ہفتہ, جولائی 4, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 355

یاس طوفان: ممتا بنرجی کا وزیر اعظم سے 20 ہزار کروڑ روپے کے مجموعی مالی پیکج کا مطالبہ

0
یاس طوفان: ممتا بنرجی کا وزیر اعظم سے 20 ہزار کروڑ روپے کے مجموعی مالی پیکج کا مطالبہ

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ طوفان یاس کی وجہ سے ریاست کو 20 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستی حکومت نے وزیر اعظم سے دیگھا کے لئے 10,000 کروڑ اور سندربن کے لئے مزید 10,000 کروڑ کا مالیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کلکتہ: وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ان سے 20،000 کروڑ روپے کے مجموعی مالی پیکیج کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم یاس طوفان سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے اڑیسہ اور بنگال کے دورے پر ہیں۔

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مشرقی مدنی پور کے کائیکنڈہ میں ملاقات کی اور ریاست کو ہونے والے نقصانات سے متعلق ایک رپورٹ سونپی۔ دیگھا میں بی ڈی اوز سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ طوفان یاس کی وجہ سے ریاست کو 20 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستی حکومت نے وزیر اعظم سے دیگھا کے لئے 10,000 کروڑ اور سندربن کے لئے مزید 10,000 کروڑ کا مالیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مشرقی مدنی پور اور جنوبی 24 پرگنہ میں سب سے تباہی

مشرقی مدنی پور اور جنوبی 24 پرگنہ میں سب سے تباہی مچی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاست کے سیاحتی مقامات دیگھا اور مندار منی میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ وہیں سندربن کا بڑا علاقہ مکمل طور پر ڈوب گیا ہے۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ امفان کے بعد سندربن کی تعمیر نو کی جا رہی تھی وہ بھی اس کی زد میں آکر تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ یاس کی وجہ سے سندر بن کے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔

ممتا بنرجی وزیر اعظم مودی کے ساتھ کائیکنڈہ میٹنگ میں شریک نہیں ہوئیں۔ لیکن دونوں لیڈروں کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ان کے ساتھ یاس طوفان سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل پیش کی۔

دیگھا میں ممتا بنرجی نے کہا کہ چیف سکریٹری اور میں یاس طوفان میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم نے وزیرا عظم مودی سے ملاقات کرکے ریاست میں ہونے والے نقصانات کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے 20 ہزار کروڑ روپے کے مجموعی پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے سیاحتی مقام دیگھا کی تعمیر نو اور سندربن کی تعمیر کے لئے علاحدہ علاحدہ دس دس ہزار کروڑ روپے کا مطالبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ جو آپ مناسب سمجھیں کریں۔ ایسے مجھے نہیں لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں ہمارے مسائل کو سمجھے گی۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ دیگھا کی تعمیر نو کی جلد سے جلد ضرورت ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا کے سہارے برسراقتدار آنے والے اب اسی سوشل میڈیا سے گھبرائے

0
سوشل میڈیا کے سہارے برسراقتدار آنے والے اب اسی سوشل میڈیا سے گھبرائے
سوشل میڈیا کے سہارے برسراقتدار آنے والے اب اسی سوشل میڈیا سے گھبرائے

جس سوشل میڈیا کے ذریعہ بی جے پی نے اپنی شبیہ بنائی تھی، آج اسی سوشل میڈیا نے لوگوں پر حقیقت آشکار کر دی ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

خبروں کی دنیا

ایک زمانہ تھا جب خبریں حاصل کرنے کے لیے شام کا یا اگلے روز کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ شام کو ریڈیو یا صبح کو جب ہاتھوں میں اخبار آتا تو معلوم ہوتا کہ شہر، ملک اور دنیا میں کیا ہلچل ہے اور کیا واقعات و حادثات پیش آئے۔ اس کے بعد دوردرشن اور پرائیویٹ نیوز چینلوں کا دور آیا۔ پہلے شام کو پورے دن کی خبریں اورپھر ہر گھنٹے واقعات سے آگاہی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ خبروں کی دنیا تبدیل ہوتی گئی۔

پہلے صرف خبروں کا سلسلہ اطلاعات تک محدود رہا۔ پھر خبروں پر منفی و مثبت اور حکومت کی حمایت و مخالفت کا رنگ چڑھنے لگا۔ سونے پہ سہاگا، جب پرائیویٹ نیوز چینلوں نے ایک خاص ایجنڈے کے تحت خبروں کے ساتھ  بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع کیا تو ذرائع ابلاغ کا پورا منظر نامہ ہی بدل گیا۔

اس مصروف ترین زندگی میں بھی یہ چینل ملک میں اپنا ایجنڈا تھوپنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے۔ پہلےمیٹرو شہروں، پھر چھوٹے شہروں و قصبات اور پھر گاؤوں تک ایک خاص منشا کے تحت اور مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کے مطابق ان کی یہ مہم رنگ لائی۔ اس سے بھی دل نہیں بھرا تو سوشل میڈیا کا سہارا لیا گیا۔

