ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 109

خاتون ریزرویشن بل کے نفاذ میں مردم شماری اور حد بندی کی شرط کو ختم کیا جائے، راہل گاندھی کا حکومت سے مطالبہ

0
خاتون-ریزرویشن-بل-کے-نفاذ-میں-مردم-شماری-اور-حد-بندی-کی-شرط-کو-ختم-کیا-جائے،-راہل-گاندھی-کا-حکومت-سے-مطالبہ

نئی دہلی: خاتون ریزرویشن بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کیا جا چکا ہے اور اس پر صدر کے دسخت کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ تاہم اس کے نفاذ کے لیے جو شرط عائد کی گئیں ہیں ان پر کانگریس پارٹی نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت کو خاتون ریزرویشن کے نفاذ میں عائد مردم شماری اور حدبندی کی شرط کو ہٹا دینا چاہئے اور خواتین کو فوری طور پر ریزرویشن فراہم کرنا چاہئے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا ’’کچھ دن پہلے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا اعلان کیا گیا اور بڑی دھوم دھام کے ساتھ پرانی عمارت سے نئی عمارت میں منتقلی کی گئی۔ پہلے تو معلوم نہیں تھا کہ خصوصی اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے بعد میں معلوم چلا کہ یہ خاتون ریزرویشن پر مبنی ہے۔ اب معلوم چلا کہ خاتون ریزرویشن کی دو شرائط ہیں پہلی کہ مردم شماری کرائی جائے اور دوسری حدبندی کرنی پڑے گی اور ان دونوں کاموں میں کئی سال لگیں گے۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کو آج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی میں جو بھی سیٹیں ہیں ان کا 33 فیصد خواتین کو دیا جا سکتا ہے اور یہ یہ کوئی مشکل اور پیچیدہ بات نہیں ہے۔ لیکن حکومت وہ نہیں کرنا چاہتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل آج سے 10 سال بعد ہی نافذ کیا جا سکتا ہے اور یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ نافذ ہوگا بھی یا نہیں!

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت کا حربہ ہے اور لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ یہ سب او بی سی کی مردم شماری سے توجہ ہتانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ میں صرف ایک ادارے کے بارے میں بات کی کو ہندوستان کی حکومت کو چلاتا ہے، کابینہ سکریٹریز اور سکریٹریز۔ اس پر میں نے سوال پوچھا کہ اگر وزیر اعظم بہت کام کر رہے ہیں تو 90 لوگوں میں سے صرف 3 لوگ ہی او بی سی طبقہ سے کیوں ہیں۔ دوسرا سوال پوچھا کہ ہندوستان بھر کا بجٹ کیا ہے اور او بی سی افسران بجٹ میں سے کتنا کٹرول کرتے ہیں۔ او بی سی افسران ہندوستان کے بجٹ کا صرف 5 فیصد کنٹرول کرتے ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’اس کے جواب میں انہوں نے دلچسپ بات کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ لوک سبھا میں ہماری نمائندگی ہے۔ اگر او بی سی آبادی فیصد سے زیادہ ہے تو پھر بجٹ صرف 5 فیصد او بی سی افسرانن ہی کیوں کنٹرول کر رہے ہیں؟ او بی سی کو مجسمہ بنایا گیا ہے لیکن حکومت کو چلانے میں ان کی کوئی شراکت داری نہیں ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کو خاتون ریزرویشن کے دو نکات مردم شماری اور حدبندی کی شرت کو ہٹا دینا چاہئے اور فوری طور پر خواتین کو جو عزت اور شراکت داری ملنی چاہئے وہ دی جانی چاہئے۔ ہم نے جو ذات پر مبنی ڈیٹا نکالا تھا اسے شائع کر دیں تاکہ تمام لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔ وزیر اعظم کو اپنی اگلی تقریر میں یہ بتایا چاہئے کہ ہندوستان کے سب سے ضروری 90 افسران میں سے صرف 3 ہی او بی سے کیوں ہیں؟

میر واعظ عمر فاروق کی نظر بندی ختم، تاریخی جامع مسجد سری نگر میں 4 سال بعد دیں گے جمعہ کا خطبہ

0
میر-واعظ-عمر-فاروق-کی-نظر-بندی-ختم،-تاریخی-جامع-مسجد-سری-نگر-میں-4-سال-بعد-دیں-گے-جمعہ-کا-خطبہ

سری نگر: میر واعظ عمر فاروق چار سال کے وقفے کے بعد آج سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیں گے۔ کشمیر عظمیٰ نے سرکاری ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ انتظامیہ نے یہ فیصلہ مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد لیا ہے۔

