بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 169

چاند کی سطح پر اپنے نشانات چھوڑ رہا چندریان 3 کا روور ’پرگیان‘

0
چاند-کی-سطح-پر-اپنے-نشانات-چھوڑ-رہا-چندریان-3-کا-روور-’پرگیان‘

نئی دہلی: ہندوستان بدھ کے روز چندریان 3 مشن کے دوران چاند کے جنوبی قطب پر اترنے والا پہلا ملک بن گیا۔ وکرم لینڈر کی کامیاب سوفٹ لینڈنگ نے ہندوستان کو چاند پر خلائی جہاز اتارنے والے ممالک کی خصوصی جماعت میں شامل کر دیا۔ اس سے قبل صرف امریکہ، چین اور سابق سوویت یونین نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

دریں اثنا، اسرو کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ہندوستان کا روور پرگیان اب چاند پر گھوم رہا ہے اور مٹی پر اپنے نشانات چھور رہا ہے۔ وکرم سارا بھائی خلائی مرکز (وی ایس ایس سی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انی کرشنن نائر نے آئی اے این ایس کو بتایا ’’روور جمعرات کو تقریباً 12.30 بجے لینڈر سے باہر نکل گیا اور تبھی سے چاند کی سطح پر گھوم رہا ہے، یہ چاند کی سطح پر اپنے نشانات چھوڑ رہا ہے۔”

روور کے پہیوں پر انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کا لوگو اور قومی نشان کندہ کیا گیا ہے، تاکہ یہ گھومنے پر اپنے نشانات چھوڑ سکے۔ انی کرشنن کے مطابق، روور اور لینڈر کے سولر پینلز کھول دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روور چاند کے نمونے جمع کرے گا اور تجربات کرے گا اور ڈیٹا لینڈر کو بھیجے گا۔

ہندوستان کا مون لینڈر، جو بدھ کی شام کو چاند کی سطح پر بحفاظت اترا، وہ اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک، بنگلورو میں مشن آپریشن کمپلیکس کو پیغام بھیجے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لینڈر منصوبہ کے مطابق اترا یا اس میں کوئی تبدیلی تھی، انی کرشنن نے کہا کہ موجودہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سب کچھ منصوبہ کے مطابق ہوا ہے۔

انی کرشنن نے کہا ’’ہمیں مزید جاننے کے لیے پرواز کے بعد کی تشخیص کرنا پڑے گی۔‘‘ خیال رہے کہ مون لینڈر اور روور 600 کروڑ روپے کے چندریان 3 مشن کا حصہ ہیں۔ چندریان 3 خلائی جہاز ایک پروپلشن ماڈیول (وزن 2148 کلوگرام)، ایک لینڈر (1723.89 کلوگرام) اور ایک روور (26 کلوگرام) پر مشتمل ہے۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے مطابق قمری روور میں ایک الفا پارٹیکل ایکسرے اسپیکٹرو میٹر (اے پی ایکس ایس) اور لیزر انڈسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ (ایل آئی بی ایس) ہے تاکہ لینڈنگ سائٹ کے ارد گرد عنصری ساخت حاصل کی جا سکے۔ اس کی طرف سے لینڈر اپنے پے لوڈ کے ساتھ اسے تفویض کردہ کاموں کو بھی انجام دے گا۔ اسرو نے کہا کہ لینڈر اور روور کی مشن لائف ایک قمری دن یا 14 زمینی دن ہے۔

بہار میں شدید بارشوں کے لیے محکمہ موسمیات کا الرٹ

0
بہار-میں-شدید-بارشوں-کے-لیے-محکمہ-موسمیات-کا-الرٹ

ملک کے کئی حصوں میں مانسون کی بارشیں جاری ہیں اور کئی مقامات پر حالات ابتر ہیں۔ بہار کے کچھ علاقوں کی حالت بھی خراب ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے بہار میں بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق ریاست کے 23 اضلاع میں شدید بارش کا امکان ہے۔

آئی ایم ڈی کے مطابق مشرقی چمپارن اور مغربی چمپارن میں 204 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔ سیتامڑھی، شیوہر، مدھوبنی، دربھنگہ، پورنیہ، مظفر پور، سمستی پور، سپول اور مدھے پورہ میں 115 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔ پٹنہ، ویشالی، سرن، سیوان گوپال گنج، کشن گنج، ارریہ، بھاگلپور، مونگیر، بنکا، بیگوسرائے اور کھگڑیا اضلاع میں 65 سے 115 ملی میٹر کے درمیان بھاری بارش کا امکان ہے۔ ان اضلاع کے بیشتر علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے حوالے سے الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔

وہیں منگل اور بدھ کو کشن گنج میں 170 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ چارگھڑیا میں 113.4 ملی میٹر، ٹھاکر گنج میں 100.2 ملی میٹر، طیب پور میں 88 ملی میٹر، ویشالی کے مہوا میں 110.2، پاٹے پور میں 80.4، بھبوا کے موہنیا میں 90.4، مظفر پور میں 74.2، اراڑیہ میں 73 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

پٹنہ میں بدھ کو 0.7 ڈگری کی گراوٹ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے زیادہ درجہ حرارت شیخ پورہ میں 35.6 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ سمستی پور میں سب سے کم درجہ حرارت 28.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

چندریان-3 کی کامیاب سافٹ لینڈنگ پر اِسرو کو ملک و بیرون ملک سے لگاتار مل رہیں مبارکبادیاں، جانیے کس نے کیا کہا!

0
چندریان-3-کی-کامیاب-سافٹ-لینڈنگ-پر-اِسرو-کو-ملک-و-بیرون-ملک-سے-لگاتار-مل-رہیں-مبارکبادیاں،-جانیے-کس-نے-کیا-کہا!

