سرکاری دفاتر کو گائے کے گوبر سے بنے قدرتی پینٹ سے رنگنے کی نئی پالیسی
اتر پردیش کی سرکاری دفاتر کی عمارتوں کو اب روایتی پینٹ کی جگہ گائے کے گوبر سے بنے قدرتی پینٹ سے رنگنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس بات کی واضح ہدایت دی ہے کہ محکمہ مویشی پروری اور ڈیری ڈیولپمنٹ کے تحت سرکاری عمارتوں میں قدرتی پینٹ کا استعمال کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ماحولیاتی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ گائے کے گوبر کا فائدہ بھی اٹھایا جائے گا جو کہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دے گا۔
وزیر اعلیٰ یوگی نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے بے گھر گائے کے تحفظ مراکز کو خود کفیل بنانے کی ضرورت ہے۔ ان مراکز میں موجود گوبر کا بہتر استعمال کرتے ہوئے قدرتی پینٹ بنانے کو بڑھاوا دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ، ان مراکز میں آرگینک کھاد اور دیگر گو-مبنی مصنوعات بنانے کے لئے ٹھوس پالیسی بنائی جائے گی۔
یہ فیصلہ کب اور کیوں کیا گیا ہے؟ یہ فیصلہ اتر پردیش کی حکومت نے اسی مہینے کی ابتدائی میٹنگ میں کیا تھا، جس میں گائے کے گوبر کے فوائد اور اس کی ممکنہ مصنوعات پر بات چیت کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام معیشت کو مضبوط بنانے اور ماحول کی بہتری کے لیے بے حد ضروری ہے۔
گائے کے گوبر سے بنے پینٹ کے فوائد اور اثرات
نیوز ایجنسی کے مطابق، گوبر سے تیار کیا گیا قدرتی پینٹ مکمل طور پر آرگینک ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف ماحولیات کے موافق ہے بلکہ دیواروں کو ایک خوبصورت دیسی شکل دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس میں کیمیکلز کا استعمال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔
اس کے علاوہ، اس قدرتی پینٹ کو بنانے میں توانائی کی کھپت کم ہوتی ہے اور اس کی قیمت بھی روایتی پینٹ سے کم رہتی ہے۔ اس طرح، یہ مالی طور پر بھی فائدہ مند ہوگا۔
اس فیصلے کے پس پردہ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اتر پردیش میں اس وقت 7693 گو-پناہ گاہیں موجود ہیں، جہاں تقریباً 11.49 لاکھ گائیں محفوظ ہیں۔ ان کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ وہاں کیئر ٹیکر کی تعیناتی اور دیگر ضروریات پوری کی جائیں۔
گائے کے تحفظ کے مراکز اور مقامی معیشت
وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر یہ بات بھی کہی کہ جن غریب کنبوں کے پاس مویشی نہیں ہیں، انہیں وزیر اعلیٰ منصوبہ کے تحت گائیں فراہم کی جائیں گی۔ اس سے ان کی غذائیت میں بہتری آئے گی اور انہیں روزگار کا موقع بھی ملے گا۔
یہ پالیسی ملک میں گائے کے تحفظ کی ایک بڑی مثال ہے جس سے نہ صرف مقامی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ گائے کے دودھ اور اس سے حاصل کردہ دیگر مصنوعات کی پیداوار بھی بڑھے گی۔ وزیر اعلیٰ نے خواتین خود رضاکار گروپوں کی شمولیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گوبر سے بنی مصنوعات جیسے کھاد، پینٹ وغیرہ اقتصادی طور پر ان کی حالت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
بریلی ضلع میں افکو آونلہ کے تعاون سے گوبر اور گوموتر سے آرگینک مصنوعات کے پروسیسنگ پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف خواتین کو روزگار فراہم کریں گے بلکہ ان کی اقتصادی حالت کو بھی مستحکم کریں گے۔
اس ضمن میں، وزیر اعلیٰ نے افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان گو-پناہ گاہوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں، تاکہ یہ مراکز طویل مدتی طور پر خود کفیل بن سکیں۔
بہر حال، یہ منصوبہ اتر پردیش کے عوام کے لیے ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف ماحولیاتی بہتری ممکن ہوگی بلکہ علاقے میں اقتصادی ترقی بھی ممکن ہوگی۔
مزید معلومات اور تفصیلات کے لئے
اس خبر میں اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس نئی پالیسی کی تفصیلات پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف ماحولیاتی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے [email protected] پر رابطہ کریں۔