میرواعظ کو 4 اگست 2019 کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا جب مرکز نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو منسوخ کر دیا تھا۔ مسجد حکام کا کہنا ہے کہ میرواعظ چار سال تک گھر میں نظربند رہنے کے بعد آج نماز جمعہ میں شرکت کریں گے۔

انجمن اوقاف جامع مسجد نے بتایا کہ سینئر پولیس حکام نے کل میرواعظ کی رہائش گاہ کا دورہ کرکے انہیں بتایا کہ حکام نے انہیں گھر کی نظربندی سے رہا کرنے اور جمعہ کی نماز کے لیے جامع مسجد جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا، “ہمیں حکام کے ذریعہ مطلع کیا گیا ہے کہ میرواعظ عمر فاروق کو آج تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی، اس لیے ہمیں تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے”۔

عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن اوقاف جامع مسجد حکومت پر زور دے رہی تھی کہ عمر فاروق کو گھر میں نظربندی سے رہا کیا جائے اور انہیں اپنے معمول کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کی اجازت دی جائے۔

میر واعظ عمر فاروق آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 5 اگست 2019 سے اپنے شہر کے مضافات میں واقع نگین رہائش گاہ پر نظر بند تھے۔تاہم جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کچھ صحافیوں سے کہا کہ فاروق کو سیکورٹی دی گئی ہے اور وہ جہاں چاہے جانے کے لیے آزاد ہے۔ میر واعظ عمر فاروق اور ان کے حامیوں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔

دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے لیے ووٹنگ جاری، حفاظت کے سخت انتظامات

0
دہلی-یونیورسٹی-طلبہ-یونین-کے-لیے-ووٹنگ-جاری،-حفاظت-کے-سخت-انتظامات

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے صبح 8.30 بجے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ مختلف کالجوں اور شعبہ جات کے طلبہ دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین یعنی ڈی یو ایس یو (ڈوسو) انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں۔ اس بار چار عہدوں کے لیے کل 24 امیدوار میدان میں ہیں۔ ووٹنگ شام 7:30 بجے تک ہوگی اور اس دوران امن برقرار رکھنے کے لیے کافی تعداد میں دہلی پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس الیکشن کے نتائج ہفتہ کو آئیں گے۔

انتخابی افسر کے مطابق دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات میں اس بار صدر کے عہدے کے لیے 8 امیدوار، نائب صدر کے عہدے کے لیے 5، سکریٹری کے عہدے کے لیے 6 اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے لیے 5امیدوار میدان میں ہیں۔ اس بار دہلی یونیورسٹی میں 3 سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل انتخابات 20-2019 میں ہوئے تھے۔

کورونا کی وجہ سے تین سال طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہو سکے۔ طلبہ یونین کے انتخابات میں تین سال کی تاخیر کے باعث انتظامیہ نے امیدواروں کو عمر کی حد میں رعایت دی ہے۔ اس ریلیف کے تحت انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد کو بالترتیب 25 سال اور 28 سال کر دیا گیا ہے۔

کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کی جانب سے صدر کے عہدے کے لیے ہتیش گولیا، نائب صدر کے لیے ابھی دہیا، سکریٹری کے لیے یاکشنا شرما اور جوائنٹ سکریٹری کے لیے شوبھم چودھری انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جبکہ بی جے پی کی طلبہ تنظیم سے صدر کے لیے تشار ڈیڑھا، نائب صدر کے لیے سوشانت دھنکھڑ، سکریٹری کے کے لیے اپراجیتا اور جوائنٹ سکریٹری عہدے کے لئے سچن بینسلا مقابلہ کر رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش: کمل ناتھ کا شیوراج پر حملہ، کہا- ’آپ نے قبائلیوں پر ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں‘

0
مدھیہ-پردیش:-کمل-ناتھ-کا-شیوراج-پر-حملہ،-کہا-’آپ-نے-قبائلیوں-پر-ظلم-کی-تمام-حدیں-پار-کر-دیں‘

بھوپال: کانگریس کی مدھیہ پردیش یونٹ کے ریاستی صدر اور سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے شیوپور کلکٹر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان پر بڑا حملہ کیا اور کہا ہے کہ شیوراج بدعنوانی کی اختراع کا اسکول بن چکے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ایکس پوسٹ میں لکھا ’’شیوراج جی! آپ بدعنوانی میں اختراع کا اسکول بن گئے ہیں۔ آپ نے قبائلیوں پر مظالم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اب تک عوام الزامات لگاتے تھے لیکن اب سرکاری افسران بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔‘‘

