ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 123

یوپی: لوک سبھا انتخاب سے قبل بی جے پی میں زبردست پھیر بدل، اچانک 69 ضلعی صدور تبدیل

0
یوپی:-لوک-سبھا-انتخاب-سے-قبل-بی-جے-پی-میں-زبردست-پھیر-بدل،-اچانک-69-ضلعی-صدور-تبدیل

لوک سبھا انتخاب میں اب چند ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اس سے قبل مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن پارٹیاں خود کو مضبوط بنانے کے لیے لگاتار کوششیں کر رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوشش عوام سے جڑنے کی ہو رہی ہے۔ اس درمیان اتر پردیش میں بی جے پی نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اتر پردیش بی جے پی نے تنظیمی سطح پر بڑے پھیر بدل کا اعلان کیا ہے۔

دراصل بی جے پی میں طویل مدت سے تنظیمی سطح پر رد و بدل کے لیے چہ می گوئیاں چل رہی تھیں، اور اچانک جمعہ کو اس سلسلے مین اعلان کر دیا گیا۔ بی جے پی نے تنظیمی سطح پر 98 ضلعوں میں نئے ضلعی صدور کی تقرری کی ہے جن میں 69 ضلعی صدور نئے ہیں۔ یعنی 29 پرانے ضلعی صدور پر ہی بی جے پی نے داؤ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا انتخاب کے مدنظر سماجی اور علاقائی توازن بناتے ہوئے یہ تقرریاں کی گئی ہیں۔ حالانکہ ضلعی صدور کی فہرست دیکھ کر اس بات کا ضرور پتہ چلتا ہے کہ اس میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے۔ محض 5 خواتین کو ہی ضلعی صدر بنایا گیا ہے۔

لوک سبھا انتخاب سے ٹھیک پہلے ہوئے اس تنظیمی پھیر بدل میں صاف طور پر انتخابی تیاری دیکھی جا سکتی ہے۔ پارٹی نے تنظیم میں سرگرم کردار نبھا رہے لیڈروں پر داؤ لگایا ہے۔ اس پھیر بدل میں سوشل انجینئرنگ کی جھلک بھی صاف دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پارٹی نے اس پھیر بدل میں نسلی اور سماجی ایکویشن پر نظر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کو عہدہ سے ہٹایا گیا ہے جن کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کچھ مہینے بعد ہونے جا رہے لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ تقسیم کے ایکویشن کو دیکھتے ہوئے بھی ان چہروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ: منیش سسودیا کی عبوری ضمانت کی درخواست، سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی

0
سپریم-کورٹ:-منیش-سسودیا-کی-عبوری-ضمانت-کی-درخواست،-سماعت-4-اکتوبر-تک-ملتوی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں جیل میں بند دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ جسٹس سنجیو کھنہ اور ایس وی این بھٹی کی بنچ نے کہا کہ سماعت کی تاریخ کا فیصلہ آج (جمعہ) یا کسی اور دن کیا جائے گا۔

سسودیا کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے التجا کی ’’اگر معاملہ 4 اکتوبر کو لیا جاتا ہے، تو اس سے سماعت کے لیے کافی وقت مل جائے گا۔‘‘ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو سپریم کورٹ میں مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے پیش ہوئے۔

سسودیا نے اپنی بیمار بیوی سیما سے ملنے اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی حالت سے متعلق میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کے لیے ’انسانی بنیادوں پر‘ عبوری ضمانت کی درخواست دی ہے۔ اگست کو سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت پر کوئی ہدایت دینے سے انکار کر دیا تھا اور عبوری ریلیف اور باقاعدہ ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے لیے کیس کو 4 ستمبر کو دوبارہ درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اس سال جولائی میں نوٹس جاری کر کے عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر کی طرف سے سی بی آئی اور ای ڈی کے مقدمات میں ضمانت دینے سے انکار کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر تحقیقاتی ایجنسیوں سے جواب طلب کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے 3 جولائی کو منیش سسودیا کو یہ کہتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا کہ وہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت ضمانت دینے کے لیے دو شرائط اور ٹرپل ٹیسٹ کو پورا نہیں کرتے ہیں۔

