بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 171

نوح میں برج منڈل یاترا نکالنے کی اجازت نہیں، وی ایچ پی لیڈر نے کہا- ’ہمیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں!‘

0
نوح-میں-برج-منڈل-یاترا-نکالنے-کی-اجازت-نہیں،-وی-ایچ-پی-لیڈر-نے-کہا-’ہمیں-کسی-اجازت-کی-ضرورت-نہیں!‘

نوح: وشو ہندو پریشد کی جانب سے منعقد کی جا رہی برج منڈل یاترا کی تیاریوں کے درمیان نوح انتظامیہ نے اس یاترا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ حکام نے 28 اگست کو ہریانہ کے نوح میں وی ایچ پی کی برج منڈل جلابھشیک یاترا کے انعقاد کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جسے 31 جولائی کو فرقہ وارانہ تشدد کے بعد روک دیا گیا تھا۔

نوح ضلعی انتظامیہ نے یاترا کے منتظمین کی طرف سے دی گئی اجازت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ یہ پیش رفت 13 اگست کو پلول کے پونڈاری گاؤں میں ہندو تنظیموں کی ‘مہاپنچائیت’ کے ایک ہفتہ بعد ہوئی ہے، جس میں نوح کے نلہڑ مندر سے وی ایچ پی کی مذہبی یاترا کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

نوح کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر بجارنیا نے تصدیق کی کہ یاترا کی اجازت مانگنے والی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ وہیں، وی ایچ پی کے مقامی لیڈر دیویندر سنگھ نے کہا کہ وہ اجازت سے انکار کے بارے میں نہیں جانتے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مذہبی یاترا کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے!‘‘

خیال رہے کہ نوح تشدد کے 15 دن بعد 13 اگست کو پلول میں ایک مہاپنچایت کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں 28 اگست کو نوح میں دوبارہ برج منڈل یاترا نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ مہاپنچایت میں اور بھی کئی مطالبات رکھے گئے۔ ان میں تشدد کی جانچ این آئی اے سے کروانا اور نوح کو گئو کشی سے پاک ضلع قرار دینا شامل ہے۔ مہاپنچایت میں فیصلہ کیا گیا کہ یاترا نوح کے نلہڑ سے شروع ہو کر ضلع کے فیروز پور جھرکہ کے جھیر اور سنگار مندروں سے گزرے گی۔ یہ وہی راستہ ہے جہاں سے 31 جولائی کو یاترا نکلی تھی اور تشدد پھیل گیا تھا۔

مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے ہندو رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مسلم اکثریتی ضلع نوح میں ہندوؤں کو اپنے دفاع کے لیے اسلحہ لائسنس حاصل کرنے سے استثنیٰ دیا جائے۔ ہریانہ گئو رکشک دل کے آچاریہ آزاد شاستری نے میٹنگ میں کہا کہ ایف آئی آر سے مت ڈرو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں میوات میں فوری طور پر 100 رائفلوں کے لائسنس کو یقینی بنانا چاہئے۔

برج منڈل یاترا گزشتہ ماہ کی آخری تاریخ یعنی 31 جولائی کو ہریانہ کے میوات نوح میں نکالی گئی تھی۔ اس دوران یاترا دو برادریوں کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا۔ سینکڑوں کاروں کو آگ لگا دی گئی۔ سائبر پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ نوح کے بعد سوہنا میں بھی تشدد کی آگ بھڑکی جو فرید آباد-گروگرام تک پھیل گئی۔

نوح کے تشدد میں دو ہوم گارڈز سمیت چھ افراد مارے گئے تھے۔ اس کے بعد نوح، فرید آباد، پلوال سمیت کئی مقامات پر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ نوح میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ ہریانہ میں تشدد کے سلسلے میں 142 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جبکہ 312 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صرف گروگرام میں ہی تشدد کے سلسلے میں 37 کیس درج کیے گئے ہیں۔

اشوکا یونیورسٹی پہنچی انٹیلی جنس بیورو کی ٹیم، 2019 کے انتخابات پر سوال اٹھانے والے پروفیسر سے کرنا چاہتی تھی پوچھ گچھ

0
اشوکا-یونیورسٹی-پہنچی-انٹیلی-جنس-بیورو-کی-ٹیم،-2019-کے-انتخابات-پر-سوال-اٹھانے-والے-پروفیسر-سے-کرنا-چاہتی-تھی-پوچھ-گچھ

