منگل, ستمبر 29, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 425

حکومت جلد ہی کسانوں کا ڈیٹا بینک تیار کرے گی

0

مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت نے جلد ہی کسانوں کا ڈیٹا بینک تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا مقصد کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے، زرعی شعبے کو فائدہ ہو اور نئی نسل زراعت کی طرف راغب ہو۔

نئی دہلی: حکومت جلد ہی کسانوں کا ڈیٹا بینک تیار کرے گی، تاکہ سیلاب کی وارننگ، سیٹلائٹ کی تصاویر، زمین کے محصولات کے ریکارڈ وغیرہ کے بارے میں معلومات گھر پر دستیاب ہوں۔
مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے ہفتہ کے روز کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں اور زرعی شعبہ کو خوشحال بنانے کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں اس سمت میں اہم اقدامات کئے گئے ہیں، جس کے ثمرات کاشتکاروں کو ملنا بھی شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچا رہی ہے۔
تومر نے یہ بات ’ایلیٹس ٹیکنومیڈیا‘ کے زیر اہتمام سہ روزہ ’نالج ایکسچینج سمٹ‘ کے دسویں ایڈیشن کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے، زرعی شعبے کو فائدہ ہو اور نئی نسل زراعت کی طرف راغب ہو۔
ملک میں زرعی اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں وزیر زراعت نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں کچھ نئی جہتیں شامل کی گئیں۔ وزیر اعظم نے اس سیکٹر کو ترجیح دی ہے، ریاستوں کے ساتھ مل کر گاؤں کے غریب کسانوں کی ترقی بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہمارے دیہات اور زرعی علاقے برسوں سے اس ملک کی طاقت بنے ہوئے ہیں، جن کو حکومت مزید مضبوط بنانے پر پوری توجہ دے رہی ہے۔

کسانوں کو اور کتنی قربانی دینی ہوگی: راہل

0

کانگریس نے کہا ’’پچھلے 17 دنوں میں 11 کسان بھائیوں کی شہادت کے باوجود بے لگام مودی حکومت کا دل نہیں پسیج رہا۔ وہ اب بھی کسانوں کے ساتھ نہیں، اپنے صنعت کاروں کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت شدید ٹھنڈ کے باوجود تحریک کرنے کے لئے مجبور کسانوں کی بات سننے کو تیار نہیں ہے اس لئے اسے بتانا چاہئے کہ کسانوں کو ابھی کتنی قربانی دینی ہوگی۔

کانگریس مواصلاتی محکمے کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا ’’پچھلے 17 دنوں میں 11 کسان بھائیوں کی شہادت کے باوجود بے لگام مودی حکومت کا دل نہیں پسیج رہا۔ وہ اب بھی کسانوں کے ساتھ نہیں، اپنے صنعت کاروں کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔ ملک جاننا چاہتا ہے – ’راج درھم‘ بڑا ہے یا ’راج ہٹھ‘ کسان تحریک۔‘‘

انہوں نے کہا ’’جمہوریت میں بے لگامی کی کوئی جگہ نہیں۔ آپ اور آپ کے وزرا کی پالیسی ہر مخالف کو ماؤنوازی اور ملک سے غدار قرار دینے کی ہے۔ شدید سردی اور برسات میں جائز مطالبات کے لئے دھرنے پر بیٹھے کسانوں سے معافی مانگئے اور ان کے مطالبات فوری طور پر پورے کرئے۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کی کووڈ 19 ویکسین کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی اپیل

0

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے دنیا بھر کی حکومتوں سے شہریوں کو کوڈ – 19 ویکسین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت ہی کم لوگ قطرے پلانے کے لئے تیار ہیں۔