ای ڈی کی طرف سے 7 جولائی کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے دہلی شراب پالیسی کیس میں منیش سسودیا، ان کی بیوی اور کچھ دیگر ملزمین کے 52.24 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔ سی بی آئی نے اس سال 26 فروری کو گرفتار کیے جانے کے بعد سسودیا کو ای ڈی نے 9 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔

اعظم خان کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی جاری، رہائش گاہ پر حفاظت کے پختہ انتظامات

0
اعظم-خان-کے-خلاف-محکمہ-انکم-ٹیکس-کی-کارروائی-جاری،-رہائش-گاہ-پر-حفاظت-کے-پختہ-انتظامات

رام پور: سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر اعظم خان کے گھر پر محکمہ انکم ٹیکس کا چھاپہ جمعہ کو بھی جاری ہے۔ اس دوران ان کے گھر پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

محکمہ نے جمعہ کو ٹیکس چوری کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر اعظم خان کے خلاف ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کارروائی جاری رکھی۔ اعظم خان کے گھر اور جوہر یونیورسٹی میں بھی سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ انکم ٹیکس حکام اندر تلاشی مہم چلا رہے ہیں۔

ٹیم ہمسفر ریزورٹ سے لے کر ایس بی آئی تک کارروائی کر رہی ہے۔ ٹیکس چوری کے الزامات میں گھرے اعظم خان پر انکم ٹیکس نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اعظم خان کے مقام پر پہنچنے والی ٹیم میں تقریباً 4 درجن لوگ شامل ہیں۔ اس آپریشن کی رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے انکم ٹیکس کی ٹیم ایس ایس بی کے اہلکاروں کو ساتھ لے کر آئی ہے۔ ٹیمیں اپنے اپنے مقامات پر پہنچیں تو مقامی پولیس اور انتظامیہ کو اطلاع دی گئی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انکم ٹیکس حکام نے جمعہ کو بھی اعظم خان کے گھر کی تلاشی جاری رکھی۔ فورس اہلکاروں کے ساتھ مقامی پولیس بھی گھر کے باہر تعینات تھی۔ ٹیم جوہر یونیورسٹی میں اکاؤنٹنٹ کے گھر بھی پہنچی اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جوہر یونیورسٹی کے ساتھ اعظم خان کے ہمسفر ریزورٹ میں بھی ٹیمیں دن بھر چھان بین کرتی رہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے ایس پی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو متنازع تقریر کرنے کے ایک دیگر معاملے میں مجرم قرار دیا تھا۔ یہ معاملہ سال 2019 میں ملک کوتوالی علاقے کے کھٹا نگریہ گاؤں میں ایک جلسہ عام میں دیے گئے خان کے خطاب سے متعلق تھا۔ اس کیس میں انہیں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ رام پور سے 10 بار ایم ایل اے رہ چکے اعظم خان کو سزا سنائے جانے کے بعد یوپی اسمبلی کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

دہلی میں ٹھنڈی ہواؤں اور بارش کی بوچھار سے موسم خوشگوار

0
دہلی-میں-ٹھنڈی-ہواؤں-اور-بارش-کی-بوچھار-سے-موسم-خوشگوار

نئی دہلی: دہلی اور قومی راجدھانی خطہ میں جمعہ کی صبح سے چل رہی ٹھنڈی ہوائیں اور اس کے بعد شروع ہونے والی رم جھم بارش نے گرمی سے پریشان لوگوں کو راحت فراہم کی ہے۔

گزشتہ دو دنوں سے لوگ بے موسمی گرمی کی زد میں تھے۔آج صبح موسم نے کروٹ بدلی اور قومی راجدھانی اور آس پاس کے علاقوں میں اندھیرا چھا گیا۔ چند لمحوں بعد تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ رم جھم بارش کے دوران لوگ چھتری اور رین کوٹ پہنے اپنے روزمرہ کے معمولات پر جاتے ہوئے نظر آئے۔

محکمہ موسمیات نے آج دن بھر موسم ابر آلود رہنے اور بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز تک مطلع ابر آلود رہے گا اور بوندا باندی کی وجہ سے درجہ حرارت میں زیادہ اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ اور کم از کم درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

