منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 216

‘آپ’ حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال

0
'آپ' حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال
'آپ' حکومت گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی: کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ گجرات میں اگر آپ کی حکومت بنتی ہے تو وہ گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی سے پاک اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی

احمد آباد: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ گجرات میں اگر آپ کی حکومت بنتی ہے تو وہ گجرات کے چھ کروڑ لوگوں کو بدعنوانی سے پاک اور خوف سے پاک حکمرانی دے گی۔

منگل کو گجرات کے احمد آباد میں ایک پریس کانفرنس میں مسٹر کیجریوال نے گجرات کے لوگوں کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی کی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ میں پچھلے کئی مہینوں سے گجرات میں گھوم کر یہاں کے لوگوں سے مل رہا ہوں۔

انہوں نے کئی ٹاؤن ہال میٹنگ کرکے تاجروں، صنعت کاروں، وکلاء، کسانوں اور آٹو ڈرائیوروں کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقات کی۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ گجرات میں بہت کرپشن ہے۔ کسی بھی سرکاری محکمے میں پیسے دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نچلی سطح پر بھی بدعنوانی ہے اور حکومت پر بڑے گھپلوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے خلاف کچھ کہتے ہیں تو وہ ڈرانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ اگر گجرات میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ہم ریاست کو بدعنوانی اور خوف سے پاک حکمرانی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ان کی حکومت میں کرپشن میں ملوث ہوا تو سیدھا جیل جائے گا۔ یہ ہم نے پنجاب میں کیا۔ جب ہمارے کسی وزیر نے کوئی اونچ نیچ کی تو اسے سیدھا جیل بھیج دیا گیا۔

اب گجرات کا کوئی پیسہ سوئس بینک میں نہیں جائے گا

ہندوستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی پارٹی نے اپنے وزیر کو اٹھا کر جیل بھیج دیا ہو۔ عوام جو ٹیکس حکومت کو دیتے ہیں اس کی ایک ایک پائی عوام پر خرچ کی جائے گی اور چوری بند ہو جائے گی۔ اب گجرات کا کوئی پیسہ سوئس بینک میں نہیں جائے گا۔ اب گجرات حکومت کا کوئی پیسہ ارب پتیوں میں تقسیم نہیں ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سرکاری دفاتر میں ہر شخص کا ہر کام رشوت دیے بغیر ہوگا۔ کسی کو بھی کام کروانے کے لیے سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم ایسا انتظام کریں گے کہ حکومت کا کوئی ملازم آپ کے گھر آئے اور کام کرے۔ ہم نے دہلی میں اس طرح کے انتظامات کیے ہیں۔

اے اے پی کنوینر نے کہا کہ گجرات کے اندر وزراء، سیاست دانوں اور بڑے لوگوں کے تمام کالے دھندے بند کئے جائیں گے۔ گجرات میں پیپر لیک ہونے کا عمل روکیں گے۔ پچھلے 10 سالوں میں جتنے پیپرز لیک ہوئے ہیں، ان تمام کیسز کی تحقیقات کی جائیں گی۔

مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری

0
مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری
مسلسل تیسرے دن تیزی جاری، سینسیکس ہوا 60 ہزاری

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 321.99 پوائنٹس بڑھ کر 60115.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 103 پوائنٹس بڑھ کر 17936.35 پر پہنچ گیا

ممبئی: عالمی سطح سے ملے مثبت اشاروں کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر آئی ٹی، ٹیک، رئیلٹی، یوٹیلٹیز اور بیسک میٹیریلز میں ہوئی فریداری کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی رہی اور اس دوران خریداری کے بدولت سینسیکس 60 ہزار سے تجاوز کرنے میں کامیاب رہا۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 321.99 پوائنٹس بڑھ کر 60115.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 103 پوائنٹس بڑھ کر 17936.35 پر پہنچ گیا۔ بی ایس ای پر مڈ کیپ اور اسمال کیپ میں بھی اضافہ ہوا، مڈ کیپ 0.89 فیصد اضافے کے ساتھ 26167.43 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1 فیصد اضافے کے ساتھ 29528.74 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای پر، تمام گروپس میں تیزی رہی جس میں آئی ٹی 1.30 فیصد، ٹیک 1.16 فیصد، ریئلٹی 2.23 فیصد، سی ڈی 1.40 فیصد اور یوٹیلٹیز 1.70 فیصد شامل تھے۔ بی ایس ای پر کل 3759 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2165 میں اضافہ اور 1428 میں کمی جبکہ 166 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے باوجود مسلم عبادت گاہوں پر تنازعات کا کیا مطلب؟