نئی دہلی: ملک میں تعلیمی آزادی پر اٹھ رہے سوالات کے درمیان انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی ایک ٹیم ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی پہنچی۔ آئی بی کی ٹیم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے ایک سابق پروفیسر کے ذریعہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات پر ‘ڈیموکریٹک بیک سلائیڈنگ ان دی ورلڈس لارجیسٹ ڈیموکریسی‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالے کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں کیمپس پہنچی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آئی بی کی ٹیم سابق اسسٹنٹ پروفیسر سبیاساچی داس سے پوچھ گچھ اور اس سلسلے میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبران سے بات کرنا چاہتی تھی۔

کیمپس ذرائع نے تصدیق کی کہ آئی بی حکام کی ایک ٹیم نے داس کی تلاش میں یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ داس کے تحقیقی مقالے میں 2019 کے عام انتخابات میں ووٹروں کی ہیرا پھیری کے بارے میں بات کی گئی تھی، جس کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ تاہم یونیورسٹی کی طرف سے آئی بی حکام کو اطلاع دی گئی کہ داس چھٹی پر ہیں۔ اس کے بعد آئی بی حکام نے شعبہ اقتصادیات کے دیگر فیکلٹی ممبران سے ملنے کی درخواست کی۔

داس نے اس ماہ کے شروع میں یونیورسٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد پروفیسر پلاپرے بالاکرشنن نے بھی داس کا استعفیٰ منظور کیے جانے کے خلاف احتجاجاً یونیورسٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یونیورسٹی کے کئی شعبوں بشمول معاشیات، سماجیات، بشریات اور سیاسیات نے داس کی حمایت کی ہے اور ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک بھر کی 91 یونیورسٹیوں کے 320 ماہرین معاشیات نے بھی داس کی حمایت کی ہے اور یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں فوری طور پر بحال کرے۔

شعبہ معاشیات نے داس کے استعفیٰ کی منظوری پر مایوسی کا اظہار کیا تھا اور یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’جلد بازی‘ کی منظوری سے ان کا اعتماد ٹوٹ گیا ہے۔ فیکلٹی ممبران نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی گورننگ باڈی ان کے کام میں مداخلت نہ کرے اور ان پر زور دیا کہ وہ 23 اگست تک داس سے متعلق مسئلہ کو حل کریں۔

اپنے استعفیٰ خط میں بالاکرشنن نے لکھا، ’’میں نے اپنے دل کی آواز پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر داس کے پیپر کو موصول ہونے والی توجہ کے جواب میں فیصلے میں سنگین غلطی ہوئی تھی اور میرے لیے (عہدے پر) برقرار رہنا ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس خبر ہے کہ گورننگ باڈی نے داس کو اس عہدے پر واپس آنے کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے انہوں نے استعفیٰ دیا تھا اور اگر یہ سچ ہے تو میں اس قدم کی تعریف کرتا ہوں۔ اگر نہیں، تو میں کمیونٹی کے لیڈروں کی حیثیت سے آپ سے گزارش کروں گا کہ ایسا کرنے پر غور کریں۔”

کانگریس نے منگل کو بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے پروفیسر سبایاساچی داس کے تحقیقی مقالے سے متعلق تنازعہ کے درمیان ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی ٹیم بھیجی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ’’حکومت صرف جمہوریت کے قتل کو ثابت کر رہی ہے۔‘‘

ایک ٹوئٹ میں کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا ’’انٹیلی جنس بیورو کو ایک پریمیئر پرائیویٹ یونیورسٹی کے کیمپس میں بھیج کر ’ہندوستان میں جمہوری پسپائی‘ کی جانچ پڑتال کرا کر نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت صرف اس بات کو ثابت کر رہی ہے ہندوستان میں واقعہ جمہوریت کا قتل ہو چکا ہے۔‘‘

دہلی میں جی 20 کے پیش نظرتعطیل کا اعلان، 8 سے 10 ستمبر تک رہے گی سرکاری چھٹی

0
دہلی-میں-جی-20-کے-پیش-نظرتعطیل-کا-اعلان،-8-سے-10-ستمبر-تک-رہے-گی-سرکاری-چھٹی

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے جی 20 سربراہی اجلاس کے پیش نظر دہلی میں 8 سے 10 ستمبر تک عام تعطیل کا اعلان کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ دہلی میں جی 20سربراہی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے لیا گیا ہے۔ تمام اسکول، سرکاری دفاتر بشمول ایم سی ڈی دفاتر ان تاریخوں کو بند رہیں گے۔

