بدھ, مئی 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 317

دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزام میں گرفتار مسلم نوجوان پانچ سال بعد جیل سے رہا

0
دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزام میں گرفتار مسلم نوجوان پانچ سال بعد جیل سے رہا
دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزام میں گرفتار مسلم نوجوان پانچ سال بعد جیل سے رہا

ممنوع دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گذشتہ پانچ سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اقبال احمد کبیر احمد کی آج بروز جمعرات تلوجہ جیل سے رہائی عمل میں آئی۔

ممبئی: ممنوع دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گذشتہ پانچ سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اقبال احمد کبیر احمد کی آج بروز جمعرات تلوجہ جیل سے رہائی عمل میں آئی۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد ملزم نے اسے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے ملاقات کی اور اسے قانونی امداد دیئے جانے خصوصاً اس کی ضمانت پر رہائی کے لیے کوشش کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

جمعیۃ علماء کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے اتنا کم

اس موقع پر اقبال احمد کے والد کبیر احمد نے کہا کہ جمعیۃ علماء کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے اتنا کم ہے کیونکہ ایک ایسے موقع پر ان کے لڑکے کے لیے جمعیۃ علماء نے تعاون کیا جب انہیں اس کی بہت ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں پہلی مرتبہ جب ممبئی جمعیۃ علماء کے دفتر آیا تھا اس وقت گلزار احمد اعظمی نے کہا تھا کہ ہم جھوٹے دعوے اور وعدے نہیں کرتے۔ اور خدمت کے تعلق سے ہم اللہ کو جواب دہ ہیں، اس لئے ہم سے جتنا ممکن ہو سکے گا، ہم آپ سے تعاون کریں گے اور آج 5؍ سال بعد تمام گرفتار شدگان میں سے صرف اقبال کو ضمانت پر رہائی حاصل ہوئی، جو جمعیۃ کے وکلاء کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

گذشتہ دو سالوں سے ضمانت عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ میں التواء کا شکار تھی

اقبال احمد نے بھی اس موقع پر کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے ان کی ضمانت عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ میں التواء کا شکار تھی لیکن ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے پہل کرتے ہوئے سب سے پہلے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیے لسٹ کرایا پھر سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی خدمت حاصل کی جن کی کامیاب بحث کے بعد ممبئی ہائی کورٹ کو ضما نت دینا پڑی ورنہ ملزم رئیس احمد کی ضمانت عرضداشت ان سے پہلے ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جو ابھی بھی التواء کا شکار ہے۔لیکن اب جبکہ میری ضمانت منظور ہوگئی ہے، امید ہیکہ رئیس کو بھی اس کا فائدہ ملے گا اور ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ اگر این آئی اے ملزم اقبال احمد کی ضمانت منسوخی کی درخواست سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کرتی ہے۔ ہم اس کی مخالفت کی تیاری کرلی ہے اور اس کے لیے ہم نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال کے ذریعہ کیویٹ داخل کردیا ہے۔

ملزم اقبال کی ضمانت لینے والے سید قادر سید خواجہ کا بھی گلزار اعظمی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ تین دنوں سے ممبئی میں اپنا کاروبار چھوڑ کر خیمہ زن ہیں، تاکہ اقبال احمد کی جیل سے رہائی ہو سکے۔

اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان پر تعزیرات ہند کی دفعات

واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120 (b), 471, ، یو اے پی اے کی دفعات 13, 16, 18, 18 (b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

نیز انہوں نے داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ایک حلف نامہ (بیعت نامہ) بھی ضبط کرنے کا پولیس نے دعوی کیا ہے۔ حالانکہ ملزمین کے اہل خانہ کا یہ کہنا ہیکہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جھوٹے مقدمہ میں ان کے لڑکوں کو گرفتار کیا ہے۔ کیونکہ پولیس نے ملزمین کے قبضہ سے ایسا کوئی بھی مواد ضبط نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ ممنوع تنظیم داعش کے رابطہ میں تھے اور وہ ہندوستان میں کچھ گڑ بڑ کرنا چاہتے تھے بلکہ شوشل میڈیا اور یوٹیوب کی مبینہ سرگرمیوں کو گرفتاری کی وجہ بتایا گیا ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ نے لو فلور بس خرید کے معاملے کی سی بی آئی تفتیش کی سفارش کی

0
مرکزی وزارت داخلہ نے لو فلور بس خرید کے معاملے کی سی بی آئی تفتیش کی سفارش کی
مرکزی وزارت داخلہ نے لو فلور بس خرید کے معاملے کی سی بی آئی تفتیش کی سفارش کی

مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ایک ہزار لو فلور بسوں کی خریداری اور سالانہ دیکھ بھال کنٹریکٹ کے معاملے میں خامیوں کی قومی تفتیشی بیورو سے روکنے کی سفارش کی ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ایک ہزار لو فلور بسوں کی خریداری اور سالانہ دیکھ بھال کنٹریکٹ کے معاملے میں خامیوں کی قومی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے روکنے کی سفارش کی ہے۔

وزارت نے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) انل بیجل کے ذریعے تشکیل کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کروانے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں خرید اور دیکھ بھال کنٹریکٹ میں کچھ خامیوں کی بات کی ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ میں ایڈیشنل چیف گووند موہن نے دہلی کے چیف سکریٹری وجے دیو کو خط لکھ کر اس فیصلے سے آگا ہ کروایا ہے۔

دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے ایک ہزار لو فلور بسوں کی خرید کے لیے 850 کروڑ روپے کا کنٹریکٹ کیا تھا جبکہ 12 برسوں تک اس کے سالانہ دیکھ بھال کے 3412 کروڑ روپے کا کنٹریکٹ کیا گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دہلی یونٹ اس سودے میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے لمبے عرصے سے سوال اٹھا رہی تھی۔

افغان شہریوں کا طالبان کو سرخ رنگ کے گلاب دے کر استقبال

0
افغان شہریوں کا طالبان کو سرخ رنگ کے گلاب دے کر استقبال
افغان شہریوں کا طالبان کو سرخ رنگ کے گلاب دے کر استقبال

افغان شہریوں کی جانب سے طالبان کو دوستی اور محبت کی علامت سمجھے جانے والے سفید اور سرخ رنگ کے گلاب دیے جا رہے ہیں۔

کابل: افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد جہاں ایک طرف ان کے خلاف آوازیں سننے کو مل رہی ہیں وہیں افغان شہریوں کی جانب سے طالبان کو دوستی اور محبت کی علامت سمجھے جانے والے سفید اور سرخ رنگ کے گلاب دیے جا رہے ہیں۔

برطانوی ویب سائٹ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق افغان شہری مختلف جگہوں پر موجود طالبان کو پھولوں کا تحفہ پیش کررہے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرد حضرات طالبان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے ان سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں گلاب دے رہے ہیں۔

وائرل ویڈیوز میں صارفین کی جانب سے مِلے جلے تاثرات سامنے آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد اب زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے۔

فیس بک، ٹک ٹاک طالبان کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے

0
فیس بک، ٹک ٹاک طالبان کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے
فیس بک، ٹک ٹاک طالبان کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے

فیس بک اور ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد تنظیم کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے۔ 

کیلیفورنیا: سوشل میڈیا سائٹس فیس بک اور ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد تنظیم کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے۔

سی این بی سی نے یہ اطلاع سوشل میڈیا کے اہم لوگوں کے بیان کے حوالے سے دی۔ چینل نے فیس بک کے حوالے سے کہا، "امریکی قانون کے تحت طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور ہم نے اپنی ‘خطرناک تنظیمی پالیسیوں’ کے ایک حصے کے طور پر انھیں اپنی خدمات پر پابندی لگا دی ہے۔”

فیس بک کے ایک نمائندے نے کہا کہ طالبان پر فیس بک نے کئی سالوں سے پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس تنظیم کے بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو ہٹا دیا گیا ہے۔ افغان شہریوں کی ایک خصوصی ٹیم فیس بک کے ساتھ مل کر طالبان کی تعریف کرنے والے اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹک ٹاک نے یہ بھی کہا کہ اس نے طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور وہ تنظیم کو فروغ دینے والے مواد کو ہٹاتا رہے گا۔

اتوار کو طالبان نے افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیا۔ مسٹر غنی نے کہا کہ انہوں نے تشدد روکنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ دہشت گرد دارالحکومت کابل پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ طالبان کے قبضہ کرنے کے بعد، بہت سے لوگ دہشت گردوں سے جوابی کارروائی کے خوف سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی: اندیشے اور امکانات

0
افغانستان میں طالبان کی واپسی: اندیشے اور امکانات
افغانستان میں طالبان کی واپسی: اندیشے اور امکانات

اب جبکہ افغانستان میں طالبان کی واپسی ہو چکی ہے اور امریکہ جا چکا ہے، تو افغانستان کی صورت حال میں بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان یا خطہ کے دوسرے ممالک تک محدود ہیں، بلکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بھی اس تبدیلی کے اثرات سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

