اسکول میں طلبا کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں مگر مغربی بنگال کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے
کلکتہ: اسکول میں طلبا کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر مغربی بنگال کے ندیا ضلع کے کرشنا نگر کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور اسکول ٹیچر کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ بنگال میں 8 ویں جماعت سے 3 فروری سے اسکول کھل رہے ہیں۔ اس سے قبل دونوں اساتذہ کے درمیان لڑائی سے والدین حیران ہیں۔
مبینہ طور پر ہیڈ ماسٹر پر عرصہ دراز سے مختلف کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ جب اسکول کے دیگر اساتذہ احتجاج کرنے گئے تو ہیڈ ماسٹر نے انہیں طرح طرح سے دھمکیاں دینی شروع کردی۔ اساتذہ کو ٹرانسفر کی دھمکی بھی دے رہے تھے۔
بدھ کے روز، اسکول میں جغرافیہ ٹیچر نیمائی مجمدار نے الزام لگایا کہ انھوں نے اپنے کچھ ضروری کاغذات جو کافی دنوں سے ہیڈ ماسٹر کے پاس ہیں کو لینے گئے تو انہوں نے انکار کردیا۔
بدھ کو اساتذہ نے ہیڈ ماسٹر کے دفتر کے سامنے پوسٹر لے کر احتجاج بھی کررہے تھے۔ مبینہ طور پر اس وقت ہیڈ ماسٹر نے احتجاج کرنے والے ٹیچروں پر حملہ کر دیا۔ دونوں اساتذہ کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی، تھپڑوں اور گھونسوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میڈیا کے سامنے آپس میں لڑ پڑے۔ دونوں کو کسی طرح روک لیا گیا۔
https://www.facebook.com/mynewstodayindia/videos/612997369787993/
جغرافیہ کے استاد نے کہا کہ یہ ہیڈ ٹیچر کافی عرصے سے مختلف کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل بھی ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تاہم، اسکول کے ہیڈ ماسٹر منورنجن بسواس نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کوئی دستاویزات روک رکھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس استاد کا کیا مطالبہ تھا”۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی۔ ہیڈ ماسٹر نے استاد کے خلاف بدتمیزی کی شکایت کی ہے۔
