پریاگ راج میں ہونے والے مہاکمبھ میں بھگدڑ کے سنگین واقعات کی تحقیقات
پریاگ راج میں جاری مہاکمبھ کے دوران پیش آنے والے حادثات نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ 29 جنوری 2023 کو ہونے والی بھگدڑ کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد کی موت اور 60 سے زائد لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے، جسے عدالت نے سماعت کے لیے قبول کر لیا ہے۔ اس ضمن میں چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ 3 فروری کو اس اہم معاملے کی سماعت کرے گی۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکام کو عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے اور مہاکمبھ جیسے بڑے مذہبی اجتماع کے دوران سیکیورٹی کے اصولوں کی پاسداری ہونی چاہیے۔ وکیل وشال تیواری نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ مہاکمبھ میں عقیدت مندوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے مرکز اور تمام ریاستوں کو ہدایت دی جائے۔
اہم نکات: عرضی میں کیا مطالبات کیے گئے؟
عرضی میں واضح طور پر درج ہے کہ تمام ریاستوں کو سیکیورٹی سے متعلق معلومات فراہم کرنی چاہیے اور ہنگامی حالات کے دوران رہائشیوں کی مدد کے لیے سہولتی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مراکز نہ صرف مہاکمبھ آنے والے عقیدت مندوں کی مدد کریں گے بلکہ ہنگامی صورتحال میں بھی فوری مدد فراہم کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی، عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہاکمبھ میں عوام کی سیکیورٹی پر وی آئی پی موومنٹ کے اثرات نہیں ہونے چاہئیں۔ عوامی عقیدت مندوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی ہے تاکہ ان کے داخلے اور نکلنے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔
آخری لمحے کی تیاری: سیکیورٹی اور معلومات کی فراہمی
درخواست گزار نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ عقیدت مندوں کی رہنمائی کے لیے کئی زبانوں میں سائن بورڈز اور اعلانات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، سیکیورٹی پروٹوکول کے بارے میں لوگوں کو ایس ایم ایس اور وہاٹس ایپ کے ذریعے معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ ہنگامی حالات سے بہتر طور پر آگاہ رہ سکیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اترپردیش حکومت سے متاثرہ افراد کے حوالے سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی گئی ہے، اور لاپرواہی برتنے والے افراد و افسران کے خلاف قانونی کارراوئی کی ہدایت مانگی گئی ہے۔
کیا یہ اقدام کافی ہوگا؟ عوامی رائے
مذہبی اجتماعات جیسے مہاکمبھ میں ایسے واقعات کے پیش نظر عوامی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کئی لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا حکام واقعی عوامی حفاظت کے معاملے میں سنجیدہ ہیں یا پھر یہ صرف ایک قانونی کارروائی ہے۔
معاشرتی حلقوں میں اس بات پر بھی چرچا ہے کہ ایسے مواقع پر حکام کو پہلے سے زیادہ متحرک رہنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر
سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملے کی سماعت اور بالتبع ہدایات کا عوامی تحفظ پر اثر انداز ہونا ناگزیر ہے۔ اگر عدالت نے حکام کو سختی سے ہدایت دی تو یہ ممکن ہے کہ آئندہ کے مذہبی اجتماعات میں عوامی حفاظت کے لئے مزید موثر اقدامات کیے جائیں۔
