اسد الدین اویسی نے آج یہاں دعوی کیا کہ یوپی اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی ایک مضبوط سیاسی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔
بارہ بنکی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے آج یہاں دعوی کیا کہ سال 2022 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی ایک مضبوط سیاسی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔
انہوں نے جمعرات کو یہاں کٹرا علاقے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2014 کے بعد صرف مسلم ہی ‘بھیڑ تنتر’ کا شکار ہوتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف مسجد اور مسلم ہی یوپی میں نشانے پر ہیں اور کوئی اپوزیشن پارٹی اس کی مخالفت نہیں کرتی ہے۔
بارہ بنکی میں گذشتہ دنوں منہدم کی گئی مسجد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کیا وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جواب دے سکتے ہیں کہ بارہ بنکی میں مسجد کو شہید کر کے آئین کی دھجیاں کیوں اڑائی گئیں۔ بدایوں کے سابق رکن پارلیمان دھرمیندر یادو کے پاس بھی لفظ نہیں تھے جب بدایوں میں مسجد منہدم کی گئی۔ حقیقت میں یہی یوپی کا اصلی چہرہ ہے۔
بی جے پی کے اشارے پر مسلم کا استحصال کیا جا رہا ہے
مسٹر اویسی نے کہا کہ ‘ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا ہے۔ دلت بھی نشانے پر ہیں۔ بی جے پی کے اشارے پر مسلم کا استحصال کیا جا رہا ہے جبکہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کا کردار خاموش تماشائی کا ہے جنہوں نے تین طلاق اور سی اے اے کے سلسلے میں کھل کر کچھ نہیں کہا۔
پارٹی کے یوتھ ونگ کے ضلع صدر فیض الرحمان کی رہائش گاہ پر میٹنگ سے پہلے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کارکنوں سے ملاقات کر کے انہیں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مشغول ہونے کو کہا۔
دلچسپ ہے کہ ضلع انتظامیہ نے مسٹر اویسی کو بدھ کی رات فیض الرحمان کی رہائش گاہ پر میٹنگ کرنے کی اجازت دی تھی۔ ضلع انتظامیہ نے میٹنگ میں کووڈ پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے 50 سے کم لوگوں کی شرکت کی اجازت دی تھی۔ مسٹر اویسی یوپی کے تین روزہ دورے کے بعد آج شام حیدرآباد کے لئے روانہ ہوگئے۔