چندریان-3 کی چاند پر کامیاب لینڈنگ کے بعد ملک و بیرون ملک کی سیاسی ہستیاں بڑی تعداد میں اِسرو کو مبارکباد پیش کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے تو جنوبی افریقہ کے جوہانس برگ سے ورچوئلی ہندوستانی عوام کو خطاب کرتے ہوئے مبارکباد پیش کر دی ہے اور اِسرو کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے سبھی سائنسدانوں کو بھی مبارکباد پیش کر دی ہے، لیکن وہ جلد ہی اِسرو کی ٹیم سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اِسرو کے چیف ایس سومناتھ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "پی ایم مودی نے ہم سبھی کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ نجی طور سے آ کر ہم میں سے ہر ایک کو مبارکباد دینا چاہیں گے۔” بہرحال، آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ ملک و بیرون ملک کی سیاسی ہستیوں نے اِسرو کو کس طرح مبارکبادی کا پیغام بھیجا۔

دروپدی مرمو (صدر جمہوریۂ ہند):

یہ ایک یادگار لمحہ ہے اور سائنسدانوں نے تاریخ رقم کر ہندوستان کو فخر کا موقع میسر کرایا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو زندگی میں ایک بار ہوتا ہے۔ میں اِسرو، چندریان-3 مشن میں شامل سبھی لوگوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور انھیں آگے مزید بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے نیک خواہشات پیش کرتی ہوں۔

نریندر مودی (ہندوستانی وزیر اعظم):

زندگی خوشیوں سے بھر گئی ہے۔ یہ لمحہ فتح کی راہ پر آگے بڑھنے کا ہے۔ یہ لمحہ 140 کروڑ دھڑکنوں کے لیے ہے، آج ہر گھر میں جشن شروع ہو گیا ہے۔ میں چندریان-3 کی ٹیم، اِسرو اور ملک کے سبھی سائنسدانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ان کی محنت سے ہی ہم چاند کے اس جنوبی قطب پر پہنچ گئے جہاں پر آج تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔ آج سبھی متھک بدل جائیں گے۔ کبھی کہا جاتا تھا چندا ماما بہت دور کے ہیں، اب ایک دن وہ بھی آئے گا جب بچے کہا کریں گے چندا ماما بس ایک ٹور (سیاحت) کے ہیں۔

ولادمیر پوتن (روسی صدر):

اس کامیابی کے لیے ہندوستان کو مبارکباد۔ یہ خلائی تحقیق میں ایک بڑا قدم ہے اور یقینی طور سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ہندوستان کے ذریعہ کی گئی بااثر ترقی کا ثبوت ہے۔ برائے کرم نئی حصولیابیوں کے یلے ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) کی قیادت اور ملازمین کو میری طرف سے مبارکباد اور نیک خواہشات دیں۔

امت شاہ (مرکزی وزیر داخلہ، ہندوستان):

چندریان-3 مشن کی کامیابی کے ساتھ ہندوستان چاند کے جنوبی قطب کو چھونے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ نیا خلائی سفر ہندوستان کی خلائی جستجو کو نئی اونچائیوں پر لے جاتی ہے، جس سے یہ خلائی منصوبوں کے لیے دنیا کے لانچ پیڈ کی شکل میں علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہندوستانی کمپنیوں کے لیے خلاء کا داخلی دروازہ کھلنے سے ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کے ڈھیر سارے مواقع پیدا ہوں گے۔

راجناتھ سنگھ (مرکزی وزیر دفاع، ہندوستان):

میں اِسرو کے سائنسدانوں کو اس کامیابی کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ نیا ہندوستان ہے اور جس کے ہاتھ اب مریخ سے چاند تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ممتا بنرجی (وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال):

چندریان-3 کی جئے، اس کی شاندار کامیابی کی جئے ہو۔ چاند پر کامیابی کے ساتھ ایک مشن بھیجنے میں ہمارے ملک کی شاندار حصولیابی سے بے حد خوشی ہوئی۔ ہمارے سائنسدانوں نے ملک کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کی گواہی دی ہے۔ ہندوستان اب خلاء کی سپر لیگ میں ہے۔ مہم سے جڑے سبھی لوگوں اور اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والوں کو مبارکباد۔ آئیے ہم اس فخریہ لمحہ کا جشن منائیں۔ جئے ہند۔ جئے ہند۔

نتیش کمار (وزیر اعلیٰ، بہار):

چندریان-3 کی چاند پر کامیاب لینڈنگ کرا کر ملک نے خلاء میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے، جس پر ملک کے ہر باشندے کو فخر ہے۔ یہ اِسرو کے سائنسدانوں کی سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ اس کے لیے اِسرو کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارکباد۔

یوگی آدتیہ ناتھ (وزیر اعلیٰ، اتر پردیش):

خلائی تحقیق میں سپرپاور بننے کی طرف گامزن ‘نئے خود کفیل ہندوستان’ کی صلاحیت اور حوصلے کی نئی پرواز ‘چندریان-3’ کی سنہری کامیابی پر ہمیں فخر ہے۔ پی ایم مودی کی دوراندیش قیادت میں حاصل اس کامیابی کے لیے اِسرو کی ٹیم کا شاندار استقبال، سبھی کو مبارکباد۔

اروند کیجریوال (وزیر اعلیٰ، دہلی):

یہ تاریخی لمحہ ہے۔ ملک کے لیے یہ بڑی حصولیابی ہے۔ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی کے لیے سبھی ملکی باشندوں، اِسرو کے سائنسدانوں، انجینئر اور ملازمین کو بہت بہت مبارکباد۔”

ہری ونش نارائن (نائب چیئرمین، راجیہ سبھا):