0
پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے باوجود مسلم عبادت گاہوں پر تنازعات کا کیا مطلب؟
پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے باوجود مسلم عبادت گاہوں پر تنازعات کا کیا مطلب؟

عبادت گاہوں پر تنازعات پیدا کرکے مذہبی کشیدگی کا یہ سلسلہ طویل ہوتا جارہا ہے۔ ایودھیا کے بعد اب نشانہ متھرا کی عیدگاہ، گیان واپی بنارس اور جامع مسجد شمسی بدایوں پر ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

بابری مسجد تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جو بھی فیصلہ کیا، اسے ہر طبقہ نے قبول کر لیا۔ اس امید کے ساتھ کہ اب یہ سلسلہ یہیں ختم ہو جائے گا۔ یہ بھی امید تھی کہ اب ملک کو مزید مذہبی مسائل میں نہیں الجھایا جائے گا، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خام خیالی تھی۔ کیوں کہ مذہبی کشیدگی کا یہ سلسلہ مزید طویل ہوتا جارہا ہے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد متھرا کی عیدگاہ، بنارس کی گیان واپی مسجد اور بدایوں کی جامع مسجد شمسی جیسی متعدد عبادتگاہیں اب شر پسندوں کے نشانے پر آ گئی ہیں۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

حالت یہ ہے کہ ہر تاریخی مسجد، مقبرہ یا مسلم سلاطین کی یادگاروں کو قدیم مندر بتا کر ہندوؤں کو سونپنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یکے بعد دیگرے تنازعات کھڑے کرکے عدالتوں میں مقدمے کئے جا رہے ہیں۔ افسوس اور حیرت اس بات پر ہے کہ یہ سب تب ہو رہا ہے جب ملک میں ایک ایسا قانون موجود ہے جو 1947ء سے پہلے کی تمام عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جسے ہم ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اس قانون کا وجود ہی ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نئے نئے تنازعات پر حکمرانوں کی خاموشی شر پسندوں کے ناپاک عزائم کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

ایودھیا تنازعہ

اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو ایودھیا تنازعہ جس نے ملک کی سمت ہی بدل دی، اس کے حل کے وقت نہ صرف عدلیہ بلکہ مقننہ کو بھی یہ تہیہ کرنا چاہئے تھا کہ اب بس۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بظاہر ایسی کوشش کی بھی تھی، مگر حکمراں طبقہ اور سیاسی حلقوں سے ایسی کوئی پہل نہیں کی گئی کہ جس سے محسوس ہو کہ اب کوئی دوسری ایودھیا وجود میں نہیں آئے گی۔ 9؍ نومبر 2019ء کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام مندر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کی ہدایت دی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی تھے، جنھیں سبکدوشی کے بعد موجودہ حکومت نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے نوازا، انہی کی سربراہی والی پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد کے قضیہ کا فیصلہ سنایا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ متفقہ فیصلہ ہے، لیکن عدالت کے کچھ اہم تبصروں نے اس فیصلے کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کے مطابق اس جگہ پر پہلے مندر تھا، لیکن محکمے نے یہ تصدیق نہیں کی کہ یہ مندر گرا کر بابری مسجد تعمیر کی گئی یا نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں چھ دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کو منہدم کرنے کے اقدام کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ

سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ پر اپنے 1045؍ صفحات کے فیصلے میں ’1991ء کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ‘ یعنی عبادت گاہوں کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون 15؍ اگست 1947ء کو عوامی عبادت گاہوں کے مذہبی کردار میں تبدیلی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ قانون ہر مذہبی طبقے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ان کے مذہبی مقامات کی حفاظت کی جائے گی اور ان کے کردار کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ عبادت گاہوں کا ایکٹ مقننہ کے ذریعہ بنایا گیا ایک انتظام ہے جو عبادت گاہوں کے مذہبی کردار کو ہماری سیکولر اقدار کا ایک لازمی پہلو بناتا ہے۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ لانے کا مقصد

نرسمہا راؤ حکومت نے ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ یعنی عبادت گاہوں کا قانون نافذ کیا تھا۔ قانون لانے کا مقصد ایودھیا تحریک کی بڑھتی ہوئی شدت اور جارحانہ روش کو قابو میں کرنا تھا۔ حکومت نے قانون میں یہ شرط رکھی کہ ایودھیا میں بابری مسجد کے علاوہ ملک کی کسی بھی عبادت گاہ پر دوسرے مذاہب کے لوگوں کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی آزادی کے دن یعنی 15؍ اگست 1947ء کو کسی بھی مذہبی ڈھانچے یا عبادت گاہ پر، چاہے کسی بھی شکل میں ہو، دوسرے مذاہب کے لوگ دعویٰ نہیں کریں گے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا، کیونکہ یہ تنازعہ آزادی سے قبل عدالتوں میں زیر التوا تھا۔

اب ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ کو ہی نہ صرف غیر موثر کرنے، بلکہ اسے بالکل ہی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنارس کی تاریخی گیان واپی مسجد، متھرا کی عیدگاہ، قطب مینار احاطہ میں واقع مسجد اور اب بدایوں کی تاریخی جامع مسجد شمسی جیسی لا تعداد مساجد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات قائم کرکے مسلمانوں کو ہراساں اور ذہنی طور پر پریشان کیا جارہا ہے، جبکہ عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔

عبادت گاہوں کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ 1991ء میں بنائے گئے عبادتگاہوں سے متعلق قانون کا سہارا لے کر ملک کو نئے نئے مسائل میں الجھنے سے بچایا جائے، اس کے بر عکس حکمراں طبقہ کے ذریعہ اس قانون کو ہی کالعدم قرار دینے کی تگ و دو کی جا رہی ہے۔ کیوں کہ اس معاملہ میں درجن بھر سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک عرضی پجاریوں کی انجمن نے ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین کے ذریعے دائر کی ہے۔ اس عرضی میں سپریم کورٹ سے 1991ء کے عبادت گاہوں کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ متھرا میں کرشن جنم استھان اور وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر-مسجد کے درمیان تنازعہ طے ہو سکے۔

ہندو پجاریوں کی تنظیم وشو بھدرا پجاری پروہت مہاسنگھ نے بھی اس ایکٹ کی شق کو چیلنج کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبرمنیم سوامی اور دیگر کی عرضیوں میں ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991ء‘ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرکے اسے ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان عرضیوں پر 11؍ اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مداخلت کی عرضی اور ایک دیگر عرضی کو بھی سماعت کیلئے منظور کرلیا ہے۔ مخالف فریق نے جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ عرضی کی سخت مخالفت کی تھی، تاہم عدالت نے اس کو قبول نہیں کیا۔

پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی حفاظت کرنا سیکولر ملک کی ذمہ داری

بہر حال، ایک ایسا قانون جس کا مقصد کسی بھی مذہبی مقام کی تبدیلی کو روکنا اور 1947ء سے پہلے کی عبادت گاہوں کو جوں کا توں رکھنا تھا۔ بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کے فیصلہ میں عدالت نے ان مقاصد کو تسلیم بھی کیا ہے۔ بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ پلیسز آف ورشپ ایکٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔ ساتھ ہی اس قانون کی حفاظت کرنا سیکولر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے۔ یہ قانون آئین ہند کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔

قانون کی دفعہ 4؍ عبادت گاہوں کی تبدیلی کو روکتی ہے۔ یہ قانون بنا کر حکومت نے آئینی ذمہ داری لی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے گی اور اس قانون کو بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سیکولرازم کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔ ایسے میں اگر موجودہ تنازعات پر خاموشی اختیار کرتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے باوجود مختلف عدالتوں میں ایک ہی طبقہ کی تاریخی عبادتگاہوں کو متنازعہ بتا کر مقدمات کیوں قائم کئے جا رہے ہیں؟

امید ہے کہ نچلی عدالتیں اس قانون کو ملحوظ نظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کریں گی اور جب سپریم کورٹ اس قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرے گی تو ملک کے سیکولر ڈھانچے، انصاف کے تقاضوں اور قانون کی بالا دستی کو مد نظر رکھے گی۔

( مضمون نگارانقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

دینی مدارس کا سروے مدارس کو بدنام کرنے کی ناپاک اور نفرت انگیز سازش: مسلم پرسنل لا بورڈ

0
دینی مدارس کا سروے مدارس کو بدنام کرنے کی ناپاک اور نفرت انگیز سازش: مسلم پرسنل لا بورڈ
دینی مدارس کا سروے مدارس کو بدنام کرنے کی ناپاک اور نفرت انگیز سازش: مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا رحمانی نے کہا کہ صرف دینی مدارس کا سروے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوشش ہے اور قطعاً ناقابل قبول ہے اور پوری ملت اسلامیہ اس کو مسترد کرتی ہے

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ بعض ریاستی حکومتوں کی جانب سے دینی مدارس کے سروے کا جو شوشہ چھوڑا گیا ہے، وہ در اصل مدارس کو بدنام کرنے اور برادران وطن کے درمیان انہیں مشکوک و مشتبہ بنانے کی ایک گھناؤنی اور ناپاک سازش ہے۔ یہ الزام اس نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں لگایا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ دینی مدارس کی ایک روشن تاریخ رہی ہے، جہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا چوبیس گھنٹہ اہتمام کیا جاتا ہے، ان مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں نے کبھی دہشت گردی اور فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی کوئی کام نہیں کیا، اگرچہ بعض دفعہ حکومت نے اس طرح کے الزامات لگائے، مگر چوں کہ یہ جھوٹا الزام تھا اس لئے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

برسر اقتدار پارٹی کے قدیم اور با اثر لیڈر ایل کے اڈوانی جب ملک کے وزیر داخلہ تھے، اس وقت انھوں نے بھی اس کا اعتراف کیا تھا، ڈاکٹر راجندر پرشاد، جواہر لال نہرو، اے پی جے عبدالکلام اور مولانا آزاد جیسے ملک کے قد آور قائدین نے مدارس کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔

جنگ آزادی میں مدارس سے نکلنے والے علماء کی غیر معمولی قربانیاں

جنگ آزادی میں مدارس سے نکلنے والے علماء نے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں اور آزادی کے بعد بھی ملک کے انتہائی غریب طبقہ کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں ان اداروں کا نمایاں کردار رہا ہے۔ اس لئے بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اس ارادہ سے باز آئے اور اگر کسی جائز ضرورت کے تحت سروے کرایا جاتا ہے تو صرف مدارس یا مسلم اداروں کی تخصیص نہ ہو، تمام قوموں کے مذہبی اور غیر مذہبی اداروں کا ایک مقررہ اصول کے تحت سروے کیا جائے، بلکہ اس میں سرکاری اداروں کو بھی شامل رکھا جائے کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کے سلسلہ میں جو ضابطہ مقرر کیا ہے، خود سرکاری ادارے اسے کس حد تک پورا کر رہے ہیں۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ صرف دینی مدارس کا سروے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوشش ہے اور قطعاً ناقابل قبول ہے اور پوری ملت اسلامیہ اس کو مسترد کرتی ہے۔

حکومت پٹرول ڈیزل میں 15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کم کرے: کانگریس