واضح کریں کہ سیکورٹی کے پیش نظر دہلی پولیس نے دہلی کے چیف سکریٹری سے نئی دہلی میں ہونے والےجی20 سربراہی اجلاس کے لیے 8 ستمبر سے 10 ستمبر تک عام تعطیل کا اعلان کرنے اور تجارتی اور کاروباری اداروں کو ‘کنٹرولڈ’ بند رکھنے کی درخواست کی ہے۔ علاقوں میں آرڈر کرنے کی درخواست کی ہے۔

نیوز پورٹل اے بی پی پر شائع خبر کے مطابق دہلی ٹریفک پولیس نے جی 20 ایونٹ کے حوالے سے اے بی پی نیوز سے بات کی۔ اسپیشل کمشنر آف پولیس ایس ایس یادو نے کہا، ‘صبر رکھیں، دہلی کے لوگوں کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر انتظامات کے ساتھ تقریب کو مکمل کیا جائے گا۔ خاص طور پر نئی دہلی میں ہوائی اڈے کے راستے میں ٹریفک کے انتظامات کو لے کر سختی کی جائے گی۔ دیگر راستوں پر کم سختی رکھی جائے گی۔ دہلی پولیس کے لیے یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے، ہم نے اس سے قبل بھی ایسے کئی پروگرام کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اسپیشل کمشنر آف پولیس نے کسی بھی قسم کی گمراہ کن خبروں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی۔ کچھ دنوں میں دہلی میں منعقد ہونے والے پروگرام کے حوالے سے ٹریفک روٹ ڈائیورشن پر مبنی خصوصی ہدایات بھی جاری کی جائیں گی۔

جی20 میں وہ ممالک شامل ہیں جو دنیا کی دو تہائی آبادی پر مشتمل ہیں۔ عالمی تجارت کا تقریباً 75 فیصد حصہ بھی ان ممالک کے پاس ہے۔ یہی نہیں اگر ہم عالمی جی ڈی پی کی بات کریں تو اس میں ان ممالک کا حصہ 85 فیصد ہے۔ 2007 کے بحران کے بعد، جی20 کو سربراہان مملکت اور حکومت کی سطح پر بڑھا دیا گیا اور اسے بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے لیے پریمیئر فورم کا نام دیا گیا۔

مودی کی ‘پاکستانی بہن’ راکھی باندھنے کے لئے نئی دہلی آئیں گی

0
مودی-کی-‘پاکستانی-بہن’-راکھی-باندھنے-کے-لئے-نئی-دہلی-آئیں-گی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک ”پاکستانی نژاد بہن” قمر محسن شیخ نے انہیں ہندوؤں کے تہوار ‘رکشا بندھن’ کے موقع پر راکھی باندھنے کے لیے نئی دہلی آنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ اس بار وہ انہیں ایک کتاب بھی بطور تحفہ پیش کریں گی۔ اس بار یہ تہوار 30 اگست کو منایا جائے گا۔

بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی منہ بولی پاکستانی بہن قمر محسن شیخ نے اس بار وزیر اعظم نریندر مودی کو راکھی باندھنے کے لیے گجرات سے نئی دہلی تک کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بار، ”میں نے خود ‘راکھی’ بنائی ہے۔ میں انہیں (مودی) کو زراعت سے متعلق ایک کتاب بھی تحفے میں پیش کروں گی، کیونکہ انہیں مطالعے کا شوق ہے۔ پچھلے برسوں میں کووڈ 19 کی وجہ سے میں دہلی جانے سے قاصر تھی۔ لیکن اس بار، میں ان سے ذاتی طور پر ملوں گی۔” قمر محسن شیخ اپنی شادی کے بعد پاکستان سے بھارت آ گئیں تھیں، جو بھارتی گجرات کے شہر احمد آباد میں رہتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا اس بار، ”میں نے خاص طور پر ان کے لیے سرخ رنگ کی راکھی بنائی ہے۔ سرخ رنگ کو طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ پہلے میں نے ان کے لیے گجرات کے وزیراعلیٰ بننے کی دعا کی اور وہ بن گئے۔”

