جمعرات, مئی 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 156

مودی-شاہ کتنی بھی کوشش کریں 2024 میں آمریت کا خاتمہ یقینی، سامنا میں بی جے پی پر حملہ

0
مودی-شاہ-کتنی-بھی-کوشش-کریں-2024-میں-آمریت-کا-خاتمہ-یقینی،-سامنا-میں-بی-جے-پی-پر-حملہ

ممبئی: شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے اپنے ترجمان سامنا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پھر نشانہ بنایا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سامنا میں لکھا گیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات وقت سے پہلے یعنی دسمبر کے مہینے میں ہی ہوں گے۔ اس کے لیے پرائیویٹ چھوٹے طیاروں، ہیلی کاپٹروں کی بکنگ شروع ہو چکی ہے۔

اداریہ میں بی جے پی پر طاقت کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی بکنگ سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کا اقدام ہے۔ اختیارات کا یہ غلط استعمال انتخابات کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کے لیے شروع ہوا ہے کہ مخالفین کو تیز رفتار وسائل نہ ملیں، یہ قابل اعتراض ہے۔

بی جے پی پر بدعنوانی سے کمائی کا الزام لگاتے ہوئے اداریہ میں لکھا گیا کہ بی جے پی اور اس کے حامیوں کے پاس بے پناہ دولت ہے۔ یہ پراپرٹی کیسے بنتی ہے؟ اس میں کہا گیا ہے کہ چندریان-3 کی لاگت 650 کروڑ روپے بتائی گئی ہے اور دہلی میں دوارکا ایکسپریس وے کی تقریباً تین کلومیٹر سڑک کی لاگت 750 کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہے!

مزید کہا گیا ہے کہ 3 کلومیٹر کے پیچھے 500 کروڑ خرچ کرنے والوں نے انتخابی مہم کے لیے ملک کے تمام پرائیویٹ طیارے، ہیلی کاپٹر بک کر لیے ہیں، پھر اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ بی جے پی کے ایم پی ڈی اروند پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ای وی ایم کا کوئی بھی بٹن دبائیں، ووٹ صرف بی جے پی کو جائے گا! اس کا مطلب ہے کہ بی جے پی نے ہیلی کاپٹر کے ساتھ لاکھوں ای وی ایم بھی بک کرائی ہیں۔

اخبار میں مزید کھتا گیا ہے کہ چاہے آپ کتنی ہی بکنگ کر لیں، پھر بھی ووٹر کرپٹ ای وی ایم کی چھاتی پر پیر رکھ کر آمریت کو شکست دیے بغیر نہیں رہیں گے۔

سامنا میں کہا گیا ہے کہ سرکاری نجومیوں نے بی جے پی کو 2024 کے بجائے 2023 میں انتخابات کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ الیکشن 2024 میں کرائیں یا 2023 میں، مودی-شاہ کی زائچہ میں اب ’راج یوگ‘ نہیں ہے۔ اگر وہ بے ایمانی سے کچھ کرنے کی کوشش بھی کریں گے تو معاملہ ان پر ہی پلٹ جائے گا۔

اخبار نے الزام لگایا کہ مودی-شاہ اور گجرات کے ان کے امیر دوستوں نے طویل عرصے سے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ 2024 میں عوام آمرانہ فطرت کو شکست دے کر جمہوریت کو بحال کریں گے۔ اسی لیے ‘انڈیا’ اتحاد نے جنم لیا ہے۔

اداریہ میں آخر میں کہا گیا ہے کہ انتخابات چاہے 2024 میں ہوں یا 2023 میں، ہیرانیاکشیپ کی صورت میں آمریت کا خاتمہ یقینی ہے۔ ‘انڈیا’ اتحاد نے ملک کی فضا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں اور کسی جھانسہ میں نہیں آنے والے۔

اقلیتی اسکالرشپ گھوٹالہ: سی بی آئی نے 144.33 کروڑ روپے کے گھوٹالہ معاملہ میں درج کیا کیس

