا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے زخمی شخص کو قریبی اسپتال پہنچایا جہاں بعد میں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ آپ کو بتا دیں کہ اس واقعہ میں بجیندر کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔ پولس فی الحال بیجندر کے قاتلوں کی تلاش میں مصروف ہے۔ جائے وقوعہ کے آس پاس نصب تمام سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جارہی ہے۔ تاکہ ملزم کے بارے میں کچھ پتہ چل سکے۔

سپریم کورٹ نے دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے جاری کردہ رپورٹ طلب کر لی

0
سپریم-کورٹ-نے-دہلی-میں-فضائی-آلودگی-پر-قابو-پانے-کے-لیے-جاری-کردہ-رپورٹ-طلب-کر-لی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک کی راجدھانی دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے فضائی آلودگی کے انتظامی کمیشن (سی اے کیو ایم) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ طلب کی ہے۔ جسٹس ایس کے کول اور سدھانشو دھولیا نے تجربہ کار فنکار اپراجیتا سنگھ کے مکالمے پر توجہ مرکوز کی جس میں مانسون کے موسم میں دہلی میں فضائی آلودگی اور فاصلے کی جدوجہد کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا تھا۔

امیکس کیوری کے طور پر سنگھ کان کنی کے کنٹرول سے متعلق رٹ پٹیشن میں سپریم کورٹ کی مدد کی جاتی ہے۔ ہر سال دہلی اور ملک بھر میں اکتوبر سے دسمبر تک فارماسیوٹیکل پلانٹس کا اسٹاک رکھا جاتا ہے۔

سی اے ایم کا قیام 2020 میں قومی دارالحکومت علاقہ (میتری) اور آس پاس کے علاقوں میں ونڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین سے رابطہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ وہ ونڈ ٹیکنالوجی کے انتظام کے لیے بہتر ہم آہنگی، تحقیق، شناخت اور حل پیش کریں۔

عدالت عظمیٰ نے معاملے پر مزید غور کے لیے 31 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی اور اس دوران سی اے کیو ایم رپورٹ پر فیصلہ لینے کی ہدایت دی تھی۔

دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بدھ کی صبح اے کیو آئی دہلی میں 135، نوئیڈا میں 193 اور گروگرام میں 116 ریکارڈ کیا گیا۔ قبل ازیں منگل کو دارالحکومت کا اے کیو آئی 180 تھا۔ شادی پور کا اے کیو آئی 267، ڈی ٹی یو کا 206، نارتھ کیمپس کا 208 اور اہباس کا 218 تھا، یہ جگہ سب سے زیادہ آلودہ تھی۔

این سی آر کے کچھ علاقوں میں ہوا کا معیار انتہائی خراب سطح پر پہنچ گیا ہے۔ بہادر گڑھ کا اے کیو آئی 243، فرید آباد کا 227، گریٹر نوئیڈا کا 240 تھا۔ پیشین گوئی کے مطابق بدھ کو دہلی میں ہوا خراب ہو سکتی ہے۔ یہ 11 سے 13 اکتوبر تک خراب سطح پر رہے گا۔ اس کے بعد بھی اگلے 6 دنوں تک ہوا کا معیار خراب سطح پر رہے گا۔

دہلی ہائی کورٹ آج سے عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ شروع کرے گا

0
دہلی-ہائی-کورٹ-آج-سے-عدالتی-کارروائی-کی-لائیو-اسٹریمنگ-شروع-کرے-گا

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ بدھ یعنی آج سے عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ شروع کرے گا۔ لائیو اسٹریممنگ کو عدالت کی ہدایات کے مطابق ہر مقدمہ کی بنیاد پر نافذ کیا جائے گا۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دستیاب مواد صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور یہ سرکاری عدالتی ریکارڈ نہیں ہے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ صرف مجاز افراد یا اداروں کو لائیو اسٹریم کی کارروائی یا آرکائیو ڈیٹا کو ریکارڈ کرنے، شیئر کرنے یا نشر کرنے کی اجازت ہے۔ غیر مجاز شیئرنگ یا پھیلانا ممنوع ہے، اس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی شامل ہیں۔ لائیو اسٹریمنگ کا لنک دہلی ہائی کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ پہل چیف جسٹس ستیش چندر شرما کی عدالت سے صبح 10:30 بجے شروع ہوگی۔ دہلی ہائی کورٹ ویڈیو کانفرنسنگ اور ہائبرڈ سماعت کی صلاحیتوں کے ساتھ پیپر لیس ای کورٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ تمام مقدمات، جوابات، جوابات اور دستاویزات آن لائن ای فائلنگ سسٹم کے ذریعے الیکٹرانک طور پر دائر کیے جاتے ہیں۔

راجستھان انتخابات: بی جے پی کی پہلی فہرست کے بعد دھڑے بندی اجاگر، بغاوت اور احتجاج کی صدائیں بلند

