ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 125

بابا امبیڈیکر سے متعلق متنازعہ بیان دینے والے سابق وی ایچ پی لیڈر منین چنئی میں گرفتار

0
بابا-امبیڈیکر-سے-متعلق-متنازعہ-بیان-دینے-والے-سابق-وی-ایچ-پی-لیڈر-منین-چنئی-میں-گرفتار

وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) کے تمل ناڈو یونٹ سے منسلک رہے آر بی وی ایس منین کو چنئی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے آئین کے معمار بی آر امبیڈکر سے متعلق مبینہ طور سے متنازعہ بیان دیا تھا جس کے بعد انھیں چنئی واقع رہائش سے ممبلم پولیس نے علی الصبح 3.30 بجے گرفتار کیا۔

دراصل منین نے امبیڈکر کی ذات کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ’چکیلیار‘ ہیں۔ اس معاملے میں ممبلم پولیس کا کہنا ہے کہ منین پر ایس سی-ایس ٹی ایکٹ سمیت کئی دفعات میں معاملے درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ منین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وی ایچ پی کے سابق لیڈر نے بھیم راؤ امبیڈکر کے خلاف متنازعہ بیان 11 ستمبر کو اپنی ایک ذاتی تقریب میں دیا تھا۔ انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستانی آئین تنہا امبیڈکر نے نہیں بنایا۔ اسے بنانے میں 300 لوگ مصروف تھے جنھوں نے آئین کو مکمل کیا۔ یہ راجندر پرساد کی صدارت میں ہوا۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وی ایچ پی لیڈر منین نے کہا تھا کہ ’’کچھ پاگلوں کو لگتا ہے کہ آئین امبیڈکر نے دیا… ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی عقل گروی رکھ دی ہے۔ سبھی نے اپنی عقل گروی رکھ دی ہے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ امبیڈکر ان کی ذات سے نہیں ہے، تو لوگ ووٹ دینا بند کر دیں گے۔‘‘ انھوں نے تقریب میں موجود لوگوں سے سوال بھی کیا کہ ’’کیا وہ (امبیڈکر) تھروماولون کی ذات سے ہیں؟ مجھے بتائیں… تھروماولون ایک پیریار ہیں۔ امبیڈکر چکلیار ہیں۔ امبیڈکر آپ کی ذات سے کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘

منین نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئین کا مسودہ تیار کرنے کا سہرا راجندر پرساد کو دیا جانا چاہیے، نہ کہ امبیڈکر کو جو صرف اس کمیٹی کے سربراہ تھے۔ سابق وی ایچ پی لیڈر نے کہا تھا کہ ’’وہ جو وہاں صرف ایک کلرک تھا، جس نے ڈرافٹ لکھا، انھیں ٹائپ کیا، انھیں پروف ریڈ کیا، وہ امبیڈکر تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ امبیڈکر کا ایک بھی حصہ آئین میں نہیں ہے؟ امبیڈکر نے کبھی نہیں لکھا کہ انھوں نے اپنی عقل سے آئین کا مسودہ تیار کیا ہے۔‘‘

ہاپوڑ میں لاٹھی چارج کے خلاف وکلا کی ہڑتال جاری، ہائی کورٹ کا اظہار تشویش

0
ہاپوڑ-میں-لاٹھی-چارج-کے-خلاف-وکلا-کی-ہڑتال-جاری،-ہائی-کورٹ-کا-اظہار-تشویش

لکھنؤ: اتر پردیش کی بار کونسل نے 29 اگست کو ہاپوڑ میں وکلاء پر پولیس کے مبینہ لاٹھی چارج کے واقعہ میں ریاستی حکومت کی ‘بے عملی’ کے خلاف اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل کے صدر شیو کشور گوڑ نے کہا کہ ریاست بھر کے وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔ الہ آباد ہائی کورٹ اور اس کی لکھنؤ بنچ کے وکلاء بھی کام سے علیحدہ رہے۔

ریاستی دارالحکومت میں وکلاء کی تمام انجمنوں کے عہدیداروں نے ہاپوڑ واقعہ پر احتجاج کیا اور مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک میٹنگ بھی کی۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ کے اودھ بار ایسوسی ایشن کے صدر آنند منی ترپاٹھی نے کہا، ’’ریاست بھر کے وکلاء ہڑتال پر رہیں گے کیونکہ ریاستی حکومت ہاپوڑ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘‘

ڈسٹرکٹ کورٹ لکھنؤ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری کلدیپ نارائن مشرا نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے وکلاء بھی ہڑتال پر رہیں گے۔