0
حکومت پٹرول ڈیزل میں 15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کم کرے: کانگریس
حکومت پٹرول ڈیزل میں 15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کم کرے: کانگریس

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حقیقی جی ڈی پی میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور عالمی بازار میں گراوٹ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں

نئی دہلی: کانگریس نے حکومت سے ایندھن کی قیمتوں کو بین الاقوامی بنیادوں پر طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح عالمی بازار میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اس کی بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل 15-15 اور گیس سلنڈر میں 150 روپے کی فوری طور پر کمی کی جانی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حقیقی جی ڈی پی میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور عالمی بازار میں گراوٹ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بازار میں ایندھن کی قیمتیں سات ماہ کی کم ترین سطح پر ہیں اور حکومت کو اس کا فائدہ عوام تک پہنچانا چاہئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں کے مطابق ایندھن کی قیمت کم نہیں کرتی بلکہ الیکشن کے مطابق کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو آدھی رات کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اگر عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو مودی سرکار خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 13.33 فیصد کمی آئی ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کسان اور ملک کو ملنا چاہیے۔ اس کے مطابق اگر حکومت ایمانداری سے کام کرے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری طور پر 15 سے 20 روپے کی کمی ہو سکتی ہے اور اس کا فائدہ ملک کے عوام کو ملنا چاہیے۔

مہاراشٹر: شرد پوار این سی پی کے صدر منتخب

0
مہاراشٹر: شرد پوار این سی پی کے صدر منتخب

مہاراشٹر کے عظیم لیڈر اور پارٹی کے بانی رکن شرد پوار کو متفقہ طور پر ایک بار پھر صدر منتخب کیا گیا

نئی دہلی: دہلی میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں مہاراشٹر کے عظیم لیڈر اور پارٹی کے بانی رکن شرد پوار کو متفقہ طور پر ایک بار پھر صدر منتخب کیا گیا۔ مسٹر پوار اگلے چار سال تک اس عہدے پر فائز رہیں گے مہاراشٹر این سی پی کے چیف ترجمان مہیش بھرت تاپسے نے یہ جانکاری دی۔

دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں جاری این سی پی کے دو روزہ قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پوار نے مہنگائی، کسانوں، خواتین، سیکورٹی اور چین جیسے حساس معاملوں پر مرکز کی مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے نشانہ بنایا۔ انہوں نے چھترپتی شیواجی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’ہم مرکزی حکومت کے سامنے نہیں جھکیں گے۔‘‘ انہوں نے عوام سے متحد ہوکر مرکزی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل کی۔

مسٹر پوار نے کہا، ‘این سی پی ہمیشہ کسانوں کے لیے کام کرے گی اور ان کے حقوق کی حفاظت کرے گی۔ کچھ فرقہ پرست عناصر کی وجہ سے ملک کا ماحول خراب ہوتا جا رہا ہے۔ اقلیتی برادری کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس لیے ہمیں ہم آہنگی کا ماحول بنانے کا عہد کرنا چاہیے۔‘‘

این سی پی کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس کورونا وبا کے سبب دو سال بعد منعقد ہوا ہے۔ مسٹر پوار نے اس میٹنگ میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔

اتر پردیش حکومت غیر تسلیم شدہ مدارس کو ڈرا رہی ہے: دانش

0
اتر پردیش حکومت غیر تسلیم شدہ مدارس کو ڈرا رہی ہے: دانش
اتر پردیش حکومت غیر تسلیم شدہ مدارس کو ڈرا رہی ہے: دانش

رکن پارلیمنٹ مسٹر دانش نے کہا کہ وزیر نے پارلیمنٹ میں عوامی اہمیت کے مسئلہ پر ایک مضحکہ خیز کہانی سنا کر خود کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اتر پردیش حکومت نے پچھلے چار سالوں سے مدرسہ کے اساتذہ کو اعزازیہ ادا نہیں کیا ہے