ماسکو: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے دنیا بھر کی حکومتوں اور صحت سے متعلق حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ شہریوں کو کوڈ – 19 ویکسین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں۔
محترمہ سوامی ناتھن نے کہا ’’دنیا بھر کی حکومتیں اور صحت عامہ کے عہدیداروں کو اپنے ملکوں کے شہریوں پر ویکسین لگانے کے عمل کی وضاحت کے لئے اقدامات کرنا شروع کردیں۔ کیونکہ معاملات تیزی سے چل رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ کووڈ – 19 کے حوالے سے بہت سارے حقیقی سوالات ہیں جن کے جوابات لوگوں کو دینے کی ضرورت ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ بہت ہی کم لوگ قطرے پلانے کے لئے تیار ہیں۔

موجودہ ڈبلیو ایچ او کی فہرست میں کووڈ – 19 سے متعلق 48 ویکسین ہیں۔ کچھ ویکسین تیار کرنے والوں نے ویکسین کے فیز III ٹرائلز کے عبوری نتائج جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔ روس کے اسپوتنک وی، امریکہ کے فائزر / بائیوٹیک اور موڈیرنا نے ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق یہ ویکسین کورونا سے 90 فیصد بچاؤ کرتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 69،143،017 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 1،576،516 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ریل مسافروں کے لئے خوشخبری، جلد چلیں گی عام ٹرینیں: پنت

0

شمال مشرقی ریلوے عزت نگر ڈویژن کے ریلوے منیجر آشوتوش پنت نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ریلوے بورڈ کی ہدایت پر ‘زیرو وے ورکنگ ٹائم ٹیبل’ کا عمل پورا ہونے پر ہی معمول کے مطابق ٹرینوں کا آغاز مرحلہ وار طریقے سے ممکن ہو پائے گا۔

فرخ آباد: شمال مشرقی ریلوے عزت نگر ڈویژن کے ریلوے منیجر آشوتوش پنت نے جمعہ کو کہا کہ ریلوے بورڈ کی ہدایت پر ‘زیرو وے ورکنگ ٹائم ٹیبل’ کا عمل پورا ہونے پر ہی جنرل ٹرینیں دھیرے دھیرے چلائی جائیں گی۔

مسٹر پنت نے ڈویژن کے کاس گنج ۔ فرخ آباد ریلوے روٹ کے مختلف اسٹیشنوں اور ٹریک لائن کا ونڈو جائزہ لیا۔ اس کے بعد فرخ آباد جنکشن اسٹیشن پر مسٹر پنت نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ریلوے بورڈ سے ٹرینوں کے چلانے کا فیصلہ ہونے پر ہی دھیرے دھیرے گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جن میں پرائیویٹ شعبے کی ٹرینیں الگ سے چل رہی ہیں۔

ڈویژن ریل منیجر نے کہا کہ معمول کے مطابق لوکل ٹرینوں کے بند رہنے سے ریل مسافروں کو کافی دقتوں کا سامنا ہے لیکن کورونا انفیکشن سے بچاؤ کے لئے اچانک سبھی ٹرینیں نہیں چل سکتی ہیں۔ ریلوے بورڈ کی ہدایت پر ‘زیرو وے ورکنگ ٹائم ٹیبل’ کا عمل پورا ہونے پر ہی معمول کے مطابق ٹرینوں کا آغاز مرحلہ وار طریقے سے ممکن ہو پائے گا۔ اس ٹائم ٹیبل کا سبھی انتظار کررہے ہیں۔

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو طلب کیا

0

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر مغربی بنگال میں جمعرات کو پتھراؤ کے واقعہ کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیر کے روز طلب کیا ہے۔ 

وزارت نے اس معاملے میں جمعرات کو ہی ریاستی حکومت سے لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) کی صورتحال اور اس واقعہ کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔ 

وزارت داخلہ نے مزید ایک اقدام کرتے ہوئے جمعہ کے روز مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر نڈا مغربی بنگال کے دو روزہ دورے کے دوسرے دن یعنی جمعرات کو جب ڈائمنڈ ہاربر جا رہے تھے تو ان کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا۔ بدھ کے روز مغربی بنگال یونٹ کے صدر نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر مسٹر نڈا کی سیکیورٹی کے سلسلے میں برتی گئی لاپرواہی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

مرکزی حکومت اس حملے کی مکمل سنجیدگی سے نوٹس لے رہی ہے

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز اس واقعہ کی سنجیدگی سے نوٹس لے رہا ہے۔ 

