ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 317

ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا

0
ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا
ترنمول نے افغانستان کے مسئلے پر مرکز کی سست پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے بنگال کے لوگوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا

وزارت خارجہ کو افغانستان میں پھنسے بنگال کے 125 افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن سے جلد از جلد انہیں واپس لانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

کلکتہ: ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد حالات پر مرکزی حکومت کی سست تحریک کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جو ہندوستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں جلد سے جلد ملک لانے کی کوشش کی جائے۔

جمعرات کو مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک آل پارٹی میٹنگ کی۔ اس میں 31 پارٹیوں کے 37 لیڈر موجود تھے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگاتا رائے نے بھی اس تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں حصہ لیا، بعد میں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی افغانستان کے معاملے پر مرکزی حکومت کے موقف سے متفق ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو افغانستان میں پھنسے بنگال کے 125 افراد کی فہرست دی گئی ہے، جن سے جلد از جلد انہیں واپس لانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 23 ​​اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی کے نمائندے مرکز کی طرف سے بلائے گئے کل جماعتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تمام ضلع مجسٹریٹوں سے افغانستان میں پھنسے ہوئے لوگوں کی فہرست مانگی تھی۔ یہ فہرست مرکزی حکومت کے حوالے کی گئی ہے۔

اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

0
اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان
اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

کابل: طالبان رہنما اور پاکستان میں سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ملا عبدالسلام ضعیف کا برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جاسکتی ہیں۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں اور ا پنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ افغانستان میں اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں جبکہ میڈیا کوریج میں طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

سابق طالبان سفیر نے کہا کہ یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں، عوام اور تعلیم کے خلاف ہے۔ یہ بڑی سازش ہے، جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ افغان بغیر دستاویزات کے باہرجانے کیلئے ائیرپورٹ پر افراتفری کو بطور بہانا استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ قانونی اندازمیں کابل ائیرپورٹ جانے والوں کو طالبان نہیں روک رہے۔ طالبان کے سابق سفیر نے مزید کہا کہ طالبان کسی سے کوئی بدلہ یا انتقام نہیں لے رہے۔

ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

0
ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک
ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا سے ایشیا کے 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

عالمی وبا کورونا وائرس نے ایشیا کے ساڑھے سات سے آٹھ کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا

کوالالمپور: ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا وائرس نے ایشیا کے ساڑھے سات سے آٹھ کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل دیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی نے ترقی کے تسلسل میں رکاوٹیں ڈالیں۔

رپورٹ میں ترقیاتی بینک کا کہنا تھا کہ سفری پابندیوں کی وجہ سے خطے میں آٹھ فیصد کاروباری اوقات ضائع ہوئے جبکہ گھرانوں، مزدوروں اور غیر روایتی معیشت سے وابستہ افراد پر وبا کا منفی اثر پڑا۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کورونا دور میں جو بھی تجزیہ اور نتائج اخذ کئے جا رہے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں کیوں کہ بیشتر ممالک سے جو ڈیٹا مل رہے ہیں وہ مکمل نہیں ہیں۔ اس سے دونوں باتیں ہوسکتی ہیں یا تو حالات اور خراب ہوں گے یا بہتری کی راہ پر آئیں گے۔

افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

0
افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن
افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ طالبان 31 اگست کے بعد بھی ان امریکیوں اور ان افغان شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دینے پر رضا مند ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت میں آئے تو افغان حکومت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت کام کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تعلقات کا دارومدار اگلی افغان حکومت کے طرز عمل پر ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام نہ کیا گیا تو انہیں دنیا میں تنہا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ انخلا کے بعد ایئرپورٹ کھلا رکھا جائے۔

دریں اثنا گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ جی سیون نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان افغانستان سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 31 اگست کے بعد بھی انخلا کے لئے محفوظ راستے کی ’ضمانت‘ دیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بورس جانسن، جنہوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھیوں نے مستقبل میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن انہوں نے ’پہلی شرط‘ کے بارے میں کہا ”31 اگست تک اور اس کے بعد افغانستان سے جو افراد جانا چاہتے ہیں ان کو محفوظ راستہ دینے کی ضمانت دی جائے“۔

حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی

0
حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی
حکومت آج اپوزیشن پارٹیوں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی

وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کو کچھ دیر بعد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

نئی دہلی: وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو کچھ دیر بعد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس انیکسی میں منعقد پروگرام میں ڈاکٹر جے شنکر اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور وہاں سے ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے اور ہندوستانی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلات مہیا کرائیں گے۔ اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور دیگر رہنماؤں کی بھی موجودگی متوقع ہے۔

پیر کو ایک ٹویٹ میں ڈاکٹر جے شنکر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو افغانستان سے متعلق تازہ ترین معلومات سے آگاہ کرے۔

اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ وزیر خارجہ جمعرات کو افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ اس کے بعد تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو اس پروگرام میں شرکت کے لیے ای میل بھیج کر دعوت نامہ بھیجا گیا تھا۔

ہندوستان افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں سمیت 600 سے زائد افراد کو واپس لایا

قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پیش رفت تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور ہندوستان اپنے سفارت کاروں سمیت وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کو گزشتہ چند دنوں سے نکال رہا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے اس حوالے سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں سمیت 600 سے زائد افراد کو واپس لایا ہے۔

دریں اثنا سیکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے ایسے تمام افغان شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا ہے جو فی الحال ہندوستان میں مقیم نہیں ہیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کو ہندوستان آنے سے پہلے ای ویزا کے لیے نئے سرے سے درخواست دینا ہوگی۔

چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج

0
چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج
چراغ سمیت چار کے خلاف پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں شکایت درج

بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ قومی صدر چراغ پاسوان (چراغ گروپ) کے ساتھ ہی چار دیگر کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی گئی ہے۔

پٹنہ: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی ۔ پارس گروپ) نے پارٹی کے بانی آنجہانی رام ولاس پاسوان کے بیٹے اور بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ قومی صدر چراغ پاسوان (چراغ گروپ) کے ساتھ ہی چار دیگر کے خلاف دارالحکومت پٹنہ کے شاشتری نگر تھانے میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔

ایل جے پی (پارس گروپ) کے پرنسپل جنرل سکریٹری کیشو سنگھ نے بدھ کو متعلقہ تھانے میں ایک تحریری شکایت کی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ان کے موبائل فون پر مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طر ف سے کال کرنے والے انہیں دھمکی دے رہے ہیں کہ پارس گروپ کا پروگرام کامیاب مت کراﺅ۔

تحریری شکایت میں رکن پارلیمنٹ مسٹر پاسوان، ان کے قریبی سوربھ پانڈے اور چراغ گروپ کے ترجمان کرشن کمار کلو ۔ امر آزاد کے ساتھ ہی ایک دیگر کے خلاف شکایت درج کرانے کے ساتھ ہی سیکیورٹی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت

0
بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت
بہار میں مذہبی مقامات، شاپنگ مالز، دکانیں، پارکس، سنیما ہال، کوچنگ اداروں کو کھولنے کی اجازت

بہار میں کورونا انفیکشن کی صورت حال میں بہتری کے پیش نظر حکومت نے کل سے تمام دکانوں، اداروں، شاپنگ مالز، پارکس، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طور پر کھولنے کی اجازت دے دی

پٹنہ: بہار میں کورونا انفیکشن کی صورتحال میں بہتری کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کل سے سبھی دکانوں، اداروں، شاپنگ مال، پارک، گارڈن اور مذہبی مقامات کو عام طور پر کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بدھ کو آفات مینجمنٹ گروپ کی میٹنگ میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے بتایا کہ ریاست میں اب سبھی دکانیں، ادارے، شاپنگ مال، پارک، گارڈن اور مذہبی مقامات عام طور سے کھلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کی اجازت سے سبھی طرح کے سماجی، سیاسی، تفریحی، کھیل ۔ کود، ثقافتی اور مذہبی پروگرام احتیاطی تدابیر کے ساتھ منعقد کئے جاسکیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سبھی یونیورسٹی، کالج، تکنیکی تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی (پہلی سے بارہویں جماعت) کے ساتھ کوچنگ ادارے بھی عام طور سے کھلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں کے ذریعہ امتحانات بھی منعقد کئے جاسکیں گے۔