خیال رہے کہ 29 اگست کو پولیس نے ہاپوڑ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کیا تھا جب وہ ایک خاتون وکیل اور ان کے والد کے خلاف بائک پر سوار پولیس اہلکاروں کے ساتھ حادثہ کے بعد ایف آئی آر درج کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

احتجاج کرنے والے وکلاء لاٹھی چارج میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے تبادلے اور وکلاء تحفظ قانون کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ نے وکلاء کی جاری ہڑتال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جو 30 اگست سے چل رہی ہے۔ ہاپوڑ ضلع میں وکلاء پر پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف وکلاء نے ریاست بھر میں کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جیٹ ایئرویز کے بانی نریش گویل 14 دنوں کے لیے عدالتی حراست میں بھیجے گئے

0
جیٹ-ایئرویز-کے-بانی-نریش-گویل-14-دنوں-کے-لیے-عدالتی-حراست-میں-بھیجے-گئے

ایئرلائنز کمپنی جیٹ ایئرویز کے بانی نریش گویل کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کینرا بینک کے 538 کروڑ روپے کے گھوٹالہ سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں ممبئی کی ایک عدالت نے انھیں 14 دنوں کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ انھیں ای ڈی کی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد جمعرات کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ جانچ ایجنسی کے ذریعہ ریمانڈ کا مطالبہ نہیں کیے جانے پر عدالت نے گویل کو عدالتی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ سنایا۔

قابل ذکر ہے کہ ای ڈی نے یکم ستمبر کو طویل پوچھ تاچھ کے بعد منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت نریش گویل کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد انھیں ممبئی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پایا کہ جیٹ ایئرویز کے بانی نریش گویل نے مختلف ٹرسٹوں کی تشکیل کی اور ہیرا پھیری کر ہندوستان سے بیرون ممالک میں پیسہ بھیجا، پھر اس پیسے سے ملکیتیں خریدیں۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ کی خصوصی عدالت سے کہا کہ ہیرا پھیری والی بیشتر رقم بیرون ملکی اکاؤنٹس میں رکھی گئی ہیں۔

اس معاملے میں ہندوستانی کی سرکردہ پرائیویٹ ایئرلائن چلا چکے صنعت کار نریش گویل نے دعویٰ کیا کہ ہوابازی شعبہ بینک قرض کی طاقت پر ہی چلتا ہے اور پوری رقم کو منی لانڈرنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزم کے بیانات سے پہلی نظر میں اشارہ ملتا ہے کہ انھوں نے ملک و بیرون ملک میں اپنے سبھی بینک اکاؤنٹس اور منقولہ و غیر منقولہ ملکیتوں کی تفصیل دینے سے بچنے کی کوشش کی۔

حکومت دعوے کر رہے ہی کہ ملی ٹنسی ختم ہو گئی لیکن ہر روز انکاؤنٹر ہو رہے ہیں، جوانوں کی شہادت کے بعد فاروق عبداللہ کا بیان

0
حکومت-دعوے-کر-رہے-ہی-کہ-ملی-ٹنسی-ختم-ہو-گئی-لیکن-ہر-روز-انکاؤنٹر-ہو-رہے-ہیں،-جوانوں-کی-شہادت-کے-بعد-فاروق-عبداللہ-کا-بیان

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت وقت سے یہ بربادی چل رہی ہے اور مجھے اس کا خاتمہ کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دو ممالک آپس میں بات چیت نہیں کریں گے تب تک قیام امن ممکن نہیں ہے۔

موصوف نیشنل کانفرنس صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو ہمہامہ میں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا جہاں وہ کوکرناگ انکائونٹر میں جاں بحق ہونے والے ڈی ایس پی ہمایوں بٹ کی رہائش گاہ پر تعزیت پرسی کے لئے آئے تھے۔

انہوں نے کہا ’’فوجی کرنل، میجر اور ڈی ایس پی کی زندگیوں کا ضیاع بہت بڑا صدمہ ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ بربادی کافی وقت سے ہو رہی ہے لیکن مجھے اس کا خاتمہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا ’’حکومت زور و شور سے کہہ رہی ہے کہ ملی ٹنسی ختم ہوئی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے کیونکہ روز یہاں کبھی راجوری میں کبھی کہیں دوسری جگہ انکائونٹر ہو رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب تک دو ممالک آپس میں بات چیت نہیں کریں گے تب تک امن قائم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لڑائی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے بلکہ بات چیت سے قیام امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ‘ہندوستان اور پاکستان نے آپ میں اب تک چار جنگیں لڑیں لیکن سر حد اپنی جگہ پر ہی ہیں’۔

موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دو نوں ممالک کو گھمنڈ چھوڑ کر میز پر آنا چاہئے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملی ٹنٹ جس راستے سے بھی آ رہے ہیں لیکن وارد ہو رہے ہیں بلکہ تربیت ملی ٹنٹ آ رہے ہیں۔

بہار: اسکولی بچوں سے بھری کشتی دریا میں غرقآب، 20 کو بچا لیا گیا، 10 لاپتہ

0
بہار:-اسکولی-بچوں-سے-بھری-کشتی-دریا-میں-غرقآب،-20-کو-بچا-لیا-گیا،-10-لاپتہ

مظفر پور: بہار کے مظفر پور میں جمعرات (14 ستمبر) کی صبح اسکولی بچوں سے بھری کشتی باگمتی ندی میں ڈوب گئی۔ مقامی لوگوں کی مدد سے 20 کے قریب بچوں کو باہر نکالا گیا ہے، جن میں سے کچھ نے تیر کر اپنی جان بچائی۔ جبکہ تقریباً 10 بچے اب بھی لاپتہ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کشتی میں 30 کے قریب بچے سوار تھے۔ تاہم ابھی تک کوئی بھی واضح اعداد و شمار کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بینی آباد او پی علاقہ کے مدھور پٹی گھاٹ کے قریب پیش آیا۔ لاپتہ بچوں کی تلاش جاری ہے۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے۔ مقامی غوطہ خور بھی بچوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کشتی پر کچھ خواتین بھی سوار تھیں، تاہم ابھی تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ واقعے کے حوالے سے ملاح نے بتایا کہ وہ کشتی پر لوگوں کو لا رہا تھا کہ اچانک رسی ٹوٹنے سے یہ واقعہ پیش آیا۔ ملاح کے مطابق جہاز میں تقریباً 30 افراد سوار تھے۔ اس نے کہا کہ اب بھی کئی لوگ لاپتہ ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق کشتی پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے دوبی ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے ڈی ایس پی ایسٹ شہریار اختر کا کہنا تھا کہ ’’پورے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کشتی میں تقریباً 25 سے 30 افراد سوار تھے۔ کشتی پر کتنے افراد سوار تھے یہ سب کے گھر والوں کے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔ تقریباً 20 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔‘‘‘

مقامی لوگوں نے بتایا کہ کشتی پر نویں اور دسویں جماعت کے بچے سوار تھے۔ بچوں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ بتایا گیا کہ اس طرف سے دوسری طرف جانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ کشتی ہی سہارا ہے۔ واقعہ کے بعد موقع پر کہرام مچ گیا۔ بتایا گیا کہ کشتی کے ذریعے سفر کرنا شارٹ کٹ راستہ ہے، اس لیے لوگ زیادہ تر کشتی سے سفر کرتے ہیں۔

اس واقعہ پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ ڈی ایم کو اس کی جانچ کرنے کو کہا گیا ہے۔ جو بھی خاندان اس واقعے سے متاثر ہوا ہے اس کی مدد کی جائے گی۔ خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار مظفر پور گئے ہوئے تھے۔ انہیں یہاں وااقع ایس کے ایم سی ایچ میں نو تعمیر شدہ پیکو وارڈ کا افتتاح ہونا تھا۔

لیبیا میں سیلاب سے تباہی، ہلاک شدگان کی تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ!

0
لیبیا-میں-سیلاب-سے-تباہی،-ہلاک-شدگان-کی-تعداد-20-ہزار-تک-پہنچنے-کا-خدشہ!

طرابلس: شمالی افریقہ کے ملک مشرقی لیبیا میں ایک طاقتور طوفان کی وجہ سے آنے والی شدید بارش کے باعث سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6000 ہو گئی ہے، جبکہ سات ہزار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کےمطابق لیبیا میں سمندری طوفان کے بعد آنے والے سیلاب نے بربادی مچا دی، درنا شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ تباہی دیکھ کر اندازہ ہے کہ ہلاکتیں 20 ہزار سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔ شہر کے اندر اور ساحل پر لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ لیبیا کی حکومت نے سمندری طوفان کے بعد شمال مشرقی ساحلوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ عالمی تنظیموں سے امداد کی اپیل بھی کر دی۔