سوشل میڈیا کا سیاسی استعمال

تمام تر مصروفیات زندگی کے باوجود خبریں حاصل کرنے میں سوشل میڈیا کار آمد تو ثابت ہوا، لیکن حد سے زیادہ منفی استعمال نے سوشل میڈیا کی افادیت کو خاک میں ملا دیا۔ اس سے سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت پر بھلے ہی حرف آیا ہو، لیکن 2014 کے عام انتخابات اور اس سے پہلے بی جے پی نے اس کا بھرپور استعمال کیا۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں بی جے پی نے کانگریس سمیت باقی سبھی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

بر سر اقتدار آنے کے بعد بھی بی جے پی نے منفی یا مثبت، جس طریقے سے بھی استعمال کیا، سوشل میڈیا کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اب 2021 آتے آتے یہی سوشل میڈیا اس کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے۔ جس سوشل میڈیا کے ذریعہ بی جے پی نے لوگوں کو گمراہ کرکےاپنی شبیہ بنائی تھی، آج اسی سوشل میڈیا نے لوگوں پر حقیقت آشکار کر دی ہے۔

وقت وقت کی بات ہے جو ایک سا نہیں رہتا!، سوشل میڈیا نے ہی اگر کسی کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچادیا تو کسی کا مکرو چہرہ بھی سامنے لادیا۔ خاص طور پر کورونا کی وبا کے دور میں بی جے پی، اس کی حکومتوں اور اس کے لیڈران کے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

غیر جانب دار سوشل میڈیا؟

سخت مشکل کی اس گھڑی میں لوگ دوا، علاج، اسپتال، آکسیجن، وینٹی لیٹرکے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، اسپتالوں کے باہر لائن میں لگے دم توڑتے رہے۔ حد تو یہ کہ مہلوکین اپنے مذہب کے مطابق آخری رسوم سے بھی محروم ہو گئے۔ ان کے ورثا گھنٹوں قطاروں میں لگ کر بھی اپنے عزیزوں کواحترام کے ساتھ آخری وداعی بھی نہ دے سکے۔ ان سب کو بھی حکومت نے اپنے زرخرید میڈیا کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کی، لیکن سوشل میڈیا اور غیر جانبدار مین اسٹریم میڈیا نے حکومت کی سچائی دنیا کے سامنے لاکر رکھ دی ہے۔ یہاں تک کہ عالمی میڈیا نے بھی سچائی بیان کر کے موجودہ حکومت اور اس کے کارندوں کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں کھینچ دی ہیں۔

اب حکومت کو فکر لاحق ہوئی ہے۔ فکر اس بات کی نہیں ہے کہ ملک کےباشندوں پر مصیبت کے جو پہاڑ ٹوٹے ان کا سد باب کیسے ہو، بلکہ فکر اس بات کی ہے کہ اس نے مفروضے کی بنیادوں پر دنیا کے سامنے جو شبیہ بنائی ہے، اس کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بی جے پی حکومت کو اپنی کوتاہیاں، اپنی ناکامیاں اور اپنی تنقیدیں برداشت نہیں ہو رہی ہیں۔

حکومت سوشل میڈیا سے خوفزدہ

جس سوشل میڈیا کو وہ اپنا خاص آلہ کار سمجھتی تھی، اب اسی سے خوفزدہ نظر آتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران سوشل میڈیا کے تعلق سے حکومت کی سرگرمیاں اور کارروائیاں تو یہی ظاہر کرتی ہیں۔ دہلی پولیس کے ذریعہ پیرکی شام ٹوئٹر انڈیا کے مختلف دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے یہ چھاپے’ٹول کٹ‘ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں مارے گئے۔

اس سے پہلے دہلی پولیس نے بی جے پی لیڈرسمبت پاترا کے ٹویٹ کو’مینی پلوٹیڈ میڈیا‘ ( مفروضے کی بنیاد پر) قراردینے کے معاملے میں ٹوئٹر انڈیا کو شواہد پیش کرنے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔ جس پر ٹویٹر نے کہا تھا کہ اس سلسلہ میں معلومات فراہم کرنا ضروری نہیں ہے۔

ٹول کٹ معاملہ

سمبت پاترا نے 18 مئی کو ایک مبینہ ’ٹول کٹ‘ شیئر کیا تھا جوکہ کانگریس کے لیٹر ہیڈ پرتھا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ٹویٹ اور معلومات کو کس طرح شیئر کرنا ہے۔ بی جے پی کے سبھی لیڈران اس پر کانگریس پر حملہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے اس کو فرضی قراردیا تھا۔ پارٹی نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی تھی۔ اس کے اگلے ہی دن ٹوئٹر نے کارروائی کی اور سمبت پاترا کے ٹویٹ کو گمراہ کن یعنی ’مینی پلوٹیڈ میڈیا‘ قراردیا۔

