جمعہ, جولائی 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 374

بائیں بازو کے کئی رہنما کورونا وبا کے شکار

0
بائیں بازو کے کئی رہنما کورونا وبا کے شکار
بائیں بازو کے کئی رہنما کورونا وبا کے شکار

سی پی آئی کے قومی سکریٹری اتل کمار انجان نے بتایا کہ اترپردیش میں کورونا وائرس کی ہولناک صورتحال ہے اور حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے۔ حکومت کو جلد عوام کی ٹیکہ کاری کرنی چاہیے اور اسپتالوں میں بہتر میڈیکل سہولت مہیا کروانی چاہیے۔

نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے کئی رہنما کووڈ وبا کے شکار ہو گئے ہیں اور آئسولیٹ ہو گئے ہیں۔

آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی) کی جنرل سکریٹری امرجیت کور نے ہفتہ کے روز یہاں بتایا کہ سی پی آئی کے سینئر رہنما ڈی راجہ اور ایچ مہادیون بھی کورونا متاثر ہیں۔

محترمہ کور نے بتایا کہ مسٹر راجہ کل ہی ٹیسٹ میں کورونا متاثر پائے گئے۔ انھیں کورونا ضابطوں کے تحت آئسولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔ مسٹر مہادیون اور ان کی بیوی کو بھی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں سے انھیں چھٹی دے دی گئی ہے۔ اس کے بعد وہ گھر میں رہ رہے ہیں۔ علاج سے انھیں تیزی سے فائدہ ہو رہا ہے۔

سی پی آئی کی پنجاب یونٹ کے جنرل سکریٹری نرمل دھالی وال بھی کورونا متاثر ہو گئے تھے لیکن اب وہ اس وائرس سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔ سی پی آئی کی ہریانہ یونٹ کے جنرل سکریٹری بیچو گِری بھی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں اور انھیں اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

ٹریڈ یونین کے رہنما نے کہا کہ عوام کو قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ٹیکہ کاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار ٹیکہ لگا دینے کے باوجود عوام کورونا کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن قوت مدافعت بڑھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

سی پی آئی کے قومی سکریٹری اتل کمار انجان نے بتایا کہ اترپردیش میں کورونا وائرس کی ہولناک صورتحال ہے اور حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے۔ حکومت کو جلد عوام کی ٹیکہ کاری کرنی چاہیے اور اسپتالوں میں بہتر میڈیکل سہولت مہیا کروانی چاہیے۔

مسٹر انجان نے کہا کہ عوام کو آخری رسومات کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاشوں کو جلانے کے لیے عوام کو ٹوکن دیا جا رہا ہے جس کے سبب انھیں شدید مشکلات ہو رہی ہے۔

کوچ بہار میں پولنگ بوتھ کے باہر ہنگامہ، مرکزی فورسز کی فائرنگ میں 5 افراد کی موت

0
کوچ بہار میں پولنگ بوتھ کے باہر ہنگامہ، مرکزی فورسز کی فائرنگ میں 5 افراد کی موت
کوچ بہار میں پولنگ بوتھ کے باہر ہنگامہ، مرکزی فورسز کی فائرنگ میں 5 افراد کی موت

ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت منیرالزماں، حمید میاں، چمن الحق اور نور عالم میاں کے طور پر ہوئی ہے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر کا سودیپ جین نے چیف انتخابی افسر کو بلایا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ پولیس کو کن حالات میں گولی چلانی پڑی۔

کلکتہ: مغربی بنگال کے کوچ بہار میں پولنگ بوتھ کے باہر فائرنگ میں پانچ افراد کی موت ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں دعویٰ کر رہی ہے کہ مرنے والے کا تعلق ان کی پارٹی سے ہے۔

ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ کوچ بہار ضلع کے سیتال کوچی اسمبلی حلقے میں مرکزی فورسیس کی فائرنگ میں اس کے پانچ ورکروں کی موت ہوگئی ہے۔ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور لوگوں کے جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