0
اقلیتی-اسکالرشپ-گھوٹالہ:-سی-بی-آئی-نے-144.33-کروڑ-روپے-کے-گھوٹالہ-معاملہ-میں-درج-کیا-کیس

سی بی آئی نے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے مختص اسکالرشپ کو لے کر ایک بڑے گھوٹالہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں سی بی آئی نے نامعلوم افسران، نوڈل افسران اور پی ایس یو بینک ملازمین کے خلاف معاملہ درج کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اقلیتی اسکالرشپ گھوٹالہ تقریباً 144.33 کروڑ روپے کا ہے۔ اس سلسلے میں شکایت وزارت برائے اقلیتی امور نے درج کرائی ہے۔

سی بی آئی کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق اقلیتی معاملوں کی وزارت نے اقلیتی اسکالرشپ کی تقسیم کے سلسلے میں نامعلوم افسران کے خلاف 144.33 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کا معاملہ ظاہر کیا ہے۔ ایف آئی آر تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی، آر ڈبلیو 420، 468 اور 461، اور پی سی ایکٹ 1988 کی دفعہ 13(2)، 13(1)(C) اور (D) کے تحت درج کی گئی ہے۔ الزامات میں مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزوں کو اصلی شکل میں استعمال کرنا اور مجرمانہ روش شامل ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مشتبہ ملزمین میں حکومت کے نامعلوم افسران، کئی پی ایس یو بینک کے افسران اور 18 ریاستوں میں واقع 830 مختلف اداروں کے نوڈل افسران شامل ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں سے (2017 سے 2022 کے درمیان) تقریباً 65 لاکھ طلبا کو مرکزی حکومت سے تین الگ الگ منصوبوں پری میٹرک اسکالرشپ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اور میرٹ کم مینس کے تحت ہر سال 6 اقلیتی طبقات یعنی مسلم، عیسائی، سکھ، جین، بودھ اور پارسی طلبا کے لیے اقلیتی اسکالرشپ ملتی ہے۔ یہ سبھی اسکالرشپ ڈی بی ٹی منصوبہ کے تحت ہیں، جہاں طلبا کو براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں رقم حاصل ہوتا ہے۔ فنڈ غبن کی رپورٹس کو دوبارہ جانچ کرنے کے بعد وزارت نے اسکالرشپ منصوبہ کے تیسرے فریق کی تشخیص کو پورا کرنے کے لیے نیشنل کونسل آف ایپلائیڈ اکونومک ریسرچ (این سی اے ای آر) کو مقرر کیا ہے۔ مشتبہ اداروں اور درخواستوں کو نشان زد کرنے کے لیے قومی اسکالرشپ پورٹل کے ذریعہ سے بھی ایک تشخیص کی گئی تھی۔ تشخیص کی بنیاد پر مجموعی طور پر 830 ادارے فرضی، جزوی طور سے فرضی یا غیر فعال پائے گئے۔

’الفاظ تلواروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں‘، بی جے پی لیڈر ایچ راجہ کی عرضی مدراس ہائی کورٹ سے خارج

0
’الفاظ-تلواروں-سے-زیادہ-طاقتور-ہوتے-ہیں‘،-بی-جے-پی-لیڈر-ایچ-راجہ-کی-عرضی-مدراس-ہائی-کورٹ-سے-خارج

مدراس ہائی کورٹ نے بی جے پی لیڈر ایچ راجہ کو آج اُس وقت شدید جھٹکا دیا جب ان کی عرضی کو مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس عرضی میں بی جے پی لیڈر نے دراوڑ لیڈر ای وی آر پیریار سمیت کچھ دیگر قابل اعتراض بیانات سے متعلق مختلف معاملوں میں ذیلی عدالتوں میں ان کے خلاف چل رہی کارروائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کیسز کو متعلقہ خصوصی عدالتوں میں منتقل کر دیا۔