ایک رپورٹ کے مطابق شہر درنا کا چوتھائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے۔ طرابلس میں قائم ہنگامی خدمات کے ترجمان اسامہ علی نے کہا کہ ابھی تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے اور متاثرہ علاقوں سے 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

علی نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو بنیادی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اتوار کو مشرقی لیبیا سے ٹکرانے والے بحیرہ روم کے طوفان کی وجہ سے کئی علاقے سیلاب کی زد میں آ گئے تھے۔ اس سے جان و مال کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

بی جے پی نے ارکان پارلیمنٹ کے لیے جاری کیا وہپ، خصوصی اجلاس میں شرکت کی ہدایت

0
بی-جے-پی-نے-ارکان-پارلیمنٹ-کے-لیے-جاری-کیا-وہپ،-خصوصی-اجلاس-میں-شرکت-کی-ہدایت

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے 18 ستمبر سے شروع ہونے والے خصوصی اجلاس کے حوالے سے بی جے پی نے اپنے تمام لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکان پارلیمنٹ کو وہپ جاری کیا ہے اور انہیں خصوصی اجلاس کے دوران ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔ 18 سے 22 ستمبر تک ہونے والے پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس میں 5 نشستیں ہوں گی۔

بی جے پی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اپنے تمام ارکان پارلیمنٹ کو الگ الگ تین سطری وہپ جاری کیا ہے، جس میں انہیں خصوصی اجلاس کے دوران تمام دنوں ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایوان کی کارروائی کے دوران پانچوں 18 سے 22 ستمبر تک تمام ارکان پارلیمنٹ لازمی طور پر دن بھر ایوان میں موجود رہیں اور حکومت کے موقف کی حمایت کریں۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے جا رہے سوالات کے درمیان حکومت نے بدھ کو ایجنڈا صاف کر دیا۔ پارلیمنٹ کے آئندہ خصوصی اجلاس کے دوران آئین ساز اسمبلی سے آج تک کی آزادی کے 75 سال کی کامیابیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ 75 سال کے سفر پر بحث کے ساتھ چار اہم بل بھی خصوصی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ تاہم، عام طور پر یہ ایک عارضی ایجنڈا ہے اور حکومت اس میں کوئی نیا ایجنڈا شامل کر سکتی ہے یا سیشن کے دوران بھی ان میں سے کسی کو ہٹا بھی سکتی ہے۔

آسام میں تعدد ازدواج پر پابندی کا معاملہ، گورنر نے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی

0
آسام-میں-تعدد-ازدواج-پر-پابندی-کا-معاملہ،-گورنر-نے-5-رکنی-کمیٹی-تشکیل-دی

گوہاٹی: تعدد ازدواج پر پابندی کے لیے مناسب قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کے مقصد سے آسام کے گورنر گلاب چند کٹاریا نے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی غلط شناخت کی وجہ سے ہونے والی بین المذاہب شادیوں، بچوں کی شادیوں میں قاضی کا کردار جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی قانون سازی میں تجاویز پیش کرے گی۔

پانچ رکنی کمیٹی میں دیوجیت سائکیا، ایڈوکیٹ جنرل آسام آئی جی سنگھ، ڈی جی پی آسام نلین کوہلی اور ایڈیشنل اے جی آسام شامل ہیں۔ کمیٹی اس موضوع سے متعلق مختلف امور پر تجاویز طلب کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اس کی مخالفت میں دائر کی گئی زیر التواء درخواستوں کا مطالعہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کے ارکان بذات خود ان والوں سے ملاقات کریں گے اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کے خیالات جاننے کے لیے لا کمیشن سے بھی ملاقات کریں گے۔ کمیٹی 45 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ آسام میں تعدد ازدواج پر پابندی کے مجوزہ بل کے لیے تقریباً 150 تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن میں سے صرف تین میں اس کی مخالفت کی گئی ہے۔ حال ہی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ مجوزہ قانون کا حتمی مسودہ اب شروع ہو گا اور اگلے 45 دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ آسام حکومت نے 21 اگست کو ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں متنازعہ موضوع پر مجوزہ قانون پر عوام کی رائے طلب کی گئی تھی۔ سرما کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے نوٹس میں لوگوں سے 30 اگست تک ای میل یا پوسٹ کے ذریعے اپنی رائے بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔

آسام حکومت نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی حمایت میں ہے اور ریاست میں تعدد ازدواج پر فوری پابندی لگانا چاہتی ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس سے قبل تعدد ازدواج پر قانون بنانے کے حکومتی فیصلے پر تنقید کی تھی۔

اننت ناگ انکاؤنٹر: آپریشن کے دوسرے روز تازہ فائرنگ کا تبادلہ

0
اننت-ناگ-انکاؤنٹر:-آپریشن-کے-دوسرے-روز-تازہ-فائرنگ-کا-تبادلہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ علاقے میں جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تازہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ بتادیں کہ اس علاقے میں بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ، کرنل اور میجر سمیت تین اعلیٰ آفیسران جاں بحق ہوئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ انکائوںٹر کے مقام پر رات کی خاموشی کے بعد سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تازہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو اندھیرے کے پیش نظر آپریشن معطل کر دیا گیا تھا اور جمعرات کی صبح اضافی فورسز کو طلب کرکے آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا اور پھنسے ہوئے ملی ٹنٹوں کے فرار ہونے کے تمام راستوں کو مسدود کر دیا گیا۔

قبل ازیں کشمیر زون پولیس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کرنل منپریت سنگھ،میجر آشیش دھونک اور ڈی ایس پی ہمایوں بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان افسروں نے غیر متزلزل بہادری کا مظاہرہ کرکے اس آپریشن کے دوران سب سے آگے لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

ٹویٹ میں کہا گیا: ‘ہماری افواج غیر متزلزل عزم کے ساتھ قائم ہے انہوں نے عزیز خان سمیت لشکر طیبہ کے 2 دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا ہے’۔ معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلی علاقے میں محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر فوج کی خصوصی ونگ’مونٹین بریگیڈ‘ جنہیں پہاڑوں پر چڑھنے کی مہارت حاصل ہے کو طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فوج، پولیس ، سی آر پی ایف کی اضافی نفری نے جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر مکمل طورپر پابندی عائد کی ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس فوج اور پولیس کی خصوصی ٹیمیں جنگلی علاقے میں خیمہ زن ہے۔

مدارسوں میں سنسکرت کی پڑھائی! چیئرمین اتراکھنڈ وقف بورڈ کے بیان پر تنازعہ، کانگریس نے اٹھائے سوال

0
مدارسوں-میں-سنسکرت-کی-پڑھائی!-چیئرمین-اتراکھنڈ-وقف-بورڈ-کے-بیان-پر-تنازعہ،-کانگریس-نے-اٹھائے-سوال

دہرادون: اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس کے اس بیان پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کہ اب ریاست کے مدرسوں سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ ایک طرف جہاں مدرسہ ایسوسی ایشن نے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی ہے وہیں کانگریس نے بھی اس سوال اٹھائے ہیں۔

خیال رہے کہ اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریاست کو ’دیوبھومی‘ قرار دیا جاتا ہے، اس لیے اب یہاں کے مدرسوں میں عربی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مدرسوں میں این سی ای آر ٹی کا نصاب نافذ کیا جائے گا اور ایسا مدرسوں کو جدید بنانے کی غرض سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سے تمام ردعمل سامنے آنے لگے۔

اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کرن ماہرا نے شاداب شمس کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کو سنبھالنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کرن ماہرا نے پوچھا کہ حکومت آخر مدرسوں میں سنسکرت کے ٹیچرز کہاں سے لائے گی؟

انہوں نے کہا کہ جو حکومت ریاست کے سرکاری اسکولوں کے لیے ضرورت کے مطابق اساتذہ کی تقرری نہیں کر پا رہی وہ بھلا مدرسوں کے لیے سنکرت ٹیچرز کس طرح دستیاب کرا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کھوکھلی بیان بازی کے بجائے حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ کرن ماہرا نے شاداب شمس کو بی جے پی کا چاپلوس قرار دیا اور کہا کہ وہ بی جے پی لیڈران کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کے بیان دیتے ہیں۔

دریں اثنا، اتراکھنڈ مدرسہ ایسوسی ایشن کے سکریٹری شاہ نظر نے حکومت پر مدرسوں کے ساتھ سوتیلا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مدرسے کی ڈگری کو تسلیم نہیں کرتی، لہذا سنسکرت پڑھائی جائے یا فارسی کوئی فرق نہیں پڑے گا! انہوں نے کہا کہ مدرسہ ٹیچروں کو آج تک تنخوان نہیں ملی ہے، ایسے حالات میں حکومت سنسکرت پڑھاکر کون سا تیر مار لے گی۔