شیوپور کلکٹر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا، ’’قبائلی اکثریتی ضلع شیوپور کے کلکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع میں بڑے پیمانے پر باہر کے لوگوں کو غیر قانونی لیز دی گئی ہیں۔ قبائلیوں کے نام پر ہریانہ اور پنجاب کے لوگوں کو زمینیں لیز پر دی گئی ہیں۔ آپ کی پوری حکومتی مشینری اس گھپلے میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا ’’قبائلی برادری آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ نے ان کے حصے کی زمین پر قبضہ کیوں کر لیا؟ جب اتنے عرصے سے لیز کی یہ تقسیم چل رہی تھی تو آپ نے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ خود کلکٹر کے اس گھپلے کا پردہ فاش کرنے کے بعد بھی آپ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ کیا آپ بتائیں گے کہ کمیشن راج حکومت نے لیز گھوٹالہ میں کتنا کمیشن کھایا؟ کیا آپ بتائیں گے کہ یہ لیز کس کو دی گئیں اور ان کا بی جے پی سے کیا تعلق ہے؟‘‘

انہوں نے بی جے پی کی جن آشیرواد یاترا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی ‘جن آشیرواد یاترا’ جتنا آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے، ایم پی میں بی جے پی کی شکست کا خوف دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر بی جے پی کے مقامی کارکنان جو دری جھاڑتے، بچھاتے اور اٹھاتے ہیں، ان کے پاس اگر تھوڑی سی قوت ارادی، حتیٰ کہ تھوڑی سی طاقت بھی ہے، تو وہ بی جے پی کی ان جھوٹی یاتراوؤں کو درمیان میں ہی ختم کر سکتے ہیں! غریب محنتی عوام جھوٹے اعلانات، بیانات اور تقریروں کی بمباری کے بعد بھی بے بس ہیں! لیکن عوام بے بس نہیں ہے، وہ اس بار بی جے پی پر جوابی حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بی جے پی کارکنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا، لیکن بی جے پی کارکن کیا کریں، نہ ان کی مرکزی قیادت انہیں کمان دے رہی ہے، نہ ریاستی قیادت انہیں عزت دے رہی ہے اور نہ ہی تنظیم ان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ آج کی ایم پی بی جے پی پر ایک ہی چہرہ برسوں سے قابض ہے اور کارکنوں کی ایک بڑی تنظیم بے معنی ہے۔ آج صرف ایک نعرہ سچا ہے، ہم ملاوٹی بی جے پی کو چھوڑیں گے، سچی کانگریس میں شامل ہوں گے۔

او بی سی کوٹہ اور 2024 سے خواتین ریزرویشن بل کے نفاذ پر بی جے پی کا پردہ فاش: کانگریس

0
او-بی-سی-کوٹہ-اور-2024-سے-خواتین-ریزرویشن-بل-کے-نفاذ-پر-بی-جے-پی-کا-پردہ-فاش:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو الزام لگایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے خواتین کے ریزرویشن بل کو لاگو کرنے اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے علیحدہ کوٹہ مقرر کرنے سے متعلق ترامیم کو مسترد کرنے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اصل ارادے بے نقاب ہو رہے ہیں۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے موقف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل لانے کی ساری مشق محض انتخابی مسئلہ بنانے کے لیے تھی۔

راجیہ سبھا نے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے آئین (ایک سو اٹھائیسویں ترمیم) بل، 2023 کو منظوری دے دی۔ ایوان میں موجود تمام 214 ارکان پارلیمنٹ نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے ساتھ ہی اس بل کو پارلیمنٹ کی منظوری مل گئی۔ لوک سبھا نے بدھ کو ہی اسے پاس کیا تھا۔

جے رام رمیش نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا ’’کانگریس پارٹی نے کل رات راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل میں ترمیم کی تجویش پیش کی۔ ان ترامیم سے یہ یقینی ہوتا کہ خواتین کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی ریزرویشن فراہم کیا جائے۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی خواتین کے لیے ریزرویشن کے علاوہ او بی سی خواتین کے لیے بھی ریزرویشن کا انتظام کیا جائے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’ان میں سے کسی بھی ترمیم کی تجویز کو قبول کیا جا سکتا تھا لیکن دونوں کو ہی خارج کر دیا گیا۔ بی جے پی کے اس موقف سے اس کی اصل نیت پھر سے بے نقاب ہوئی ہے۔ حدبندی اور مردم شماری خاتون ریزرویشن کو ٹالنے کے لیے صرف کھوکھلے بہانے ہیں۔ دراصل یہ پوری کوشش خاتون ریزرویشن کو نافذ کئے بغیر ہی اسے ایک تھکے ہوئے اور سست پڑے وزیر اعظم کے انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنا تھا۔