انہوں نے مزید کہا، ”میں جب بھی راکھی باندھتی تھی، تو میں ان کے وزیر اعظم بننے کی خواہش کا اظہار کرتی تھی۔ وہ اس کا جواب ہمیشہ اثبات میں دیتے اور کہتے تھے کہ خدا آپ کی تمام خواہشات پوری کرے گا۔ اب، وہ بطور وزیر اعظم ملک کے لیے قابل ستائش کام کر رہے ہیں۔” پچھلے سال وزیر اعظم مودی کو رکھشا بندھن کی مبارکباد بھیجتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان سے آئندہ برس ملنے کی منتظر ہیں۔

سن 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بنیں گے۔ وہ اس کے مستحق بھی ہیں کیونکہ ان میں وہ صلاحیتیں ہیں اور میری خواہش ہے کہ وہ ہر بار بھارت کے وزیر اعظم بنیں۔”

قمر محسن شیخ بنیادی طور پر پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں تاہم شادی کے بعد وہ بھارت میں آباد ہو گئیں۔ اس وقت وہ احمد آباد میں رہتی ہیں۔ قمر محسن کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا بھائی مانتی ہیں اور اسی لیے ہر سال انہیں راکھی بھیجتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پچھلے پچیس تیس برس سے وزیر اعظم مودی کو راکھی باندھ رہی ہیں اور دونوں میں ویسا ہی رشتہ ہے، جیسا کہ ایک بھائی اور بہن کے درمیان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی کو راکھی باندھنے کا سلسلہ انہوں نے اس وقت شروع کیا تھا، جب وہ آر ایس ایس کے محض ایک کارکن تھے۔ اس کے بعد سے وہ انہیں ہر سال راکھی اور ایک کارڈ ضرور بھیجتی ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔آر ایس ایس حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مربی تنظیم ہے اور اس کی نگرانی میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی درجنوں دیگر شدت پسند تنظیمیں کام کرتی ہیں۔

منی پور تشدد معاملے پر سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کمیٹی نے سونپی رپورٹ، تشدد متاثرین سے متعلق دیے کچھ اہم مشورے

0
منی-پور-تشدد-معاملے-پر-سپریم-کورٹ-کے-ذریعہ-تشکیل-کمیٹی-نے-سونپی-رپورٹ،-تشدد-متاثرین-سے-متعلق-دیے-کچھ-اہم-مشورے

منی پور میں تقریباً ساڑھے تین ماہ قبل جو نسلی تشدد شروع ہوا تھا، وہ ابھی کچھ تھما ہوا ضرور ہے، لیکن ریاستی عوام اب بھی خوف کے سایہ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ریاست میں مشکل حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاستی کابینہ کے ذریعہ سفارش کے باوجود گورنر انوسوئیا اوئیکے نے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ اس درمیان منی پور تشدد کو لے کر سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل دی گئی کمیٹی نے 22 اگست (منگل) کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔

میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کمیٹی نے جلی ہوئی بستیوں، لاشوں اور دیگر مسائل کو لے کر غور و خوض کیا ہے اور اپنی طرف سے کچھ مشورے دیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سبکدوش جج گیتا متل کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے جائے وقوع کا دورہ کر اس رپورٹ کو تیار کیا ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ جی پی ایس میپنگ اور تصویر کی جانچ کے دَم پر جو گاؤں تباہ ہوئے ہیں، ان کی ملکیت کی جانکاری نکالی جا سکتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور اس کا ازالہ کیسے کیا جائے گا۔ راجدھانی امپھال میں بڑی تعداد میں نامعلوم لاشیں رکھی ہیں، ایسے میں جو لوگ ابھی کیمپوں میں رکے ہوئے ہیں ان کے لیے لاشوں کی شناخت کرنا مشکل ہے۔ پینل نے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ کو ایسا انتظام کرنا چاہیے جس کے ذریعہ گھر والے ان لاشوں کو پہچان سکیں۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ منی پور میں پڑھنے والے طلبا کو بھی تشدد کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے۔ ایسے میں کمیٹی نے مشورہ دیا ہے کہ یہاں کے طلبا کو دیگر ریاستوں کے اداروں میں منتقل کر دینا چاہیے تاکہ ان کی پڑھائی اور وقت کا نقصان نہ ہو۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت، یو جی سی کو مداخلت کرنا چاہیے اور اس تعلق سے غور کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل پینل نے منی پور تشدد میں متاثر ہوئے لوگوں کے تعلق سے جو اہم مشورے دیے ہیں وہ اس طرح ہیں:

  • لوگوں کی بازآبادکاری اسی جگہ پر کی جائے جہاں سے وہ ہٹائے گئے تھے۔

  • جو لوگ لاپتہ ہیں، ان کی جانکاری نکالنے کے لیے فوری کارروائی ہونی چاہیے۔

  • اسکولوں کو جلد از جلد شروع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

  • قبائلی قیدیوں کا تحفظ یقینی کرنا ہوگا۔

  • طلبا کے دستاویزات کو جو نقصان ہوا ہے ان کا ازالہ کیسے کیا جائے، اس سلسلے میں اہم قدم اٹھایا جانا چاہیے۔

  • راحتی کیمپوں میں بچوں کی غذا کی فراہمی کرنی چاہیے۔

جنتا دل یو یکم ستمبر سے بی جے پی کے خلاف چلائے گی پول کھول مہم، للن سنگھ نے پریس کانفرنس کر کیا اعلان

0
جنتا-دل-یو-یکم-ستمبر-سے-بی-جے-پی-کے-خلاف-چلائے-گی-پول-کھول-مہم،-للن-سنگھ-نے-پریس-کانفرنس-کر-کیا-اعلان

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو نے آئندہ یکم ستمبر تک ریاست میں بی جے پی کے خلاف جنتا دل یو ‘پول کھول مہم’ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ جنتا دل یو کے قومی صدر للن سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کر اس کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران یکم سے 5 ستمبر تک ہر ضلع ہیڈکوارٹرس میں مشعل جلوس اور کینڈل مارچ نکالا جائے گا اور بی جے پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ 7 سے 12 ستمبر تک ہر بلاک ہیڈکوارٹر پر مشعل جلوس اور کینڈل مارچ نکالا جائے گا۔ اس کے بعد 15 سے 20 ستمبر تک ہر گھر کے اوپر سیاہ پرچم لگا کر جنتا دل یو احتجاج درج کرے گی۔

جنتا دل یو کے قومی صدر للن سنگھ نے آج پٹنہ میں کہا کہ اس مہم کے تحت بی جے پی کی قلعی کھولنے کا کام کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری پر بی جے پی کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ یہ صاف ہو گیا ہے کہ بی جے پی ملک کے پسماندوں اور غریبوں کی مخالف ہے اور سرمایہ داروں کی خیر خواہ ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے امیروں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ جو شخص 9 سال پہلے ملک میں 103ویں مقام پر تھا، وہ 9 سال کے اندر دنیا میں تیسرے مقام پر پہنچ گیا۔ غریب اور انتہائی پسماندہ کے خلاف بی جے پی اب کھل کر سامنے آ گئی ہے، جس کا پردہ فاش کیا جائے گا۔

للن سنگھ نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ ملک بھر میں ہو رہا ہے۔ بہار میں جب سے یہ شروع ہوا تب سے مدھیہ پردیش سمیت ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی یہ مطالبہ ہو رہا ہے، لیکن مرکزی حکومت کمبھ کرن کی نیند سو رہی ہے۔ معاشی طور سے پسماندہ سماج کے جتنے لوگ ہیں، انھیں ذات پر مبنی مردم شماری کا فائدہ مل سکے گا۔ للن سنگھ نے کہا کہ جب انتخاب آتا ہے تو مودی جی کبھی چائے والے بن جاتے ہیں، تو کبھی انتہائی پسماندہ بن جاتے ہیں، لیکن اب بی جے پی کی پول کھول مہم پورے بہار میں چلے گی۔

منی پور کابینہ نے گورنر سے پھر کی اسمبلی اجلاس بلانے کی سفارش، 29 اگست سے اجلاس طلب کیے جانے کا امکان

0
منی-پور-کابینہ-نے-گورنر-سے-پھر-کی-اسمبلی-اجلاس-بلانے-کی-سفارش،-29-اگست-سے-اجلاس-طلب-کیے-جانے-کا-امکان