دراصل بی جے پی لیڈر ایچ راجہ نے تمل ناڈو ہندو مذہبی اور مذہبی بندوبستی محکمہ کے افسران، آنجہانی دراوڑ آئیکن ای وی راماسامی پیریار اور آنجہانی ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی کے گھروں کی خواتین کے بارے میں قابل اعتراض تبصرے کیے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر معاملے ایچ راجہ کے خلاف چل رہے تھے۔ بی جے پی لیڈر نے ان سبھی معاملوں کو منسوخ کرنے کی عرضی عدالت میں داخل کی تھی جسے مدراس ہائی کورٹ کے جج این آنند ونکٹیش نے مسترد کر دیا۔

عدالت نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بھلے ہی عرضی دہندہ پیریار کے نظریات اور خیالات سے متفق نہیں ہوگا، اس کے باوجود وہ حد کو پار نہیں کر سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسا بیان نہیں دے سکتا جو براہ راست تمل ناڈو کے لوگوں کے جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’الفاظ تلواروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور تلوار کسی ایک شخص کو چوٹ پہنچا سکتی ہے، لیکن الفاظ لوگوں کے ایک بڑے طبقہ پر بہت سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عرضی دہندہ کو اس بات کا احساس نہیں تھا۔‘‘

اتر پردیش: پرنسپل کی فحش حرکتوں سے پریشان طالبات نے خون سے وزیر اعلیٰ یوگی کو لکھا خط

0
اتر-پردیش:-پرنسپل-کی-فحش-حرکتوں-سے-پریشان-طالبات-نے-خون-سے-وزیر-اعلیٰ-یوگی-کو-لکھا-خط

اتر پردیش کے غازی آباد ضلع میں ایک اسکول کی طالبات نے اپنے اسکول پرنسپل پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ طالبات کا الزام ہے کہ پرنسپل لڑکیوں کو کمرے میں بلا کر فحش حرکتیں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں لڑکیوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنے خون سے سے خط لکھ کر بھیجا ہے۔ چار صفحات کے خط میں لڑکیوں نے اپنی پریشانی بیان کی ہے۔

خط کے مطابق طالبات کا کہنا ہے کہ اسکول پرنسپل راجیو پانڈے یکے بعد دیگرے لڑکیوں کو اپنے دفتر میں بلاتے ہیں اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ لڑکیوں نے لکھا ہے کہ ’’بابا جی، ہم بمہیٹا گاؤں کے کسان آدرش ہائر سیکنڈری اسکول میں پڑھنے والی لڑکیاں ہیں۔ ہمارے اسکول کے پرنسپل راجیو پانڈے آئے دن کسی نہ کسی لڑکی کو اپنے دفتر میں بلاتے تھے اور ہمارے ساتھ غلط سلوک کرتے تھے اور دھمکی دیتے تھے کہ اگر ہم نے یہ بات کسی کو بتائی تو وہ ہمیں برباد کر دیں گے۔ ان کے خوف سے بیشتر لڑکیاں خاموش رہتی ہیں۔ ہم میں سے کچھ لڑکیوں نے 21 اگست کو گھر پر اپنی پریشانی بیان کرنے کی ہمت کی، جس کے بعد ہمارے والدین جمع ہوئے اور خاتون کونسل پرموش یادو کے ساتھ اسکول گئے اور انھوں نے منیجر سے بات کی۔

خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ والدین کے اعتراض کرنے پر پرنسپل ناراض ہو گئے اور انھوں نے سبھی کو گالی دینا شروع کر دیا۔ جھگڑا بڑھنے پر والدین نے پرنسپل کی پٹائی کر دی۔ اس کے بعد والدین نے اس معاملے کی اطلاع اے سی پی سلونی اگروال کو دی، جنھوں نے الٹے لڑکیوں اور ان کے والدین کو ہی ڈانٹا اور انھیں چار گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں بٹھائے رکھا۔ پولیس نے لڑکیوں کے گھر بھی جا کر انھیں دھمکایا۔

خون سے لکھا خط منظر عام پر آنے کے فوراً بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے لڑکیوں کے والدین کے خلاف جسمانی استحصال کا الزام لگاتے ہوئے جوابی شکایت درج کرا دی ہے۔ اے سی پی سلونی اگروال نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی شکایت کی بنیاد پر فوراً پرنسپل کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔

’جب ووٹ لگے گھٹنے، انتخابی تحفے لگے بٹنے‘، سلنڈر کی قیمت 200 روپے گھٹائی گئی تو کھڑگے نے مودی حکومت پر کیا طنز

0
’جب-ووٹ-لگے-گھٹنے،-انتخابی-تحفے-لگے-بٹنے‘،-سلنڈر-کی-قیمت-200-روپے-گھٹائی-گئی-تو-کھڑگے-نے-مودی-حکومت-پر-کیا-طنز

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی آج میٹنگ ہوئی جس میں ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس فیصلے کو کانگریس نے انتخاب سے جوڑا ہے اور مرکزی حکومت کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس صدر کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’’جب ووٹ لگے گھٹنے تو انتخابی تحفے لگے بٹنے! عوام کی محنت کی کمائی لوٹنے والی بے رحم مودی حکومت اب ماؤں-بہنوں سے دکھاوٹی ہمدردی ظاہر کر رہی ہے۔‘‘

کھڑگے نے اپنے پوسٹ میں مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ساڑھے نو سالوں تک 400 روپے کا ایل پی جی سلنڈر 1100 روپے میں فروخت کر عام آدمی کی زندگی تباہ کرتے رہے، تب کسی تحفہ کی یاد کیوں نہیں آئی؟ بی جے پی حکومت یہ جان لے کہ 140 کروڑ ہندوستانی کو ساڑھے نو سال تڑپانے کے بعد انتخابی لالی پاپ تھمانے سے کام نہیں چلے گا۔ آپ کی ایک دہائی کے گناہ اس طرح دھلنے والے نہیں۔‘‘

کھڑگے نے اپنے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی کمرتوڑ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس پارٹی پہلی بار کئی ریاستوں میں غریبوں کے لیے صرف 500 روپے کا سلنڈر کرنے والی ہے۔ کئی ریاستوں مثلاً راجستھان اسے نافذ بھی کر چکے ہیں۔ مودی حکومت یہ جان لے کہ 2024 میں ملک کی پریشان عوام کے غصے کو 200 روپے کی سبسیڈی سے کم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’اپوزیشن اتحاد اِنڈیا سے خوف اچھا ہے مودی جی! عوام نے ذہن تیار کر لیا ہے۔ مہنگائی کو شکست دینے کے لیے بی جے پی کو ایگزٹ ڈور دکھانا ہی واحد متبادل ہے۔‘‘

دوسری طرف کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے بھی ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کیے جانے کے بعد مودی حکومت پر طنز کے تیر چلائے ہیں اور اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ قصہ ہے ’ڈیموکرسی‘ کا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وہ لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی نے رسوئی گیس کی قیمتوں میں اچانک سے کٹوتی کر دی ہے۔ لیکن ایسا ابھی ہی کیوں کیا گیا، آپ پوچھ سکتے ہیں؟‘‘

جئے رام رمیش اس پوسٹ میں آگے لکھتے ہیں ’’یہ قصہ ہے ’ڈیموکرسی‘ کا… کرناٹک میں بی جے پی کی شکست- ایل پی جی کی اونچی قیمت انتخاب کے اہم ایشوز میں سے ایک تھی۔ دو مہینوں میں (اپوزیشن اتحاد) اِنڈیا کی دو بے حد کامیاب میٹنگیں اور تیسری اگلے دو دنوں میں ہونے والی ہے۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت نے 100 دنوں میں اپنی 5 گارنٹی نافذ کر دی ہے۔ راجستھان میں کانگریس حکومت 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر دے رہی ہے۔ لوگوں کا شاندار رد عمل مل رہا ہے، کیونکہ وہ بی جے پی کی بدتر حکمرانی سے پریشان تھے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے مزید لکھا ہے کہ ’’5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے تین ماہ قبل، جہاں بی جے پی یقینی طور سے ہارنے جا رہی ہے، اور لوک سبھا انتخاب سے چھ ماہ قبل بی جے پی واقعی میں تنکے کا سہارا لے رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ایسے ’تحائف‘ کی امید ہے کیونکہ وزیر اعظم اپنی کرسی سے چپکے رہنے کے لیے مزید بے چین نظر آ رہے ہیں۔‘‘