ذرائع کے مطابق پولنگ بوتھ کے باہر ترنمول کانگریس اور بی جے پی ورکروں کے درمیان جھڑپ کے بعد مرکزی فورسیس نے فائرنگ کی ہے۔ پولیس ذرائع نے مرنے والوں کا تعلق کس جماعت سے ہے اس کو ظاہر نہیں کیا ہے۔12بجے تک 38 فیصد پولنگ ہوچکی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ مرنے والے کی شناخت آنند برما کے طور پر ہوئی ہے۔ مرنے والے کی لاش پٹھان ٹولی علاقے کے بوتھ نمبر 85 کے باہر پڑی ہوئی تھی۔ دونوں پارٹیاں دعویٰ کر رہی ہیں کہ برما کا تعلق اس کی جماعت سے ہے تاہم اس علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور ریف کو تعینات کردیا گیا ہے۔

بوتھ کے باہر ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ

اس کے بعد ہی بوتھ کے باہر ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ پہلے مرکزی فورسیس نے لاٹھی چارج کرکے مجمع کو منتشرکرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد فائرنگ کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے اس پورے معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے۔

مرکزی فورسیس نے دعوی کیا ہے کہ اچانک 300 سے 400 افراد کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ دونوں طرف سے جاری جھڑپ کو روکنے کے لئے مرکزی فورسیس کو خود دفاع میں فائرنگ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مرکزی فورسیس نے بتایا کہ ایک کی موقع پر ہی موت ہوگئی تھی جب کہ تین افراد کی موت اسپتال میں ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت منیرالزماں، حمید میاں، چمن الحق اور نور عالم میاں کے طور پر ہوئی ہے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر کا سودیپ جین نے چیف انتخابی افسر کو بلایا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ پولیس کو کن حالات میں گولی چلانی پڑی۔

ترنمول کانگریس نے کہا کہ برما کا تعلق بھی اسی پارٹی سے ہے اور جس وقت بی جے پی کے لوگوں نے حملہ کیا اس وقت مرکزی فورسیس نہیں تھی۔

کشن گنج کے سٹی تھانہ انچارج کا مغربی بنگال میں پیٹ پیٹ کر قتل

0
کشن گنج کے سٹی تھانہ انچارج کا مغربی بنگال میں پیٹ پیٹ کر قتل
کشن گنج کے سٹی تھانہ انچارج کا مغربی بنگال میں پیٹ پیٹ کر قتل

کشن گنج کے سٹی تھانہ انچارج کو مغربی بنگال میں پیٹ پیٹ کر قتل کردیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پورنیہ پولیس انسپکٹر جنرل (آئی جی) سریش پرساد چودھری، پولیس سپرنٹنڈنٹ کمار آشیش، اسلام پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن مکر اسلام پور اسپتال پہنچ کر معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

کشن گنج: بہار میں کشن گنج ضلع کے سٹی تھانہ انچارج کو مغربی بنگال میں پیٹ پیٹ کر قتل کردیا گیا۔

پولیس ذرائع نے سنیچر کو یہاں بتایا کہ سٹی تھانہ انچارج اشونی کمار آج صبح بائک لوٹ کے واقعہ کے سلسلے میں سرحدی مغربی بنگال کے پنتاپارا میں اپنی ٹیم کے ساتھ چھاپہ مارنے گئے تھے۔ اس دوران وہاں موجود گاؤں والوں نے انہیں پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ دیگر پولیس اہلکار کسی طرح جان بچاکر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ لاش پوسٹ مارٹم کے لئے مغربی بنگال کے اسلام پور اسپتال بھیج دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پورنیہ پولیس انسپکٹر جنرل (آئی جی) سریش پرساد چودھری، پولیس سپرنٹنڈنٹ کمار آشیش، اسلام پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن مکر اسلام پور اسپتال پہنچ کر معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

کووڈ – 19 ویکسین لینے کے بعد آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ہوئے کورونا سے متاثر

0
کووڈ - 19 ویکسین لینے کے بعد آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ہوئے کورونا سے متاثر
کووڈ - 19 ویکسین لینے کے بعد آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ہوئے کورونا سے متاثر

