جمعہ, مئی 15, 2026

مغربی بنگال: کورونا وائرس کیسز میں اضافے کی وجہ سے دو سرکاری پروگرام منسوخ

Share

ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو کے مطابق مغربی بنگال میں اس وقت لاک ڈاؤن نہیں لگایا جائے گا۔

کلکتہ: مغربی بنگال حکومت نے کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے کے بعد اپنے دو سرکاری پروگراموں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی ہے کہ پیر سے ریاست میں مرحلہ وار پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔

پیر کو نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں ’’یوم طلبا‘‘ منایا جانا تھا اور اس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی شرکت کرنے والی تھیں مگر اس کو موخر کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ’’حکومت آپ کے دروازے‘‘ (دوارے سرکار) پروگرام کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

بدھ کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اشارہ دیا تھا کہ اگر کورونا کے پھیلنے کی یہی رفتار رہی تو ایک مرتبہ پھر اسکول اور کالج کو بند کیا جاسکتا ہے۔

تاہم ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو کے مطابق ریاست میں اس وقت لاک ڈاؤن نہیں لگایا جائے گا۔ ٹرین، بس اور میٹرو خدمات کو فوری طور پر بند نہیں کیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بعد مرحلہ وار پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اس وقت بنگال میں انفیکشن کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، لیکن اسپتالوں میں نہ کورونا کے بیڈ کی قلت ہوئی ہے اور نہ ہی آکسیجن یا دیگر طبی آلات کی کمی کی کوئی شکایت سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ، اگرچہ انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اموات کی شرح دوسری لہر کی طرح تشویشناک نہیں ہے۔

اس وقت ریاست میں کورونا کے 80 فیصد مریض غیر علامتی ہیں۔ 20 فیصد مریض علامات کے ساتھ۔ ان میں سے 17 فیصد گھریلو علاج سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ صرف 3 فیصد کو اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے۔

کئی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بار مریضوں میں علامات اور اموات کی شرح کم ہونے کی وجہ ویکسینیشن ہے۔

Read more

Local News