منگل, جون 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 47

میدھا پاٹکر کو دہلی کورٹ نے سنائی پانچ ماہ کی قید، جرمانہ بھی عائد

0

دہلی: معروف سماجی کارکن میدھا پاٹکر کو پیر کو دہلی کی ایک مقامی عدالت نے پانچ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ان پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جو انہیں دہلی کے موجودہ لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو ادا کرنا ہوگا۔

کیس کی تفصیلات:

  • عمر کا حوالہ: عدالت نے میدھا پاٹکر کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ایک سے دو سال کی زیادہ سزا نہیں دی۔
  • ہتک عزت کا مقدمہ: وی کے سکسینہ نے 2001 میں میدھا پاٹکر کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
  • عدالتی سماعت: کیس کی سماعت ساکیت کورٹ میں چل رہی تھی۔

عدالت کا فیصلہ:

میدھا پاٹکر کے وکیل نے عمر کا حوالہ دیتے ہوئے سزا میں نرمی کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ ان کی عمر کے باوجود سزا سنائی گئی ہے لیکن اسے کم مدت میں محدود رکھا گیا ہے۔

جرمانہ:

میدھا پاٹکر کو پانچ ماہ کی قید کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، جو وی کے سکسینہ کو دیا جائے گا۔

کشمیری لیڈر انجینئر عبدالرشید شیخ کو این آئی اے نے بطور رکن پارلیمنٹ حلف لینے کی اجازت دی

0

جیل میں بند کشمیری لیڈر انجینئر عبدالرشید شیخ کو این آئی اے نے بطور رکن پارلیمنٹ حلف لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اٹھارہویں لوک سبھا کے منتخب اراکین میں سے ایک، عبدالرشید شیخ، اب تک حلف نہیں لے سکے ہیں کیونکہ وہ ٹیرر فنڈنگ کے ایک معاملے میں قید ہیں۔ دہلی کی ایک عدالت کل اس معاملے پر فیصلہ سنائے گی جس میں بتایا جائے گا کہ عبدالرشید شیخ کن شرائط پر حلف برداری کریں گے۔

انجینئر راشد کے نام سے مشہور عبدالرشید شیخ نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بطور آزاد امیدوار بارہمولہ سیٹ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں قید ہیں اور این آئی اے نے ان پر ٹیرر فنڈنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ اپنی نظر بندی کے باوجود، عبدالرشید نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو 2 لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔

کلیدی نکات:

  • عبدالرشید شیخ کو این آئی اے نے بطور رکن پارلیمنٹ حلف لینے کی اجازت دی۔
  • دہلی کی عدالت کل اس معاملے پر فیصلہ سنائے گی۔
  • عبدالرشید نے بارہمولہ سیٹ سے بطور آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی۔
  • 2019 سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
  • ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں این آئی اے نے الزامات عائد کیے تھے۔

کیا لوک سبھا انتخابات کے بعد موبائل فون مہنگے ہو جائیں گے؟

0
عام-انتخابات-کے-بعد-آ-سکتی-ہے-بری-خبر،-فون-استعمال-کرنے-کی-قیمت-میں-اضافہ-کا-امکان
کیا لوک سبھا انتخابات کے بعد موبائل فون مہنگے ہو جائیں گے؟

لوک سبھا انتخابات کے بعد آ سکتی ہے فون استعمال کرنے کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان

عوام کو مہنگائی کے محاذ پر جلد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد عام لوگوں کو مہنگائی کا ایک نیا جھٹکا لگ سکتا ہے اور یہ جھٹکا ٹیلی کام کمپنیاں دے سکتی ہیں۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جیواور ایرٹیل جیسی ٹیلی کام کمپنیاں ٹیرف بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں ملک میں لوک سبھا انتخابات کی تکمیل کے بعد کسی بھی وقت موبائل ٹیرف میں اضافے کا اعلان کر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو جون میں ختم ہونے والے انتخابات کے بعد لوگوں کے لیے موبائل فون استعمال کرنا مہنگا ہونے والا ہے۔