انہوں نے ٹویٹ کیا، ’بنگال میں بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا پر ہوا حملہ بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مرکزی حکومت اس اسپانسرڈ حملے کو مکمل سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بنگال حکومت کو اس حملے کے لیے ریاست کے امن پسند عوام کو جواب دینا ہوگا۔ ترنمول حکومت میں بنگال ظلم، انارکی اور اندھیرے کے زمانے میں جا چکا ہے۔ ٹی ایم سی کی حکومت میں مغربی بنگال کے اندر جس طرح سے سیاسی تشدد کو ادارہ جاتی بنا کر انتہا پر پہنچایا گیا ہے، وہ جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے اور تشویشناک بھی‘۔

کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

0
کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے اصلاحات میں رکاوٹ کا سارا ٹھیکرا ملک کی جمہوریت یا "حد سے زیادہ جمہوریت” پر پھوڑ ڈالا، لیکن جن کی فلاح کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے اگر وہی نا خوش ہیں، تو ایسے قانون کا فائدہ ہی کیا؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

جمہوریت کی اصطلاح کے لیے مختلف معانی اور تشریحات بیان کی جاتی ہیں۔ جمہوریت کو ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں۔ جہاں تک جمہوری حکومت کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ "عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی” ہی جمہوری حکومت ہے۔ لیکن الگ الگ ادوار اور حالات میں جمہوریت کے استعمال سے اس کی اصطلاح کچھ پیچیدہ ہو گئی ہے۔

عام طور پر جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی حکومت ہے جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کا منبع عوام ہوتے ہیں۔ عوام اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ انہیں کس طرح کا حکومتی، انتظامی، عدالتی، معاشی اور معاشرتی نظام پسند ہے۔ جمہوری نظامِ حکومت کی ایک شکل نمائندہ حکومت ہوتی ہے جس میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے نظامِ حکومت انہیں سونپ دیتے ہیں۔ اب یہ منتخب حکومت یا جماعت کی صوابدید پر ہے کہ وہ اُن عوام کی کتنی خیر خواہ ثبت ہوتی ہے جنہوں نے اسے یہ منصب سونپا ہے۔

موجودہ حکومت اور جمہوری اصول

پھر یہ حکومت اپنے عوام کے لیے کتنی سود مند ثابت ہوئی ہے، اس کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور سرکار کی پالیسیوں پر آزادانہ طریقہ سے اپنی رائے رکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے یا نہیں؟ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے یا نہیں؟ کیا وہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے؟

اس کی جانچ کا پیمانہ یہ بھی ہے کہ کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے یا نہیں؟ چونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں یا قانون کا اطلاق مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے یا نہیں؟ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں تقسیم ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پر قدغن لگائی گئی ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کی روشنی میں ہم اپنی اپنی جمہوری حکومتوں کے کام کاج اور اس کے طریقہ کار کو جانچ سکتے ہیں۔

کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے؟ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے؟ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں تقسیم ہے؟ اور کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پر قدغن لگائی گئی ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کی روشنی میں ہم اپنی اپنی جمہوری حکومتوں کے کام کاج اور اس کے طریقہ کار کو جانچ سکتے ہیں۔

اب اس تناظر میں ہم اپنی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو دیکھیں اور پرکھیں، تو پائیں گے کہ موجودہ حکومت مذکورہ جمہوری اصولوں پر کھری نہیں اترتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ ’عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی‘ کا اصول بالائے طاق رکھ دیا گیا ہےتو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

فی الحال ملک کے کسان جن قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اس سے پہلے بھی موجودہ مودی حکومت نے ایسے قوانین وضع کئےیا ایسے اقدامات کئے کہ ان اقدامات سے براہ راست جن لوگوں (عوام) کا تعلق تھا، انھیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ نہ کسانوں سے یا ان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ اور نہ ہی دوسرے طبقہ سے کو ئی گفت و شنید کی گئی۔ مثال کے طور پر جس طرح حال ہی میں لائے گئے زرعی قوانین میں کسانوں یا ان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ نہیں کیا گیا، ٹھیک اسی طرح گزشتہ برس طلاق ثلاثہ سے متعلق قانون بنانے سے پہلے مسلمانوں، ان کے نمائندوں یا ماہرین شریعت سے کوئی گفت و شنید نہیں کی گئی۔

 کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور سرکار کی پالیسیوں پر آزادانہ طریقہ سے اپنی رائے رکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے؟ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے؟ کیا آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے؟

لاکھوں مسلمان مخالفت اور احتجاج کرتے رہے، لیکن ایک نہیں سنی گئی۔ اس کے بعد شہریت ترمیم بل، این آر سی اور این پی آر جیسے اقدامات ہوں یا حال ہی میں یو پی کی آدتیہ ناتھ حکومت کے ذریعہ مفروضہ پر مبنی مبینہ لو جہاد سے متعلق آرڈیننس، یا پھر جموںو کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ، یا اس سے پہلے  نوٹ بندی کرنے کا فیصلہ۔ ان تمام اقدامات میں بہت کچھ یکسانیت پائی جاتی ہے۔

پہلی تو یہی کہ جن لوگوں سے متعلق یہ قوانین بنائے گئے یا اقدامات کئے گئے، نہ تو ان سے کوئی رائے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ان کو اعتماد میں لیا گیا۔ دوسرا یہ کہ اگر حکومت کے یہ اقدامات متعلقہ طبقوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئے گئے تو پھر وہی طبقات ان کے خلاف سراپا احتجاج کیوں ہیں؟ پھر تو ’عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی‘ کا اصول بے معنی ہو کر رہ گیا۔

کیا حکومت کوئی اعداد و شمار پیش کر سکتی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے خلاف جب سے قانون بنایا گیا ہے، ایسی طلاق کے واقعات میں کتنے فیصد کی کمی آئی ہے؟ اسی طرح گزشتہ برس 11 دسمبر کو حکومت نے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا اور 11 جنوری 2020 میں اسے نافذ کر دیا گیا۔ اس بارے میں بھی کوئی بہت خوش آئند اطلاعات نہیں ہیں۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور جمہوریت

گزشتہ 26 نومبر کو  ٹی وی 9 (TV9) نے ایک رپورٹ دی تھی کہ سی اے اے کے بھروسہ ہندوستان آئے پاکستانی ہندو اور سکھ مایوس ہیں اور مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں کے سبب تقریباً 243 پناہ گزین واپس جائیں گے۔ ان لوگوں کو واگہا سرحد سے واپس جانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ افسران کے مطابق پاکستانی پناہ گزینوں کے واپس جانے کی زیادہ تردرخواستیں گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور دہلی سے آئی ہیں۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ ہونے کے بعد 31 دسمبر 2014 تک پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی (مسلمان نہیں) پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ ابھی یہ تنازع ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ این آر سی کا مسئلہ پیدا کر دیا گیا۔

سی اے اے کے بھروسہ ہندوستان آئے پاکستانی ہندو اور سکھ مایوس ہیں اور مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں کے سبب تقریباً 243 پناہ گزین واپس جائیں گے۔ ان لوگوں کو واگہا سرحد سے واپس جانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔

این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن۔ پہلے یہ آسام تک محدود تھا، لیکن مودی حکومت نے بغیر کسی وضاحت کے اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ آسام میںاین آر سی کے تحت تقریباً 20 لاکھ افراد شہریت کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکے۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے ہی آسام کے باشندوں کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے آ جانے سے ان کے تشخص کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ بی جے پی کے لیے ایک سیاسی ایشو تھا، لہذا اس نے اس مسئلہ کو خوب اٹھایا، لیکن جب حتمی فہرست تیار ہوئی تو باہر ہونے والوں میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ اس کے بعد بی جے پی نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر بی جے پی سے وابستہ لوگ طرح طرح کے بیانات دیتے رہے، جس سے معاملہ پیچیدہ ہوتا گیا۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور خدشات