انسانی تاریخ کا حیرت انگیز لمحہ، بے مثال حصولیابی۔ آزادی کے امرت کال میں ہندوستان کے طلوع کی علامت۔ چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ کرا کر ہمارے خلائی سائنسدانوں اور اِسرو نے فخر کا لمحہ میسر کرایا۔ اس کی یاد عمر بھر رہے گی۔ اس سے جڑے سبھی سائنسدانوں، پالیسی سازوں کو مبارکباد۔ جئے ہند۔

ملکارجن کھڑگے (کانگریس صدر):

چندریان-3 کی کامیابی ہر ہندوستان کی اجتماعی کامیابی ہے۔ یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ 140 کروڑ ہندوستانیوں نے اپنی چھ دہائی قدیم خلائی پروگرام میں آج ایک اور حصولیابی دیکھی۔ ہم اپنے سائنسدانوں اور اس مشن کو کامیاب بنانے میں شامل سبھی لوگوں کی لگن، سخت محنت اور خود سپردگی کو سلام کرتے ہیں۔

راہل گاندھی (کانگریس رکن پارلیمنٹ):

آج کی اس حصولیابی کے لیے ٹیم اِسرو کو مبارکباد۔ چاند کے جنوبی قطب پر چندریان-3 کی سافٹ لینڈنگ ہمارے سائنسداں طبقہ کی دہائیوں کی زبردست صلاحیت اور سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ 1962 کے بعد سے ہندوستان کا خلائی پروگرام نئی اونچائیوں کو چھو رہا ہے اور نوجوان خواب دیکھنے والوں کی نسلوں کو متاثر کر رہا ہے۔

شرد پوار (این سی پی چیف):

چندریان-3 خلاء میں ہندوستان کی سب سے اہم کوشش ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے سائنس طبقہ کو حوصلہ بخشا ہے اور یہ ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو فخر آمیز کرے گا۔ سبھی سائنسدانوں اور ساتھی ہندوستانیوں کو نیک خواہشات۔ اِسرو کے ایسے ہی اہم تجربات خلاء میں پرواز بھرتے رہیں۔

شکتی کانت داس (آر بی آئی گورنر):

جہاں عزم مصمم اور قوت ارادی ہے، وہاں چاند بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی اسے اندیشوں سے پرے ثابت کرتی ہے۔ اس قابل ذکر حصولیابی کے لیے ٹیم اِسرو کو مبارکباد۔

اسدالدین اویسی (اے آئی ایم آئی ایم رکن پارلیمنٹ):

ٹیم اِسرو کو مبارکباد، یہ ہم ہندوستانیوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ ہندوستان کی سائنسی حصولیابیوں کی طویل وراثت میں ایک اور بڑا تعاون۔

پرینکا گاندھی (کانگریس جنرل سکریٹری):

1962 میں شروع ہوئے ہندوستانی خلائی پروگرام نے آج چندریان-3 کی شکل میں ایک نئی اونچائی طے کی۔ پورا ملک آج ہندوستانی خلائی پروگرام کے اس قابل فخر سفر پر خوشی کا احساس کر رہا ہے۔ سبھی ملکی باشندوں کے لیے یہ خوشی کا لمحہ ہے۔ سبھی سائنسدانوں اور ملکی باشندوں کو مبارکباد و نیک خواہشات۔ جئے ہند، جئے بھارت۔

چینی سفارتخانہ (ہندوستان):

چندریان-3 کی چاند پر کامیاب لینڈنگ کے لیے ہندوستان کو مبارکباد۔

کانگریس کی مضبوطی کے لیے چودھری متین احمد نے کسی کمر

0
کانگریس-کی-مضبوطی-کے-لیے-چودھری-متین-احمد-نے-کسی-کمر

نئی دہلی: کانگریس کے قد آور لیڈر چودھری متین احمد نے جب سے چاندنی چوک لوک سبھا کی کمان سنبھالی ہے تب سے وہ جگہ جگہ میٹنگ منعقد کر رہے ہیں اور دہلی کانگریس کے بکھرے ہوئے کانگریس کارکنان و لیڈران کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسی ضمن میں آج آزاد مارکیٹ میں ضلع نائب صدر محمد سعید خان کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میٹنگ میں مہمان خصوصی کے طور پر چودھری متین احمد نے شرکت کی۔ میٹنگ میں سابق رکن اسمبلی راجیش جین، سابق کونسلر پریرنا سنگھ، سابق کونسلر ٹھاکر داس، بلاک صدر راجو پنڈت، دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے ڈیلی گیٹ سید ناصر جاوید وغیرہ نے بھی شرکت کی۔

اس دوران چودھری متین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس پارٹی کے لیڈران و کارکنان کی خوبی رہی ہے کہ وہ ہمیشہ عوا م کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سنتے ہیں اور ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کچھ سالوں سے لوگوں نے بدلاﺅ کے چکر میں آکر کانگریس پارٹی کو چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اب اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور کانگریس کے دور کو یاد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کانگریس کے لیڈران و کارکنان نے آئندہ 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کیلئے کمر کس لی ہے اور کانگریس 250 وارڈوں کے لیے ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ لیا ہے، جس کی رپورٹ جلد از جلد جمع کرانی ہے۔

چودھری متین احمد نے کانگریس لیڈران و کارکنان سے کہا کہ آپ لوگ کانگریس پارٹی کے سپاہی ہیں اور زمینی سطح پر کس طرح کام کرنا ہے اس سے بخوبی واقف ہیں۔ اپنے اپنے وارڈس میں کانگریس کے کارواں کو آگے بڑھانے کیلئے وارڈ میں ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو اپنے اپنے سماج میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہوں اور ہر سرگرمیوں میں سرگرم نظر آتے ہوں۔