اس خدشے کا اظہار پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ میں تجزیہ کار اینٹیک اسٹاک بروکنگ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ انٹیک اسٹاک بروکنگ کا خیال ہے کہ جیو اورایر ٹیل جیسی بڑی ٹیلی کام کمپنیاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنے پلان مہنگے کر سکتی ہیں ۔ خدشہ ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں انتخابات کے بعد ٹیرف میں 15 سے 17 فیصد اضافہ کر سکتی ہیں۔

تاہم موبائل کمپنیوں نے ابھی تک اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔ مہنگائی کی بات کریں تو ریلیف کا سلسلہ مارچ کے مہینے میں بھی جاری رہا۔ ایک روز قبل جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں خوردہ مہنگائی کی شرح 5 فیصد سے نیچے آگئی۔

ملک میں لوک سبھا انتخابات کا بگل بج چکا ہے اور اس مہینے سے سات مرحلوں والے لوک سبھا انتخابات 2024 شروع ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ اگلے ہفتے 19 اپریل کو ہونے جا رہی ہے۔ انتخابات کا آخری مرحلہ جون کے پہلے ہفتے میں یکم جون کو ہوگا۔ اس کے بعد 4 جون کو لوک سبھا انتخابات 2024 کے نتائج سامنے آئیں گے۔

آر جے ڈی نے اپنے انتخابی منشور میں ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا کیا وعدہ

0
RJD-Parivartan-menifesto
آر جے ڈی نے اپنے انتخابی منشور میں ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا کیا وعدہ

آر جے ڈی نے اپنا انتخابی منشور پریورتن پتر کے نام سے جاری کیا جس میں مختلف وعدوں کے ساتھ ایک کروڑ  نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ بھی کیا

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ہفتہ کو اپنا منشور جاری کیا، جس میں اس نے ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے  آر جے ڈی لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو نے ہفتہ کو یہاں پارٹی کے ریاستی دفتر میں لیڈروں کی موجودگی میں اپنا منشور جاری کیا، جسے پریورتن پتر نام دیا گیا ہے۔ اور خواتین کو سالانہ ایک لاکھ روپے دینے سمیت 24 وعدے کیے ہیں۔

 سال 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے جاری پریورتن پتر میں 24 وعدے کیے گئے ہیں، جس میں پورے ملک میں ایک کروڑ نوکریاں، غریب خواتین کو ایک لاکھ روپے سالانہ، 500 روپے میں گیس سلنڈر، 200 یونٹ مفت بجلی، 10 فصلوں پر کم از کم امدادی قیمت ( ایم ایس پی) اور بہار کو خصوصی درجہ دینے کا وعدہ شامل ہے۔

جناب تیجسوی یادو نے پریس کانفرنس میں کہا ’’بہار میں 17 سال کے بنام 17 ماہ کی طرز پر، ہم سبھی سرکاری محکموں اور سرکاری اداروں میں 30 لاکھ خالی آسامیوں کے علاوہ 70 لاکھ آسامیاں پیدا کریں گے اور کل ایک کروڑ نوکریاں فراہم کریں گے۔ ہم کنٹریکٹ اور عارضی نوکریوں کو مستقبل کرنے کے لئے بھی مہم چلائیں گے۔

ہم لوگوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ جس طرح بہار میں نوکری کا مفہوم تیجسوی ہوگیا ہے یہی وعدہ ہم اس انتخابات میں ایک عزم کی قرارداد کے طور پر کرتے ہیں۔ اس لیے مرکز میں آر جے ڈی کی حمایت یافتہ مخلوط حکومت کے قیام کے چھ ماہ کے اندر اندر ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