در اصل ٹوئٹر کی ایک پالیسی ہے، جس کے مطابق اگر آپ کوئی بھی معلومات ٹویٹ کرتے ہیں اور وہ حقائق کے برعکس ہے تو اس پر ایک لیبل لگادیا جاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اس سے بی جے پی اور حکومت سخت برہم ہے۔ اس سے پہلے بھی بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنی نفرت انگیز مہم پروان چڑھانے کے سبب ٹوئٹر نے کنگنا راناوت نامی اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہمیشہ کے لئے سسپینڈ کر دیا تھا۔

ابھی ٹول کٹ کا تنازعہ چل ہی رہا تھا کہ اب مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے سامنے ایک نئی پریشانی آ گئی ہے۔ حکومت نے رواں سال 25 فروری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لئے گائیڈ لائن جاری کی تھی اور ان پر عمل درآمد کے لئے تین ماہ کا وقت دیا۔ یہ 25 مئی کو ختم ہورہی ہے۔ ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ابھی تک نہیں بتایا ہے کہ آیا اس ہدایت نامے پر عمل درآمد ہوا ہے یا نہیں۔ ایسی صورت حال میں حکومت ان پر کارروائی کر سکتی ہے۔

فیس بک کا جواب

فیس بک نےاپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ آئی ٹی کے ضابطوں پر عمل کرے گی۔ نیز، کچھ امور پر حکومت سے بات بھی کرتے رہیں گے۔ فیس بک نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ٹی کے ضابطوں کے مطابق آپریشنل طریقہ کار نافذ کرنے اور استعداد کار بڑھانے پرکام جاری ہے۔ کمپنی اس بات کا خیال رکھے گی کہ لوگ ہمارے پلیٹ فارم کے ذریعے آزادانہ اور محفوظ طریقے سے اپنی بات کہہ سکیں۔

حکومت نے سوشل میڈیا کے لئے جو گائیڈ لائنز جاری کی ہے، اس کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹوں مثلاً ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام اور وہاٹس ایپ کو حکومت کے مطابق مزید ’شفافیت‘ لانا ہوگی۔ اس کے لئے حکومت کی جانب سے مختلف شرائط پیش کی گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمپنیاں کس حد تک حکومت ہند کی شرائط کو مانتی ہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کرتی ہیں۔ ٹوئٹر کے رخ کو دیکھتے ہوئے تو نہیں لگتا کہ وہ حکومت کی شرائط پر کام کرے گی۔

تنقید ناقابل برداشت؟

بہر حال، مذکورہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہمارا ملک اب ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جہاں مخالفت میں کی جانے والی تنقید بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔ دنیا بھر میں اداروں، حکومتوں، جماعتوں اور تنظیموں پر ایک دائرے میں تنقید اور ان کی مخالفت ہونا عام بات ہے، لیکن یہاں ایسا لگتا ہے کہ اس دائرے کو بہت محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا سے قبل اخبارات، ٹیلی ویژن اور عوامی جلسوں کے ذریعے تنقید کی جاتی تھی، مگر سوشل میڈیا کے متعارف ہونے کے بعد مخالفت اور تنقید کرنے کا یہ بڑا سہارا بن گیا۔ اگر ہم غور کریں تو موجود کورونا وبا کے بحران میں لوگوں کو اسی سوشل میڈیا نے بڑا سہارا دیا ہے۔

ہر طرف سے مایوس اور نا امید ہو چکے لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر مدد ملی اور اسپتال سے لے کر دوا اور علاج تک ضرورت مندوں کو مہیا کیا جا سکا۔ اس کے بعد بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح مدد کرنے والوں کو پریشان کیا گیا۔ ایسے میں  سوال پیدا ہوتا کہ کیا سوشل میڈیا کے ساتھ مدد کرنے والوں پر بھی پہرا بٹھا دیا جائے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک جمہوری اور آزاد ملک کے مستقبل کے لئے کہیں سے بہتر نہیں ہے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: [email protected]]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں

تلنگانہ: لاک ڈاون کے دوران گھروں سے نکلنے والے افراد کو الگ تھلگ مرکز بھیج کر پولیس نے دی انوکھی سزا

0
تلنگانہ: لاک ڈاون کے دوران گھروں سے نکلنے والے افراد کو الگ تھلگ مرکز بھیج کر پولیس نے دی انوکھی سزا
تلنگانہ: لاک ڈاون کے دوران گھروں سے نکلنے والے افراد کو الگ تھلگ مرکز بھیج کر پولیس نے دی انوکھی سزا