چندریان-3 کو ملی بڑی کامیابی، جنوبی قطب پر سلفر کی موجودگی کا چلا پتہ، ہائیڈروجن کی تلاش جاری

0
چندریان-3-کو-ملی-بڑی-کامیابی،-جنوبی-قطب-پر-سلفر-کی-موجودگی-کا-چلا-پتہ،-ہائیڈروجن-کی-تلاش-جاری

ہندوستان کے مشن چاند یعنی چندریان-3 کو ایک بہت بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے 29 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ رووَر پر لگے پے لوڈ کے ذریعہ سے چاند کے جنوبی قطب میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ اِسرو نے یہ بھی بتایا کہ چاند کے جنوبی قطب پر ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔

اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اِن-سیٹو (مقررہ جگہ پر) سائنسی تجربات جاری ہیں… پہلی بار اِن-سیٹو میزرمنٹس کے ذریعہ رووَر پر لگی مشین ’لیزر-انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ‘ (ایل آئی بی ایس) واضح طور سے جنوبی قطب کے پاس چاند کی سطح میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’امید کے مطابق الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز، سلیکان اور آکسیجن کا پتہ چلا ہے۔ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔‘‘ مزید جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے بتایا ہے کہ ایل آئی بی ایس نامی یہ پے لوڈ بنگلورو واقع اِسرو کی تجربہ گاہ الیکٹرو-آپٹکس سسٹمز (ایل ای او ایس) میں تیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آج ’اِسرو سائٹ‘ کے ایکس ہینڈل سے جانکاری دی گئی تھی کہ پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر دونوں ٹھیک طرح کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی تھی کہ جلد ہی اچھا نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ غالباً سلفر اور کچھ دیگر اشیاء کی موجودگی سے متعلق جانکاری سامنے آنے کا ہی اشارہ چندریان-3 کے ایکس ہینڈل سے دیا گیا تھا۔ اِسرو کے ذریعہ دی گئی تازہ جانکاری سائنسداں طبقہ کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔

چین کے نئے نقشہ میں اروناچل پردیش بھی شامل، ہندوستانی وزیر خارجہ نے شدید رد عمل کا کیا اظہار

0
چین-کے-نئے-نقشہ-میں-اروناچل-پردیش-بھی-شامل،-ہندوستانی-وزیر-خارجہ-نے-شدید-رد-عمل-کا-کیا-اظہار

چین نے حال ہی میں اپنے ملک کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں اس نے ہندوستان کے کچھ علاقوں پر دعویٰ کیا ہے۔ چین کی اس سازش پر ہندوستانی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’بے تکے دعوے کرنے سے دوسروں کا علاقہ آپ کا نہیں ہو جاتا۔‘‘

این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کو ایسے نقشے جاری کرنے کی عادت ہے۔ حالانکہ اپنے آفیشیل نقشہ میں دیگر ممالک کے علاقوں کو شامل کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایس جئے شنکر نے کہا کہ ’’چین نے ان علاقوں کے ساتھ اپنا نقشہ جاری کیا ہے جو اس کا نہیں ہے۔ یہ اس کی ایک پرانی عادت ہے۔ صرف ہندوستان کے کچھ حصوں کے ساتھ نقشہ جاری کرنے سے کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ ہماری حکومت اس بارے میں بہت واضح ہے کہ ہمیں اپنے علاقے میں کیا کرنا ہے۔ بے تکے دعوے کرنے سے دوسرے لوگوں کا علاقہ آپ کا نہیں ہو جاتا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے چین کے ذریعہ جاری کیے گئے اسٹینڈرڈ میپ کو خارج کر دیا ہے۔ اس میں چین 1962 کے جنگ کے دوران قبضے والے اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کہتا ہے، وہیں عکسائی چین پر بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ چین کے نئے نقشہ میں کچھ دیگر متنازعہ علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں تائیوان اور جنوبی چین ساگر کے بڑے حصے بھی شامل ہیں۔ بہرحال، ہندوستان کا کہنا ہے کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور مستقبل میں بھی یہ ہندوستان کا ہی حصہ رہے گا۔

