جمعہ, مئی 15, 2026

جموں و کشمیر کی جیلوں پر دہشت گردانہ حملے کا خطرہ، سیکوریٹی بڑھائی گئی

Share

علاقے میں دہشت گردانہ سازش کا انکشاف، پونچھ میں ٹفن بم برآمد

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی جانچ کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں ایک بار پھر دہشت گردانہ سازش کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی جیلوں پر ممکنہ حملے کی خفیہ اطلاعات ملی ہیں، جس کے بعد سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ساتھ ہی، پونچھ کے سورن کوٹ میں سلامتی دستوں کو ایک دہشت گرد کے ٹھکانے کا پتہ لگا ہے، جہاں سے ٹفن میں رکھے گئے آئی ای ڈی برآمد ہوئے ہیں۔

یہ خطرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب 22 اپریل 2023 کو فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد سے علاقے کی سیکوریٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق، دہشت گرد جموں کی کوٹ بلول جیل اور سری نگر کی سنٹرل جیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جہاں بڑے دہشت گرد اور سلیپر سیل کے اراکین قید ہیں۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

اس خطرے کی جانچ کے لیے حکام مختلف جیلوں کے تحفظ کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق، جیلوں میں موجود قیدیوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ 2023 میں جموں و کشمیر کی جیلوں کی سیکوریٹی کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی کے بعد لیا گیا ہے، جب ان جیلوں کی ذمہ داری سی آر پی ایف سے سی آئی ایس ایف کو منتقل کی گئی۔

دہشت گردوں کی جانب سے جیلوں پر حملے کے منصوبے کے تحت، سیکیورٹی فورسز نے کئی حفاظتی تدابیر کا آغاز کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دہشت گردوں کا مقصد جنوبی کشمیر کے پہلگام اور دیگر مقامات پر موجود حساس مقامات کو نشانہ بنانا ہے۔ خاص طور پر 22 اپریل کے حملے کے بعد، سیکوریٹی فورسز نے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

پونچھ میں ٹفن بم کا انکشاف

پونچھ کے سورن کوٹ میں ایک مشترکہ آپریشن کے دوران فوج اور مقامی پولیس نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا، جہاں سے تین آئی ای ڈی ٹفن باکس کے اندر اور دو لوہے کی بالیٹوں میں چھپے ہوئے ملے۔ یہ آئی ای ڈی کسی بھی موقع پر بڑے نقصان کا سبب بن سکتی تھیں، لیکن بروقت کاروائی نے ایک بڑی تباہی کو روکا۔

ادھرو، این آئی اے کے ذرائع نے پہلے ہی معلومات فراہم کی تھیں کہ پہلگام کے حملے میں ملوث دہشت گرد ابھی بھی جنوبی کشمیر میں موجود ہوسکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، وہ مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اپنی معلومات کے مطابق، خاص طور پر فوج اور سیکوریٹی ایجنسیاں مل کر ان دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

اس سلسلے میں فوج نے علاقے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور مقامی لوگوں سے ان کے مشاہدات اور معلومات کا تبادلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر معمولی سرگرمیاں فوراً سیکوریٹی ایجنسیز کو رپورٹ کی جائیں۔

خطرات کا پروپیگنڈا اور سیکیورٹی کی صورتحال

سیکوریٹی ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والا یہ واقعہ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا ثبوت ہے۔ اسی تناظر میں، جموں و کشمیر کی جیلوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، فوج اور پولیس کے مشترکہ آپریشن نے پونچھ کے علاقے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، لیکن سیکیورٹی کی صورتحال ابھی بھی نازک ہے۔

فوج اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں کہ کسی بھی قسم کی کارروائی کو بروقت روکا جائے۔ ان کی کوششوں کی بدولت، مزید دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لئے مختلف حکمت عملی اپنائی جا رہی ہیں۔

حفاظتی انتظامات کی مزید تفصیلات

سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ڈی جی (سی آئی ایس ایف) نے حال ہی میں سری نگر میں اعلیٰ سیکیورٹی افسران کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں جیلوں کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں سیکیورٹی فورسز نے بھی مقامی آبادی کے تعاون سے کئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں، جن میں غیر قانونی ہتھیاروں کی برآمدگی شامل ہے۔

پچھلے کچھ ہفتوں میں، سیکوریٹی فورسز نے کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن سے بڑی مقدار میں ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ اس سلسلے میں، حکام نے عوام کو بھی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

یہ صورتحال جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی محفوظ تربیت کے حوالے سے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ امن و سکون کے قیام کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

معاشرتی رابطے اور اطلاعات

اُمید کی جارہی ہے کہ مقامی آبادی اور سیکوریٹی فورسز کے درمیان قریبی تعاون سے نہ صرف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں کمی ہوگی بلکہ علاقے میں امن و سلامتی بھی قائم ہوگی۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے [email protected] پر رابطہ کریں۔

Read more

Local News