لاک ڈاون کے دوران گھروں سے سڑکوں پر غیر ضروری نکلنے والے 15 نوجوانوں کو الگ تھلگ مرکز بھیج دیاگیا۔ جس کے لئے ان کو پولیس نے وہاں پہلے سے موجود ایمبولنس گاڑی میں زبردستی بٹھادیا اور پھر ان نوجوانوں کو بیلم پلی ٹاون کے آئسولیش مرکز منتقل کر دیا گیا۔ 

حیدرآباد: تلنگانہ کے راماگنڈم پولیس کمشنریٹ کے حدود میں پولیس نے لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنے والوں کو الگ تھلگ مرکز بھیجتے ہوئے انوکھی سزا دی۔ پہلے دن جمعرات کو بعض نوجوانوں کو سلطان آباد آئسولیشن مرکز منتقل کردیا گیا۔ تاہم بعد ازاں ان نوجوانوں کی مناسب کونسلنگ کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا اور انہیں سختی سے ہدایت دی گئی کہ وہ کووڈ اصولوں پر عمل کریں۔

اس کمشنریٹ کے چینور علاقہ میں باربار منع کرنے کے باوجود گھروں سے سڑکوں پر غیر ضروری نکلنے والے 15 نوجوانوں کو الگ تھلگ مرکز بھیج دیاگیا جس کے لئے ان کو پولیس نے وہاں پہلے سے موجود ایمبولنس گاڑی میں زبردستی بٹھادیا اور پھر ان نوجوانوں کو بیلم پلی ٹاون کے آئسولیش مرکز منتقل کر دیا گیا۔

اس سلسلہ میں ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس میں دکھایا گیا ہے کہ ان نوجوانوں کو مزاحمت کے باوجود پولیس ملازمین نے ایمبولینس گاڑی میں زبردستی بٹھا دیا۔ منتھنی ٹاون میں بھی پولیس کی جانب سے لاک ڈاون پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔ پولیس نے کہا کہ تقریبا 95 فیصد افراد کی جانب سے لاک ڈاون پر مناسب طور پر عمل کیا جارہا ہے۔ صرف پانچ فیصد افراد ہی لاک ڈاون پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ ایسے افراد کے لئے ایک علحدہ الگ تھلگ مرکز بنایا گیا ہے جہاں ان کو منتقل کیا جارہا ہے۔

پولیس نے کہا کہ کئی افراد بائیکس پر بھی سڑکوں پر غیر ضروری طور پر گھوم رہے ہیں۔ ایسے افراد کی بائیکس کو ضبط کرتے ہوئے لاک ڈاون کے اختتام کے بعد ان کو حوالہ کیا جائے گا۔ پداپلی کے ڈی سی پی پی رویندر نے اے سی پیز اومیندر اور این پنت کے ساتھ گوداوری کھنی پولیس اسٹیشن کے حدود میں پٹرولنگ کی۔ ڈی سی پی رویندر نے کہا کہ بعض نوجوان سڑکوں پر بغیر کسی وجہ کے گھوم رہے ہیں۔ ان کی گاڑیوں کو ضبط کرنے کے باوجود ان کے رویہ میں تبدیلی نہیں آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کے رویہ میں تبدیلی لانے کے لئے انوکھی سزا کے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ ہر دن یہ خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ پولیس نے عوام سے خواہش کی کہ وہ گھروں میں ہی رہیں۔ اب تک تقریبا 400 تا 500 معاملات لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر درج کئے جارہے ہیں۔پولیس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ کے سلسلہ کو توڑنا ضروری ہے۔ اسی لئے گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں اس سے پولیس اور عوام کو بھی مدد مل سکتی ہے۔

راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت

0
راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت
راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت

وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں راہل گاندھی نے کہا کہ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر عوام مخالف فیصلے کررہے ہیں جس کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ لہذا، انہیں (مسٹر مودی) کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط تحریر کرکے کہا کہ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر عوام مخالف فیصلے کررہے ہیں جن کی زبردست مخالفت ہو رہی ہے۔ اس لئے انہیں (مسٹر مودی) کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے۔

مسٹر گاندھی نے جمعرات کو تحریر کردہ خط میں کہا کہ لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل مسلسل ایسے قدم اٹھا رہے ہیں جن سے لکشدیپ کی خوبصورتی اور ثقافت کے انوکھے سنگم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لوگ اس وراثت کو بچانے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر منتخب نمائندوں اور عوام سے مشورہ کئے بغیر یکطرفہ فیصلے کرکے بڑی تبدیلیاں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لکشدیپ کے لوگ ان تجاویز کو من مانی قرار دیکر مخالفت کررہے ہیں۔ ڈرافٹ کی تجاویز سے زمین کی ملکیت سے متعلق حقوق کو کمزور کرتے ہیں، کچھ سرگرمیوں کے لئے ماحولیاتی ضوابط کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کے لئے قانونی امداد کے متبادل کو محدود کرتے ہوئے عوامی حقوق پر حملہ ہورہا ہے۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ پنچایت ریگولیشن کے مسودے میں دو سے زیادہ بچوں والے اراکین کو نااہل اعلان کرنے کا التزام ہے جو واضح طورپر غیرجمہوری قدم ہے۔ اس کے علاوہ تبدیلی کی ایسی تجاویز ہیں جو مقامی کمیونٹی کے ثقافتی اور مذہبی تانے بانے پر حملہ ہے اس لئے مسٹر مودی کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے۔