شمال مشرقی ریاست منی پور میں فی الحال تشدد کے واقعات تھم گئے ہیں۔ اس کے باوجود تین مہینے بعد بھی وہاں حالات معمول پر نہیں آ پا رہے ہیں۔ اُدھر امپھال-دیماپور قومی شاہراہ (این ایچ 2) پر ناقہ بندی منگل کو دوسرے دن بھی جاری رہی، جبکہ سیکورٹی فورسز نے امپھال-جریبام قومی شاہراہ (این ایچ 37) پر گاڑیوں کی آمد و رفت کو سہولت آمیز بنانے کے لیے سیکورٹی کور فراہم کیا ہے۔

اس درمیان منی پور کابینہ نے ایک بار پھر آج یعنی منگل کو گورنر انوسوئیا اوئیکے سے سفارش کی ہے کہ 29 اگست کو اسمبلی کا مانسون اجلاس بلایا جائے۔ یعنی 29 اگست کو اسمبلی اجلاس طلب کیے جانے کے امکانات روشن ہیں۔ حالانکہ اس سے قبل ریاستی کابینہ نے 4 اگست کو بارہویں منی پور اسمبلی کا چوتھا اجلاس 21 اگست کو بلانے کے لیے گورنر سے اسی طرح کی سفارش کی تھی، لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ دفتر نے منگل کے روز ایک پوسٹ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 21 اگست 2023 کو عزت مآب وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی صدارت میں ریاستی کابینہ نے 29 اگست کو 12ویں منی پور اسمبلی (مانسون اجلاس) کا چوتھا اجلاس بلانے کا فیصلہ لیا۔ دراصل اس اہم اجلاس میں پورا امکان ہے کہ ریاست میں جاری نسلی تشدد اور اس سے جڑے ایشوز پر بحث ہوگی۔ کابینہ کی سفارشات کے باوجود گورنر کے رسمی طور سے اجلاس نہیں بلانے کے بعد سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ گزشتہ اسمبلی اجلاس مارچ میں ہوا تھا اور اصولوں کے مطابق ہر چھ ماہ میں کم از کم ایک اسمبلی اجلاس منعقد کیا جانا چاہیے۔ سابق وزیر اعلیٰ اوکرام ایبوبی سنگھ کی قیادت میں کانگریس قانون ساز پارٹی نے 26 جولائی کو گورنر سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران آئین کے آرٹیکل (1)174 کے تحت اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

کانگریس لیڈران منی پور میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اوکرام ایبوبی سنگھ کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ریاستی اسمبلی موجودہ اتھل پتھل پر بحث کرنے کے لیے سب سے مناسب پلیٹ فارم ہے۔ یہاں معمول والی حالت بحال کرنے کی تدبیریں اور مشورے پیش کیے جا سکتے ہیں اور بحث کی جا سکتی ہے۔ تین بار وزیر اعلیٰ رہے اوکرام ایبوبی سنگھ نے کہا کہ اگر چھ مہینے میں اسمبلی اجلاس نہیں ہوگا تو منی پور میں آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔ کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر اوکرام ایبوبی سنگھ نے ایک پارٹی تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنے میں نہیں ملتا کہ کابینہ کی گزارش کے باوجود گورنر نے اسمبلی اجلاس طلب نہیں کیا۔

دوسری طرف برسراقتدار بی جے پی کے 7 اراکین اسمبلی سمیت 10 قبائلی اراکین اسمبلی اور کئی دیگر قبائلی تنظیموں کے ساتھ 12 مئی سے قبائلیوں کے لیے ایک الگ انتظامیہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قبائلی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ وہ سبھی سیکورٹی اسباب سے امپھال میں اسمبلی اجلاس میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔ واضح رہے کہ 3 مئی کو ریاست میں نسلی تشدد بھڑکنے کے بعد سے 160 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور 600 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

چندریان-3 چاند کی سطح پر لینڈنگ کے لیے پوری طرح تیار، لیکن نتیجہ خیز ثابت ہوں گے آخر کے 20 منٹ!

0
چندریان-3-چاند-کی-سطح-پر-لینڈنگ-کے-لیے-پوری-طرح-تیار،-لیکن-نتیجہ-خیز-ثابت-ہوں-گے-آخر-کے-20-منٹ!