اتر پردیش کے کئی اضلاع میں بارش کا امکان، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

0
اتر-پردیش-کے-کئی-اضلاع-میں-بارش-کا-امکان،-محکمہ-موسمیات-کا-الرٹ-جاری

لکھنؤ: اتر پردیش کے کئی علاقوں میں بارش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی بعض علاقوں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ دریں اثنا، محکمہ موسم نے بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق ریاست کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ کوشامبی اور دیوریا میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست میں اگلے تین سے چار دنوں تک ایسا ہی موسم برقرار رہے گا۔

محکمہ موسمیات کے لکھنؤ مرکز کے مطابق 22 ستمبر یعنی آج ریاست کے کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ ریاست میں ایک یا دو مقامات پر آسمانی بجلی بھی گر سکتی ہے۔ مشرقی اتر پردیش میں ایک یا دو مقامات پر بہت تیز بارش ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بستی، امبیڈکر نگر، سلطان پور، اعظم گڑھ، جونپور، پرتاپ گڑھ، کوشامبی، سہارنپور، شاملی، مظفر نگر، بجنور، مرادآباد، رام پور، بریلی، پیلی بھیت، سدھارتھ نگر اور الہ آباد میں بھاری بارش کا امکان ہے۔ جبکہ سون بھدر، سنت راویداس نگر، وارانسی، چندولی، غازی پور، مؤ، سنت کبیر نگر، گورکھپور، مہاراج گنج، کشی نگر، بلیا اور دیوریا میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔

خصوصی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں 160 فیصد کام ہوا: اسپیکر اوم برلا

0
خصوصی-اجلاس-کے-دوران-لوک-سبھا-میں-160-فیصد-کام-ہوا:-اسپیکر-اوم-برلا

نئی دہلی: لوک سبھا کی کارروائی جمعرات کی شام غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اس خصوصی اجلاس (تیرہویں اجلاس) کے دوران لوک سبھا میں 160 فیصد کام ہوا۔ اجلاس کے دوران لوک سبھا کی چار نشستیں ہوئیں جو 31 گھنٹے تک جاری رہیں۔

ایوان میں خواتین کے تحفظات سے متعلق آئین (128ویں ترمیم) بل پر 9 گھنٹے 57 منٹ تک بحث ہوئی۔ اس بل پر بحث میں 60 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا جن میں 32 خواتین ارکان پارلیمنٹ بھی شامل تھیں۔ ایوان نے بدھ کو خواتین کے ریزرویشن سے متعلق بل کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔

ایوان کی 18 ستمبر کو شروع ہونے والی کارروائی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے سے پہلے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایوان میں کہا کہ اس اسے ایک تاریخی پارلیمانی اجلاس کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اس اجلاس کے دوران پارلیمنٹ نے نئی عمارت میں اپنے سفر شروع کا آغاز کیا۔ ایوان کے کام کاج کے بارے میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کو بتایا کہ 18 ستمبر 2023 کو شروع ہونے والا اجلاس جو 4 نشستوں پر مشتمل تھا، تقریباً 31 گھنٹے تک جاری رہا اور اجلاس کے دوران ایوان کی صلاحیت 160 فیصد رہی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران ایک سرکاری بل پیش کیا گیا اور ایک بل منظور کیا گیا۔ 19 ستمبر 2023 کو پیش کیے گئے آئین (128ویں ترمیم) بل پر بحث 9 گھنٹے 57 منٹ تک جاری رہی۔ بحث میں 60 ارکان نے حصہ لیا جن میں 32 خواتین ارکان بھی شامل تھیں۔ بل کو آئینی دفعات کے مطابق دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔

لوک سبھا اسپیکر نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم مودی کی طرف سے شروع کردہ ’’آئین ساز اسمبلی سے پارلیمانی سفر کے 75 سال – کامیابیاں، تجربات، یادیں اور اسباق‘‘ کے موضوع پر بحث 6 گھنٹے 43 منٹ تک جاری رہی، جس میں 36 اراکین نے حصہ لیا۔ 21 ستمبر 2023 کو مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ’چندریان-3 مشن کی کامیابی اور خلائی شعبے میں ہمارے ملک کی دیگر کامیابیوں‘ پر بحث کا آغاز کیا جو 12 گھنٹے 25 منٹ تک جاری رہی اور اس میں 87 اراکین نے شرکت کی۔