طالبان کا ہمسایہ ممالک سے امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کی اپیل

0
طالبان کا ہمسایہ ممالک کو امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کا مشورہ
طالبان کا ہمسایہ ممالک کو امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کا مشورہ

امریکہ سمیت دیگر ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان طالبان کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے اب افغانستان کے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بہت بڑی تاریخی غلطی ہوگی۔

کابل: امریکہ سمیت دیگر ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان طالبان کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اب اس نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکہ کو فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان کی تاریخی غلطی ہوگی۔

ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ، افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے آخری مراحل میں ہے اور حالیہ دنوں میں امریکہ اور پاکستان کے مابین سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں نے ان قیاس آرائی کو جنم دیا ہے کہ پنٹاگن طالبان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے نئے اڈوں کی تلاش میں ہے۔

پاکستان میں کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوج یا ہوائی اڈہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ اس حوالہ سے متعلق کوئی قیاس آرائی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں اور ان سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں، اگر دوبارہ ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی غلطی ہو گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ اس طرح کی گھناؤنی اور اشتعال انگیز حرکتوں کے بعد خاموش نہیں رہیں گے۔

افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک نے طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل میں امریکی فوج کو فضائی اڈوں کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس طرح کی مدد بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے تاہم کچھ ممالک اپنی فضائی حدود کو فوجی پروازوں کے لئے استعمال کرنے کی اب بھی اجازت دیتے ہیں۔

گزشتہ روز حکومت پاکستان نے ایک بار پھر ایسی میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا تھا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملک سینیٹ کو بتایا کہ یہ خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ایوان میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان اپنی سرزمین پر کبھی بھی کسی امریکی اڈے کی اجازت نہیں دے گا۔

طالبان اور واشنگٹن کے درمیان تاریخی معاہدہ

گزشتہ سال طالبان اور واشنگٹن کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا جس نے افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی تھی۔ اس کے بدلے میں طالبان نے کہا کہ وہ افغانستان کو القاعدہ اور عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروپ جیسے جہادی گروہوں کا اڈہ نہیں بننے دیں گے۔

گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک باقی تمام ڈھائی ہزار امریکی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ لیکن امریکی انخلا سے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ کیا افغان حکومت اکیلے طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی فورسز اور طالبان میں روزانہ کی بنیاد پر تصادم ہو رہے ہیں۔ جنگ کے خاتمے کے لئے امن مذاکرات التوا کا شکار ہونے کے بعد طالبان مزید علاقے قبضے میں لینے کے لیے اپنی مہم تیز کررہے ہیں، جس میں دونوں جانب سے مسلح افراد سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی جاری ہیں۔

یونیورسٹی امتحانات کے انعقاد کے لئے اعلی سطحی کمیٹی کا قیام

0
یونیورسٹی امتحانات کے انعقاد کے لئے اعلی سطحی کمیٹی کا قیام
یونیورسٹی امتحانات کے انعقاد کے لئے اعلی سطحی کمیٹی کا قیام

اعلی تعلیم کے وزیر بھنور سنگھ بھاٹی نے بتایا کہ عالمی وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے ریاست کی تمام یونیورسٹی امتحانات ملتوی ہونے اور وقت پر منعقد نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ تعلیمی سیشن بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

جے پور: راجستھان میں یونیورسٹیوں کے سال 21 ۔ 2020 کے ملتوی امتحانات کے انعقاد اور آئندہ تعلیمی سیشن 22۔2021 بروقت شروع کرنے سے متعلقہ تجاویز دینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اعلی تعلیم کے وزیر بھنور سنگھ بھاٹی نے بتایا کہ عالمی وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے ریاست کی تمام یونیورسٹی امتحانات ملتوی ہونے اور وقت پر منعقد نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ تعلیمی سیشن بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