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے مدرسوں کے اساتذہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اتر پردیش حکومت ایک طرف تسلیم شدہ مدارس کے اساتذہ کو اعزازیہ نہیں دے رہی ہے اور دوسری طرف غیر تسلیم شدہ مدارس کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

امروہہ کے رکن پارلیمنٹ مسٹر دانش علی نے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے 20 جولائی کو مدرسہ کے اساتذہ کے بقایہ اعزازیہ کی ادائیگی اور لوک سبھا کے مانسون اجلاس کے دوران رول 377 کے تحت ان کو دیئے جانے والے اعزازیہ میں اضافہ سے متعلق معاملات کو اٹھایا تھا۔ جس کا جواب ریاستی وزیرمملکت اناپورنا دیوی نے دیا ہے جس سے حکومت کی بے حسی اور نیت کو ظاہر کرتا ہے۔

پچھلے چار سالوں سے اساتذہ کو اعزازیہ نہیں دیا گیا

انہوں نے کہا کہ وزیر نے پارلیمنٹ میں عوامی اہمیت کے مسئلہ پر ایک مضحکہ خیز کہانی سنا کر خود کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اتر پردیش حکومت نے پچھلے چار سالوں سے مدرسہ کے اساتذہ کو اعزازیہ ادا نہیں کیا ہے۔ اس سال 2022 میں صرف چند ماہ کا اعزازیہ دیا گیا ہے۔

بی ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اتر پردیش حکومت کی پالیسی مدارس اور ان کے اساتذہ کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو رہی ہے۔ ایک طرف حکومت تسلیم شدہ مدارس کے اساتذہ کو اعزازیہ نہیں دے رہی اور دوسری طرف غیر تسلیم شدہ مدارس کو ڈرا رہی ہے۔ ایسے میں اتر پردیش کے مدارس، ان کے بے بس اساتذہ اور لاکھوں غریب بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مدرسہ کے اساتذہ کا بقایہ اعزازیہ ادا کیا جائے اور اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے، لیکن مرکزی وزیر نے ان کے بقایہ جات اور اعزازیہ میں اضافے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی مدرسہ کے بقایہ اعزازیہ کی ادائیگی کے بارے میں بات کی۔

حکومت اقلیتوں اور مدارس کے اساتذہ کی تعلیم کے تئیں لاتعلق

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ محض ڈھونگ ہے اور حکومت اقلیتوں اور مدارس کے اساتذہ کی تعلیم کے تئیں انتہائی لاتعلق ہے۔

مسٹر علی نے کہا کہ اعزازیہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مدارس کے اساتذہ کو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور وہ فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں۔ فنڈز کی کمی کے باعث مدارس کے اساتذہ اپنا علاج بھی نہیں کروا پا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد اساتذہ کی موت ہوچکی ہے۔

وزیر مملکت برائے تعلیم اناپورنا دیوی نے مسٹر دانش علی کی طرف سے 3 ستمبر کو کئے گئے سوال کا تحریری جواب دیا ہے۔

پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے جی ڈی پی میں 2 فیصد کمی کا اندازہ

0
پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے جی ڈی پی میں 2 فیصد کمی کا اندازہ
پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے جی ڈی پی میں 2 فیصد کمی کا اندازہ

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کا انتباہ اس وقت آیا جب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے رپورٹ کیا کہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 396 تک پہنچ گئی ہے جب کہ زخمیوں کی کل تعداد 12 ہزار 700 سے زیادہ ہے

اسلام آباد: پاکستان میں تباہ کن مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے سبب پاکستان کو مالی سال 2023-2022 کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 5 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کا انتباہ اس وقت آیا جب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے رپورٹ کیا کہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 396 تک پہنچ گئی ہے جب کہ زخمیوں کی کل تعداد 12 ہزار 700 سے زیادہ ہے۔ این ڈی ایم اے کی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی مجموعی تعداد 17 لاکھ سے زیادہ ہے جب کہ 6 ہزار 600 کلومیٹر سے زیادہ طویل سڑکوں اور 269 پلوں کو نقصان پہنچا۔