یہ ٹھیک ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ ہندوستان کے شہریوں کے لیے نہیں ہے، لیکن این آر سی اور سی اے اے کی مخالفت اس لئے ہوئی کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے خود اپنی تقاریر اور بیانات میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی دونوں کو ایک دوسرے سے منسلک بتایا۔

لوگوں میں خدشات کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ مودی نے ایک عوامی جلسہ میں کہا کہ این آر سی پر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، جبکہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ این آر سی آکر رہے گا۔ اس کے علاوہ مودی حکومت نے نوٹ بندی کا اعلان کیا۔

نوٹ بندی اور کالا دھن

دعویٰ کیا گیا یہ اقدام کالا دھن واپس لانے، نقلی کرنسی باہر کرنے، دہشت گردی اور نکسل ازم پر قدغن لگانے، رشوت خوری روکنے وغیرہ وغیرہ کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن اس فیصلہ کے بعد جو اعداد و شمار سامنے آئے، اور غریبوں اور متوسط طبقہ پر کیا قیامت گزری، وہ سب کے سامنے ہیں۔

غرض یہ کہ مودی حکومت نے مذکورہ جو بھی فیصلے کئے، ان میں وہ پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ساتھ ہی جن لوگوں کی فلاح و بہبود اور خیر خواہی کا دعویٰ کیا گیا، وہی اس کا سب سے بڑا شکار بنے۔

کسانوں کا صاف کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین در اصل یہ کاشتکاری میں نجکاری کو فروغ دینے اور اپنے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیں۔ ان قوانین کے خلاف لاکھوں کسان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

یہی حال کسانوں سے متعلق تین نئے زرعی قوانین کا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ نئے زرعی قوانین ملک کے کسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے لائے گئے ہیں۔ لیکن کسان کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی ترقی و خوشحالی نہیں چاہئے۔

کسانوں کا صاف کہنا ہے کہ یہ در اصل یہ کاشتکاری میں نجکاری کو فروغ دینے اور اپنے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیں۔ ان قوانین کے خلاف لاکھوں کسان (مرد،خواتین، بوڑھے، بچے) سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔

’دہلی چلو‘ کے بعد ’بھارت بند‘ کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بیٹھی ہے۔ اگر حکومت ان تمام اقدامات کا محاسبہ کرے تو اسے خود احساس ہوگا کہ یہ فیصلے کسی بھی صحت مند اور کامیاب جمہوریت کی علامت نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں اصلاحات کے لیے ملک میں ‘حد سے زیادہ جمہوریت’ کو رکاوٹ قرار دینے کا مطلب صرف یہ ہے کہ عوامی رائے اور اختیارت کو کم سے کم اہمیت دی جائے، جو اپنے آپ میں جمہوریت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں، ای میل: [email protected]]

ایف ڈی اے مشاورتی پینل کی فائزر کو کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت

0

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مشاورتی پینل نے 17.4 کی اکثریت سے فائزر اور جرمنی کی تیار بائیو ٹیک کو کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

واشنگٹن: امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے مشاورتی پینل نے امریکی عوام کو فائزر کا کووڈ – 19 ٹیکہ لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

ایف ڈی اے پینل کے ممبر نے اس میٹنگ کے بعد بتایا کہ پینل نے 17.4 کی اکثریت سے فائزر اور جرمنی کی تیار بائیو ٹیک کو کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

مہاراشٹر: زنا بالجبر کے مجروں کو اب ہوگی سزاۓ موت، کیبنٹ میں منظوری، آئندہ اجلاس میں ہوگا پیش

0

 

حکومت مہاراشٹر ممبئی میں 14 دسمبر 2020 سے شروع ہونے والے دو روزہ اسمبلی اجلاس میں ایک جامع اور سخت مسودہ قانون پیش کررہی ہے۔ جس میں عصمت دری کے مرتکب افراد کو سزائے موت اور دیگر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