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کورونا مثبت پائے گئے۔ بھاگوت نے 7 مارچ کو کووڈ – 19 ویکسین کی پہلی خوراک لی تھی۔

ممبئی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کورونا مثبت پائے گئے۔ ان کا ناگپور شہر کے نجی اسپتال میں علاج جاری ہے جہاں انکی حالت مستحکم بتلائی جارہی ہے۔

آر ایس ایس کے ایک عہدیدار نے بتلایا کے چند دنوں قبل بھاگوت کو معمولی کھانسی اور نزلہ زکام تھا جس کے بعد انھوں نے آر ٹی پی سی آر کا ٹیسٹ لیا جس کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد انہیں جمعہ کے روز کنگز وے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھاگوت نے 7 مارچ کو کووڈ – 19 ویکسین کی پہلی خوراک لی تھی۔

مھاراشٹرا میں کووڈ اسپتال میں آتشزدگی سے چار ہلاک، دو کی حالت تشویشناک

0
مھاراشٹرا میں کووڈ اسپتال میں آتشزدگی سے چار ہلاک، دو کی حالت تشویشناک
مھاراشٹرا میں کووڈ اسپتال میں آتشزدگی سے چار ہلاک، دو کی حالت تشویشناک

ناگپور کے واڑا میں واقع کووڈ اسپتال 30 بستروں کی سہولت ہے، جس میں سے 15 انتہائی نگہداشت یونٹ کے بیڈ تھے۔ جمعہ کی نصف شب ہونے والی اس واردات سے افراتفری مچ گئی نیز جس وقت آگ لگی اسوقت اسپتال میں محدود طبی عملہ موجود تھے۔

ممبئی: ریاست مھاراشٹرا کی دوسری راجدھانی ناگپور شہر سے متصلہ واڑا نامی علاقے میں واقع ایک کورونا سینٹر میں آگ لگنے کی وجہ سے چار مریضوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ جبکہ مزید دو کی حالت تشویشناک بتلائی جارہی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اسپتال میں زیر علاج 27 مریضوں کو دوسری اسپتالوں میں منتقل کیا گیا اور اسپتال کو مکمل طور پر خالی کرالیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اسپتال میں چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دو مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ناگپور کے واڑا میں واقع اسپتال 30 بستروں کی سہولت ہے، جس میں سے 15 انتہائی نگہداشت یونٹ کے بیڈ تھے۔

ناگپور میونسپل کارپوریشن کے چیف فائر آفیسر راجندر اچکے نے میڈیا کو بتایا "اسپتال کی دوسری منزل پر واقع آئی سی یو کے اے سی یونٹ سے آگ لگی تھی۔ آگ اس منزل تک ہی محدود رہی اور مزید پھیل نہیں سکی‘‘۔ آگ پر فی الوقت مکمل قابو پالیا گیا ہے۔

جمعہ کی نصف شب ہونے والی اس واردات سے افراتفری مچ گئی نیز جس وقت آگ لگی اسوقت اسپتال میں محدود طبی عملہ موجود تھے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ اس سانحہ پر اظہار تعزیت کیا ہے۔

ناگپور میں مقیم اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مقامی کلکٹر سے بات چیت کرکے راحتی کاموں کی تفصیلات طلب کرکے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

بنگال میں چوتھے مرحلے کی ووٹنگ کا آغاز

0
بنگال میں چوتھے مرحلے کی ووٹنگ کا آغاز
بنگال میں چوتھے مرحلے کی ووٹنگ کا آغاز

مغربی بنگال میں ہفتہ کے روز چوتھے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ ریاست میں اس کے بعد 17 اپریل، 22 اپریل، 26 اپریل اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہو گی۔ ووٹ شماری 2 مئی کو ہوگی۔

کولکتہ: مغربی بنگال میں ہفتہ کے روز چوتھے مرحلے میں ریاستی اسمبلی کی 44 سیٹوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔

الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق 44 اسمبلی حلقوں میں 15،940 پولنگ مرکز قائم کئے گئے ہیں ۔ یہاں 1،15،81،022 رائے دہندگان 373 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ پرامن ووٹنگ کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