گوتم نولکھا کو نظر بندی کے دوران ادا کرنے ہوں گے سیکورٹی کے اخراجات

0
نظر-بندی-کے-دوران-سیکورٹی-کا-خرچ-گوتم-نولکھا-کو-ادا-کرنا-ہوگا،-اس-سے-بچ-نہیں-سکتے:-سپریم-کورٹ
نظر-بندی-کے-دوران-سیکورٹی-کا-خرچ-گوتم-نولکھا-کو-ادا-کرنا-ہوگا،-اس-سے-بچ-نہیں-سکتے:-سپریم-کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا نظر بندی کے دوران سیکورٹی کا خرچ گوتم نولکھا کو ادا کرنا ہوگا اور وہ اس سے بچ نہیں سکتے

سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ نے سماجی کارکن گوتم نولکھا کو حکم دیا ہے کہ وہ نظر بندی کے دوران سیکورٹی کے اخراجات ادا کریں۔ عدالت نے کہا کہ نولکھا مہاراشٹر حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر ہونے والے اخراجات کی ادائیگی سے بچ نہیں سکتے، کیونکہ اپنی نظر بندی کا مطالبہ انہوں نے خود ہی کیا تھا۔

نولکھا پر 1.64 کروڑ روپے واجب الادا ہیں

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے عدالت کو بتایا کہ نولکھا پر نظر بند رہنے کے دوران 1.64 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس کی انہیں ادائیگی کرنی ہوگی۔ نولکھا کو یلغار پریشد معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا اور طبی بنیادوں پر عدالت نے نظر بند رکھنے کا مطالبہ منظور کیا تھا۔

نولکھا کے وکیل کا موقف

نولکھا کے وکیل نے کہا کہ ادائیگی کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن مسئلہ حساب کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19 دسمبر 2023 کے بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں نولکھا کو ضمانت دی گئی تھی۔

کیس کی اگلی سماعت 23 اپریل کو

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ضمانتی حکم پر روک میں مزید توسیع کی اور کیس کی سماعت 23 اپریل کو مقرر کی۔

متعلقہ الفاظ

 

عالم اسلام میں منائی جا رہی ہے عید، کیرالہ اور کشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان میں عید الفطر 11 اپریل کو

0
سعودی-عرب-اور-پاکستان-میں-ایک-ساتھ-منائی-جا-رہی-عید،-کیرالہ-اور-کشمیر-کو-چھوڑ-کر-ہندوستان-میں-کل-منایا-جائے-گا-تہوار
عالم اسلام میں منائی جا رہی ہے عید، کیرالہ اور کشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان میں عید الفطر 11 اپریل کو

ہندوستان میں عید الفطر 11 اپریل کو منائی جائے گی۔ جموں و کشمیر، لداخ اور کیرالہ کو چھوڑ کر ہندوستان میں گزشتہ روز شوال کا چاند نظر نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل سورج گرہن کے سبب چاند کی رویت متاثر ہوئی ہے۔

جموں و کشمیر، لداخ اور کیرالہ کو چھوڑ کر ہندوستان میں گزشتہ روز شوال کا چاند نظر نہیں آیا، تاہم یہاں عید الفطر کل یعنی 11 اپریل کو منائی جائے گی۔ وہیں، پاکستان میں عید سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ آج 10 اپریل کو منائی جا رہی ہے۔ منگل کو پاکستان کی رویت ہلال کمیٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں شوال کے چاند کی شہادتیں موصول ہو چکی ہے جس کے بعد ملک بھر میں عید الفطر 10 اپریل کو منائی جائے گی۔

ہندوستان میں گزشتہ روز دہلی اور لکھنؤ میں چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا گیا جبکہ لداخ کے کرگل میں رویت ہلال چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا گیا۔ ریاست کرناٹک میں بھی چاند نظر نہیں آیا لیکن کیرالہ نے نظر آنے کی تصدیق کی ہے۔ ایک رپورٹ میں ماہرین کے حوالہ سے کہا گیا کہ مکمل سورج گرہن کے سبب چاند کی رویت متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چاند گرہن کے فوراً بعد ہلال کا چاند نظر نہیں آئے گا – اس لیے چاند نظر آنے میں تاخیر ہوئی۔