0
راجستھان-انتخابات:-بی-جے-پی-کی-پہلی-فہرست-کے-بعد-دھڑے-بندی-اجاگر،-بغاوت-اور-احتجاج-کی-صدائیں-بلند

جے پور: بی جے پی نے 23 نومبر کو ہونے والے راجستھان اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی پہلی فہرست جاری کر دی ہے، جس سے بی جے پی کی دھڑے بندی اجاگر ہو گئی۔ مایوس لیڈران نے مختلف مقامات پر احتجاج کیا اور کئی امیدوار کو زار و قطار رونے لگے۔

شدید احتجاج کے پیش نظر پارٹی نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے مرکزی وزیر کیلاش چودھری کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔کشن گڑھ سے امیدوار نہ بنائے جانے پر سابق رکن اسمبلی اور 2018 کے امیدوار ڈاکٹر وکاس چودھری اپنے حامیوں کی موجودگی میں رونے لگے۔

انہوں نے روتے ہوئے کہا، ’’مجھے سیاسی طور پر قتل کیا گیا ہے۔‘‘ بی جے پی نے اس سیٹ سے اجمیر کے رکن پارلیمنٹ بھاگیرتھ چودھری کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد منگل کی صبح سے ہی چودھری کے حامی ان کے گھر پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

کارکنوں سے خطاب کے دوران رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے وکاس چودھری کہا، ’’میں گزشتہ پانچ سالوں سے حلقہ میں محنت کر رہا تھا، لیکن مجھے سیاسی طور پر قتل کیا گیا ہے۔ بھاگیرتھ چودھری نے کبھی میرا ساتھ نہیں دیا، حالانکہ میں نے ہر الیکشن میں ان کا ساتھ دیا تھا۔‘‘

وکاس چودھری نے الزام لگایا کہ یہ ٹکٹ منی پاور کی بنیاد پر خریدا گیا ہے۔ چودھری نے کہا کہ اب انہوں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ اپنے حامیوں پر چھوڑ دیا ہے۔ اس سے قبل چودھری نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ انہوں نے ایمانداری سے محنت کی ہے۔

جاٹ اکثریتی کشن گڑھ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی نے بھاگیرتھ چودھری کو میدان میں اتارا ہے جنہوں نے 2003 اور 2013 میں یہاں سے الیکشن جیتا تھا۔

چودھری کی طرح سابق رکن اسمبلی انیتا گوجر نے الزام لگایا ہے کہ انہیں بھرت پور سے ٹکٹ نہیں دیا گیا کیونکہ وہ سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے کے دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بھرت پور سٹی اسمبلی سے ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض انیتا نے اپنے فیس بک پیج پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ بی جے پی نے شہر سے جواہر سنگھ ‘بیدم’ کو اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔

بھرت پور سٹی اسمبلی سے ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض انیتا نے اپنے فیس بک پیج پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ بی جے پی نے شہر سے جواہر سنگھ ‘بیدم’ کو اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔

وہیں، وسندھرا راجے حکومت میں وزیر رہ چکے راج پال سنگھ شیخاوت کو بھی میدان میں نہیں اتارا گیا ہے۔اس سے ناراض ہو کر ان کے حامی پیر کی رات وسندھرا راجے کے بنگلے پر جمع ہو گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شیخاوت نے وسندھرا سے بھی ملاقات کی ہے۔کئی کونسلر ان کی حمایت میں استعفیٰ دینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

وسندھرا راجے کے کٹر حامی اور ان کی حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ روہتاشو شرما بنسور سے ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ فی الحال انہیں بی جے پی سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو میں انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا وہ ایسے لوگوں کو اسمبلی میں بھیجیں گے جو پیسے کے بل بوتے پر ٹکٹ حاصل کرتے ہیں؟ انہوں نے عوام سے کہا کہ اگر عوام انہیں آشیرواد دیں تو وہ بانسور کی ترقی کے لیے الیکشن لڑیں گے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار مکیش گوئل نے کوٹ پتلی سے ٹکٹ نہ ملنے پر کھل کر احتجاج کیا تھا۔

بی جے پی نے سانچور کے ایم پی دیوجی پٹیل کو ٹکٹ دیا ہے اور وہاں بھی احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ دانارام چودھری کے حامیوں نے، جو 2018 میں بی جے پی کے امیدوار تھے، احتجاج کیا اور کہا کہ پٹیل کی حفاظتی رقم ضبط کر لی جائے گی اور وہ گائوں میں ان کی میٹنگیں بھی نہیں ہونے دیں گے۔ چودھری کے حامیوں کا الزام ہے کہ رکن اسمبلی کو اسمبلی ٹکٹ دینے کا پارٹی کا فیصلہ بالکل غلط ہے۔