اسپیکر نے ایوان کی توجہ اس حقیقت کی طرف بھی مبذول کرائی کہ لوک سبھا کی محکمہ سے متعلق قائمہ کمیٹیوں نے رپورٹ پیش کی ہے۔ اجلاس کے دوران 20 ستمبر 2023 کو ہدایت 73اے کے تحت ایک بیان دیا گیا اور ایوان کی میز پر تقریباً 120 کاغذات رکھے گئے۔

یوپی میں ایک ہفتہ کے اندر حاصل ہوں گی ذات، آمدنی اور سکونت کی اسناد، تاخیر پر ہوگی کارروائی

0
یوپی-میں-ایک-ہفتہ-کے-اندر-حاصل-ہوں-گی-ذات،-آمدنی-اور-سکونت-کی-اسناد،-تاخیر-پر-ہوگی-کارروائی

لکھنؤ: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی ہے کہ ای-ڈسٹرکٹ سروسز مقررہ مدت کے اندر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے ان خدمات کے لیے پہلے سے طے شدہ وقت کی حد کو کم کرکے ایک ہفتہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹس سے کہا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے بعد زیر التوا پر معاملوں میں جوابدہی طے کریں۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ای-ڈسٹرکٹ خدمات میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سی ایم کمانڈ سینٹر اور ڈیش بورڈ کا جائزہ اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں کئی اہم ہدایات دی گئیں۔ اس فیصلے کے بعد اب ریاست کے لوگوں کو ذات، رہائش، آمدنی اور حیثیت کے سرٹیفکیٹ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اجلاس کے دوران عہدیداروں نے ای ڈسٹرکٹ کی خدمات کا بلیو پرنٹ پیش کیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران سی ایم یوگی نے ضلع مجسٹریٹوں سے کہا ہے کہ وہ ای-ڈسٹرکٹ خدمات میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔

عہدیداروں نے اجلاس میں اطلاع دی کہ جنوری سے اب تک ای ڈسٹرکٹ کے تحت 6132976 ذات سرٹیفکیٹ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو کہ 15 دنوں میں جاری کیے جاتے ہیں۔ اب تک 5913420 درخواستیں نمٹائی جا چکی ہیں جن کا تناسب 96 فیصد ہے۔ اسی عرصے کے دوران رہائشی سرٹیفکیٹ کے لیے 96 فیصد، انکم سرٹیفکیٹ کے لیے 95 فیصد اور اسٹیٹس سرٹیفکیٹ کے لیے 58 فیصد درخواستیں نمٹا دی گئیں۔

وزیر اعلی یوگی نے ای-ڈسٹرکٹ خدمات کے لئے وقت کی حد کو ایک ہفتہ تک کم کرنے کو کہا ہے۔ درخواستوں کو نمٹانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ نیز ان کے تصفیہ کا تناسب 100 فیصد کیا جائے۔ فی الحال، یہ بتایا جا رہا ہے کہ جن سنوائی سمادھن سسٹم کی ایک رپورٹ کے مطابق، ذات کے سرٹیفکیٹ کی درخواستیں مقررہ وقت کے اندر جاری کرنے والے ریاست کے سرفہرست تین اضلاع باندہ سیتاپور اور امیٹھی ہیں۔

ووٹر آئی ڈی بنانے کے لیے آدھار لازمی نہیں، الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں وضاحت

0
ووٹر-آئی-ڈی-بنانے-کے-لیے-آدھار-لازمی-نہیں،-الیکشن-کمیشن-کی-سپریم-کورٹ-میں-وضاحت

نئی دہلی: ووٹر شناختی کارڈ بنانے کے لیے آدھار کارڈ لازمی نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے جمعرات (21 ستمبر) کو سپریم کورٹ میں یہ اطلاع دی۔ عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ووٹروں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے نئے ووٹر رجسٹریشن کے لیے ضرورت فارم 6بی میں آدھار نمبر فراہم کرنے کی شرط کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے معاملہ کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ سوکمار پٹ جوشی اور امت شرما نے کہا کہ ووٹر شناختی کارڈ بنانے میں آدھار نمبر فراہم کرنے کی شرط کو ختم کرنے کے لیے جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ووٹرز کے رجسٹریشن فارم میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اس معاملے میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ بھی جمع کرایا، جس کے بعد عدالت نے درخواست کا تصفیہ کر دیا۔