ممبئی: خواتین اور بچوں کو جنس زدہ بھیڑیوں کی جنسی زیادتیوں سے بچانے کے لیے، ایک موثر قدم اٹھاتے ہوئے، حکومت مہاراشٹرا ایک جامع اور سخت مسودہِ قانوں، 14 دسمبر 2020 کو ممبئی میں شروع ہونے والے دو روزہ اسمبلی اجلاس میں متعارف کرا رہی ہے۔ جس میں زنا بالجبر کے مجروں کو سزائے موت کے بشمول دیگر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

مہاراشٹرا میں ریاستی کابینہ نے کل بدھ کے روز دو مسودوں کے بلوں کی منظوری دے دی ہے۔ جس میں عصمت دری، تیزاب حملوں اور بچوں سے زیادتی کے سنگین اور گھناؤنے مقدمات میں سزائے موت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ حکومت کا یہ نیا قانون، آندھرا پردیش میں نافذ قانوں "دِیشا” کی بنیاد اور اسی طرز پر بنایا گیا ہے۔ بلوں میں سزا کی معیاد میں اضافہ، بشمول عمر قید، جرائم کی نئی اقسام کا احاطہ کرنے اور جلد از جلد مقدمات چلانے کے لئے ایک طریقہ کار تجویز کرنے کی بھی شقیں موجود ہیں۔

 اب سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو دھمکیاں دینا اور بدنام کرنا جرائم میں شمار ہوں گے

اس مسودہ قانون کے مطابق، اب سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو دھمکیاں دینا اور بدنام کرنا۔ عصمت دری، چھیڑ چھاڑ اور تیزاب حملوں کے بارے میں جھوٹے الزامات لگانا۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس فراہم کرنے والوں کی تحقیقات میں عدم تعاون۔ تفتیش میں سرکاری ملازم کا عدم تعاون وغیرہ معاملات بھی جرائم میں شمار ہوں گے۔

اس مجوزہ قانون کی خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ اب تک صرف عصمت دری کا شکار لڑکی کا نام چھپانے پر پابندیاں عائد تھیں۔ یہ پابندیاں اب چھیڑ چھاڑ اور تیزاب کے حملوں پر بھی لاگو ہوں گی۔
تیزاب حملوں کے لیے 10 لاکھ جرمانے کی سزا بھی رکھی کی گئی ہے اور یہ رقم متاثرہ کو علاج اور پلاسٹک سرجری کے لئے ادا کی جائے گی۔ جرم کی تفتیش کی مدت دو ماہ سے کم کرکے 15 دن کردی گئی ہے۔

20 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا لازمی ہوگا

کسی بھی صورت میں 20 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے لئے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 173 میں ایک ترمیم کی تجویز کی گئی ہے۔ مقدمے کی سماعت کی مدت دو ماہ کے بجائے 30 دن اور اپیل کی مدت چھ ماہ کے بجاۓ 45 دن کردی گئی ہے۔ ریاستوں میں مقدمات کے فیصلے کے لئے 36 نئی خصوصی عدالتیں کھولی جائیں گی۔ ہر عدالت میں ایک خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا جائے گا۔

"مہاراشٹرا شکتی فوجداری قانون (مہاراشٹر ترمیمی) ایکٹ "2020 اور "مہاراشٹر شکتی فوجداری قانون 2020 کے نفاذ کے لئے خصوصی عدالت اور مشینری” ایک دوسرے سے منسلک یہ بل، جو 14 دسمبر کو ریاستی مقننہ کے سرمائی اجلاس میں شکتی ایکٹ کے ایک حصے کے طور پر پیش کیے جائیں گے۔

آندھرا پردیش کے ذریعہ وضع کردہ دیشا ایکٹ کی شکل پر تیار کردہ، ان بلوں میں، ہندوستانی تعزیرات (آئی پی سی)، فوجداری ضابطہ اخلاق (سی آر پی سی) اور بچوں سے تحفظ برائے جنسی جرائم کے قانون کے متعلقہ حصوں میں ترمیمات تجویز کی گئیں ہیں۔ ریاستی
وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کہا کہ ایک بار جب مقننہ کے دونوں ایوانوں سے بل منظور ہوجاتے ہیں تو وہ منظوری کے لئے مرکز کو بھیج دیئے جائیں گے۔