اِسرو کے سائنسداں اس وقت چندریان-3 پر سخت نگاہ بنائے ہوئے ہیں۔ 23 اگست 2023 کو اِسرو یعنی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن چاند پر فتح کا پرچم لہرانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ بدھ کے روز جب وکرم لینڈر چاند کی سطح پر لینڈ کرے گا تو اس کے ساتھ اِسرو ایک تاریخ رقم کر دے گا۔ لیکن لینڈنگ سے ٹھیک پہلے کے 20 منٹ نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

سبھی کو بدھ کی شام 6 بج کر 4 منٹ (حالانکہ یہ وقت بدل بھی سکتا ہے) کا بے صبری سے انتظار ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب ہندوستان تاریخ رقم کرنے کے دہانے پر ہوگا اور اس دوران 20 منٹ بے حد اہم ہوں گے۔ چاند پر فتح حاصل کرنے کی ہندوستانی مہم کو پوری دنیا براہ راست دیکھے گی اور سبھی کی نگاہیں اس 20 منٹ پر ہی ہوں گی جب وکرم لینڈر چاند کی سطح پر لینڈ کرنے کی تیاری کر رہا ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ 23 اگست کو جب لینڈر وکرم چاند کی طرف آگے بڑھنا شروع کرے گا، اس وقت اس کی رفتار 1.68 کلومیٹر فی سیکنڈ یعنی 6048 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ یعنی جس رفتار سے طیارہ ہوا میں پرواز کرتا ہے، یہ اس سے دس گنا زیادہ رفتار ہے۔ اس کے بعد لینڈر وکرم کی رفتار دھیمی ہونی شروع ہوگی اور اس وقت وہ چاند کی سطح کی طرف افقی انداز میں بڑھے گا۔ اسے رف بریکنگ فیز کہا جاتا ہے، جو کہ 11 منٹ تک چلے گا۔ اس کے بعد لینڈر وکرم عمودی ہوگا، جسے فائن بریکنگ فیز کہا جاتا ہے۔

چاند کی سطح سے 800 میٹر اوپر ہونے پر افقی اور عمودی لینڈر کی رفتار صفر ہو جائے گی تو لینڈر وکرم کے ہوور چاند پر لینڈنگ کے لیے جگہ تلاش کریں گے۔ 150 میٹر کی دوری پر لینڈر وکرم پھر سے ہووَر کو روکے گا اور مناسب لینڈنگ والی جگہ کو دیکھے گا۔ اس کے بعد یہ اپنے دو انجنوں اور پیروں کے ساتھ لینڈ کرے گا۔ جیسے ہی لینڈر کے پیر چاند کی سطح کو چھوئیں گے، انجن بند ہو جائے گا اور یہی وہ وقت ہوگا جب چندریان-3 کی سافٹ لینڈنگ کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔

عوام کو ابھی اور رُلائے گی مہنگائی! وزارت مالیات کی رپورٹ میں راحت کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی

0
عوام-کو-ابھی-اور-رُلائے-گی-مہنگائی!-وزارت-مالیات-کی-رپورٹ-میں-راحت-کی-کوئی-امید-نظر-نہیں-آ-رہی

مہنگائی کے محاذ پر عوام کے لیے اچھی خبر سامنے نہیں آ رہی ہے۔ وزارت مالیات نے جو اشارے دیے ہیں اس سے لگتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے وقت میں بھی مہنگی شرحوں پر سامان خریدنے کو مجبور ہونا پڑے گا۔ وزارت مالیات نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا دباؤ بنا رہ سکتا ہے، ایسے میں مرکزی حکومت اور آر بی آئی کو اسے لے کر بے حد محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے منگل کو ماہانہ معاشی تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں یہ باتیں کہی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے خوردنی اشیاء کی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے پہلے سے ہی احتیاطی اقدام کیے ہیں، جس سے تازہ اسٹاک کی آمد کے ساتھ بازار میں قیمتوں کا دباؤ جلد ہی کم ہونے کا امکان ہے۔ حالانکہ ساتھ ہی اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر صنعتی پالیسیوں کے سرگرم عمل کی حالت میں امکانات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایکسٹرنل سیکٹر کی نگرانی کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ ایکسپورٹ سروس لگاتار بہترین کارکردگی پیش کر رہا ہے اور ایسا جاری رہنے کا امکان ہے۔ گھر سے کام کرنے کی ترجیح بنی ہوئی ہے جو عام طور پر گلوبل کیپبلٹی سنٹر کے پھیلاؤ میں ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی وسط مدت میں ہندوستانی سروسز کے ایکسپورٹ کی طلب اور روزگار پر آرٹیفیشیل انٹلیجنس جیسی نئی تکنیکوں کے اثر کی نگرانی کرنا بھی اہم ہے۔

رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ امریکی بانڈ ییلڈ میں اضافہ کے سبب عالمی شیئر بازاروں میں گراوٹ کا جوکھم ہے اور آگے مانیٹری سکتی کا اندیشہ ابھرتی معیشتوں میں شیئر بازاروں کو متاثر کرے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "میکرو اکونومک حالات میں تقریباً ایک سال کی کمی کے بعد وسیع معاشی استحکام کو بنائے رکھنا ایک اہم پالیسی پر مبنی مقصد کی شکل میں واپس آ سکتا ہے۔”

مدھیہ پردیش میں کھڑگے نے کیے کئی اعلانات، 500 روپے میں رسوئی گیس سلنڈر اور 100 یونٹ بجلی مفت دینے کا وعدہ

0
مدھیہ-پردیش-میں-کھڑگے-نے-کیے-کئی-اعلانات،-500-روپے-میں-رسوئی-گیس-سلنڈر-اور-100-یونٹ-بجلی-مفت-دینے-کا-وعدہ

مدھیہ پردیش کے ساگر میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کئی اہم وعدے کیے۔ انھوں نے کہا کہ "میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب کانگریس حکومت میں آئے گی تو کسانوں کو قرض سے راحت ملے گی، رسوئی گیس سلنڈر 500 روپے میں فراہم کیا جائے گا، خواتین کو 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے، سرکاری ملازمین کے لیے پرانا پنشن منصوبہ نافذ کیا جائے گا، 100 یونٹ تک مفت بجلی ملے گی اور 200 یونٹ بجلی کے لیے نصف بل کی ادائیگی کرنی ہوگی، ہم ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری بھی کرائیں گے۔”

کانگریس صدر نے اپنے خطاب میں پی ایم مودی اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان پر خوب حملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ انتخاب آئے ہیں اس لیے بی جے پی کو سَنت روی داس یاد آ گئے۔ کھڑگے نے مرکزی اور ریاستی حکومت کی پالیسیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی خامیاں شمار کرائیں اور اس سے عوام کو پہنچنے والے نقصانات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ساگر میں 100 کروڑ روپے خرچ کر تعمیر کرائے جا رہے سَنت روی داس مندر کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انتخاب ہے اس لیے بی جے پی کو سَنت روی داس کی یاد آ گئی۔ ریاست میں 20 سال سے شیوراج سنگھ وزیر اعلیٰ ہیں اور مرکز میں 9 سال سے نریندر مودی وزیر اعظم ہیں، لیکن انھیں کبھی سَنت روی داس کی یاد نہیں آئی۔ اب الیکشن ہے، اس لیے ان کی یاد آ گئی ہے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کا مقصد ساگر میں کسی ادارہ کو بنانا نہیں ہے بلکہ ووٹ کیسے کھینچے جائیں، یہ ان کی کوشش کا حصہ ہے۔ کھڑگے نے وعدہ کیا کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت بننے پر سَنت روی داس کے نام پر یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی جائے گی۔

کانگریس کے قومی صدر نے آئین کے معمار ڈاکٹر امبیڈکر اور سَنت روی داس کی جنم بھومی کا تذکرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ چند لوگ آئین کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ ملک کی 140 کروڑ کی آبادی اس کے تحفظ کے لیے زندہ ہے۔

کھڑگے نے ساگر میں اپنے خطاب کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت بننے پر ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی۔ ایسا کرنے سے یہ پتہ چل سکے گا کہ کون کون پسماندہ اور غریب ہیں، کتنے لوگ بے زمین ہیں اور ان کی ترقی کیسے کی جائے۔ کھڑگے نے مرکزی اور ریاستی حکومت کو عوام مخالف ٹھہرایا۔ ساتھ ہی کہا کہ انتخاب آتے ہیں تو یہ ووٹ پانے کے لیے کچھ بھی کرنے لگتے ہیں۔ مدھیہ پردیش ہر معاملے میں پسماندہ ہے اور یہاں جو حکومت ہے، وہ اراکین اسمبلی کی چوری کر کے بنائی گئی ہے۔ انھوں نے کانگریس ریاستی صدر کمل ناتھ کو ‘ناتھ’ بتایا اور کہا کہ کمل تو بی جے پی کا ہے، مگر ناتھ ہمارے ہیں۔