شاہی عیدگاہ تنازعہ: مسلم فریق کی عرضی پر سپریم کورٹ میں آج ہوگی سماعت

0
شاہی-عیدگاہ-تنازعہ:-مسلم-فریق-کی-عرضی-پر-سپریم-کورٹ-میں-آج-ہوگی-سماعت

متھرا: سپریم کورٹ میں آج متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد معاملہ میں مسلم فریق کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر سماعت کی جائے گی۔ مسلم فریق نے درخواست کی ہے کہ جن معاملوں کو ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے ان کی سماعت متھرا کی عدالت میں کی جائے۔

خیال رہے کہ شاہی عیدگاہ کمیٹی نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ میں ایس ایل پی دائر کی ہے، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے شاہی عیدگاہ مسجد سے متعلق تمام مقدمات، جنہیں سماعت کے لیے ہائی کورٹ منتقل کیا گیا ہے، کی سماعت متھرا کی عدالت میں کی جائے۔ سپریم کورٹ جمعہ یعنی آج مسلم فریق کی طرف سے دائر ایس ایل پی پر سماعت کرنے جا رہا ہے۔

ہندو فریق بھی مسلم فریق کی طرف سے دائر ایس ایل پی پر سپریم کورٹ میں اپنا کیس پیش کرے گا۔ ہندو فریق چاہتا ہے کہ تمام مقدمات کی سماعت صرف ہائی کورٹ میں ہو۔ شری کرشنا جنم بھومی مکتی نیاس کے چیئرمین مہندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ ہائی کورٹ میں سماعت جاری رکھنے کے لیے ہندو فریق مسلم فریق کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ ایس ایل پی پر اعتراض کرے گا۔

متھرا سول کورٹ میں ہندو تنظیموں اور لوگوں کی درج کرائے گئے 12 سے زیادہ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ عرضی داخل کرتے ہوئے شری کرشنا ویراجمان نے تمام مقدمات کی سماعت متھرا سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، اس درخواست کو ہائی کورٹ نے قبول کر لیا تھا۔

میوات: رکن اسمبلی مامن خان کی گرفتاری کے بعد نوح میں دفعہ 144 نافذ، نماز جمعہ گھر پر ادا کرنے کی اپیل

0
میوات:-رکن-اسمبلی-مامن-خان-کی-گرفتاری-کے-بعد-نوح-میں-دفعہ-144-نافذ،-نماز-جمعہ-گھر-پر-ادا-کرنے-کی-اپیل

نوح (میوات): ہریانہ پولیس نے گزشتہ روز کانگریس کے رکن اسمبلی مامن خان کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد نوح میں ایک بار پھر کشیدگی نظر آ رہی ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے 16 ستمبر تک انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی اور پورے ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ اس کے علاوہ مسلم کمیونٹی سے جمعہ کی نماز گھر پر ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نوح نے اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہریانہ حکومت نے دو دن کے لیے موبائل انٹرنیٹ اور بلک ایس ایم ایس پر پابندی لگا دی ہے۔

خیال رہے کہ مامن خان کو جمعرات کی رات راجستھان کے اجمیر سے نوح میں مبینہ طور پر تشدد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رکن اسمبلہی وائرل بخار کی وجہ سے پولیس تحقیقات میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ مامن کو نوح عدالت میں پیش کرنے سے قبل شہر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

نوح میں 31 جولائی کو برج منڈل یاترا کے دوراوون بھڑکے تشدد کے بعد گروگرام تک فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ تشدد میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ کو کئی روز تک بند کرنا پڑا تھا اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ پہلے مونو مانیسر اور اب مامن خان کی گرفتاری کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

نوح میں 31 جولائی کو ہونے والے تشدد کے بعد فیروز پور جھرکہ کے رکن اسمبلی مامن خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ مامن نے منگل کو گرفتاری سے تحفظ کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور دعویٰ کیا کہ انہیں اس کیس میں پھنسایا جا رہا ہے جبکہ تشدد کے دن وہ نوح میں نہیں تھے۔

کیرالہ میں نپاہ  وائرس کا خوف

0
کیرالہ-میں-نپاہ -وائرس-کا-خوف

آج کیرالہ کے کوزی کوڈ میں نپاہ وائرس کا ایک اور نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک 39 سالہ شخص اس خطرناک وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔ فی الحال متاثرہ شخص کو اسپتال میں زیر نگرانی وارڈمیں رکھا گیا ہے۔ یہ نپاہ وائرس کا پانچواں اور تازہ ترین کیس ہے جس کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔ اس شخص کے علاوہ ایک نو سالہ بچہ بھی وائرس سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہے جس کی حالت تشویشناک معلوم ہوتی ہے۔