مسٹر کمار نے بتایا کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ سنیما ہال، کلب، جم، سوئمنگ پل، ریستوراں اور کھانے کی دکان (زائرین کے ساتھ) کھل سکیں گے۔ لیکن تیسری لہر کے امکانات کے مد نظر بہار کے تمام باشندوں کو کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے احتیاط برتنا ضروری ہے۔

افغان مسئلے پر بلنکن نے کیا تبادلہ خیال

0
Afghan Masle par Blinken ne kya tabadala khyal
Afghan Masle par Blinken ne kya tabadala khyal

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو سے افغان مسئلے پر تعاون کے سلسلے میں بات کی۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو سے افغانستان میں جاری انخلا کی کوششوں میں تعاون کے سلسلے میں بات کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ’’مسٹر بلنکن نے مسٹر اوغلو کے ساتھ افغانستان میں ہمارے مسلسل تعاون اور ہمارے شہریوں، اتحادیوں اور شراکت داروں کے محفوظ اور منظم انخلا کو یقینی بنانے کی ہماری کوششوں پر گفت وشنید کی‘‘۔

طالبان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کی کوشش میں امریکہ افغانستان کے دارالحکومت کابل ہوائی اڈے سے اپنے انخلاء میں تیزی لارہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے منگل کو کہا کہ انخلاء کارروائیوں کی مقررہ حد طالبان کے تعاون پر منحصر ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز ترکی کی حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر سیلک نے یہ کہتے ہوئے کہ انقرہ مہاجر کیمپ نہیں ہے اس لیے وہ کسی ایک بھی افغان کو قبول نہیں کر سکتا۔

طالبان کے تعاون سے امریکی انخلا کا مشن 31 اگست تک مکمل: بائیڈن

0

بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر طالبان اس کے آپریش کو متاثر نہیں کرتا ہے تو امریکہ اگست کے اواخر تک افغانستان سے اپنا انخلا مشن مکمل کر پائے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر طالبان اس کے آپریش کو متاثر نہیں کرتا ہے تو امریکہ اگست کے اواخر تک افغانستان سے اپنا انخلا مشن مکمل کر پائے گا۔

مسٹر بائیڈن نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے تبصرے کے دوران کہا ’’ہم فی الحال 31 اگست تک انخلا مہم کو ختم کرنے کی رفتار پر ہیں۔ لیکن 31 اگست تک طالبان کے تعاون جاری رکھنے اور ان لوگوں کے لیے ہوائی اڈے تک رسائی کی اجازت پر منحصر کرتا ہے، جو باہر جا رہے ہیں اور ہماری کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو‘‘۔

مسٹر بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ بارہ گھنٹوں میں 5،600 فوجیوں کے ساتھ اور 6،400 افراد اور 31 اتحادی طیاروں نے کابل سے اڑان بھری۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست تک امریکہ نے کابل سے 70،700 افراد کو نکالنے میں مدد کی ہے۔

مسٹر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو بدھ کو امریکیوں کی تعداد کے بارے میں اپ ڈیٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے جو افغانسان میں ہیں۔

طالبان کی جانب سے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کا کوئی ثبوت نہیں: ڈبلیو ایچ او

0
طالبان کی جانب سے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کا کوئی ثبوت نہیں: ڈبلیو ایچ او
طالبان کی جانب سے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کا کوئی ثبوت نہیں: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کورونا وائرس اور دیگر بیماریوں کے لیے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کی ہے۔

کابل: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کورونا اور دیگر بیماریوں کے لیے ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے علاقے کے لیے علاقائی ڈائریکٹر رچرڈ برینان نے منگل کو کہا کہ افغانستان میں سیاسی بحران سے کورونا اور دیگر بیماریوں کے لیے ویکسینیشن پروگرام پر نمایاں اثر پڑا ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں ابھی تک اس معاملے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے جس سے کہ یہ جان سکیں کہ افغانستان میں نئی ​​حکومت ویکسینیشن پروگرام کی مخالفت کر رہی ہے۔ لیکن ہم اس کے تعلق سے کافی فکر مند ہیں کیونکہ دیگر بیماریوں کے ویکسینیشن پروگرام بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں جو دیگر بیماریوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو، ہم ویکسینیشن پروگرام میں اضافہ کریں گے۔

افغانستان میں اب تک 153000 کورونا کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس وقت ڈیلٹا وائرس کا انفیکشن زیادہ پھیل رہا ہے۔