 11 حلقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں کی تعداد سے زیادہ

ریاست میں چوتھے مرحلے میں پانچ اضلاع کے 44 اسمبلی حلقوں میں پولنگ ہورہی ہے۔ ان میں ہاؤڑہ پارٹ 2 سمیت جنوبی 24 پرگنہ پارٹ 2 اور ہوگلی پارٹ 2، علی پوردوار اور کوچ بہار سیٹیں شامل ہیں۔ ضلع جنوبی 24 پرگنہ میں خواتین فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ضلع کے 11 حلقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

اس 11 انتخابی حلقوں میں خواتین رائے دہندگان کی مجموعی تعداد 15،70،392 اور مرد رائے دہندگان کی تعداد 15،66،161 ہے۔ ریاست میں چوتھے مرحلے میں بی جے پی کے مرکزی وزیر بابل سپریو، ترنمول کانگریس کے ریاستی وزیر کھیل اروپ وشواس ہاٹ سیٹ ٹولی گنج سے میدان میں ہیں۔

ان میں شہر کے سابق میئر اور وزیر سون چٹرجی کی اہلیہ رتنا چٹرجی بھی ہیں۔ محترمہ چٹرجی کا بی جے پی کی اداکارہ سیاستدان پائل سرکار سے مقابلہ ہے۔

سابق کرکٹر اور ترنمول کانگریس کے امیدوار منوج تیواری شیوپور سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور بی جے پی کے رکن ِ پارلیمنٹ اور اداکار ایل چٹرجی ہوگلی ضلع کے چنسرا سے انتخابی میدان میں ہیں۔

آزادانہ اور پرامن ووٹنگ کرانے پر زور

متحدہ محاذ میں بائیں بازو، کانگریس اور آئی ایس ایف نے چوتھے مرحلے کے لئے بیشتر نوجوانوں کو میدان میں اتارا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لئے مرکزی اور ریاستی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ سیکیورٹی کے وسیع انتظامات کئے ہیں۔

مغربی بنگال کے 44 اسمبلی حلقوں میں ’حساس‘ صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی فورسز کی کم از کم 789 کمپنیوں کو تعینات کیا ہے۔ کوچ بہار میں سب سے زیادہ 187 کمپنیاں تعینات ہیں۔ ریاست میں اس کے بعد 17 اپریل، 22 اپریل، 26 اپریل اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہو گی۔ ووٹ شماری 2 مئی کو ہوگی۔

بہار میں کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے 30 اپریل تک جزوی پابندی

0
بہار میں کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے 30 اپریل تک جزوی پابندی
بہار میں کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے 30 اپریل تک جزوی پابندی

وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ ریاست میں کورونا کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے 30 اپریل تک جزوی پابندی لگانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاست کے سبھی اسکول اور کالج 18 اپریل تک بند رہیں گے۔

پٹنہ: ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے درمیان بہار میں انفیکشن کے تیزی سے بڑھ رہے معاملوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے 30 اپریل تک ریاست میں جزوی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعہ کو یہاں ’سنواد‘ میں کورونا سے متعلق جائزہ کیلئے اعلیٰ سطحی میٹنگ کرنے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست میں کورونا کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے 30 اپریل تک جزوی پابندی لگانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاست کے سبھی اسکول اور کالج 18 اپریل تک بند رہیں گے لیکن اس دوران قبل میں مقررہ امتحانات پروگرام کے مطابق ہی ہوںگے۔ حالانکہ اس میں کووڈ سے تحفظ کے رہنماء اصول پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ اس سے قبل 05 سے 11 اپریل تک اسکول ۔ کالج کو بند رکھا گیا تھا۔

اجلاس میں لئے گئے دیگر فیصلوں کے بارے میں صحت محکمہ کے پرنسپل سکریٹری پرتیہ امرت نے تفصیل سے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 30 اپریل تک سبھی دکان اور ادارے شام سات بجے کے بعد بند رہیں گے۔ حالانکہ ریسٹورینٹ، ڈھابا اور ہوٹل شام سات بجے کے بعد بھی کھلے رہیں گے لیکن وہاں کل صلاحیت کے 25 فیصد لوگوں کو ہی بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح سنیما گھروں میں بھی اس کی کل صلاحیت کے 50 فیصد شائقین ہی بیٹھ پائیں گے۔