مسٹر بھاٹی نے بتایا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر دیوسوورپ کو اس سلسلے میں تشکیل دی گئی اس اعلی سطحی کمیٹی میں گووند گرو جن جاتیہ یونیورسٹی بانسوارہ، موہن لال سکھادیہ یونیورسٹی اودے پور اور ہری دیو جوشی یونیورسٹی آف جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن جے پور سمیت کمشنر کالج آف ایجوکیشن اور جوائنٹ سکریٹری ہائر ایجوکیشن کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کمیٹی کووڈ ۔ 19 کے موجودہ حالات، ایم ایچ آر ڈی اور متعلقہ باضابطہ اداروں یعنی یو جی سی، اے آئی سی ٹی ای، این سی ٹی ای، بی سی آئی وغیرہ کے معیارات اور ان تنظیموں کے ذریعے کووڈ ۔ 19 کے نتیجہ کے طور پر امتحانات کے انعقاد، تعلیمی سیشنوں سے متعلق وقت ۔ وقت پر جاری ہدایات اور دیگر تمام پہلوؤں پر غور و خوض کرکے تجاویز پیش کرے گی۔

مسٹر بھاٹی نے کہا کہ اس تجویز میں امتحانات آن لائن، آف لائن منعقد کرنے، امتحانات کی تاریخ مقرر کرنا، نصاب میں کمی کرنے، سوالات کو حل کرنے سے متعلق متبادل کی فراہمی، امتحانات کا وقت مختصر کرنے، جوابی پرچوں کی جانچ اور امتحانات کے نتائج جاری کرنے، جن کلاسز کے سمسٹر وغیرہ میں طلباء کو بغیر امتحان کے اگلی کلاس میں پروموٹ کرنا ممکن ہو، انہیں پروموٹ کرنے کے لئے فارمولے وغیرہ طے کرنے اور آئندہ تعلیمی سیشن شروع کرنا وغیرہ جیسے سبھی پہلوؤں پر تفصیلی تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی 15 دنوں میں ریاستی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے فلسطین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

0
مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے فلسطین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ
مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے فلسطین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) اور ریاست فلسطین کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے، پاکستان کی درخواست پر غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے بارے میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کرے گی۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل  خصوصی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوگا۔

دبئی: اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ جنگ کے دوران ممکنہ جرائم کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے تحقیقات کا مسلم ممالک نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان ممالک نے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں 13 اپریل سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد بین الاقوامی کمیشن تشکیل دینے کے لیے قرارداد کا مسودہ جمع کرا دیا۔ قرارداد کے مسودے میں کہا گیا کہ کمیشن قومیت، نسلی یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم امتیاز اور جبر سمیت عدم استحکام اور کشیدگی کی تمام وجوہات کا جائزہ لے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) کے بطور کوآرڈینیٹر اور ریاست فلسطین کی درخواست پر حالیہ کشیدگی پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا خصوصی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوگا۔

آزاد ٹیم کشیدگی کے دوران فرانزک مواد سمیت جرائم کے ثبوت اکٹھے کرے گی اور ان کا جائزہ لے گی تاکہ قانونی کارروائی میں اس کو تسلیم کرنے کے امکان کو زیادہ سے زیادہ کیا جاسکے۔

جون 2022 میں دوبارہ رپورٹ کرکے ٹیم، کوشش کرنے اور اس جارحیت کے خاتمے کے ذمہ داران کا تعین کرے گی اور قانونی احتساب کو یقینی بنائے گی۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے اسرائیل کی سفیر میرو ایلون شاہر نے گزشتہ ہفتے ٹویٹ میں کہا تھا کہ اجلاس میں اسرائیل کو ہدف بنانا اس بات کی گواہی ہے کہ ادارہ اسرائیل مخالف ایجنڈا رکھتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس کے اسپانسرز، دہشت گرد تنظیم حماس کی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ نے صدر جو بائیڈن کے تحت فورم میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی، قبل ازیں ٹرمپ انتظامیہ نے کونسل پر اسرائیل مخالف جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

واضح رہے کہ 2006 میں قیام کے بعد سے اقوام متحدہ کی 47 رکنی انسانی حقوق کونسل ایسے 8 خصوصی اجلاس منعقد کر چکی ہے جن میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی گئی اور اس کے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے متعدد تحقیقات ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہیں نئے ضابطے: کانگریس

0
سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہیں نئے ضابطے: کانگریس
سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہیں نئے ضابطے: کانگریس