واضح رہے کہ پیر کی شام سعودی عرب میں اعلان کیا گیا تھا کہ وہاں چاند نظر نہیں آیا لہٰذا اس بار وہاں پورے 30 روزے ہوں گے۔ روایتی طور پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک خصوصاً برِصغیر کے ممالک سعودی عرب سے اگلے دن عید مناتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور ملائیشیا میں بدھ کو ہی عید منائی جا رہی ہے۔ تاہم ہندوستان (کشمیر اور کیرالہ کو چھوڑ کر) کے علاوہ بنگلہ دیش میں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا لہذا وہاں بھی عید الفطر 11 اپریل کو منائی جائے گی۔

تہاڑ جیل میں وزیر اعلیٰ کیجریوال سے نہیں ہوگی ملاقات بھگونت مان اور سنجے سنگھ کی آج

0
بھگونت-مان-اور-سنجے-سنگھ-آج-تہاڑ-جیل-میں-وزیر-اعلیٰ-کیجریوال-سے-ملاقات-نہیں-کر-پائیں-گے:-عآپ
تہاڑ جیل میں وزیر اعلیٰ کیجریوال سے نہیں ہوگی ملاقات بھگونت مان اور سنجے سنگھ کی آج

عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ بھگونت مان اور سنجے سنگھ آج تہاڑ جیل میں وزیر اعلیٰ کیجریوال سے ملاقات نہیں کر سکیں گے

عام آدمی پارٹی (عآپ) کا کہنا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور عآپ کے راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ بدھ کو تہاڑ جیل میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات نہیں کر پائیں گے۔

عآپ نے کہا، ’’تہاڑ جیل نے سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیا ہے۔ کل (منگل کو) بھگونت مان اور سنجے سنگھ کا کیجریوال سے ملاقات کا وقت طے ہوا تھا۔ اب ملاقات کے لیے تہاڑ جیل نئے وقت کے بارے میں معلومات دے گی۔

جیل کے ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کا خط موصول ہوا تھا۔ آج تہاڑ کے ڈی آئی جی خط کا جواب دیں گے۔ ڈی آئی جی کے جواب سے سیکورٹی کے بارے میں معلومات ملے گی اور ملاقات کی کچھ تاریخیں تجویز کی جائیں گی۔ اس کے بعد ان تاریخوں پر اگر سنجے سنگھ اور وزیر اعلیٰ بھگونت مان چاہیں تو وزیر اعلیٰ کیجریوال سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال کو مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالہ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 21 مارچ کو  راحت نہیں دی گئی اور اب وہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔ گرفتار کر لیا تھا۔ کیجریوال فی الحال دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی گرفتاری کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم وہاں سے انہیںکیجریوال کی گرفتاری کے بعد سے عام آدمی پارٹی لگاتار بی جے پی اور مرکزی حکومت پر حملے کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مبینہ گھوٹالہ کے نام عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس کے مزید لیڈران کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کورٹ نے کیجریوال کی طرف سے دائر اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں ہفتے میں پانچ بار جیل میں وکلاء سے ملاقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

آئرلینڈ کی پارلیمنٹ نے منگل کو سائمن ہیرس کو ملک کا نیا وزیر اعظم بنانے کی توثیق کر دی، جس سے وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے ملک کے کم عمر ترین لیڈر بن گئے ہیں۔ سائمن کی عمر صرف 37 برس ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سائمن ہیرس کی کامیابی پر انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مل کر ہندوستان-آئرلینڈ کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔

بَہارعرب: عالم عرب اب تبدیلی کی جانب رواں دواں

0

کچھ عرب ملکوں میں 2010ء میں ’جمہوریت اور آزادی‘ کے نام پر شروع ہوئی ناکام ’بَہارِ عرب‘ کی خونچکاں داستان کا باب بند ہونے کو ہے