مسٹر امرت نے کہا کہ ایسے دکان اور اداروں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے کچھ شرطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ ان شرائط کے تحت وہاں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ دکان اور اداروں کے مین گیٹ یا کاﺅنٹر پر آنے والوں کے استعمال کیلئے سینٹائزر کا نظم کرنا لازمی رہے گا۔ دکان اور ادارے کے احاطے میں سماجی دوری کے معیارات 2 گز کے فاصلے پر عمل کیا جانا لازمی ہوگا۔

سبھی مذہبی مقامات 30 اپریل تک عوام الناس کیلئے بند رہیں گے

محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری نے کہا کہ ریستوراں، ڈھابا، ہوٹل میں مقررہ سیٹ کی صلاحیت کے 25 فیصد کا ہی استعمال کرسکیں گے۔ ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوور سروس کے آپریشن کی اجازت ہوگی۔ وہیں سبھی پارکوں اور باغات میں ماسک کا استعمال اور کووڈ سے تحفظ کی تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ سبھی مذہبی مقامات 30 اپریل تک عوام الناس کیلئے بند رہیں گے۔

مسٹر امرت نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں ڈپٹی سکریٹری یا اہل اور ان سے سینئر افسر صد فیصد، وہیں ان کے ماتحت افسران و ملازمین باری ۔ باری سے 33 فیصد حاضر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، فائر بریگیڈ، صحت، آفات مینجمنٹ، ٹیلی مواصلات، ڈاک اور بینک جیسی ضروری خدمات سے متعلق ملازمین پر یہ نافذ نہیں رہے گا۔ پرائیوٹ دفتر اور اداروں کے کمرشیل اور غیر کمرشیل دفاتر میں 33 فیصد ملازمین کے ساتھ کھولنے کی اجازت ہوگی لیکن یہ صنعتی اداروں پر نافذ نہیں ہوگا۔ وہ حسب سابق اپنا کام کریںگے۔

پرنسپل سکریٹری نے کہا کہ عوامی مقامات پر کسی قسم کے انعقاد سرکاری اور غیر سرکاری پر روک رہے گی۔ آخری رسومات کیلئے 50 اور شرادھا اور شادی کیلئے 200 افراد کی حد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مقررہ سیٹ کی صلاحیت کے 50 فیصد کے ہی استعمال کی اجازت ہوگی۔

روہنگیا پناہ گزینوں کو عمل پورا کیے بغیر نہیں بھیجا جائے گا: سپریم کورٹ

0

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ہندوستان کو غیر قانونی مہاجروں کا دارالحکومت نہیں بننے دیا جا سکتا۔ مسٹر مہتا نے کہا، ’دراندازوں سے قومی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے۔ میانمار سے آئے روہنگیا دراندازوں کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں‘۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جموں میں حراست میں رکھے گئے پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا متعینہ عمل پورا کیے بغیر میانمار نہیں بھیجا جائے گا۔

چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنّہ اور جسٹس وی سبرامنیم کی بینچ نے محمد سمیع اللہ کی مفاد عامہ کی عرضی پر حکم سنایا۔ بینچ نے کہا کہ جموں میں زیر حراست رکھے گئے کم از کم 168 روہنگیا پناہ گزینوں کی ابھی رہائی نہیں ہوگی۔ سبھی کو ہولڈنگ سینٹر میں ہی رہنا ہوگا۔

کچھ روہنگیا افراد کی جانب سے سینیئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے عرضی دائر کرکے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان لوگوں کو رہا کرکے ہندوستان میں ہی رہنے دیا جائے۔ مرکزی حکومت نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ہندوستان کو غیر قانونی مہاجروں کا دارالحکومت نہیں بننے دیا جا سکتا۔ مسٹر مہتا نے کہا، ’دراندازوں سے قومی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے۔ میانمار سے آئے روہنگیا دراندازوں کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں‘۔