سوشل میڈیا پی آر قدغن کے جو ضابطے حکومت آج یا کل سے نافذ کرنے جا رہی ہے، وہ 25 فروری کو شائع ہوئے تھے اور اب تین ماہ پورے ہونے کے بعد انھیں نافذ کیا جانا ہے۔ اس نئے ضابطے کے تحت حکومت کی کوشش آئینی حقوق اور آئینی اداروں کا گلا گھونٹنے اور انھیں اپنے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ کوئی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی کوئی مخالفت نہ ہو، اسی مقصد سے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے سوشل میڈیا کے لیے نئے ضابطوں کو مودی حکومت کی تاناشاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک اس پلیٹ فارم کا استعمال اظہار خیال کی آزادی کے طور پر ہوتا آیا ہے۔ لیکن نئے ضابطے نافذ کرکے حکومت اس پر قدغن لگا رہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر مودی حکومت جن نئے ضابطوں کو نافذ کر رہی ہے، وہ بے درد، بے رحم، بے ایمانی اور تاناشاہی کی مثالیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر شمالی کوریا کا تاناشاہ بھی اتنی بے رحمی سے ضابطے نافذ نہیں کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بے رحمی سے مودی حکومت یہ ضابطے لا رہی ہے، وہ شمالی کوریا کے تاناشاہ کے لیے بھی باعث تحریک ہو سکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پی آر قدغن کے جو ضابطے حکومت آج یا کل سے نافذ کرنے جا رہی ہے، وہ 25 فروری کو شائع ہوئے تھے اور اب تین ماہ پورے ہونے کے بعد انھیں نافذ کیا جانا ہے۔ ان ضابطوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے 2020-21 کا ضابطہ کہا جاتا ہے۔ ان ضابطوں میں جو انتظام کیا گیا ہے، وہی شمالی کوریا کے حکمراں کا سوشل میڈیا اور پریس کے تئیں ہوتا ہے۔

مسٹر سنگھوی نے کہا کہ اس نئے ضابطے کے تحت حکومت کی کوشش آئینی حقوق اور آئینی اداروں کا گلا گھونٹنے اور انھیں اپنے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ کوئی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی کوئی مخالفت نہ ہو، اسی مقصد سے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضابطے میں سب سے خرابی یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایکٹ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون اسے سنگین صورتحال مانتے ہیں کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے لیکن یہاں حکومت نے تاناشاہی رویہ اختیار کرکے من مانی کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بولنے کی آزادی انسانی ثقافت کی آکسیجن ہے اور یہ صورتحال جمہوریت کے شعبے میں بھی آکسیجن کی کمی پیدا کرتی ہے۔ حکومت نے آج بہت ہی سنگین حالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری تہذیب میں تبادلہ خیال سے منسلک ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچا جانا چاہیے۔

یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا، مشرقی مدنی پور میں بڑے پیمانے پر مچی تباہی: ممتا بنرجی

0
یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا، مشرقی مدنی پور میں بڑے پیمانے پر مچی تباہی: ممتا بنرجی
یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا، مشرقی مدنی پور میں بڑے پیمانے پر مچی تباہی: ممتا بنرجی

خلیج بنگال میں برپا یاس طوفان اڑیسہ کے بالاسور کے ساحل سے صبح 9.15 بجے ٹکرانا شروع کردیا ہے۔ ممتا بنرجی کی رپورٹ کے مطابق، ساحلی علاقے میں 60 کلومیٹر پشتے تباہ ہوگئے ہیں۔ بہت سے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نندی گرام بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے۔

کلکتہ: خلیج بنگال میں برپا ’’یاس طوفان‘‘ اڑیسہ کے بالاسور کے ساحل سے صبح 9.15 بجے ٹکرانا شروع کردیا ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی جنہوں نے پوری رات ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو میں کنٹرول روم میں بیٹھ کر مورچہ سنبھال رہی ہیں نے کہا کہ مشرقی مدنی پور میں صورت حال بہت ہی خراب ہے۔ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

ممتابنرجی نے کہا کہ یاس طوفان کی وجہ سے بنگال میں سیلاب کی صورتحال ہے۔ ہم مجموعی طور پر 15 لاکھ افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ بہت سارے علاقے سیلاب کے پانیوں میں غرق ہو رہے ہیں۔ جو پانی میں آپ دیکھ رہے ہیں وہ خوفناک ہے۔ کم سے کم 30 ہزار مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔ حالات پر میری پوری نگاہ ہے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ مشرقی مدنی پور میں 51 ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے۔ مشرقی مدنی پور سے اب تک 3.6 لاکھ افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ ضرورت پڑنے پر فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔ممتا بنرجی کی رپورٹ کے مطابق، ساحلی علاقے میں 60 کلومیٹر پشتے تباہ ہوگئے ہیں۔ بہت سے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نندی گرام بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی حکومت اور سرکاری عملہ شہریوں کی خدمات کے لے مستعد ہیں۔ وہ خود ہی مشرقی مدنی پور ضلع حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ تباہی 6 سے 7 گھنٹے تک جاری رہے گی۔

ادھر، یاس کا لینڈ فال شروع ہوچکا ہے۔ صبح 9.15 بجے سے طوفان یاس نے بالشور میں دھامرا بندرگاہ کے قریب زوردار گولہ باری شروع کردی۔ اگلے 3 گھنٹوں تک لینڈ کا عمل جاری رہے گا۔

زمین کے تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کی کوشش

0
زمین کے تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کی کوشش
زمین کے تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کی کوشش