چودھری متین نے کہا کہ آج عوام مرکزی و دہلی دونوں حکومتوں کی عوام مخالف پالیسی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ کانگریس کے دور حکومت میں لوگوں کے پاس روزگار تھا، لوگ خوشی خوشی اپنا کاروبار کرتے تھے، لیکن آج مارکیٹوں کے حالات دیکھ کر لوگ کانگریس کے دور کو یاد کرتے ہیں اور بدلاﺅ چاہتے ہیں۔

اس موقع پر کانگریس لیڈران نے زمینی سطح پر کس طرح کانگریس کو مضبوط کیا جائے، اس سلسلے میں اپنی اپنی رائے پیش کی۔ ساتھ ہی بتایا کہ کن کن جگیہوں پر کانگریس کمزور ہے اور پرانے کارکنان کو کیسے واپس لایا جا سکتا ہے۔ میٹنگ میں مستقبل کو لے کر تبادلہ خیال بھی ہوا اور کچھ اہم امور پر منصوبہ بندی بھی کی گئی۔

میٹنگ میں راجیش جین، پریرنا سنگھ، اور محمد سعید نے بھی اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ تاہم میٹنگ میں بنائے گئے منصوبے کے حساب سے فوری طور پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اہم شرکاء میں جگل کشور، سنتوش شکلا، رام وچن گوڑ، رینا آرتی، عمران خان، انل کمار شرما، یوسف صدیقی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

‘سبھی سائنسدانوں کو سلام’، چاند کی سطح پر چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد کھڑگے نے جاری کیا ویڈیو پیغام

0
‘سبھی-سائنسدانوں-کو-سلام’،-چاند-کی-سطح-پر-چندریان-3-کی-کامیاب-لینڈنگ-کے-بعد-کھڑگے-نے-جاری-کیا-ویڈیو-پیغام

چندریان-3 نے ہندوستان کو آج اس وقت فخر کا لمحہ فراہم کیا جب چاند کے جنوبی قطب پر وکرم لینڈر نے کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی۔ اِسرو کے سائنسدانوں کی محنت شاقہ کے سبب ہندوستانیوں کو فخر کا یہ موقع میسر ہوا ہے، اس لیے سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے چندریان-3 کی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر سائنسدانوں کو سلام پیش کیا ہے اور آج خلائی شعبہ میں ملی کامیابی کو ہر ہندوستانی کی اجتماعی کامیابی قرار دیا ہے۔

اپنے پیغام میں ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ "میرے پیارے ملکی باشندوں، چندریان-3 کی کامیابی ہر ایک ہندوستانی کی اجتماعی کامیابی ہے۔ ہم سب کے لیے یہ فخر کی بات ہے۔ 140 کروڑ ہندوستانیوں نے اپنے چھ دہائی قدیم خلائی پروگرام میں آج مزید ایک حصولیابی دیکھی۔ ہم اپنے سائنسدانوں، خلائی انجینئرس، محققین اور اس مشن کو کامیاب بنانے میں شامل سبھی لوگوں کی لگن، سخت محنت اور خود سپردگی کو سلام کرتے ہیں۔”

کھڑگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ "2008 میں جب چندریان-1، ایم آئی پی (مون امپیکٹ پروب) ہندوستانی پرچم لے کر چاند کی سطح پر اترا، تب ہندوستان چاند کی سطح پر کسی سائنسی مشین کو اتارنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا۔ آج چندریان-3 کے ذریعہ سے ہم نے دنیا کے سامنے اپنی شاندار سائنسی صلاحیت کی تعریف پیش کی ہے۔ وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کی بہترین سافٹ لینڈنگ ڈاکٹر ہومی بھابھا، ڈاکٹر وکرم سارابھائی، ڈاکٹر ستیش دھون، ڈاکٹر میگھ ناد ساہا، ڈاکٹر شانتی سوروپ بھٹناگر، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ان سبھی عظیم سائنسدانوں کو ایک سچی خراج عقیدت ہے جنھوں نے ہندوستان کو خلائی تحقیق اور سائنسی مہارت میں بے پناہ کامیابی دلائی۔”

کانگریس صدر کھڑگے نے اپنے پیغام میں چندریان-3 کی کامیابی کو پنڈت جواہر لال نہرو کے ویژن کا ثبوت بھی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ "یہ حصولیابیاں پنڈت جواہر لال نہرو کے ویژن کا ثبوت ہیں جنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی رجحان ہی ایک آزاد ملک کی ترقی کے جذبہ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ ان کے لیے سائنس لوگوں کی زندگی میں تیزی سے تبدیلی لانے کا اہم ذریعہ تھا۔ ہندوستان کے دیگر وزرائے اعظم نے بھی اس جذبہ کو آگے بڑھایا۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ "آریہ بھٹ مشن ہو یا راکیش شرما کا خلائی سفر، یا پھر اس کے بعد کے دیگر مشن ہوں، ہندوستان نے خلائی تحقیق اور تلاش میں ایک طویل اور کامیاب سفر طے کیا ہے۔”

اپنے پیغام کے آخر میں کھڑگے نے کہا کہ "کانگریس پارٹی نے ہمیشہ عالمی امن اور بھائی چارے کو آگے بڑھانے میں یقین کیا ہے۔ آج وکرم لینڈر کا چاند کی سطح پر اترنا، پرامن اور ویلفیئر مقاصد کے لیے سائنس کا استعمال کرنے کے ہمارے عزائم کی تصدیق ہے۔ سب کو مبارکباد۔ جئے ہند، جئے وِگیان۔”

چندریان-3: تفریح سے بھرپور رہے آخر کے 19 منٹ، جانیں آخر کس طرح چاند پر لہرایا ہندوستانی پرچم

0
چندریان-3:-تفریح-سے-بھرپور-رہے-آخر-کے-19-منٹ،-جانیں-آخر-کس-طرح-چاند-پر-لہرایا-ہندوستانی-پرچم