سپریم کورٹ نے گذشتہ 26 مارچ کو شنوائی پوری ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

مسٹر بھوشن نے گذشتہ شنوائی کے دوران مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ کو یہ ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تھا کہ جو روہنگیا حراست میں رکھے گئے ہیں، انھیں رہا کیا جائے اور واپس میانمار بھیجا جائے۔

توہین رسالت کے ملزم نرسنگھانند سرسوتی کے خلاف فورا کی جائے قانونی کارروائی: ڈاکٹر انصاری

0
توہین رسالت کے ملزم نرسنگھانند سرسوتی کے خلاف فورا کی جائے قانونی کارروائی: ڈاکٹر انصاری
توہین رسالت کے ملزم نرسنگھانند سرسوتی کے خلاف فورا کی جائے قانونی کارروائی: ڈاکٹر انصاری

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نرسنگھا نند سرسوتی کے ذریعہ گستاخی کرکے جو مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے وہ دستور ہند کی سخت خلاف ورزی ہے۔ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرکے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کرکے افراتفری پیدا کرنے میں کوشاں ہے۔

پرتاپ گڑھ: پیغمر اسلام آخری نبی کی توہین کے واقعات اسلام مخالف قوموں کی ذہنی دیوالیہ پن اور ان کی شکست خوردگی کی علامت ہے۔ نرسنگھا نند سرسوتی نے توہین رسالت کر جو ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے یہ ملک کی فرقہ وارانہ خیر سگالی کو متاثر کرنے والا ہے۔ حکومت فورا ایسے شخص کے خلاف جو ملک کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے سخت قانونی کارروائی کرے۔ پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے جاری بیان میں نرسنگھانند سرسوتی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ملک میں مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نرسنگھا نند سرسوتی کے ذریعہ گستاخی کرکے جو مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے وہ دستور ہند کی سخت خلاف ورزی ہے۔ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرکے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کرکے افراتفری پیدا کرنے میں کوشاں ہے۔

نرسنگھانند سرسوتی نے آخری نبی کی ذات اقدس کو نشانہ بناکر فرقہ پرست تنظیموں اور ان کے حامیوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ آخری نبی صلی اللہ وسلم پورے عالم کے لیے ایک مثال ہیں۔ آپ صلی اللہ و سلم نے اپنی زندگی میں جو انسانیت کا درس دیتے ہوئے کام کیا اور پیغام دیا ہے، جس کا سبھی مذاہب کے ماننے والے احترام کرتے ہیں۔

سیاسی رہنماؤں کو ایسے منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کھل کر سامنے آنے کی ضرورت

محمد مصطفٰے صلی اللہ وسلم کے دامن کو داغدار کرنے کی جو ناکام کوشش ملک میں کی جارہی ہے کتنی تشویشناک بات ہے۔ ملک کے سیاسی و سرکاری حلقوں میں ایسی دل آزری کا نوٹس نہیں لیا جارہا ہے، بلکہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مذہبی افراد تو ایسی دل آزاری کی باتوں کی مذمت کرتے ہیں، پر سیاسی رہنماؤں کے کھل کر ایسے منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کھڑے نہ ہونے سے نرسنگھا نند جیسے لوگوں کے حوصلے بلند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جذبات نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہ کر جمہوری طریقے سے نرسنگھا نند جیسے لوگوں کی نفرت کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ نرسنگھانند سرسوتی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے جیل بھیجا جائے۔

امریکہ کا ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ

0
امریکہ کا ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ
امریکہ کا ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا عندیہ

امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ معاہدہ سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

ویانا: امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران ایٹمی ڈیل پر واپسی کے لئے ضروری اقدامات پر تیار ہیں۔

یوروپ کی مصالحت کاری میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالہ سے بالواسطہ مذاکرات کا ویانا میں آغاز ہوگیا ہے۔

ایران کے مذاکرات کار عباس اراغچی کا کہنا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ملاقات تعمیری رہی اور جمعہ کو ایک اور ملاقات ہوگی۔

واضح رہے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ معاہدہ سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