تلنگانہ پردیش کمیٹی کے سینئر نائب صدر جی نرنجن نے اس سلسلے میں عرضی داخل کی تھی۔ انہوں نے الیکٹرز ترمیمی ایکٹ 2022 کے سیکشن 26 میں نئے ووٹر شناختی کارڈ بنانے کی دفعات پر وضاحت طلب کی تھی۔ اس کے مطابق ووٹر شناختی کارڈ بنانے کے لیے فارم 6 اور ووٹر کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے فارم 6بی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں آدھار نمبر کو بھرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں عرضی گزار نے کہا کہ جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے لیکن وہ ووٹ ڈالنے کی عمر کے ہیں، انہیں ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جاتا۔

اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے کہا کہ ووٹر رجسٹریشن فارم میں آدھار نمبر بھرنے کی شرط کو ختم کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ووٹر لسٹ میں 66 کروڑ 23 لاکھ آدھار نمبر پہلے ہی اپ لوڈ ہو چکے ہیں۔ ان پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں موجودہ اصول کہتا ہے کہ ووٹر کارڈ بنانے یا ووٹر کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے آدھار کارڈ لازمی ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ضروری وضاحت جاری کی جائے گی اور فارم میں تبدیلیاں بھی کی جائیں گی۔ اس کے بعد ہی سپریم کورٹ نے درخواست کا تصفیہ کر دیا۔

کینیڈا دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ: ہندوستان

0
کینیڈا-دہشت-گردوں-کی-محفوظ-پناہ-گاہ:-ہندوستان

حکومت ہند  نے کینیڈا کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ذریعہ خالصتانی دہشت گرد ہردیپ سنگھ نجر کی ہلاکت کے معاملے میں ہندوستان کو ایک بھی ثبوت نہیں دیا  ہے، جبکہ ہندوستان نے دعویٰ کیا ہے کہ کینیڈا دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے لیکن بھارت مخالف سرگرمیوں کے کئی ثبوت فراہم کرنے کے باوجود وہاں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں ایک معمول کے بریفنگ میں کہا کہ ان کی رائے میں کینیڈا کی حکومت متعصب ہے اور اس نے ہندوستان پر جتنے بھی الزامات لگائے ہیں وہ سیاسی طور پر محرک ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے جی۔20 سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان کے حالیہ دورے کے دوران مسٹر ٹروڈو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات میں نجر کے قتل کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس میں ہندوستان کے کردار پر بات کی تھی جسے مسٹر مودی نے مسترد کر دیا تھا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کینیڈا نے بھارت کو ان واقعات کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم کیے ہیں جن کے لیے وہ بھارت پر الزام لگا رہا ہے، ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ کینیڈا نے بھارت کو نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔نجر کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے اور بہت سے لوگ اس کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ دیگر جبکہ بھارت نے نجر اور بہت سے دوسرے لوگوں کے بارے میں کئی بار ثبوت دیے ہیں لیکن کینیڈین حکومت نے اس کے خلاف کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں تشدد اور جرائم اپنے عروج پر ہیں اور یہ دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن چکا ہے اور انہیں وہاں مالی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کینیڈین حکومت دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور منظم جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے یا انہیں بھارت کے حوالے کرے تاکہ وہ یہاں انصاف کے عمل کا سامنا کر سکیں۔

سفارت کاروں کی بے دخلی سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاروں کی تعیناتی کے حوالے سے تعداد برابر ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں کینیڈا کے سفارت کاروں کی تعداد کینیڈا میں ہندوستانی سفارت کاروں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کینیڈا اور بھارت میں دونوں ممالک کے سفارت کاروں کی تعداد برابر ہوگی۔

ویزوں سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں بھارتی سفارت کاروں کے خلاف لگائی جانے والی دھمکیوں اور پوسٹرز کی وجہ سے ان کی معمول کی ڈیوٹی متاثر ہوئی ہے، اس لیے ویزوں کے اجراء کا کام اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پاس پہلے سے انڈین ویزا یا او سی آئی کارڈ ہے، اسے سفر کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہندوستانی طلباء اور کینیڈا میں رہنے والے دیگر مسافروں اور وہاں سفر کرنے کی تیاری کرنے والوں کے لیے ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