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد عرب دنیا ایک بار پھر تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ خطہ کے دو سخت حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان رشتے استوار ہو چکے ہیں۔ سفارتی تعلقات میں مزید بہتری آ رہی ہے۔ سربراہان کی آمد و رفت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان شام کے صدر بشار الاسد کا استقبال کر رہے ہیں۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سعودی عرب کے شاہ سلمان کو تہران آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مصر کے وزیر خارجہ دمشق کا دورہ کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے سربراہان فون پر گفتگو کر رہے ہیں۔ترکی اور مصر کے درمیان جمی برف پگھل رہی ہے۔یمن اور شام میں جنگ بندی کے خاتمے اور بحالی امن کی کوششوں کو عملیجامہ پہنایا جا رہا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ’بہار عرب‘ کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔


یوں تو 2010 کے اواخر میں مختلف عرب ملکوں میں بے روزگاری، رشوت ستانی، بدعنوانی، جابرانہ اور استحصالی نظام حکومت کے خلاف شروع ہوئے عوامی احتجاج کو ’بہار عرب‘ کا نام دیا گیا تھا۔ مگر اس کی ناکامی نے کئی ملکوں کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا، کئی ملکوں میں بَہار کے نام پر خونچکاں داستان لکھی گئی۔ اس داستان میں کئی حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ اور کئی کی زندگی کا خاتمہ درج ہو گیا۔ لاکھوں بزرگوں، بچوں، نوجوانوں اور عورتوں کے خون سے لکھی گئی اس داستان میں کئی ممالک کی تباہی کے مناظر اور نشانات مل جائیں گے۔ اپنے گھر بار چھوڑ کر در در بھٹکتے کروڑوں لوگوں کی کہانیاں مل جائیں گی۔ یہ سب پچھلے دس بارہ سال میں ہوا ہے۔ تیونس، مصر، لیبیا، اردن، شام، الجزائر، لبنان، عراق اور بعض دوسرے ممالک اس کے گواہ ہیں۔

2010 کے اواخر میں ایک معمولی واقعہ نے ’بہار عرب‘ کی بنیاد ڈالی۔ 2010 سے 2012 تک عرب دنیا میں احتجاج، مظاہروں، جلسے اور جلوسوں کی ایسی سونامی آئی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری عرب دنیا کو اپنی زد میں لے لیا۔ کہیں در پردہ اور کہیں براہ راست تبدیلی کی اس لہر کو ’بَہارِعرب‘ کا نام دیا گیا۔

واقعہ یہ ہے کہ بحیرہ روم کے کنارے پر واقع خوبصورت ملک تیونس کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان محمد بو عزیزی تمام کوششوں کے باوجود سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکا۔ حالات کی مجبوری نے اسے سبزی فروش بنا دیا۔ ایک پولیس افسر نے اس نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بو عزیزی نے سرعام اپنی بےعزتی سے دل برداشتہ ہو کر خود سوزی کر لی۔ اس کے جسم سے نکلنے والی آگ کی لپٹوں نے بہت جلد پورے مشرق وسطیٰ کو جھلسا کر رکھ دیا۔ تیونس کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

تین دہائیوں سے اقتدار پر قابض علی زین العابدین کی حکومت عوام کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ صدر زین العابدین کو فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ عرصہ کے بعد الجزائر، اردن اور عمان کی حکومتوں نے اعلان کیا کہ وہ بھی اپنے یہاں اصلاحات کرنے جا رہی ہیں، بلکہ اگر ضرورت پڑی تو حکومتیں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مصر کی حسنی مبارک حکومت کے خلاف اسی نوعیت کی تحریک شروع ہو گئی۔ بالآخر ۱۱؍فروری۲۰۱۱ء کو تین دہائیوں پر محیط حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ اسی سال۲۰؍ اکتوبر کو تین دہائی سے زائد عرصہ تک حکمرانی کرنے والے لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کوانہی کے عوام نے قتل کر دیا۔ فروری ۲۰۱۲ء میں یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کو بھی دو دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد ایوان اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔انہیں ۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء کو قتل کر دیا گیا۔اس طرح ایک سے دو برس کے اندر چار اہم عرب ملکوں کے طاقتور حکمرانوں کی حکمرانی قصہ پارینہ بن گئی۔