کوزی کوڈ میں سامنے آنے والے نپاہ وائرس کے حوالے سے انتظامیہ الرٹ موڈ میں آگئی ہے۔ کووڈ کے وقت کی طرح نو پنچایتوں میں کنٹینمنٹ زون بنائے گئے ہیں۔ اس وائرس کی وجہ سے دو افراد کی موت بھی ہوئی ہے جو دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے اور انسیفلائٹس کا سبب بنتا ہے۔ اہلکار یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا نپاہ کے مزید کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

کیرالہ کے کوزی کوڈ کا علاقہ جہاں نپاہ وائرس کی وجہ سے دو لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ پانچ کلومیٹر کے دائرے میں کنٹینمنٹ زون بنائے گئے ہیں۔نپاہ وائرس کی وجہ سے کوزی کوڈ میں تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی طرف سے 11 نمونے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، پونے میں جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان میں سے کسی میں بھی نپاہ وائرس نہیں پایا گیا ہے۔

نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول، آر ایم ایل ہسپتال اور نمہانس  کے ماہرین کی پانچ رکنی ٹیم کیرالہ بھیجی گئی ہے۔ ان کا کام نپاہ سے نمٹنے میں ریاست کی مدد کرنا ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے کیرالہ حکومت کی درخواست پر مونوکلونل اینٹی باڈیز بھیجی ہیں، تاکہ خطرناک نپاہ وائرس سے لڑا جا سکے۔حکومت کے پاس نپاہ وائرس کے علاج کے لیے واحد آپشن مونوکلونل اینٹی باڈی ہے۔ تاہم، اس کی تاثیر ابھی تک طبی طور پر ثابت نہیں ہوئی ہے۔

اداروں کا گلا گھونٹ کر جمہوریت پر منظم حملہ کیا گیا: ملکارجن کھڑگے

0
اداروں-کا-گلا-گھونٹ-کر-جمہوریت-پر-منظم-حملہ-کیا-گیا:-ملکارجن-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے عالمی یوم جمہوریت پر کہا کہ حالیہ دنوں میں ہمارے آئین بنانے والوں کی محنت سے بنائے گئے اداروں کا گلا گھونٹ کر جمہوریت پر منظم حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی جمہوریت کے اخلاق کے تحفظ کا عہد کریں۔

کھڑگے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں، پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی سطروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’جمہوریت کا مطلب ہے رواداری، نہ صرف ان لوگوں کے لیے جو ہم سے متفق ہیں، بلکہ ان کے لیے بھی جو ہم سے متفق نہیں ہیں۔‘‘

بی جے پی کا نام لیے بغیر اس پر طنز کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا، ’’لوگوں کی مرضی اور ادارے، یہ جمہوریت کے پیدا ہونے اور اس کے پھلنے پھولنے میں مدد کرتے ہی۔ حالیہ دنوں میں، ہمارے اداروں کا گلا گھونٹ کر جمہوریت پر ایک منظم حملہ کیا گیا، جسے ہمارے آئین کے معماروں نے بڑی محنت سے بنایا ہے۔‘‘

راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف نے کہا، ’’عالمی یوم جمہوریت پر آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اپنے آزاد اداروں میں موجود پارلیمانی جمہوریت کے اخلاق کی حفاظت کریں گے۔‘‘

ان کا یہ بیان 18 سے 22 ستمبر تک پارلیمنٹ کے پانچ روزہ خصوصی اجلاس سے پہلے سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے پہلے اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔

دہلی فسادات معاملہ: ملزمان نے الزامات پر بحث سے پہلے دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی

0
دہلی-فسادات-معاملہ:-ملزمان-نے-الزامات-پر-بحث-سے-پہلے-دہلی-پولیس-سے-وضاحت-طلب-کی

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی کے 2020 کے فسادات کے پیچھے ایک بڑی سازش کے الزامات کے معاملہ میں ملزمان دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال اور آصف اقبال تنہا نے دہلی پولیس سے اپنی تحقیقات کی حیثیت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے یہ ہدایت مانگی ہے کہ الزامات طے کرنے پر بحث شروع ہونے سے پہلے پولیس کو یہ واضح کرنے کی ہدایت کی جائے کہ تحقیقات کب مکمل ہوں گی۔