مسٹر احسن اقبال جو کہ نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کے چیئرمین بھی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے لیے مشترکہ بریفنگ کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کا اندیشہ

این ایف آر سی سی کے کوآرڈینیٹر میجر جنرل ظفر اقبال نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا کم از کم ایک تہائی حصہ ڈوب چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔ این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل 81 اضلاع (بلوچستان میں 32، سندھ میں 23 اور کے پی میں 17) آفت زدہ’کے زمرے میں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2010 کے‘سپر فلڈ’ سے تقریباً 2 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ موجودہ سیلاب کے اثرات نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو اپنی لپیٹ میں لیا جن میں سے 6 لاکھ سے زیادہ افراد امدادی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ تباہی سے نمٹنے کے لیے مؤثر انفراسٹرکچر کی کمی کے درمیان پہاڑی سیلاب ایک چیلنج ثابت ہوا جس کے نتیجے میں انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے، مویشیوں اور فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے احسن اقبال کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کو سیلاب، آئی ایم ایف فنڈز کی تاخیر سے منظوری اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والی معاشی صورتحال تھے۔ روس-یوکرین جنگ جیسے مختلف بحرانوں کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو میں دو فیصد کمی کی توقع ہے۔ این ایف آر سی سی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ سول حکومت، ملٹری اور این جی اوز بشمول اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے درمیان مربوط کوششیں عروج پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں میں امدادی کارروائیوں کے بارے میں ایک جائزہ سروے پیر تک شروع ہو جائے گا۔

ضلع سیتامڑھی: ناموافق حالات میں بھائی بہن نے کیا علاقے کا نام روشن

0

نیٹ امتحان میں بہترین رینک لاکر بہار کے ضلع سیتامڑھی کے بھائی اور بہن نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ علاقہ کا بھی نام روشن کیا ہے

نئی دہلی: نیٹ امتحان میں بہترین رینک لاکر بہار کے ضلع سیتامڑھی کے نانپور بلاک کے تحت پنڈول بزرگ پنچایت کے بھائی اور بہن نے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ علاقہ کا بھی نام روشن کیا ہے۔

بھائی محمد سراج احمد نے جہاں ایم بی بی ایس کے داخلہ ٹیسٹ نیٹ (NEET) میں 720 میں سے 652 نمبر حاصل کر کل ہند سطح پر بہتر مقام حاصل کیا ہے، وہیں بہن کنیز فاطمہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈی (ایجوکیشن) کے داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔

محمد سراج احمد اور کنیز فاطمہ دونوں نے ہی پرائمری تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول میں حاصل کی۔ اس کے بعد سراج نے چھٹی کلاس سے دسویں کلاس تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسکول سے اور بارہویں کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسکول سے مکمل کی اور ہمیشہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوئے۔ جب کہ کنیز فاطمہ نے بہار بورڈ سے بارہویں کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیا اور اب تک بی اے، بی ایڈ اور ایم اے ایجوکیشن کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے سی ٹیٹ (CTET) اور نیٹ (NET) کے امتحانات بھی پاس کئے ہیں۔

پیشے سے کسان والد محمد بدر عالم (محمد دلارے) نے بتایا کہ دونوں ہی بھائی بہن بچپن سے ہی نہایت سنجیدہ اور محنتی ہیں اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ ان دونوں نے اپنی اس کامیابی پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ اس کامیابی میں والدین اور بڑے بھائی محمد نیاز احمد مصباحی کی بہتر تربیت، رہنمائی اور سرپرستی کافی اہم رہی ہے۔ ان دونوں نے تمام اعزہ و اقربا اور خیرخواہوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

الامین مشن سے کوچنگ کرنے والے 500 طلبا نے کیا نیٹ امتحان میں کوالیفائی، 200 طلبا کے نمبر 600 سے زائد