زمین پر نا جائز قبضہ کو لے کر پونیہ ضلع کے بائسی میں ہوئے تنازعہ کو فرقہ پرستی کا رنگ دینے والے سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب کے دشمن ہیں، سبھی مذہب اور ہر طبقہ کے لوگوں کو مل کر سیمانچل کے بھائی چارہ کو زندہ رکھنا ہے: اخترالایمان

رپورٹ: مفتی منظر محسن

پورنیہ: پورنیہ ضلع کی بائیسی تحصیل کے مجھوا گاؤں میں گزشتہ دنوں دو فریق کے درمیان زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا تھا جسے بعض سماج دشمن عناصر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔ اسی معاملے کو لے کر گزشتہ کل (25/ مئی 2021) صدر مجلس بہار اور امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب اخترالایمان صاحب نے ضلع پورنیہ کے ڈی ایم کے ساتھ ان کے دفتر میں ملاقات کی اور ان سے ضلع کے امن و امان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کی۔

صدر مجلس بہار اخترالایمان صاحب نے کہا کہ "مجھوا بائیسی کا حالیہ معاملہ انتہائی افسوس ناک معاملہ ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک ملک بھر میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، لاکھوں گھرانے لٹ گئے، کروڑوں نہیں اربوں، کھربوں کا نقصان ہو چکا، لیکن ہمیں فخر ہے کہ سیمانچل کے اس مسلم اکثریتی خطے نے کبھی بھی یہاں کے اقلیتی طبقے کے ساتھ ظلم کو روا نہیں رکھا۔”

جناب اختر الایمان نے مزید کہا کہ "محبتوں کی یہ زمین ہمیشہ فرقہ وارانہ فسادات سے پاک رہی، لیکن چند سالوں سے جس طرح ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے جا رہے ہیں۔ منظم پلاننگ کے تحت کسی خاص طبقے کی معیشت کو کمزور کرنے کی ناپاک کوششیں ہو رہی ہیں، اس کی آگ میں ملک کا اکثر حصہ جل رہا ہے۔ سیمانچل کے انسان دوست جیالوں نے ایسے برے حالات میں بھی خود کو بھارت کی  گنگا جمنی تہذیب سے جوڑے رکھا ہے، جس سے ذات پات اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے حکومت، اقتدار اور جاہ و منصب کے  بھوکے بھیڑیے پریشان ہیں۔ وہ امن و شانتی کی اس سرزمین کو ناپاک کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دو فریق کے درمیان زمین کے معاملے کو لے کر ہوئے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

"مجھوا بائیسی کا حالیہ معاملہ انتہائی افسوس ناک معاملہ ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک ملک بھر میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، لاکھوں گھرانے لٹ گئے، کروڑوں نہیں اربوں، کھربوں کا نقصان ہو چکا، لیکن ہمیں فخر ہے کہ سیمانچل کے اس مسلم اکثریتی خطے نے کبھی بھی یہاں کے اقلیتی طبقے کے ساتھ ظلم کو روا نہیں رکھا۔” اختر الایمان

انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر فرقہ پرستی کے ڈنک کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر اسے ختم نہیں کیا گیا تو سیمانچل اس جگہ پر پہنچ جائے گا جہاں چاہ کر بھی سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے ضلع پورنیہ کے ڈی ایم صاحب اور یہاں انتظامیہ کے سبھی ذمہ داران سے پُر زور اپیل کی کہ وہ ایسے سماج دشمن عناصر پر نکیل لگائیں۔

مجلس اتحاد المسمین بہار کے ریاستی صدر نے ڈی ایم پورنیہ سے ملاقات کے دوران اس بات کا منصفانہ مطالبہ بھی کیا کہ مجھوا بائسی معاملے میں تعصب سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے اور جو گنہگار ہوں اسے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ یقینی بنانے کو کہا کہ کسی بے گناہ کو ہرگز ہراساں نہ کیا جائے۔

ڈی ایم پورنیہ نے اخترالایمان صاحب کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کی صاف و شفاف تحقیقات کروائیں گے اور یہ کہ کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا اور کسی بے گناہ پر ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ڈی ایم صاحب سے پُر امید ملاقات کے بعد ایم ایل امور اپنے اسمبلی حلقہ کے مختلف مقامات کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ انہوں نے راے بر پنچایت کے ہریا کاشی باڑی پہنچ کر ماسٹر سلیم الدین صاحب مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کیا جن کا انتقال 24 مئی میں ہوا تھا، وہاں سے خوش حال پور چوک اور دوسرے کئی گاؤں کے لوگوں سے ملاقات کرکے علاقے کے حالات کا جائزہ لیا۔ کووڈ 19 کے حوالے سے عوام کو ضروری ہدایات و احکامات سے رو شناس کرایا اور ڈاکٹروں اور حکومت ہند کے ذریعے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