افغانستان میں طالبان کی واپسی سے کسی نہ کسی شکل میں نہ صرف افغانستان کے ہمسایہ ممالک بلکہ دنیا کی دوسری طاقتوں کے ساتھ سب سے زیادہ امریکہ متاثر ہوا ہے۔ امریکہ کی پیشانی پر ہمیشہ کے لئے ناکامی کا ایک اور ٹھپہ لگ چکا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ۲۰؍ سال کی ناکامی کے بعد امریکہ نے راہ فرار اختیار کی ہے اور افغانستان کو ایک طشتری میں رکھ کر طالبان کو پیش کیا ہے، تو بیجا نہ ہوگا۔ اس لئے یہ طالبان کی فتح کم اور امریکہ کی شکست زیادہ ہے۔

اس شکست کا آغاز تو اسی وقت ہوگیا تھا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ۲۰۲۰ء میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور حملے روکنے کی اپیل کی تھی۔ آخر کار ۱۵؍ اگست ۲۰۲۱ء کو امریکہ کی اس شکست پر مہر بھی ثبت ہو گئی۔ یہ شکست صرف امریکہ کی نہیں ہے، بلکہ ان ۴۲؍ ممالک کی بھی شکست ہے، جنہوں نے دنیا سے طالبان، القاعدہ اور دہشت گردی کے خاتمے کا عہد کرتے ہوئے ۲۰۰۱ء میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

بہر حال، اب دنیا کی نظریں دو اہم امور پر مرکوز ہیں۔ ایک تو یہ کہ امریکہ بہادر نے افغانستان سے جس انداز میں راہ فرار اختیار کی ہے، کیا وہ کسی نئی حکمت عملی یا نئی منصوبہ بندی کا حصہ ہے؟ اور دوسرا یہ کہ ۲۰؍ سال کے بعد ایک بار پھر افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے والے طالبان کے رخ اور طرز حکمرانی میں واقعی کوئی تبدیلی آئے گی؟ یا پھر وہی انداز اختیار کریں گے، جو ۲۰؍ سال پہلے دنیا نے دیکھا تھا؟

افغانستان کے اقتدار میں رونما ہونے والی اس تبدیلی نے سب کو حیران کر دیا

افغانستان کے اقتدار میں رونما ہونے والی اس تبدیلی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ نہ تو ۲۰؍ سال تک افغانستان کی خاک چھاننے والے امریکہ کو، نہ ہی اشرف غنی کی حکومت اور نہ ہی وہاں کام کرنے والی مختلف ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے وہم و گمان میں تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔ شاید خود طالبان کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے پورے ملک پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

غریب، بے بس اور مجبور عام افغانیوں نے طالبان کا استقبال اسی طرح کیا، جیسے ۲۰؍ سال پہلے ان کے خاتمے کے عہد کے ساتھ قدم رکھنے والے امریکیوں کی آمد پر ان کا کیا تھا۔ ہاں، اتنا ضرور ہوا کہ اس مرتبہ فی الحال کوئی بڑا خون خرابہ نہیں ہوا اور امریکہ اپنے اربوں ڈالر دھول میں اڑاکر اور ہزاروں فوجیوں کی جان گنوا کر یہاں سے ناکامی کا پلندہ باندھ کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ ورنہ لوگوں کا اندازہ یہ تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تربیت یافتہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں سے طالبان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا اور اس صورت میں بڑے پیمانے پر خونریزی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

امریکہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟

افغانستان میں ۲۰۰۱ ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جب حملہ کیا تو اعلان کیا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ، افغانستان کی تعمیر نو و بحالی اور عوامی حکومت کی حاکمیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے ایجنڈے میں افغانستان میں مقامی فورسز کی تربیت بھی شامل تھی، تاکہ وہ ملک میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ اب ۲۰؍ سال کے بعد افغانستان وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ نہ تو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، نہ ہی کوئی مضبوط اور مستحکم عوامی حکومت قائم ہو سکی اور نہ ہی افغان سیکیورٹی اہلکار اس بات کے اہل بن سکے کہ وہ ملک کی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔

یعنی امریکہ اور اس کے حلیفوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ یہ امریکہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر واقعی بیرونی طاقتیں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو شاید طالبان کو اقتدار حاصل کرنے میں کچھ دشواریاں پیش آتیں۔ کیونکہ عام افغان ایک پرسکون زندگی چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے امن کے ساتھ ساتھ روٹی، کپڑا اور مکان سب سے بڑے مسائل ہیں۔ انہیں حل کرنے میں اگر سابقہ حکومتیں کامیاب ہوتیں تو عام لوگ ان کا استقبال کرتے۔ اب جبکہ طالبان نے اقتدار پر اپنا کنٹرول کر لیا ہے، تو ان سے بھی عوام کو یہی توقعات ہیں کہ وہ ملک کے بنیادی مسائل کی جانب دھیان دیں گے۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد دنیا امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے

افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد دنیا تمام خدشات اور تحفظات کے باوجود امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ اور طالبان کے دوسرے دور اقتدار کا آغاز انہی امیدوں کے تحت ہوا ہے۔ بغیر کسی خون خرابے کے اقتدار پر قابض ہونے والے طالبان کے اب تک کے فیصلوں کو دیکھ کر فی الحال تو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اس مرتبہ ان کے انداز حکمرانی پہلے سے مختلف ہوگی۔ جنگ کے خاتمے کا اعلان، حریفوں کو عام معافی کا اعلان، سرکاری ملازمتوں اور خواتین سے متعلق فیصلوں سے تو یہی اشارہ مل رہا ہے۔

طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ کابل میں حالات معمول پر آ رہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں۔ انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔

طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام

طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ اپنے اداروں میں نئے سرے سے کام پر آئیں۔ تاہم اپنے خیالات کو ۲۰؍ سال پہلے کے حالات کے مطابق بحال کریں، رشوت، غبن، تکبر، بدعنوانی، سستی کاہلی اور بے حسی سے بچیں، جو پچھلے ۲۰؍ سال سے کسی وائرس کی طرح سرکاری اداروں میں پھیلی ہوئی ہے۔

طالبان کے سیاسی نائب ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ تمام مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو اپنی ذمہ داریوں پر واپس آنا چاہیے۔ ہم عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں اور عوام کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد متعدد سرکاری ملازمین اور ڈاکٹرز کام پر واپس آگئے ہیں، جبکہ کابل شہر کی سڑکوں پر ٹریفک پولیس نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ طالبان نے ان کی حفاظت اور بلا خوف وخطر فرائض انجام دینے میں آزادی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وہیں دوسری جانب عام معافی کے اعلان کے حوالے سے طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کا کہنا ہے کہ طالبان ملک میں نارمل صورت حال چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی امارات نہیں چاہتی کہ افراتفری کے حالات میں خواتین کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے۔

طالبان کے رخ میں آئی یہ حیران کرنے والی تبدیلی

طالبان نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں۔ یہ امر اہم ہے کہ طالبان تحریک افغانستان کے لیے اسلامی امارات کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کے تعلق سے طالبان کے رخ میں آئی یہ تبدیلی واقعی حیران کرنے والی ہے۔ کیوں کہ زیر تعلیم لڑکیوں، ملازمت پیشہ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے تعلق سے نہ صرف افغانستان میں، بلکہ دنیا بھر میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

طالبان اگر واقعی ملک میں امن و امان اور خوشحالی لانا چاہتے ہیں، افغان عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے اندر بھی تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ممالک اور عالمی ادارے و تنظیمیں جو افغانستان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں، ان کا اعتماد بھی حاصل کرنا ہوگا۔ فی الحال روس، چین، پاکستان اور ایران جیسے ممالک نے طالبان سے امیدیں وابستہ کی ہیں تو ان کو بھی چاہئے کہ وہ بلا تفریق افغانستان کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کام کریں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

سینسیکس 56 ہزار پوائنٹس کی سطح پر، نفٹی نئی بلندی پر

0
سینسیکس 56 ہزار پوائنٹس کی سطح پر، نفٹی نئی بلندی پر

بی ایس ای کے 30 حصص کے حساس انڈیکس سینسیکس شروعاتی کاروبار میں ہی 56 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 56073.31 پراور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 77 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 16691.95 پر کھلا۔

ممبئی: بیشتر گروپس میں خریداری کی بدولت شیئر بازار ہر روز نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ بدھ کے روز، بی ایس ای کے 30 حصص کے حساس انڈیکس سینسیکس شروعاتی کاروبار میں ہی 56 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 56073.31 پراور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 77 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 16691.95 پر کھلا۔

بی ایس ای سینسیکس 56073.31 پوائنٹس پر کھلنے کے فوراً بعد 55961.73 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آ گیا ، لیکن اس کے بعد یہ چوطرفپ خریداری کی بنیاد پر 56118.57 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ ابھی یہ 0.38 فیصد یعنی 214.68 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 5606.95 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔

این ایس ای کا نفٹی شروع میں 16656.15 پوائنٹس کی نچلی سطح تک آ گیا، لیکن اس کے بعد یہ شروع ہوئی خریداری وجہ سے یہ 16701.85 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ فی الحال یہ 54.90 پوائنٹس کے مقابلے میں 0.33 فیصد اضافے کے ساتھ 16690.50 پر کاروبار کر رہا ہے۔

اسلامپور: ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، ایک دیگر زخمی

0
اسلامپور: ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، ایک دیگر زخمی
اسلامپور: ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، ایک دیگر زخمی

گھر دھپہ پانجی پاڑہ پولیس آؤٹ پوسٹ علاقے میں دردناک سڑک حادثہ، ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، دیگر ایک نوجوان زخمی

اسلامپور: پچھم بنگال کے ضلع اتر دیناجپور کے گھر دھپہ پانجی پاڑہ پولیس آؤٹ پوسٹ علاقے میں پیش آئے دردناک سڑک حادثہ میں موٹر ایک کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ دیگر ایک شدید طور سے زخمی ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق بالی چوکا، پانجی پاڑہ، تھانہ گوالپوکھر، اتر دیناج پور ضلع میں آج دوپہر یہ دردناک حادثہ پیش آیا۔  آئل انڈیا ٹاور گھر دھپہ قومی شاہراہ کے قریب ایک ٹریکٹر نے موٹر سائیکل کو زوردار ٹکر مار دی، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار پرکاش چوہان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ وہیں ایک نوجوان شدید طور سے زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر کشن گنج ایم جی ایم اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا ہے اور مقتول پرکاش چوہان کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسلام پور صدر اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ٹریکٹر ڈرائیور کے  غلط راستے پر چلنے کی وجہ سے یہ دردناک حادثہ پیش آیا۔

فضائیہ کا خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے روانہ

0
فضائیہ کا خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے روانہ
فضائیہ کا خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے روانہ

ہندوستانی فضائیہ کا ایک خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے روانہ ہوگیا ہے۔

نئی دہلی: ہندوستانی فضائیہ کا ایک خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے روانہ ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہندوستانی فضائیہ کا سی 17 گلوب ماسٹر طیارہ میں چار صحافیوں کے ساتھ انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکاروں اور کابل میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کے عملے اور افسران سوار ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ ایران کے راستے ہندوستان پہنچے گا کیونکہ یہ طیارہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کرے گا۔ یہ طیارہ آج دوپہر غازی آباد میں آئی اے ایف کے ہنڈن ایئر بیس پر اترے گا۔

قبل ازیں وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ افغانستان میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے کے تمام ملازمین اور سفیر کو فوری واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے منگل کو ٹویٹ کیا ’’موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کابل میں ہندوستانی سفارت خانے کا تمام عملہ اور ہمارے سفیر فوری طور پر ہندوستان واپس آئیں گے۔‘‘

ہندوستان نے یہ فیصلہ گزشتہ اتوار کو افغانستان میں اشرف غنی حکومت کی برطرفی اور وہاں سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کیا ہے۔

چین افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار

0
چین افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار

چین افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے اور ملک کو دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

بیجنگ: چین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے اور ملک کو دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں افغانستان پر تعاون پر اتفاق کیا۔

وزارت خارجہ نے مسٹر وانگ کے حوالے سے کہا ’’چین افغان مسئلے کے سادہ حل کے نفاذ کی سہولت کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان میں کوئی نئی خانہ جنگی یا انسانی تنازع نہ ہو اور وہ دہشت گردی کے گڑھ اور مہاجرین کی پناہ گاہ میں تبدیل نہ ہو‘‘۔

بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کئے مختص

0
بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کئے مختص

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسٹر بائیڈن نے وزیر خارجہ سے متعلق ایک خط میں کہا ’’میں اس کے ذریعے اس بات کا تعین کرتا ہوں کہ پناہ گزینوں، لڑائی سے متاثر لوگوں اور افغانستان میں موجودہ صورت حال کے نتیجے میں خطرے سے دوچار غیر متوقع امریکی ایمرجنسی پناہ گزین اور ہجرت سے متعلق ضرورتوں کو پورا کرنے کے مقصد سے امریکی ایمرجنسی پناہ گزین اور ہجرت کرنے والوں کے فنڈ سے 50 کروڑ ڈالر تک کی امدادی رقم کو یقینی بنانا قوم کے لئے اہم ہے‘‘۔