ٹونک ضلع کے دیولی انیارہ سے بی جے پی نے گجر آرکشن سنگھرش سمیتی کے کنوینر کرنل کیروری سنگھ بینسلا کے بیٹے وجے بینسلا کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس سے اونیارہ علاقے میں احتجاج شروع ہوا اور انہیں باہر کا امیدوار قرار دیا گیا۔ بی جے پی کے کئی کارکنوں نے نعرے لگائے اور مقامی کارکن کو امیدوار بنانے کا مطالبہ کیا۔

سبھی بی جے پی کے ریاستی دفتر، جے پور پہنچے راجیندر گورجر کی حمایت میں، جو گزشتہ انتخابات میں اس سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار تھے۔ یہاں ان کے حامیوں نے بینسلا کو باہر کا کہہ کر ٹکٹ دینے کی مخالفت کی۔ حامیوں نے ‘باہر والوں کو بھگاؤ، دیولی-انیارا کو بچاؤ’ کے نعرے بھی لگائے۔

سابق ایم ایل اے ماسٹر مامن سنگھ یادو نے منگل کو تیجارا میں ایک مہاپنچایت بلائی اور کہا کہ سروے کی بنیاد پر ان کا نام فائنل کیا گیا ہے اور مرکزی کمیٹی نے بھی انہیں ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم پیر کو پارٹی نے بابا بالک ناتھ کو امیدوار بنا دیا۔

ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض یادو نے کہا کہ بابا بالک ناتھ کو ہر بوتھ سے صرف ایک ووٹ ملنا چاہئے اور وہ بھی ان کی حیثیت کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ پورے تیجارہ علاقے میں انہیں کوئی ووٹ نہیں ملنا چاہیے، بالکل نہیں۔

ہمہ جہت مخالفت کے پیش نظر بی جے پی نے مرکزی وزیر کیلاش چودھری کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں کئی سینئر لیڈران شامل ہیں، جو ناراض لیڈروں کو منانے کی کوشش کرے گی۔

اجیت پوار نے خود کو این سی پی کا قومی صدر قرار دیا، دو صفحات کے خط میں شرد پوار کا ذکر نہیں کیا

0
اجیت-پوار-نے-خود-کو-این-سی-پی-کا-قومی-صدر-قرار-دیا،-دو-صفحات-کے-خط-میں-شرد-پوار-کا-ذکر-نہیں-کیا

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے اندر پھوٹ پر الیکشن کمیشن کی سماعت کے درمیان باغی دھڑے کے سربراہ اجیت پوار نے منگل کو خود کو این سی پی کا قومی صدر قرار دیا اور ایکناتھ شندے حکومت میں شامل ہونے کے اپنے اقدام کا دفاع کیا۔

اجیت پوار نے 2 جولائی کو این سی پی کے آٹھ دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ شیو سینا- بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت میں شامل ہونے کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا تھا۔ انہوں نے منگل کو نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر 100 دن کی مدت پوری کر لی۔

اجیت پوار نے کہا کہ انہوں نے مہاراشٹر کے پہلے وزیر اعلیٰ آنجہانی یشونت راؤ چوہان سے تحریک حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے چچا اور این سی پی کے بانی شرد پوار کے نام کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے یشونت راؤ چوہان کی وراثت کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ ریاست کے پہلے وزیر اعلیٰ انہیں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ شرد پوار (82) یشونت راؤ چوہان کو اپنا سیاسی گرو قرار دیتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت سماج کے تمام طبقات کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ این سی پی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تندہی سے کام کر رہی ہے۔ خود کو این سی پی کا قومی صدر بتاتے ہوئے اجیت پوار نے ایک بیان میں کہا کہ روزگار، سماج کے تمام طبقات کو معاشی طور پر بااختیار بنانا، تعلیم، صحت اور تمام فلاحی اسکیموں کو نافذ کرنا ریاستی حکومت کی ترجیح ہے۔

الیکشن کمیشن نے پیر کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے نام اور انتخابی نشان پر اجیت پوار کی قیادت والے دھڑے کے دعوؤں کی سماعت کی، تاہم پارٹی کے شرد پوار کی قیادت دھڑے نے دلیل دی کہ والے ان کے حریف کیمپ کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزات میں تضادات ہیں۔

کمیشن نے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق دعووں کے سلسلے میں شرد پوار اور اجیت پوار کی قیادت والے کیمپوں کے دلائل سننے کے لیے 9 نومبر کو اگلی تاریخ مقرر کی۔

اجیت پوار نے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کا دعویٰ کرتے ہوئے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مہاراشٹر میں این سی پی کے 53 ارکان اسمبلی میں سے 42، قانون ساز کونسل کے 9 ارکان میں سے 6، ناگالینڈ کے تمام 7 ارکان اسمبلی اور راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ایک ایک رکن کی حمایت حاصل ہے۔