ہندوستان کے چندریان-3 نے منصوبہ کے مطابق بدھ کی شام کو کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح پر اپنے پیر آسانی سے اور حفاظت کے ساتھ رکھ دیے اور سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ 40 دنوں سے زیادہ وقت تک تقریباً 3.84 لاکھ کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد لینڈر وکرم چاند کے جنوبی قطب کے پاس کامیابی کے ساتھ اتر گیا۔

چندریان-3 کی لینڈنگ کے دوران 19 منٹ تفریح سے بھرپور رہے۔ جیسا کہ پہلے طے کیا گیا تھا، شام تقریباً 5.45 بجے لینڈنگ کا عمل شروع ہوا اور ٹھیک 6 بجے کے بعد (تقریباً 6.05 بجے) لینڈر نے چاند کی سطح پر اتر کر اپنے سفر کا سب سے مشکل عمل کامیابی کے ساتھ انجام دیا۔ شام تقریباً 5.45 بجے 30 کلومیٹر کی اونچائی سے افقی حالت میں لینڈر وکرم کے لیے لینڈنگ کا عمل شروع ہوا۔ آٹومیٹیڈ لینڈنگ کا عمل جب شروع ہوا تو سبھی کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں۔ رَف بریکنگ مرحلہ کے دوران لینڈر کی رفتار 1680 میٹر فی سیکنڈ سے گھٹا کر 358 میٹر فی سیکنڈ کر دی گئی۔ بعد ازاں چاند سے اونچائی 7.4 کلومیٹر تک کر دی گئی۔

اگلا مرحلہ اونچائی کو مزید کم کرنے کا تھا جہاں اسے 6.8 کلومیٹر تک کم کر دیا گیا تھا۔ بنگلورو واقع اِسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اور کمانڈ نیٹورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) کے مشن آپریشنز کمپلیکس میں بیٹھے افسران کی نظریں اپنے مانیٹر پر مرکوز تھیں۔ لینڈر کی حالت افقی اور عمودی دونوں اعتبار سے بدل گئی اور خلائی طیارہ چاند کے اوپر 150 میٹر پر منڈلاتا رہا، تصویریں لیتا رہا اور محفوظ لینڈنگ والی جگہ طے کرنے کے لیے لینڈنگ والے علاقہ کا سروے کرتا رہا۔ پھر چار میں سے دو انجن چالو ہونے پر محفوظ لینڈنگ ہوئی۔

اس کامیاب لینڈنگ کے ساتھ 600 کروڑ روپے کے چندریان-3 مشن کا ایک بڑا حصہ کامیابی کے ساتھ پورا ہو گیا ہے۔ بقیہ حصہ رووَر ہے جو لینڈر سے نیچے کی طرف لڑھک رہا ہے، چاروں طرف گھوم رہا ہے اور منصوبہ کے مطابق تجربات کر رہا ہے۔ چندریان-3 خلائی طیارہ میں ایک پرنودن ماڈیول (وزن 2148 کلوگرام)، ایک لینڈر (1723.89 کلوگرام) اور ایک رووَر (26 کلوگرام) شامل ہے۔ اِسرو کے مطابق مون رووَر میں لینڈنگ والی جگہ کے آس پاس کے بنیادی ڈھانچہ کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے الفا پارٹیکل ایکس رے اسپیکٹرو میٹر (اے پی ایکس ایس) اور لیزر والے بریک ڈاؤن اسپیکٹرو اسکوپ (ایل آئی بی ایس) ہے۔

لینڈر بھی اپنے پے لوڈ کے ساتھ تھرمل کنڈکٹیویٹی اور حرارت کی پیمائش کے لیے چاند کی سطح کا تھرموفزیکل تجربہ، لینڈنگ والی جگہ کے آس پاس زلزلہ کی پیمائش کے لیے آئی ایل ایس اے، پلازمہ کثافت اور اس کے تنوع کا اندازہ لگانے کے لیے لینگ موئر جانچ کے اپنے کام کو انجام دے گا۔ اس میں ناسا کے ایک بے حس لیزر ریٹرو ریفلیکٹر ایرے کو مون لیزر رینزنگ اسٹڈی کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ اِسرو نے کہا کہ لینڈر اور رووَر کا مشن لائف چاند کے ایک دن یعنی زمین کے 14 دن کے برابر ہے۔ لینڈر سے باہر نکلنے کے بعد پروپلشن ماڈیول کے ذریعہ لے جائے گئے پے لوڈ کی زندگی تین سے چھ ماہ کے درمیان ہے۔

چاند پر فتح تو صرف ایک شروعات ہے، اِسرو نے تو سورج، مریخ اور زہرہ کی طرف بھی بڑھا دیے ہیں قدم

0
چاند-پر-فتح-تو-صرف-ایک-شروعات-ہے،-اِسرو-نے-تو-سورج،-مریخ-اور-زہرہ-کی-طرف-بھی-بڑھا-دیے-ہیں-قدم

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) کا چندریان-3 بدھ کے روز چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اتر گیا۔ یہ نہ صرف مشہور خلائی ایجنسی کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ثابت ہوا۔ اس وقت چندریان-3 ہمارے لیے ایک بہت بڑی حصولیابی ہے، لیکن اِسرو کے سامنے کئی دیگر مشن لائن اَپ میں تیار ہیں۔ ابھی تو اِسرو سورج، مریخ اور زہرہ تک جانے کی تیاری میں ہے۔ آئیے جانتے ہیں چندریان-3 کے بعد اِسرو کے پاس کیا پروجیکٹس ہیں۔

گگن یان مشن:

اِسرو کا گگن یان مشن ہندوستان کے ذریعہ خلاء میں انسان کو بھیجنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ گگن یان مشن 2022 میں ہی لانچ ہو جانا تھا، لیکن اس میں تاخیر ہو گئی ہے۔ اب اس کے 2025 کے بعد ہی لانچ ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال گگن یان ہیومن اسپیس فلائٹ مشن سے پہلے اِسرو نے دو ایسے مشن پلان کیے ہیں جس میں انسان نہیں ہوں گے۔ اِسرو اگلے سال کے شروع میں پہلا بغیر انسان کا فلائٹ ٹیسٹ کرنے والا ہے۔ اس فلائٹ کو ‘ویوم متر’ نام دیا گیا ہے۔ اس کی تشریح ہاف ہیومنائڈ (نصف انسان) کے طور پر کی جا رہی ہے۔ یہ اِسرو کے کمانڈ سنٹر سے جڑا رہے گا۔ گگن یان پروجیکٹ کے لیے اِسرو نے کرایو اسٹیج انجن کوالیفکیشن ٹیسٹ، کرو اسکیپ سسٹم کے ساتھ ہی پیراشوٹ ایئرڈراپ ٹیسٹ پورے کر لیے ہیں۔ ٹیسٹ وہیکل کرو اسکیپ سسٹم کو ستیش دھون اسپیس سنٹر میں تیار کیا گیا ہے۔

آدتیہ ایل-1:

اِسرو سورج کے معمہ کو حل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لیے ستمبر کے پہلے ہفتے میں آدتیہ ایل-1 کو لانچ کیا جا سکتا ہے۔ 2015 میں اِسرو نے ایسٹروسیٹ لانچ کیا تھا اور آدتیہ ایل-1 ہندوستان کا دوسرا ایسٹرونومی مشن ہوگا۔ اسپیس کرافٹ سورج-زمین کے سسٹم میں لینگرینج پوائنٹ-1 (ایل 1) کے پاس بنے ہیلو آربٹ میں رہے گا۔ یہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ اس فلائٹ کی مدد سے سورج کا لگاتار مطالعہ ممکن ہوگا۔ گہن اور دیگر خلائی واقعات بھی اس میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ آدتیہ ایل-1 کو پی ایس ایل وی راکٹ سے لانچ کیا جائے گا اور یہ چندریان مشن کی طرح ہی ہوگا۔ اسپیس کرافٹ زمین کے نچلے مدار میں ہوگا اور اسے ایل 1 کی طرف دھکیلا جائے گا۔ لانچ سے ایل 1 کی طرف اس فلائٹ کا سفر چار مہینے کا ہوگا۔ اس مشن میں سات پے لوڈ ہوں گے۔ چار سورج کی ریموٹ سنسنگ کریں گے اور تین اس پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے۔

نثار:

ناسا اور اِسرو کی مشترکہ مہم نثار (این آئی ایس اے آر) زمین کے بدلتے ایکو سسٹم کا مطالعہ کرے گا۔ یہ زمین پر موجود پانی کی روانی کے ساتھ ہی آتش فشاں، گلیشیر کے پگھلنے کی شرح، زمین کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرے گا۔ نثار دنیا بھر میں سطح پر ہو رہی تبدیلیوں پر نظر رکھے گا، جو خلاء اور وقت کی وجہ سے نہیں ہو پاتا۔ یہ ہر بارہ دن میں ڈیفارمیشن میپ (نقشہ) بنائے گا اور اس کے لیے دو فریکوئنسی بینڈس کا استعمال کرے گا۔ اس سے زلزلہ کے اندیشہ والے علاقوں کی شناخت کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کی لاگت تقریباً 1.5 بلین ڈالر ہوگی اور یہ دنیا کا سب سے مہنگا سیٹلائٹ ہوگا۔ اس کی لانچنگ جنوری 2024 میں مجوزہ ہے۔ 2800 کلو کا یہ سیٹلائٹ ایل بینڈ اور ایس بینڈ سنتھیٹک اپرچر رڈار (ایس اے آر) مشینوں سے مزین ہوگا۔ اس سے یہ ڈوئل فریکوئنسی امیجنگ رڈار سیٹلائٹ بنے گا۔

منگل یان-2:

ہندوستان کا دوسرا انٹر-پلینیٹری مشن منگل یان-2 بھی مجوزہ ہے۔ اس بار ہائپر اسپیکٹرل کیمرہ اور رڈار بھی آربیٹل پروب میں لگا ہوگا۔ اس مشن کے لیے لینڈر رد کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کا پہلا منگل مشن یعنی منگل یان-1 کامیابی کے ساتھ منگل کے مدار میں پہنچا تھا۔ لانچ وہیکل، اسپیس کرافٹ اور گراؤنڈ سیگمنٹ کی لاگت 450 کروڑ روپے آئی تھی، جو اب تک کا سب سے کفایتی منگل مشن تھا۔

مشن زہرہ:

مارس آربیٹر مشن یا منگل یان-1 کی کامیابی کے بعد اِسرو کی نگاہیں زہرہ سیارہ پر جم گئی ہیں۔ امریکہ، یوروپی اسپیس ایجنسی اور چین نے بھی زہرہ سیارہ کے لیے اپنے مشن پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان کا مشن ویسے تو 2024 کے لیے مجوزہ تھا، لیکن فی الحال اس کے 2031 سے پہلے پورے ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ حکومت سے اب تک اس سلسلے میں ضروری منظوریاں بھی نہیں مل سکی ہیں۔

اسپیڈیکس (اسپیس ڈاکنگ ایکسپیرمنٹ):