’بی جے پی سکم اسمبلی انتخاب تنہا لڑے گی تو 500 ووٹ بھی نہیں ملیں گے‘، بی جے پی رکن اسمبلی نے پارٹی کو کیا متنبہ

0
’بی-جے-پی-سکم-اسمبلی-انتخاب-تنہا-لڑے-گی-تو-500-ووٹ-بھی-نہیں-ملیں-گے‘،-بی-جے-پی-رکن-اسمبلی-نے-پارٹی-کو-کیا-متنبہ

سکم میں آئندہ سال اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ اس تعلق سے سبھی پارٹیوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں، لیکن بی جے پی کے لیے حالات بہت اچھے معلوم نہیں پڑ رہے ہیں۔ دراصل گنگٹوک سے بی جے پی رکن اسمبلی وائی ٹی لیپچا نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پارٹی سکم اسمبلی کا انتخاب تنہا لڑتی ہے تو وہ 500 ووٹ بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔ دراصل لیپا برسراقتدار سکم کرانتی کاری مورچہ (ایس کے ایم) کے ساتھ بی جے پی کے اتحاد کی وکالت کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی نے ایس کے ایم سے رشتہ توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے جب بی جے پی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بھگوا پارٹی وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ کی قیادت والے اتحاد میں ایس کے ایم سے مطمئن نہیں ہے اور اسمبلی انتخاب تنہا لڑنے پر غور کر سکتی ہے۔ اسی بیان پر بی جے پی رکن اسمبلی لیپچا نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پارٹی کو متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بی جے پی ایسا کرتی ہے تو جیت حاصل نہیں ہوگی۔

28 اگست کو لیپچا نے اپنے بیان میں کہا کہ سکم میں 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں ایس کے ایم کے ساتھ اتحاد کے بغیر بی جے پی کے کسی بھی سیٹ پر جیتنے کا امکان انتہائی کم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی نے اپنے دم پر ایک بھی پنچایت سیٹ نہیں جیتی ہے۔ ایس کے ایم کے ساتھ اتحاد کرنے پر دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب (گنگٹوک اور مارتم رومٹیک) میں کامیابی حاصل کی ہے۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’میں ذاتی طور پر اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ ایس کے ایم اور بی جے پی کے درمیان اتحاد 2024 میں بھی جاری رہنا چاہیے۔ اگر دونوں پارٹیاں ساتھ مل کر انتخاب لڑتے ہیں تو آسانی سے جیت حاصل ہوگی۔‘‘

لیپچا کے بیان پر بی جے پی کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ بی جے پی ترجمان کمل ادھیکاری کا کہنا ہے کہ لیپچا نے جو بھی بیان دیا ہے وہ ان کا ذاتی نظریہ ہے۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم سکم کی سبھی 32 اسمبلی سیٹوں پر اپنے دَم پر انتخاب لڑیں گے کیونکہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اب تک کسی اتحاد پر کوئی غور و خوض نہیں ہوا ہے۔‘‘

چندریان-3: ’میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں، جلد ہی اچھا نتیجہ آنے والا ہے‘، پرگیان رووَر نے بھیجا پیغام

0
چندریان-3:-’میں-اور-میرا-دوست-وکرم-لینڈر-رابطے-میں-ہیں،-جلد-ہی-اچھا-نتیجہ-آنے-والا-ہے‘،-پرگیان-رووَر-نے-بھیجا-پیغام