تنہا نے خاص طور پر تفتیش کے لیے وقت مقرر کرنے کی درخواست کی۔ صفورا زرگر، شرجیل امام اور میران حیدر سمیت دیگر شریک ملزمان بھی اسی طرح کی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 18 ستمبر کو ہے۔ 5 اگست کو عدالت نے کہا تھا کہ وہ 11 ستمبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کرے گی۔

تاہم، 11 ستمبر کو کالیتا کی طرف سے پیش وکیل ادیت پجاری نے الزامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ادھر ادھر کی باتیں کر رہا ہے اور اب بھی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ کیس کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

ککڑڈومہ عدالت کے خصوصی جج امیتابھ راوت کے سامنے پیش ہوتے ہوئے تنہا کی نمائندگی کرنے والے وکیل سومیا شنکرن نے کہا تھا کہ کیس کو آگے چلانے سے پہلے استغاثہ کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کی تحقیقات مکمل ہیں اور اس کیس میں کسی کوئی اور ضمنی چارج شیٹ داخل نہیں کی جائے گی۔

تاہم، ان دلائل کی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امت پرساد نے مخالفت کی، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک حربہ ہے جو ملزمان، جو کہ ضمانت پر ہیں، ان ملزمان کے فائدے کے لیے جو حراست میں ہیں کیونکہ وہ ہائی کورٹ کے سامنے مقدمہ میں تاخیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسے ریکارڈ پر لیا جائے، کیونکہ یہ کل کی عکاسی نہیں کرنا چاہیے کہ انہوں نے دلائل کا آغاز نہیں کیا اور دلیل دی کہ وہ پہلے ہی روزمرہ کی سماعت کی مخالفت کر سکتے تھے اور مناسب درخواست دائر کر سکتے تھے۔ عدالت نے پھر حکم دیا: "استغاثہ کو پیشگی کاپی کے ساتھ تفصیلی بیورہ پیش کریں۔”

اس کیس کی کارروائی ستمبر 2020 میں پہلی چارج شیٹ داخل کرنے کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد سے دہلی پولیس نے اس معاملے میں کل چار چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ چارج شیٹ 16 ستمبر 2020 کو پیش کی گئی، اس کے بعد 22 نومبر 2020، 24 فروری 2021 اور 2 مارچ 2022 کو ضمنی چارج شیٹ پیش کی گئیں۔

حکومت سے بات چیت کے بعد یوپی میں وکلاء کی ہڑتال ختم

0
حکومت-سے-بات-چیت-کے-بعد-یوپی-میں-وکلاء-کی-ہڑتال-ختم

لکھنؤ: اتر پردیش کی بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کے ساتھ کامیاب بات چیت کے بعد وکلاء کی ریاست گیر ہڑتال کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی 15 دن سے جاری احتجاج ختم ہو گیا ہے۔ 30 اگست کو پورے اترپردیش کے وکلاء نے ہاپوڑ میں وکلاء پر پولیس کے مبینہ لاٹھی چارج کے بعد ہڑتال شروع کر دی تھی۔

چیف سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احتجاج کے دوران وکلاء کے خلاف درج تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ اتر پردیش بار کونسل کے چیئرمین شیو کشور گوڑ نے کہا، ’’چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کے ساتھ بات چیت بہت مثبت رہی‘‘۔

گوڑ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وکالت کے تحفظ کے قوانین سے متعلق معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں حکومت اور بار کونسل دونوں کے نمائندے شامل ہوں گے اور اس طرح کے قانون کی تجویز کو مقررہ مدت میں پاس کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔

گوڑ نے کہا کہ ہاپوڑ میں قصوروار پولیس افسران کی معطلی اور تبادلے کا ان کا مطالبہ حکومت نے قبول کر لیا ہے۔ ہڑتال کو ختم کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "حکومت نے قصوروار پولیس افسران کی معطلی اور ہاپوڑ میں اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے کا ہمارا مطالبہ مان لیا ہے۔”

تاہم الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اشوک کمار سنگھ کو ہڑتال ختم ہونے کی خبر نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمعہ کی صبح ہونے والے اجلاس میں بار کونسل کی اس اپڈیٹ پر بات کریں گے اور پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