ہندوستان مستقبل میں اپنا اسپیس اسٹیشن بناتا ہے تو اسے اسپیس ڈاک کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے سودیشی اسپیڈیکس بنایا جا رہا ہے۔ اس کا ہدف زمین کے مدار میں دو اسپیس کرافٹ کو ڈاک (پارک) کرنے کی تکنیک تیار کرنا ہے۔ ملٹی-ماڈیول اسپیس اسٹیشن بنانے کے لیے یہ اہم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے دیگر سیاروں پر انسانوں کو بھیجنے کے مشن اور مدار میں کسی اسپیس کرافٹ میں ایندھن بھرنے میں بھی ہندوستان مہارت حاصل کر لے گا۔

کلائمیٹ آبزرویشن سیٹلائٹ:

اِسرو جلد ہی کلائمیٹ آبزرویشن سیٹلائٹ (ماحولیاتی مشاہدہ سیٹلائٹ) ‘اِنسیٹ 3 ڈی ایس’ لانچ کرنے والا ہے۔ اِسرو کے افسران کے مطابق تیاریاں آخری شکل لے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آنے والے مہینوں میں کچھ ڈیفنس اور ماحولیاتی مطالعہ سے جڑے سیٹلائٹس بھی لانچ ہونے والے ہیں۔

چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب پر لہرایا ہندوستانی پرچم، آئیے جانتے ہیں کامیاب لینڈنگ کے 5 اہم اسباب

0
چندریان-3-نے-چاند-کے-جنوبی-قطب-پر-لہرایا-ہندوستانی-پرچم،-آئیے-جانتے-ہیں-کامیاب-لینڈنگ-کے-5-اہم-اسباب

چندریان-3 نے آج ہندوستان کا سر پوری دنیا کے سامنے اونچا کر دیا ہے۔ 23 اگست کی شام جب ہندوستان میں 6 بج رہے تھے تو چندریان-3 کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی اور اس کا نظارہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا۔ اس کامیاب لینڈنگ کے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن یہ کامیابی اتنی آسان نہیں تھی، بلکہ سائنسدانوں کی سخت جدوجہد اور گزشتہ ناکامیوں سے حاصل تجربات کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا نام دنیا میں روشن ہو رہا ہے۔ آئیے یہاں جانتے ہیں کہ وہ کون سے 5 بڑے اسباب ہیں جس نے وکرم لینڈر کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو آسان بنایا۔

1. طاقتور وکرم لینڈر:

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ایرو اسپیس سائنٹسٹ پروفیسر رادھاکانت پادھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس بار لینڈر وکرم کو 6 سگما باؤنڈ سے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے یہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس سے اِسرو کے سائنسداں کو یہ اطمینان حاصل ہوا کہ اگر وکرم لینڈر کی رفتار کچھ تیز بھی رہی تو لینڈنگ میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوگی۔

2. چندریان-2 سے زیادہ ایندھن:

چندریان-3 میں چندریان-3 کے مقابلے زیادہ فیوئل یعنی ایندھن بھرا گیا تھا۔ اس سے یہ ممکن ہو سکا کہ لینڈر وکرم کو صحیح اور برابر جگہ پر اتارنے میں کسی بھی طرح کی کوئی دقت نہ ہو، بھلے ہی اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے۔

3. چندریان-2 کی ناکامی سے سیکھا سبق:

چندریان-2 اور چندریان-3 کی لانچنگ کا حصہ رہ چکے پروفیسر رادھاکانت نے کہا کہ چندریان-2 کا لینڈر وکرم اپنی رفتار کنٹرول نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے وہ گر گیا۔ وہ الگوریدم کی ناکامی تھی، جس کو اس بار ٹھیک کر لیا گیا تھا۔

4. نئے سنسر کا استعمال:

چندریان-3 میں لیجر ڈاپلر ویلوسٹی میٹر سنسر جوڑا گیا ہے۔ اس کی مدد سے وکرم لینڈر کو چاند پر صحیح طریقے سے اتارنے میں مدد ملی۔ سنسر نے چاند کی سطح کو کیمرے کی مدد سے چیک کیا اور او کے کمانڈ دیا تبھی وکرم چاند کی سطح پر اترا۔

5. مضبوط لینڈنگ لیگس:

وکرم لینڈر کے روبوٹک لیگس (پیر) کو چندریان-2 کے مقابلے زیادہ مضبوط کیا گیا۔ اس کی مدد سے ہی وکرم لینڈر چاند پر اترا۔ یہ جانکاری پہلے ہی دے دی گئی تھی کہ لینڈنگ کے دوران 3 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہونے پر بھی اس کے لیگس یعنی پیر ٹوٹیں گے نہیں۔

‘آج کا لمحہ ہمارے لیے قابل فخر ہے، ہم اِسرو کو سلامی دیتے ہیں’، چندریان-3 کی کامیابی پر جئے رام رمیش کا بیان

0
‘آج-کا-لمحہ-ہمارے-لیے-قابل-فخر-ہے،-ہم-اِسرو-کو-سلامی-دیتے-ہیں’،-چندریان-3-کی-کامیابی-پر-جئے-رام-رمیش-کا-بیان

چندریان-3 کا وکرم لینڈر کامیابی کے ساتھ بدھ کی شام تقریباً 6 بجے چاند کے جنوبی قطب پر اتر گیا۔ یہ لمحہ سبھی ہندوستانیوں کے لیے قابل فخر ہے۔ اِسرو نے اس لمحہ کا براہ راست نشریہ کیا جس میں وکرم لینڈر کی سافٹ لینڈنگ کے وقت سائنسدانوں کو تالیاں بجاتے ہوئے اور اس کامیابی پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس قابل فخر موقع پر کانگریس کے سرکردہ لیڈر جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اِسرو اور ہندوستانی سائنسدانوں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ اہم باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ "اِسرو کی آج کی حصولیابی واقعی شاندار ہے، بے مثال ہے۔ 1962 کے فروری ماہ میں ہومی بھابھا اور وکرم سارابھائی کی دور اندیشی کے سبب INCOSPAR کا قیام ہوا۔ INCOSPAR یعنی انڈین نیشنل کمیٹی آن اسپیس ریسرچ۔ اس میں جو پہلے شخص شامل تھے، پہلے چار پانچ شخص جو شامل تھے، ان میں اے پی جے عبدالکلام بھی تھے۔”