ہندوستان کا مشن چاند کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ چندریان-3 سے متعلق جانکاریاں لگاتار اِسرو اور چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے دی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین جانکاری یہ سامنے آ رہی ہے کہ چاند کی سطح پر چہل قدمی کر رہے پرگیان رووَر نے دنیا کے باشندوں کو خوشخبری بھرا پیغام بھیجا ہے۔ پہلے تو پرگیان نے دنیا کے باشندوں کی خیریت کی امید ظاہر کی ہے اور پھر بتایا ہے کہ وہ اپنے دوست وکرم لینڈر کے رابطے میں ہے اور دونوں کی ہی صحت بہت اچھی ہے۔ اپنے پیغام میں پرگیان رووَر نے جلد ہی کوئی بڑی خوشخبری دینے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے پرگیان رووَر کی ایک علامتی تصویر شیئر کی گئی ہے جس کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’ہیلو دنیا کے باشندو! میں چندریان-3 کا پرگیان رووَر۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اچھے سے ہوں گے۔ سبھی کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں چاند کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے اپنے راستے پر ہوں۔ میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں۔ ہماری صحت اچھی ہے۔ سب سے اچھے نتائج جلد برآمد ہونے والے ہیں۔‘‘

پرگیان رووَر کے اس پیغام کے بعد صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) پر جم گئی ہیں۔ سائنس داں طبقہ کے ساتھ ساتھ عوام بھی اِسرو اور چندریان-3 کے ٹوئٹر ہینڈل پر نئی جانکاری ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ پرگیان رووَر یا وکرم لینڈر اب چاند کے کس راز سے پردہ ہٹانے والا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ دنوں اِسرو نے چاند کی سطح اور اس کے 8 سنٹی میٹر اندر کی درجہ حرارت کی جانکاری دی تھی۔ وکرم لینڈر نے بتایا تھا کہ سطح پر درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری تک، اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر تقریباً منفی 10 ڈگری محسوس کیا گیا ہے۔

ہر سال 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ منائے جانے پر مرکزی کابینہ نے لگائی مہر، خاتون سائنسدانوں کی ہوئی تعریف

0
ہر-سال-23-اگست-کو-’نیشنل-اسپیس-ڈے‘-منائے-جانے-پر-مرکزی-کابینہ-نے-لگائی-مہر،-خاتون-سائنسدانوں-کی-ہوئی-تعریف

مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں آج کچھ اہم فیصلے لیے گئے جس میں ہر سال 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ منایا جانا بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر کھیل و اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے میڈیا کو تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’’آج پورا ملک چندریان-3 مشن کی کامیابی کا جشن منا رہا ہے۔ چندریان-3 کی کامایبی کو دیکھتے ہوئے کابینہ نے ہر سال 23 اگست کو نیشنل اسپیس ڈے کی شکل میں منانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’رووَر پرگیان کے ذریعہ ہمیں جو جانکاری مل رہی ہے اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔ ہمیں فخر ہے کہ چندریان-3 کی کامیابی میں خاتون سائنسدانوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی یہ کامیابی آنے والے وقت میں خواتین کو ترغیب دے گی۔‘‘

انوراگ ٹھاکر نے اس دوران چاند کی سطح پر نشان زد دو پوائنٹس (شیوشکتی اور ترنگا) کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’شیوشکتی اور ترنگا صرف دو نام نہیں ہیں۔ یہ ہزاروں سال پرانی وراثت کو ایک دھاگے میں باندھتی ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے نوجوانوں میں خلائی سائنس کو مزید قریب سے جاننے کی دلچسپی پیدا کی ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہندوستان ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو ضرور شرمندۂ تعبیر کرے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں چاند کے دو پوائنٹس کو ترنگا اور شیو شکتی نام دیا تھا۔ چندریان-2 نے چاند کی سطح پر جہاں کریش لینڈنگ کیا تھا اس مقام کو ’ترنگا پوائنٹ‘ نام دیا گیا ہے اور چندریان-3 نے جس مقام پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کیا ہے اس مقام کو شیوشکتی پوائنٹ نام دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے نام اپنے خطاب میں 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ منائے جانے کا بھی اعلان کیا تھا جسے آج مرکزی کابینہ کی منظوری بھی مل گئی۔