آج ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اگر ہم بہار عرب کے نتائج پر نظر ڈالیں تو پورے خطہ عرب کے لئے یہ خزاں ثابت ہوئی۔ تیونس سے لے کر لیبیا تک اور مصر سے لے کر یمن تک آمریت، جمہوریت، بدعنوانی، بے روزگاری اور آزادی کے نام پر شروع ہونے والی اس تحریک نے ناکامی کی ایک لمبی داستان لکھ دی ہے۔ لیبیا اور یمن بدترین خانہ جنگی کے سبب تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔

مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی جمہوری حکومت کے خاتمہ کے بعد عبدالفتاح السیسی سابقہ حکمرانوں کی طرح مضبوطی سے مسند اقتدار پر قابض ہیں۔ شام میں حکومت مخالف احتجاج خونریز خانہ جنگی اور پھر دنیا بھر کی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کے سبب کھنڈہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ’بہار عرب ‘ کی ناکامی کی سب سے بڑی قیمت شام کے باشندوں نے ہی ادا کی ہے۔

غرض یہ کہ جن ملکوں میں ’بہار عرب‘ کے نام پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، وہاں جمہوریت تو پروان نہیں چڑھ سکی، بلکہ انتشار اور افراتفری کا ماحول یہاں کے باشندوں کا مقدر بن گیا۔ اب جبکہ حالات ایک بار پھر کروٹ لے رہے ہیں اور ایک مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ بہار عرب کی ناکامی کی داستان ماضی کا حصہ بن جائے گی اور پوری دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔

حال ہی میں ایک بڑی پیش رفت عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کی شکل میں ہوئی ہے۔ خطہ کی دو بڑی طاقتوں ایران اور سعودی عرب نے یقیناً حالات کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جدہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے افتتاحی کلمات میں دیگر عرب رہنماؤں کے ساتھ جب شامی صدر بشار الاسد کا خیرمقدم کیا تو یہ عرب میں ایک نئی بہار کا پیش خیمہ تھا۔ حالانکہ عرب لیگ میں شام کی واپسی پر سعودی قیادت کو کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، مگر ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ جب حالات ایک مثبت تبدیلی کی طرف کروٹ لے رہے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ اگرچہ ماضی میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی قیادت میں اقدامات کئے جاتے تھے اور امریکی مفادات سب پر حاوی رہتے تھے۔ لیکن عرب لیگ کا حالیہ سربراہی اجلاس باہری اور دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات سے پاک نظر آیا اور اس عرب طاقتوں نے اتحاد کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔

سعودی عرب نے گزشتہ دس ماہ میں تین بڑے سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ پہلےجدہ میں سلامتی اور ترقی سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ رکن ممالک کے علاوہ مصر، اردن اور عراق اور امریکی صدر جو بائیڈن نے شرکت کی تھی۔ دوسرا ریاض میں چینی صدر شی جِن پنگ کے عرب لیڈروں کے ساتھ سربراہی اجلاس کے دو دور ہوئے تھے۔ پہلے ان کا خلیجی ممالک کے ساتھ ایک دور ہوا تھا اور پھر عرب ممالک کے ساتھ سربراہی اجلاس کا دوسرا دور ہوا تھا۔ اور اب تیسرا، جدہ میں عرب لیگ کا حالیہ سربراہی اجلاس ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ اجلاس اپنی نوعیت کا اہم اجلاس تھا۔ اسی لئے یہاں کافی گرمجوشی نظر آئی اور سرخیوں میں بھی رہا۔ عرب لیگ میں شام کی واپسی، اسرائیل کے مقابلے میں فلسطین کی حمایت اور صہیونی حکومت کے حالیہ مظالم کی مذمت مقررین کی گفتگو کا مرکزی محور رہا۔ عرب لیگ کے 32؍ ویں سربراہی اجلاس میں شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ شامی صدر کی شرکت شام کیلئے امن اور استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