0
الامین مشن سے کوچنگ کرنے والے 500 طلبا نے کیا نیٹ امتحان میں کوالیفائی، 200 طلبا کے نمبر 600 سے زائد
الامین مشن سے کوچنگ کرنے والے 500 طلبا نے کیا نیٹ امتحان میں کوالیفائی، 200 طلبا کے نمبر 600 سے زائد

الامین مشن کے سیکرٹری ایم نورالاسلام نے بتایا کہ پانچویں سے بارہویں جماعت تک الامین مشن کے تقریباً 72 کیمپس ہیں، کیمپس سے 12ویں کلاس میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ نیٹ امتحان میں شریک ہوتے ہیں اور کامیابی حاصل کرتے ہیں

کلکتہ: الامین مشن نے اس سال بھی آل انڈیا میڈیکل انٹرنس ٹسٹ (NET) میں کامیابی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس کے مختلف اداروں سے وابستہ 500 طلبا نے کامیابی حاصل کی ہے۔

الامین مشن کے سیکرٹری ایم نورالاسلام نے بتایا کہ تقریباً 36 سال قبل 1987 میں الامین مشن نے اپنے طلباء کے لیے میڈیکل کوچنگ شروع کی تھی۔ مجھے اس سال سب سے بڑی کامیابی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال امتحان میں شریک ہونے والے دو سو طلبا نے 600 سے زاید نمبر حاصل کیا ہے۔ جب کہ کوالیفائی کرنے والے طلبا کی تعداد 500 کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر طلبا کا تعلق دیہی علاقے سے ہے۔ ریاست بھر کے مختلف دور دراز دیہاتوں سے آ رہے ہیں۔

نور الاسلام نے یہ بتایا کہ پانچویں سے بارہویں جماعت تک الامین مشن کے تقریباً 72 کیمپس ہیں۔ کیمپس سے 12ویں کلاس میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

نورالااسلام نے بتایا کہ الامین مشن کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلے ہوئے ہیں، کشنکور بھومک نے سب سے زیادہ نمبر 720 نمبر میں سے 686 نمبر حاصل کیا ہے۔ پورے ہندوستان میں ان کا درجہ 427 رینک ہے۔ تاہم، مشن کے رہائشی طلباء میں، کوچ بہار کے طوفان گنج کے دیوچرائی گاؤں کے رہنے والے معمولی کسان عبدالسبحان کے بیٹے عرفان حبیب نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ عرفان حبیب نے 685 اسکور کیے، ان کا رینک آل انڈیا میں 594 ہے۔

اختری پروین نے الامین مشن کی طالبات میں شاندار کامیابی حاصل کی

اس کے علاوہ الامین مشن کے بہت سے طلباء نے نیٹ میں 650 سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ اور اختری پروین نے الامین مشن کی طالبات میں شاندار نتائج حاصل کیے ہیں۔ بیر بھوم ضلع کے مورائی تھانے کا رہنے والی اختری بیگم الامین مشن کے خلت پور کیمپس میں 2015 سے ساتویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔

اختری نے بتایا کہ سیکنڈری میں 96 فیصد اور ہائر سیکنڈری میں 98 فیصد نمبر حاصل کئے۔ مجھے نیٹ میں صرف 480 نمبر ملے کیونکہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر پر تیاری نہیں کر سکا۔ لیکن اس سال میں نے الامین مشن کی مدد سے 653 نمبر حاصل کیے ہیں۔ آل انڈیا میں رینک 3915۔ سر نور الاسلام کی بیٹی نے اس کیمپس میں لڑکیوں کو ہر طرح کا تعاون دیا ہے۔ سیکرٹری صاحب آتے تھے اور ہمیں ڈاکٹر بننے کی ترغیب دیتے تھے۔

ایک اور قابل طالب علم ثاقب فیروز ہیں۔ والد شیخ اسماعیل فیروز۔ 2021 میں الامین کے نیٹ امتحان کوچنگ مشن میں شمولیت اختیار کی۔ اس سال اس کا نمبر 606 ہے۔ فیروز نے بتایا کہ الامین مشن کسی خواب سے کم نہیں ہے۔ یہاں خواب دیکھایا جاتا ہے۔