بی جے پی کے کارکنوں نے نائب وزیر اعلیٰ سسودیا کی رہائش گاہ پر حملہ کیا: اے اے پی

0

 

بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں پر پولیس کی ملی بھگت سے ڈپٹی چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اے اے پی کے ترجمان آتشی مارلینا نے کہا کہ ایسا واقعہ دہلی کی سیاسی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے۔ کیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نائب وزیر اعلی کے اہل خانہ کو مروانا چاہتے ہیں؟

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں پر پولیس کی ملی بھگت سے ڈپٹی چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اے اے پی کے ترجمان آتشی مارلینا نے جمعرات کو بتایا "آج پولیس کی ملی بھگت سے نائب وزیر اعلی کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔ ایسا واقعہ دہلی کی سیاسی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نائب وزیر اعلی کے اہل خانہ کو مروانا چاہتے ہیں۔ کیا بی جے پی دہلی اسمبلی انتخابات میں نقصان کا بدلہ لے رہی ہے؟

عام آدمی پارٹی کے رہنما سورو بھاردواج نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی کو نظربند کرنے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کی سرپرستی میں نائب وزیر اعلی کے گھر پر ان کی غیر موجودگی میں بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کیا۔ دہلی پولیس نے بی جے پی کے غنڈوں کی حملہ کرنے میں مدد کی ہے۔

حج 2021 کے لیے محض 43 ہزار درخواستیں موصول، حج ہوگا مہنگا: نقوی

0

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور حج مختار عباس نقوی نے اعلان کیا کہ حج 2021 کے لیے صرف 43 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ حج 2021 کے اخراجات کے تخمینے کی بنیاد پر فیس مقرر کی گئی ہے۔ ممبئی سے 3.5 لاکھ اور گوہاٹی سے چار لاکھ، ادا کرنے ہوں گے۔

ممبئی: آج یہاں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور حج مختار عباس نقوی نے اعلان کیا کہ حج 2021 کے لیے صرف 43 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے پیش نظر آخری تاریخ میں 10جنوری تک توسیع کردی گئی ہے۔ جبکہ اس بار ملک میں 21 کے بجائے 10 روانگی مراکز ہوں گے اور محرم بغیر حج کاسفر کرنے والی خواتین کی 500 درخواستیں ملی ہیں اور انہیں بلاقرعہ اندازی سے منظور کرلیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2021 کے اخراجات کے تخمینے کی بنیاد پر فیس مقرر کی گئی اور سعودی عرب سے موصولہ اطلاع کی بنیاد پر اس میں کمی کی گئی ہے۔ ممبئی اور احمدآباد سے سفر کرنے والے عازمین حج تقریباً تین لاکھ تیس ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ بنگلورو، لکھنئو، دہلی اور حیدرآباد مراکز سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے اور کوچین اور سری نگر سے تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے، جبکہ کولکاتا سے تین لاکھ ستر ہزار اور گوہاٹی سے سب سے زیادہ چار لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔

ون نیشن، ون فئیر (ایک ملک، ایک کرایہ) فی الحال ممکن نہیں

مختار نقوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا "ون نیشن، ون فئیر” (ایک ملک، ایک کرایہ) فی الحال ممکن نہیں ہے، لیکن یہ ایک اچھی تجویز ہے، جس پر سبھی ائیر لائنز کو عمل کرناچاہئیے۔ موجودہ کرایہ تخمینہ کی بنیاد پر ہے اور صرف عزیزیہ کیٹگری کے لیے ہے، اس میں کم و بیش ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وبائی مرض کے پیش نظر عالمی پروٹوکال کے رہنما خطوط پر مستعدی سے عمل کیا جائے گا۔ ابھی سعودی عرب حکومت نے عمرہ کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں جاری کی ہے، لیکن عمرہ کے لیے سعودی حکومت نے 18-50 کی عمر والے عازمین عمرہ کو منظوری دی تھی اور اب اس میں 65 سال تک کی توسیع کی جاسکتی ہے۔