وہیں شام کے صدر بشار الاسد نے کہا کہ ہمیں مستقبل میں درپیش چیلنجز کے بارے میں ابھی سے ہی غور کرنا چاہئے، تاکہ مستقبل کی نسلوں کو کوئی خطرہ پیش نہ آئے۔ ہم بیرونی مداخلت کے بغیر باہمی گفتگو و شنید کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان دونوں سربراہان کا یہ بیان عرب لیگ اجلاس کا حاصل کہا جا سکتا ہے۔ یقیناً اگر عرب حکمراں باہری مداخلت اور بیرونی طاقتوں کے حصار سے خود کو آزاد کر لیتے ہیں تو یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔


(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

0
دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا
دہلی میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ کے کمرے میں آگ پر قابو پا لیا گیا

 دہلی کے جودھ پور ہاؤس میں وزیر اعلی بھجن لال شرما کے کمرے میں ساکٹ میں چنگاری کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے اس کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق، یہ واقعہ منگل کی رات تقریباً 9 بجے پیش آیا، جب وزیر اعلیٰ کمرے میں اکیلے تھے اور ہیٹر چل رہا تھا۔

جس ساکٹ میں ہیٹر لگایا گیا تھا وہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا، جس سے چنگاریاں اور آگ لگ جاتی ہے۔ آگ لگنے پر وزیر اعلیٰ نے کمرے میں رکھی گھنٹی بجائی جس پر قریبی کمرے میں سوئے ہوئے پی ایس او نے پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اے ڈی جی انٹیلی جنس سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے کہا کہ سیکورٹی میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بیڈ کے قریب رکھی گھنٹی بجائی تو پی ایس او ایک منٹ میں ان کے کمرے میں آیا اور شاک کٹ سے تار ہٹا کر آگ پر قابو پا لیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کے پاس اس واقعہ کی مکمل رپورٹ ہے لیکن معاملہ سنجیدہ نہیں ہے۔ ایڈیشنل ایس پی سیکورٹی بھی سی ایم کے ساتھ دہلی میں موجود تھے جنہوں نے واقعے کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کیں۔

بلقیس بانو کیس: تین مجرموں نے سپریم کورٹ سے خودسپردگی کی مدت بڑھانے کی درخواست کی

0
بلقیس-بانو-معاملہ:-تین-مجرم-سپریم-کورٹ-سے-رجوع،-سرنڈر-کے-وقت-میں-توسیع-کی-درخواست
گجرات کے مشہور بلقیس بانو کیس میں تین مجرموں نے سپریم کورٹ سے خودسپردگی کی مدت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ ان مجرموں نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ

بلقیس بانو معاملہ میں تین مجرم سپریم کورٹ سے رجوع، سرنڈر کے وقت میں توسیع کی درخواست

 گجرات کے مشہور بلقیس بانو کیس میں تین مجرموں نے سپریم کورٹ سے خودسپردگی کی مدت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ ان مجرموں نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ وقت کی رعایت دینے کی درخواست کی ہے۔

سپریم کورٹ نے 8 جنوری 2024 کو بلقیس بانو کیس میں 11 قصورواروں کو بری کرنے کے گجرات حکومت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا۔ عدالت نے مجرموں کو دو ہفتے کے اندر سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔

تمام 11 میں سے 3 مجرموں نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں خودسپردگی کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گووند نائی نے عدالت سے 4 ہفتے کی توسیع کی درخواست کی ہے جبکہ متیش بھٹ اور رمیش چاندنا نے 6 ہفتے کی توسیع کی درخواست کی ہے۔

ان مجرموں نے اپنی درخواستوں میں ذاتی وجوہات کا ذکر کیا ہے۔ گووند نائی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ انتظامات کرنے کے لیے مزید وقت چاہتے ہیں۔ متیش بھٹ نے کہا ہے کہ وہ اپنے طبی معائنے کے نتائج کے انتظار میں ہیں۔ رمیش چاندنا نے کہا ہے کہ وہ اپنے قانونی امور کو طے کرنے کے لیے مزید وقت چاہتے ہیں۔