جئے رام رمیش نے مزید لکھا ہے کہ "اس کے بعد 1969 میں، اگست ماہ میں وکرم سارابھائی، جو ہمیشہ خلائی سائنس اور خلائی تحقیق کو ترقی کے نظریہ سے دیکھا کرتے تھے، نے اِسرو کا قیام کیا۔ سال 1972 اور 1984 کے درمیان ستیش دھون آئے اور انھوں نے غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ سائنسی، تکنیکی اور مینجمنٹ کے نظریہ سے جو تعاون ان کا رہا، وہ بالکل بے مثال تعاون رہا ہے۔ ان کے ساتھ برھم پرکاش جی تھے۔ برھم پرکاش واحد ایسے شخص رہے ہیں جنھوں نے ہمارے نیوکلیائی توانائی پروگرام اور خلائی تحقیقی پروگرام میں بھی انقلابی تعاون دیا ہے۔ ستیش دھون کے بعد یو آر راؤ سے شروعات ہوئی اور کئی چیئرمین آئے۔ ان سبھی نے اپنا خاص تعاون اِسرو میں اور ہمارے خلائی پروگراموں میں دیا۔”

اپنے پوسٹ کے آکر میں کانگریس لیڈر نے لکھا کہ "آج ہم جو کامیابی دیکھ رہے ہیں وہ ایک اجتماعی عزم، ایک اجتماعی کارگزاری ہے، اور جیسا کہ کہا جاتا ہے یہ ایک کلیکٹیو ٹیم ایفرٹ کا نتیجہ ہے۔ یہ سسٹم کا نتیجہ ہے۔ ایک شخص کا نہیں ہے۔ جہاں لوگ ایک ٹیم وَرک کے ساتھ، ایک اجتماعی ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اور گزشتہ کچھ سالوں میں اِسرو کی جو پارٹنرشپ ہے، جو شراکت داری ہے- الگ الگ تعلیم کے ادارے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر کی چھوٹی چھوٹی کمپنیاں ہیں، جنھیں آج اسٹارٹ اَپس کہتے ہیں، ان کے ساتھ جو شراکت داری کا پروگرام اِسرو کی طرف سے ہوا ہے- اس کا بھی اثر ہم دیکھ رہے ہیں۔ آج کا لمحہ ہمارے لیے بہت ہی فخر کا لمحہ ہے اور ہم اِسرو کو سلامی دیتے ہیں۔”

‘مجھے فخر ہے…’، چاند کی سطح پر چندریان-3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد وزیر اعظم مودی کا اظہارِ خوشی

0
‘مجھے-فخر-ہے…’،-چاند-کی-سطح-پر-چندریان-3-کی-کامیاب-لینڈنگ-کے-بعد-وزیر-اعظم-مودی-کا-اظہارِ-خوشی

ہندوستان نے 23 اگست کو ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ چندریان-3 نے چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر رسائی حاصل کی ہے۔ وکرم لینڈر جب چاند کی سطح کی طرف بڑھ رہا تھا تو اس لمحہ کا گواہ پورا ہندوستان تو بنا ہی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی جنوبی افریقہ سے براہ راست نشریہ دیکھا اور ہندوستان کی کامیابی پر ترنگا لہرا کر خوشی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے وکرم لینڈر کی کامیاب لینڈنگ کے بعد جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے ورچوئل انداز میں ہندوستانی عوام کو خطاب کیا اور کہا کہ یہ ملک کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ "زندگی خوشیوں سے بھر گئی ہے۔ یہ لمحہ فتح کی راہ پر آگے بڑھنے کا ہے۔ یہ لمحہ 140 کروڑ دھڑکنوں کے لیے ہے، آج ہر گھر میں جشن شروع ہو گیا ہے۔ میں چندریان-3 کی ٹیم، اِسرو اور ملک کے سبھی سائنسدانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔” پی ایم مودی نے چندریان-3 کی کامیابی پر سائنسدانوں کا خاص طور سے تذکرہ کیا اور کہا کہ ان کی محنت سے ہی ہم چاند کے اس جنوبی قطب پر پہنچ گئے جہاں پر آج تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔ آج سبھی متھک بدل جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ "کبھی کہا جاتا تھا چندا ماما بہت دور کے ہیں، اب ایک دن وہ بھی آئے گا جب بچے کہا کریں گے چندا ماما بس ایک ٹور (سیاحت) کے ہیں۔”

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے چندریان-3 کی کامیاب سافٹ لینڈنگ کے ساتھ ان ممالک کی فہرست میں بھی اپنا نام شامل کر لیا ہے جنھوں نے چاند پر سافٹ لینڈنگ کے ذریعہ رسائی حاصل کی ہے۔ چاند کی سطح پر ہندوستان سے پہلے چین، امریکہ اور سوویت یونین نے سافٹ لینڈنگ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بہرحال، خبر رساں ایجنسی نے اِسرو کے افسران کے حوالے سے بتایا ہے کہ سافٹ لینڈنگ کے بعد اب رووَر اپنے ایک سائیڈ پینل کا استعمال کر کے لینڈر کے اندر سے چاند کی سطح پر اترے گا، جو ریپ کی شکل میں کام کرے گا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ لینڈنگ کے بعد لینڈر کو اس میں موجود انجنوں کے چاند کی سطح کے قریب سرگرم ہونے کے سبب دھول کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